Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

شاہ پلیز م۔۔مجھے ابھی کچھ جاننا ہے؟،،
شاہ اک دم اس کی طرف دیکھا جو تقریباً کانپ رہی تھی
کیا جاننا ہی شاہ کی جان ،،
وہ جلدی سے اٹھ کے بیٹھ گئی تو شاہ گھور کے رہ گیا
شاہ آپ کہاں تھے گیارہ مہینے کس کے پاس تھے آپ کے ساتھ کیا ہوا تھا؟؟،،
عائشہ کے اس طرح سوال کرنے پر شاہ کو اندازہ ہو گیا تھا عائشہ اس سے اتنے دن کھینچی کھینچی کیوں رہنرہی تھی وہ عائشہ کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا اور اسے اپنے حصار میں لیا بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا لی
،،اس رات جب کافی ساری رسمو میں سب بزی تھے تب شاہ باہر لان میں ایان کے ساتھ انتظامات دیکھ رہا تھا اور اسے کال آئی اس وقت آیا دوسری طرف چلا گیا تھا میں کال اٹینڈ کی
ڈی ایس پی شازب سکندر مہتاب چوہدری دو گھنٹے ہیں تمہارے پاس کراچی میں اپنی فیلڈ اور اس کے انڈر سب ایریاز کو بچا سکتے ہو تو بچا لو

Mirh@_Ch
 

وہ رو دی تو شاہ نے اسے پیچھے کیا
کیا ہوا میں پاس ہوں کیوں رو رہیں ہیں اب،،
شاہ نے پیار سے کہا
شاہ مجھے۔۔۔۔ لگا آپ۔۔۔۔ پھر۔۔۔۔ سے۔۔۔ما۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔۔ چھو۔۔۔۔ چھوڑ گئے ہیں میں پھر سے اکیلی ۔۔,۔را۔۔رہ گئی،،،
وہ شاہ کے سامنے پھوٹ پھوٹ کے رو دی تو شاہ نے جھٹکے سے اسے اپنے حصار میں لیا
نہیں شہ کی جان اب شاہ کہیں نہیں جائے گا کبھی نہیں آپ کو چھوڑ کے جانا ایسا میں اب سوئچ بھی نہیں سکتا پلیز خود کو سنبھالیں آپ عائش،،،
شاہ شرمندہ بھی بہت ہوا مگر عائشہ کے اس طرح سے رونے کی وجہ سے پریشان بھی ہو گیا تھا
ایسا کبھی مت سوچنا اب عائش وہ مجبوری تھی بس نہ جاتا تو پتہ نہیں کیا کیا ہو جاتا،،،

Mirh@_Ch
 

مگر باہر پڑتی برف سے سمجھ گئی وہ بری پھنسی تھی وہ ڈر ہے ہوئی تھی مگر سنو فالنگ دیکھ بچو کی طرف خوش ہو گئی تھی فرسٹ ٹائم وہ یہ منظر دیکھ رہےتھے وہ سب کچھ بھول گئی تھی یاد تھا تو بس سامنے کا منظر رات کا جو بہت خوبصورت لگ رہا تھا انتہائی خوبصورت و کھو گئی ہوش تو تب آیا جب اسے پیچھے سے کسی نے اپنے حصار میں لیا وہ ڈر گئی چونک کے پیچھے مرنے لگی مگر نہ مڑ سکی اس کے دل کی دھڑکن بہت تیز تھی شاہ نے محسوس کی تھی شاہ نے آہستہ سے جنکا رخ اپنی طرف کیا تو عائشہ کی آنکھیں نم تھی شاہ نے آہستہ سے لب اس کی آنکھوں پر رکھ دیے پھر مسکرا دیا
شاہ۔۔۔
وہ کہتے ساتھ ہی شاہ کے گلے لگ گئی
میں ڈر گئی تھی کہاں گے تھے آپ اور ہم کہاں ہیں ،،
ہم مری میں ہیں اور ڈر کیوں لگ رہا ہے میں پاس ہوں آپ کے،،
شاہ۔۔۔

