شاہ پلیز م۔۔مجھے ابھی کچھ جاننا ہے؟،،
شاہ اک دم اس کی طرف دیکھا جو تقریباً کانپ رہی تھی
کیا جاننا ہی شاہ کی جان ،،
وہ جلدی سے اٹھ کے بیٹھ گئی تو شاہ گھور کے رہ گیا
شاہ آپ کہاں تھے گیارہ مہینے کس کے پاس تھے آپ کے ساتھ کیا ہوا تھا؟؟،،
عائشہ کے اس طرح سوال کرنے پر شاہ کو اندازہ ہو گیا تھا عائشہ اس سے اتنے دن کھینچی کھینچی کیوں رہنرہی تھی وہ عائشہ کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا اور اسے اپنے حصار میں لیا بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا لی
،،اس رات جب کافی ساری رسمو میں سب بزی تھے تب شاہ باہر لان میں ایان کے ساتھ انتظامات دیکھ رہا تھا اور اسے کال آئی اس وقت آیا دوسری طرف چلا گیا تھا میں کال اٹینڈ کی
ڈی ایس پی شازب سکندر مہتاب چوہدری دو گھنٹے ہیں تمہارے پاس کراچی میں اپنی فیلڈ اور اس کے انڈر سب ایریاز کو بچا سکتے ہو تو بچا لو
وہ رو دی تو شاہ نے اسے پیچھے کیا
کیا ہوا میں پاس ہوں کیوں رو رہیں ہیں اب،،
شاہ نے پیار سے کہا
شاہ مجھے۔۔۔۔ لگا آپ۔۔۔۔ پھر۔۔۔۔ سے۔۔۔ما۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔۔ چھو۔۔۔۔ چھوڑ گئے ہیں میں پھر سے اکیلی ۔۔,۔را۔۔رہ گئی،،،
وہ شاہ کے سامنے پھوٹ پھوٹ کے رو دی تو شاہ نے جھٹکے سے اسے اپنے حصار میں لیا
نہیں شہ کی جان اب شاہ کہیں نہیں جائے گا کبھی نہیں آپ کو چھوڑ کے جانا ایسا میں اب سوئچ بھی نہیں سکتا پلیز خود کو سنبھالیں آپ عائش،،،
شاہ شرمندہ بھی بہت ہوا مگر عائشہ کے اس طرح سے رونے کی وجہ سے پریشان بھی ہو گیا تھا
ایسا کبھی مت سوچنا اب عائش وہ مجبوری تھی بس نہ جاتا تو پتہ نہیں کیا کیا ہو جاتا،،،
مگر باہر پڑتی برف سے سمجھ گئی وہ بری پھنسی تھی وہ ڈر ہے ہوئی تھی مگر سنو فالنگ دیکھ بچو کی طرف خوش ہو گئی تھی فرسٹ ٹائم وہ یہ منظر دیکھ رہےتھے وہ سب کچھ بھول گئی تھی یاد تھا تو بس سامنے کا منظر رات کا جو بہت خوبصورت لگ رہا تھا انتہائی خوبصورت و کھو گئی ہوش تو تب آیا جب اسے پیچھے سے کسی نے اپنے حصار میں لیا وہ ڈر گئی چونک کے پیچھے مرنے لگی مگر نہ مڑ سکی اس کے دل کی دھڑکن بہت تیز تھی شاہ نے محسوس کی تھی شاہ نے آہستہ سے جنکا رخ اپنی طرف کیا تو عائشہ کی آنکھیں نم تھی شاہ نے آہستہ سے لب اس کی آنکھوں پر رکھ دیے پھر مسکرا دیا
شاہ۔۔۔
وہ کہتے ساتھ ہی شاہ کے گلے لگ گئی
میں ڈر گئی تھی کہاں گے تھے آپ اور ہم کہاں ہیں ،،
ہم مری میں ہیں اور ڈر کیوں لگ رہا ہے میں پاس ہوں آپ کے،،
شاہ۔۔۔
رات کا نجانے کون سا پہر تھا جب عائشہ ٹھنڈ کا احساس ہوا اور اپنا سر بھاری لگا وہ سر کو پکڑے آرام سے اٹھی اور آہستہ سے آنکھیں کھولیں تو سامنے کا منظر دیکھ کر چکرا کر رہ گئی