Mirh@_Ch
 

رات کا نجانے کون سا پہر تھا جب عائشہ ٹھنڈ کا احساس ہوا اور اپنا سر بھاری لگا وہ سر کو پکڑے آرام سے اٹھی اور آہستہ سے آنکھیں کھولیں تو سامنے کا منظر دیکھ کر چکرا کر رہ گئی
ہائے اُو ربا یہ کیا ہوا،،
عائشہ نے نہ سمجھیں سے ادھر اُدھر دیکھا
شاہ ،، شاہ۔۔ مطلب ابھی بھی امتحان باقی ہے میں کڈنیپ ہو گئی پر یہ کمرہ اور اس کی یہ سجاوٹ ،،
وہ کمرے کو دیکھ رہی تھی جہاں ہر طرف پھول ہی پھول تھے خود کے کپڑے دیکھے تو چینج تھے وہ حیران ہوئی
افف اللہ یہ کیا ہے اب ،،
وہ اٹھی واشروم میں دیکھا کچھ نہیں تھا پھر وارڈ اور پھر بالکنی کی طرف دیکھنے گئی وہاں بھی کچھ نہیں تھا

Mirh@_Ch
 

دادو دونوں کو خوش دیکھ کر مطمئن تھے بہت پر سکون و اذکار مسکرا رہے تھے کیونکہ اُن کی پوتی کی خوشیاں اب اس کا انتظار کر رہی ہیں یہ پھر کچھ نیا امتحان تھا
وہ دونوں اسٹیج پر ساتھ بیٹھے بہت خوبصورت لگ رہے تھے دونوں کے چہروں پر ایک پیاری سی مسکان تھی محبت اپنا رنگ دیکھا رہی تھی اور سب یہ جان کر مطمئن تھے پھر کھانے کا دور شروع ہوا کھانا کھانے کے بعد سب اِدھر اُدھر گیپو میں مصروف تھے شاہ اور عائشہ کو تنگ کرنے حریم اور ایان اسٹیج پر پہنچ گئے تھے پھر کافی دیر بعد واپسی کا کہا گیا تو عائشہ نے ہوش ہو گئی شاہ مسکرا گیا اور اسے اٹھا کر آرام سے گاڑی میں بٹھایا اور اپنی منزل کو چل دیا پیچھے سب مسکرا دیے کیونکہ اب سب جانتے تھے محبت مہربان ہونا ہے ان کی زندگی پر
@@@

Mirh@_Ch
 

ہال میں سب آ چکے تھے سب کو عائزہ اور اسد اور عائشہ اور شازب کا بے صبری سے انتظار تھا آج کچھ محبتوں نے مکمل ہونا تھا
ہال کے باہر پہلے عائزہ اور اسد کی گاڑی آئی دونوں اکٹھے نکلے اسد کا ہاتھ تھامے وہ دونوں ہال کے اندر آئے و دونوں ہی بہت خوبصورت لگ رہی تھی عائزہ پر اسد کی محبت کا رنگ بہت خوبصورتی سے چڑ ھ چکا تھا وہ دونوں مکمل تھے وہ دونوں ابھی آ کے بیٹھے ہی تھے باہر اک اور ہونڈا بڑی گاڑی آ کے رکی
شاہ جلدی سے نکلا اور دوسری طرف آ کے خود دروازہ کھول کے عائشہ کے اگلے ہاتھ پھیلایا جس کو عائشہ نے تھام لیا وہ دونوں چاند سورج کی جوڑی لگ رہے تھے شاہ کے بازو میں ہاتھ ڈالے وہ کسی کوئین سے کم نہیں لگ رہی تھی وہ سچ میں بہت خوبصورت تھے ایک مکمل محبت کی تصویر تھے دونوں اُن دونوں پر ہال کے دروازے پر ہی اچھی خاصی تعداد میں نوٹوں کی بارش ہو گئی تھی

Mirh@_Ch
 

عائشہ نے روتے ہووے کہا تو حریم نے نہ میں سر ہلا دیا
نہیں میری جان کوئی بات نہیں مجھے پتہ ہے تم پر کیا بیتی ہے میں نے کبھی کچھ کہا تمہیں نہیں نہ سو کوئی بات نہیں بس میں چاہتی ہوں میری دوست مجھے واپس میل کے اور ہم خوش رہیں ایک دوسرے کے ساتھ ،،
عائشہ روتے ہوئے مسکرا دی تو حریم نے اس کی آنسو صاف کیے ،،
ہائے او ربا میں تو تمہیں بولنے آئی تھی پالر جانا ہے چلیں بہت لیٹ ہو گئے ہیں پہلے ہی چلو جلدی اب،،
عائشہ ہنس دی
چلو چلو ،،
پھر دونوں عائزہ کو کال کر کے پالر کے لیے نکل گئی وہ مزید مطمئن ہو گئی تھی ہاں اب خوشیاں انتظار میں تھی
@@@

Mirh@_Ch
 

وہ اپنی سوچو میں گم تھی جب حریم میں اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
آئشی ،،
وہ در ہے اور چونک کے پیچھے دیکھا
ج۔۔جی،،
تم ٹھیک ہو نہ میری جان،،
جی میں ٹھیک ہوں آپ کو کوئی کام تھا بھابھی،،
آئشی کب تک یونہی پرایا رکھو گی مجھے میری غلطی تو بتاؤ ،،
حریم بے بس ہو گئی تھی اس لیے آج بول دی عائشہ سر جھکا گئی وہ سچ میں شرمندہ تھی اسے نہیں پتہ تھا وہ کتنا غلط کرتی ہے حریم کے ساتھ پتہ تھا تو بس اتنا وہ منحوس ہے حریم نے اسے گلے لگا لیا تو وہ مزید رو دی
مجھے معاف کر دو حریم پلیز مجھے نہیں پتہ تھا میں کیا کر رہی ہوں ،،

Mirh@_Ch
 

بسی ہی بے بسی تھی قدم قدم پر وہ خود سے ایک ہے نام سے جنگ کرتی تھی ہمشہ وہ دن بدن اپنے خواب اپنی آرزوئوں کو مارتی گئی تھی اسے یقین تھا اپنے اللہ پر و کبھی بھی اس کے ساتھ غلط نہیں کر سکتے تھے کیونکہ اللہ تو اللہ ہے وہ کیسے برا کر سکتا ہے یہ کام تو ہم انسانوں کا ہے ایک دوسرے کو دیکھ تکلیف دینا و چاہتی تھی شاہ سے نرت کرے !مگر نہیں کر سکتی تھی پتہ نہیں کیوں اسے اس وقت خود سے نفرت ہو رہی تھی مگر و خاموش اپنے کمرے کی بالکنی میں بیٹھی تھی اس کے اندر ایک عجیب سا شور تھا جس کی سمجھ اسے خود کو بھی نہیں آ رہی تھی اسے نفرت ہو رہی تھی شاہ سے خود سے شاہ آپ نے اچھا نہیں کیا کاش ایک دفعہ بتا دیتے آپ کیوں مجھے میرے نہ کردہ جرم کی سزا دی آپ نے کتنا روئی تھی میں کتنا زیادہ