ہائے اُو ربا یہ کیا ہوا،،
عائشہ نے نہ سمجھیں سے ادھر اُدھر دیکھا
شاہ ،، شاہ۔۔ مطلب ابھی بھی امتحان باقی ہے میں کڈنیپ ہو گئی پر یہ کمرہ اور اس کی یہ سجاوٹ ،،
وہ کمرے کو دیکھ رہی تھی جہاں ہر طرف پھول ہی پھول تھے خود کے کپڑے دیکھے تو چینج تھے وہ حیران ہوئی
افف اللہ یہ کیا ہے اب ،،
وہ اٹھی واشروم میں دیکھا کچھ نہیں تھا پھر وارڈ اور پھر بالکنی کی طرف دیکھنے گئی وہاں بھی کچھ نہیں تھا
دادو دونوں کو خوش دیکھ کر مطمئن تھے بہت پر سکون و اذکار مسکرا رہے تھے کیونکہ اُن کی پوتی کی خوشیاں اب اس کا انتظار کر رہی ہیں یہ پھر کچھ نیا امتحان تھا
وہ دونوں اسٹیج پر ساتھ بیٹھے بہت خوبصورت لگ رہے تھے دونوں کے چہروں پر ایک پیاری سی مسکان تھی محبت اپنا رنگ دیکھا رہی تھی اور سب یہ جان کر مطمئن تھے پھر کھانے کا دور شروع ہوا کھانا کھانے کے بعد سب اِدھر اُدھر گیپو میں مصروف تھے شاہ اور عائشہ کو تنگ کرنے حریم اور ایان اسٹیج پر پہنچ گئے تھے پھر کافی دیر بعد واپسی کا کہا گیا تو عائشہ نے ہوش ہو گئی شاہ مسکرا گیا اور اسے اٹھا کر آرام سے گاڑی میں بٹھایا اور اپنی منزل کو چل دیا پیچھے سب مسکرا دیے کیونکہ اب سب جانتے تھے محبت مہربان ہونا ہے ان کی زندگی پر
@@@
ہال میں سب آ چکے تھے سب کو عائزہ اور اسد اور عائشہ اور شازب کا بے صبری سے انتظار تھا آج کچھ محبتوں نے مکمل ہونا تھا
ہال کے باہر پہلے عائزہ اور اسد کی گاڑی آئی دونوں اکٹھے نکلے اسد کا ہاتھ تھامے وہ دونوں ہال کے اندر آئے و دونوں ہی بہت خوبصورت لگ رہی تھی عائزہ پر اسد کی محبت کا رنگ بہت خوبصورتی سے چڑ ھ چکا تھا وہ دونوں مکمل تھے وہ دونوں ابھی آ کے بیٹھے ہی تھے باہر اک اور ہونڈا بڑی گاڑی آ کے رکی
شاہ جلدی سے نکلا اور دوسری طرف آ کے خود دروازہ کھول کے عائشہ کے اگلے ہاتھ پھیلایا جس کو عائشہ نے تھام لیا وہ دونوں چاند سورج کی جوڑی لگ رہے تھے شاہ کے بازو میں ہاتھ ڈالے وہ کسی کوئین سے کم نہیں لگ رہی تھی وہ سچ میں بہت خوبصورت تھے ایک مکمل محبت کی تصویر تھے دونوں اُن دونوں پر ہال کے دروازے پر ہی اچھی خاصی تعداد میں نوٹوں کی بارش ہو گئی تھی
عائشہ نے روتے ہووے کہا تو حریم نے نہ میں سر ہلا دیا
نہیں میری جان کوئی بات نہیں مجھے پتہ ہے تم پر کیا بیتی ہے میں نے کبھی کچھ کہا تمہیں نہیں نہ سو کوئی بات نہیں بس میں چاہتی ہوں میری دوست مجھے واپس میل کے اور ہم خوش رہیں ایک دوسرے کے ساتھ ،،
عائشہ روتے ہوئے مسکرا دی تو حریم نے اس کی آنسو صاف کیے ،،
ہائے او ربا میں تو تمہیں بولنے آئی تھی پالر جانا ہے چلیں بہت لیٹ ہو گئے ہیں پہلے ہی چلو جلدی اب،،
عائشہ ہنس دی
چلو چلو ،،