Mirh@_Ch
 

تھے کیوں کے آج شازب اور عائشہ کا ولیمہ بھی تھا دادو چاچو اور دانیال بھی تو ہال کے انتظامات دیکھنے صبح ہی چلے گئے تھے باقی لڑکے مزے سے گھر میں تیاریاں کر رھے تھے عائشہ آج خوش تھی شاہ کو بار بار دیکھ رہی تھی سب لڑکیاں تیاری میں بزی تھی عائزہ حریم اور عائشہ کو کچھ دیر تک پالر کے لیے جانا تھا سب آج بہت خوش تھے زندگی آسان لگ رہی تھی وہ مطمئن تھی کتنا کچھ اس نے جھیلا تھا برداشت کیا تھا مگر ہمت نہیں ہارتی تھی شاہ جب اسے چھوڑ کر گئے تھے وہ بہت ہے بس ہو گئی تھی لوگو کی باتیں لوگو کے تانے لوگو کے الزام سب کچھ اس نے برداشت کیا تھا خود ہی ذات کو منحوس اور نہ جانے کون کون سے ناموں سے پکارتے سنا تھا اس کے سامنے رونے یہ مرنے کے علاوہ کوئی رستہ نہیں تھا مگر وہ ثابت قدم رہی روتی رہی چیختی رہی مگر خاموش رہی ہے

Mirh@_Ch
 

گھر آتے ہی سب بہت تھکے ہوئے تھے اس لیے سب کمروں میں چلی گئی شاہ اتے ہی آفیس چلا گیا تھا عائشہ تو نیند کی وادیوں میں مزے سے سو رہی تھی رات کا نجانے کون سا پہر تھا جب عائشہ کو اپنے ماتھے پر کسی کا لمس محسوس ہوا آہستہ سے آنکھیں کھولیں تو شاہ کو اپنے پاس دیکھ کر مسکرا دی
شاہ آپ کب اے،،
ابھی آیا ہوں شاہ کی جان،،
کہاں تھے آپ ،،
آفس تھا یار،،
شاہ کل ہمارا ولیمہ ہے،،
جی بالکل کل ہمارا ولیمہ ہے انشاء االلہ،،
پھر کچھ دیر دونوں باتیں کرتے رھے اور جانے کی شاہ کے سینے پر سر رکھے نیند پیاری ہو گئی شاہ مسکرا دیا اور اپنے حصار میں لاتے ہوئے آنکھیں موند گیا
_________

Mirh@_Ch
 

اچھا دادا جان کے پاس جاؤ میں دیکھتا ہوں ،،
وہ سر ہلاتی چلی گئی اتنی دیر میں رخصتی کا شور اٹھا و اپنے بابا مما کے گلے لگ کر روی شازب ک گلے لگ کر اس کا ضبط مزید حتم ہو گیا کیونکہ شاہ سے اسے بہت محبت تھی بھائیوں بھابیوں کے گلے لگ گئی پھر اس بھائیو نے قرآن مجید کے سائے تلے رخصت کر دیا گیا سب کی ہی حالت عجیب تھی گھر کی اکلوتی بیٹی ہمیشہ کے لیے چلی گئی تھی داؤد منشن عائزہ کا استقبال بہت دھوم دھام سے کیا گیا تھا سب نے اس کو بہت پیار دیا کافی رسموں کے بعد اسے اسد کے روم میں بیٹھا دیا گیا

Mirh@_Ch
 

ارے نہیں میرا بچہ ایان ہماری بیٹی کو کچھ نہ کہو،،
چڑیل بیٹی ،،
ایان نے مزید چڑایا تو عائشہ دانت پیس کے رہ گئی دادو نے گھورا تو ایان مسکرا دیا
اوئے میری پیاری سی معصوم سی شونی سی بہن کتنی کیوٹ ہو تم اور اللہ مجھے اس جھوٹ پر بخش دے بس امین،،
ایان بھیو ،،
عائشہ پیچھے بھاگی شاہ نے پکڑ لیا اور ہنس دیا
بس بس یہاں بھی لڑنا شروع کر دیا دونوں نے،،
شاہ ایان بھیو تنگ کرتے ہیں،،
وہ شاہ کو دیکھتے ہی کسی بچے کی طرح شکایت کر رہی تھی
شاہ ہنس دیا

Mirh@_Ch
 

ہاں ہاں میں تو کسی کو پیارا ہی نہیں ،،میں معصوم سا،،
ایان منہ بناتے ہوئے دادو کے پاس آیا تو دادو اور عائشہ ہنس دیے
آپ اور معصوم بات میری ہوتی تو میں مان بھی جاتی ،،
عائشہ نے لا پرواہی سے کہا تو ایان منہ چڑانے لگا
تم اور معصوم چڑیل ہو اک نمبر کی آئی بڑی معصوم ،،
ایان نے شرارت سے کہا تو عائشہ چڑ گئی
دادو سمجھا لیں انہیں یہ مجھے چڑیل بول رہیں ہیں دیکھیں،،
عائشہ دادو کو شکایت لگاتے ہوئے بولی تو دادا جان ہنس دیے عائشہ مزید چڑ ہے
دادو آپ ہنس رہی ہیں مجھ سے بات مت کریں ،،

Mirh@_Ch
 

دادا جان اپنی پوتی کو مسکراتے دیکھ کھل اٹھے تھے ہمشہ سے ہی عائشہ میں اُن کی جان بستی تھی وہ اس کی خوشی کے لیے ہر حد تک چلی جاتے تھے کیونکہ عائشہ اُن کو سب سے بڑھ کر پیاری تھی اور عائشہ بھی ہمیشہ سے ہی دادا جان کے ساتھ اٹیچید تھی
دادو،،
دادو،، کہاں گم ہیں آپ،،
عائشہ اُن کے پاس بیٹھ گئی تو دادا جان اک دم چونکے
ارے ہمارا بیٹا کیسا ہے،،
میں ٹھیک ہوں دادا جان آپ ٹھیک نہیں لگ رہی کیا بات ہے،،
نہیں میرے بچے میں تو ٹھیک ہوں دیکھو آپ کے سامنے ،،
دادو نے مسکرا کر کہا تو عائشہ اُن کو دیکھنے لگی
پکہ میرے پیارے سے دادو ٹھیک ہیں،،
ہاں میرے بچے بلکل پرفکت اللہ کا شکر ہے،،

Mirh@_Ch
 

بارات کے ساتھ ہی یہ لوگ بھی وہاں پہنچ گئی تھی عائشہ جاتے ہی عائزہ کے پاس چلی گئی تھی آئزا بہت پیاری لگ رہی تھی سب اس پر سے کئی دفعہ صدقہ دے چکے تھے عائشہ سب کی نظروں کے محو بنی ہوئی تھی وہ لگ بھی بہت پیاری رہی تھی کچھ سب نے اس پر سے بھی صدقہ دیا حریم بہت پیاری اور خوش لگ رہی تھی اس کی زندگی کا خوبصورت ترین دن تھا اسے اسد کی شادی کا بہت انتظار تھا کچھ دیر بعد کھانے کا دورہ چلا شاہ اتے ہی انتظامات دیکھنے چلا گیا تھا کھانے کے بعد عائزہ کو اسد کے ساتھ لا کر اس کے چاروں بھائیو نے بیٹھایا تھا بھائیو کے سنگ چلتی و کوئی شہزادی لگ رہی تھی دادا جان آج مطمئن ہو گی تھے لیکن و چاہتے تھے اب عائشہ اور شاہ اک ساتھ خوش رہیں ان دونوں کو کسی بات پے ہنستے دیکھ کر داد جان مسکرا دیا

Mirh@_Ch
 

اتنی گہرائی نیند میں ہیں،،
وہ وسی کی ویسی ہی رہی
میرا دل کر رہا ہے میں بھی سو جاؤ چھوڑو شادی کو،،
جھک کر پیشانی پر ہونٹ رکھڑیا عائشہ تھوڑا سا کسمسائی اور پھر آنکھیں کھول دی
شاہ ،،
جی شاہ کی جان ،،
شاہ نے کیپ اسے پہنائی واپس مر گیا
فرش ہوں جلدی پھر نکلتے ہیں سب ویٹ کر رہی ہوں گے،،
شاہ نے مسکرا کر دیکھا اور ہاں میں سر ہلایا واشروم میں چل گیا