پھر دونوں عائزہ کو کال کر کے پالر کے لیے نکل گئی وہ مزید مطمئن ہو گئی تھی ہاں اب خوشیاں انتظار میں تھی
@@@
وہ اپنی سوچو میں گم تھی جب حریم میں اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
آئشی ،،
وہ در ہے اور چونک کے پیچھے دیکھا
ج۔۔جی،،
تم ٹھیک ہو نہ میری جان،،
جی میں ٹھیک ہوں آپ کو کوئی کام تھا بھابھی،،
آئشی کب تک یونہی پرایا رکھو گی مجھے میری غلطی تو بتاؤ ،،
حریم بے بس ہو گئی تھی اس لیے آج بول دی عائشہ سر جھکا گئی وہ سچ میں شرمندہ تھی اسے نہیں پتہ تھا وہ کتنا غلط کرتی ہے حریم کے ساتھ پتہ تھا تو بس اتنا وہ منحوس ہے حریم نے اسے گلے لگا لیا تو وہ مزید رو دی
مجھے معاف کر دو حریم پلیز مجھے نہیں پتہ تھا میں کیا کر رہی ہوں ،،
بسی ہی بے بسی تھی قدم قدم پر وہ خود سے ایک ہے نام سے جنگ کرتی تھی ہمشہ وہ دن بدن اپنے خواب اپنی آرزوئوں کو مارتی گئی تھی اسے یقین تھا اپنے اللہ پر و کبھی بھی اس کے ساتھ غلط نہیں کر سکتے تھے کیونکہ اللہ تو اللہ ہے وہ کیسے برا کر سکتا ہے یہ کام تو ہم انسانوں کا ہے ایک دوسرے کو دیکھ تکلیف دینا و چاہتی تھی شاہ سے نرت کرے !مگر نہیں کر سکتی تھی پتہ نہیں کیوں اسے اس وقت خود سے نفرت ہو رہی تھی مگر و خاموش اپنے کمرے کی بالکنی میں بیٹھی تھی اس کے اندر ایک عجیب سا شور تھا جس کی سمجھ اسے خود کو بھی نہیں آ رہی تھی اسے نفرت ہو رہی تھی شاہ سے خود سے شاہ آپ نے اچھا نہیں کیا کاش ایک دفعہ بتا دیتے آپ کیوں مجھے میرے نہ کردہ جرم کی سزا دی آپ نے کتنا روئی تھی میں کتنا زیادہ
تھے کیوں کے آج شازب اور عائشہ کا ولیمہ بھی تھا دادو چاچو اور دانیال بھی تو ہال کے انتظامات دیکھنے صبح ہی چلے گئے تھے باقی لڑکے مزے سے گھر میں تیاریاں کر رھے تھے عائشہ آج خوش تھی شاہ کو بار بار دیکھ رہی تھی سب لڑکیاں تیاری میں بزی تھی عائزہ حریم اور عائشہ کو کچھ دیر تک پالر کے لیے جانا تھا سب آج بہت خوش تھے زندگی آسان لگ رہی تھی وہ مطمئن تھی کتنا کچھ اس نے جھیلا تھا برداشت کیا تھا مگر ہمت نہیں ہارتی تھی شاہ جب اسے چھوڑ کر گئے تھے وہ بہت ہے بس ہو گئی تھی لوگو کی باتیں لوگو کے تانے لوگو کے الزام سب کچھ اس نے برداشت کیا تھا خود ہی ذات کو منحوس اور نہ جانے کون کون سے ناموں سے پکارتے سنا تھا اس کے سامنے رونے یہ مرنے کے علاوہ کوئی رستہ نہیں تھا مگر وہ ثابت قدم رہی روتی رہی چیختی رہی مگر خاموش رہی ہے
گھر آتے ہی سب بہت تھکے ہوئے تھے اس لیے سب کمروں میں چلی گئی شاہ اتے ہی آفیس چلا گیا تھا عائشہ تو نیند کی وادیوں میں مزے سے سو رہی تھی رات کا نجانے کون سا پہر تھا جب عائشہ کو اپنے ماتھے پر کسی کا لمس محسوس ہوا آہستہ سے آنکھیں کھولیں تو شاہ کو اپنے پاس دیکھ کر مسکرا دی
شاہ آپ کب اے،،
ابھی آیا ہوں شاہ کی جان،،
کہاں تھے آپ ،،
آفس تھا یار،،
شاہ کل ہمارا ولیمہ ہے،،
جی بالکل کل ہمارا ولیمہ ہے انشاء االلہ،،
پھر کچھ دیر دونوں باتیں کرتے رھے اور جانے کی شاہ کے سینے پر سر رکھے نیند پیاری ہو گئی شاہ مسکرا دیا اور اپنے حصار میں لاتے ہوئے آنکھیں موند گیا
_________
اچھا دادا جان کے پاس جاؤ میں دیکھتا ہوں ،،
وہ سر ہلاتی چلی گئی اتنی دیر میں رخصتی کا شور اٹھا و اپنے بابا مما کے گلے لگ کر روی شازب ک گلے لگ کر اس کا ضبط مزید حتم ہو گیا کیونکہ شاہ سے اسے بہت محبت تھی بھائیوں بھابیوں کے گلے لگ گئی پھر اس بھائیو نے قرآن مجید کے سائے تلے رخصت کر دیا گیا سب کی ہی حالت عجیب تھی گھر کی اکلوتی بیٹی ہمیشہ کے لیے چلی گئی تھی داؤد منشن عائزہ کا استقبال بہت دھوم دھام سے کیا گیا تھا سب نے اس کو بہت پیار دیا کافی رسموں کے بعد اسے اسد کے روم میں بیٹھا دیا گیا
ارے نہیں میرا بچہ ایان ہماری بیٹی کو کچھ نہ کہو،،
چڑیل بیٹی ،،
ایان نے مزید چڑایا تو عائشہ دانت پیس کے رہ گئی دادو نے گھورا تو ایان مسکرا دیا
اوئے میری پیاری سی معصوم سی شونی سی بہن کتنی کیوٹ ہو تم اور اللہ مجھے اس جھوٹ پر بخش دے بس امین،،
ایان بھیو ،،
عائشہ پیچھے بھاگی شاہ نے پکڑ لیا اور ہنس دیا
بس بس یہاں بھی لڑنا شروع کر دیا دونوں نے،،
شاہ ایان بھیو تنگ کرتے ہیں،،
وہ شاہ کو دیکھتے ہی کسی بچے کی طرح شکایت کر رہی تھی
شاہ ہنس دیا
ہاں ہاں میں تو کسی کو پیارا ہی نہیں ،،میں معصوم سا،،
ایان منہ بناتے ہوئے دادو کے پاس آیا تو دادو اور عائشہ ہنس دیے
آپ اور معصوم بات میری ہوتی تو میں مان بھی جاتی ،،
عائشہ نے لا پرواہی سے کہا تو ایان منہ چڑانے لگا
تم اور معصوم چڑیل ہو اک نمبر کی آئی بڑی معصوم ،،
ایان نے شرارت سے کہا تو عائشہ چڑ گئی
دادو سمجھا لیں انہیں یہ مجھے چڑیل بول رہیں ہیں دیکھیں،،
عائشہ دادو کو شکایت لگاتے ہوئے بولی تو دادا جان ہنس دیے عائشہ مزید چڑ ہے
دادو آپ ہنس رہی ہیں مجھ سے بات مت کریں ،،
دادا جان اپنی پوتی کو مسکراتے دیکھ کھل اٹھے تھے ہمشہ سے ہی عائشہ میں اُن کی جان بستی تھی وہ اس کی خوشی کے لیے ہر حد تک چلی جاتے تھے کیونکہ عائشہ اُن کو سب سے بڑھ کر پیاری تھی اور عائشہ بھی ہمیشہ سے ہی دادا جان کے ساتھ اٹیچید تھی
دادو،،
دادو،، کہاں گم ہیں آپ،،
عائشہ اُن کے پاس بیٹھ گئی تو دادا جان اک دم چونکے
ارے ہمارا بیٹا کیسا ہے،،
میں ٹھیک ہوں دادا جان آپ ٹھیک نہیں لگ رہی کیا بات ہے،،
نہیں میرے بچے میں تو ٹھیک ہوں دیکھو آپ کے سامنے ،،
دادو نے مسکرا کر کہا تو عائشہ اُن کو دیکھنے لگی
پکہ میرے پیارے سے دادو ٹھیک ہیں،،