Mirh@_Ch
 

سب لڑکیاں تیار کھڑی تھی شاہ کو ہے ہوئے دو گھنٹے ہو گی تھے سب حال کے لیے نکل رہے تھے مگر عائشہ شاہ کو دیکھ رہی تھی جو ابھی تک گم تھا فون بھی کئی دفعہ کر چکی تھی مگر نو انسر و پریشان ہو گئی مگر کسی کو فیل نہ کروایا سب نکل رہے تھے مگر عائشہ خاموشی سے روم میں چلی گئی وہ شاہ کے ساتھ جانا چاہتی تھی مگر شاہ افف
تقریباً دو بجے کے قریب شاہ صاحب کی انٹری ہوئی روم میں آتے ہی سب سے پہلی نظر سوئی ہوئی عائشہ پر گئی وہ حیران ہوا
میری جان گئی نہیں ہے،،
وہ کہتا قریب آیا اور جھک کے عائشہ کی طرف دیکھا
کچھ زیادہ ہی نہیں سونے لگی آپ ،،
کوئی جواب نہیں

Mirh@_Ch
 

صبح اس کی آنکھ کچھ گرنے کی وجہ سے کھلی تو شاہ اس کی طرف دیکھ رہا تھا وہ مسکرا دی
کیا ہوا شاہ،،
شاہ نے جتنی کوشش کی کہ خاموشی سے نکل جائے اتنا ہی پھنس گیا تھا شاہ کے ہاتھ سے پرفیوم کی بوتل نیچے گر گئی تھی عائشہ آٹھ کے بیٹھی اور بالو کو جوڑے کی شکل دینے لگی ساتھ شاہ کو دیکھ رہی تھی جو فل تیار کھڑا تھا آفیس کے لیے
کچھ نئی شاہ کی جان آپ سو جاؤ،،
آپ کہاں جا رھے ھیں،،
کچھ دیر کے لیے آفس جا رہا ہوں کہ جاؤ گا ایک گھنٹے تک،،
شاہ عائزہ کے لیے بہت اہم دن ہے آج اور آپ آفیس جا رہے ہیں ،،،
وہ اب شاہ کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی تھی شاہ اسے دیکھ کر مسکرا دیا اس کا حلیہ پاگل کار سکتا تھا شاہ کو
کچھ دیر تک آ جاؤ گا نہ میری جان بہت ضروری ہے جانا میرا پلیز ،،
شاہ نے اسے حصار میں لاتے ہوئے ماتھے پر ہونٹ رکھے اور پھر باہر نکل گیا

Mirh@_Ch
 

اسے یقین نہیں کے شاہ نہیں ہے وہ یہی کہتی تھی شاہ ہے وہ زندہ ہے اور جب وہ زندہ تھے اس کے سامنے آئے تھے معافی مانگی تھی تو کیوں پھر و نفرت یا نہ شکری کرتی کیوں و اپنی دعاؤں کی قبولیت حاصل نہ کرتی و اللہ کا بہت زیادہ شکر کرتی تھی کے شاہ زندہ تھے اس کے پاس واپس آگے تھے و شاہ کو اپنے لیے کسی خزانے سے کم نہیں سمجھتی تھی وہ اس کا حاصل تھا اس کے صبر کا پھل شاہ کے ساتھ کیا ہوا کسی ہوا و نہیں جانتی تھی جانتی تھی تو بس اتنا کے و شاہ سے دور نہیں رہ سکتی تھی کیونکہ اگر وہ زندہ تھی تو سانس شاہ تھا اس کے لیے آکسیجن سے کم نہیں تھا اس کا محرم اس کا شاہ اس کی کسی نیکی کا صلہ لگتا تھا اسے و سوچے جا رہی تھی دنیا جہاں سے بے خبر اپنی سوچو میں گم تھی یاد تھا تو بس یہ کے شاہ ہے اس کے پاس اس کے ساتھ اور صرف اس کا بن کے و سوچے جا رہی تھی اور کب سوئی اسے نہیں پتہ