ہاں میرے بچے بلکل پرفکت اللہ کا شکر ہے،،
بارات کے ساتھ ہی یہ لوگ بھی وہاں پہنچ گئی تھی عائشہ جاتے ہی عائزہ کے پاس چلی گئی تھی آئزا بہت پیاری لگ رہی تھی سب اس پر سے کئی دفعہ صدقہ دے چکے تھے عائشہ سب کی نظروں کے محو بنی ہوئی تھی وہ لگ بھی بہت پیاری رہی تھی کچھ سب نے اس پر سے بھی صدقہ دیا حریم بہت پیاری اور خوش لگ رہی تھی اس کی زندگی کا خوبصورت ترین دن تھا اسے اسد کی شادی کا بہت انتظار تھا کچھ دیر بعد کھانے کا دورہ چلا شاہ اتے ہی انتظامات دیکھنے چلا گیا تھا کھانے کے بعد عائزہ کو اسد کے ساتھ لا کر اس کے چاروں بھائیو نے بیٹھایا تھا بھائیو کے سنگ چلتی و کوئی شہزادی لگ رہی تھی دادا جان آج مطمئن ہو گی تھے لیکن و چاہتے تھے اب عائشہ اور شاہ اک ساتھ خوش رہیں ان دونوں کو کسی بات پے ہنستے دیکھ کر داد جان مسکرا دیا
اتنی گہرائی نیند میں ہیں،،
وہ وسی کی ویسی ہی رہی
میرا دل کر رہا ہے میں بھی سو جاؤ چھوڑو شادی کو،،
جھک کر پیشانی پر ہونٹ رکھڑیا عائشہ تھوڑا سا کسمسائی اور پھر آنکھیں کھول دی
شاہ ،،
جی شاہ کی جان ،،
شاہ نے کیپ اسے پہنائی واپس مر گیا
فرش ہوں جلدی پھر نکلتے ہیں سب ویٹ کر رہی ہوں گے،،
شاہ نے مسکرا کر دیکھا اور ہاں میں سر ہلایا واشروم میں چل گیا
سب لڑکیاں تیار کھڑی تھی شاہ کو ہے ہوئے دو گھنٹے ہو گی تھے سب حال کے لیے نکل رہے تھے مگر عائشہ شاہ کو دیکھ رہی تھی جو ابھی تک گم تھا فون بھی کئی دفعہ کر چکی تھی مگر نو انسر و پریشان ہو گئی مگر کسی کو فیل نہ کروایا سب نکل رہے تھے مگر عائشہ خاموشی سے روم میں چلی گئی وہ شاہ کے ساتھ جانا چاہتی تھی مگر شاہ افف
تقریباً دو بجے کے قریب شاہ صاحب کی انٹری ہوئی روم میں آتے ہی سب سے پہلی نظر سوئی ہوئی عائشہ پر گئی وہ حیران ہوا
میری جان گئی نہیں ہے،،
وہ کہتا قریب آیا اور جھک کے عائشہ کی طرف دیکھا
کچھ زیادہ ہی نہیں سونے لگی آپ ،،
کوئی جواب نہیں
صبح اس کی آنکھ کچھ گرنے کی وجہ سے کھلی تو شاہ اس کی طرف دیکھ رہا تھا وہ مسکرا دی
کیا ہوا شاہ،،
شاہ نے جتنی کوشش کی کہ خاموشی سے نکل جائے اتنا ہی پھنس گیا تھا شاہ کے ہاتھ سے پرفیوم کی بوتل نیچے گر گئی تھی عائشہ آٹھ کے بیٹھی اور بالو کو جوڑے کی شکل دینے لگی ساتھ شاہ کو دیکھ رہی تھی جو فل تیار کھڑا تھا آفیس کے لیے
کچھ نئی شاہ کی جان آپ سو جاؤ،،
آپ کہاں جا رھے ھیں،،
کچھ دیر کے لیے آفس جا رہا ہوں کہ جاؤ گا ایک گھنٹے تک،،
شاہ عائزہ کے لیے بہت اہم دن ہے آج اور آپ آفیس جا رہے ہیں ،،،
وہ اب شاہ کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی تھی شاہ اسے دیکھ کر مسکرا دیا اس کا حلیہ پاگل کار سکتا تھا شاہ کو
کچھ دیر تک آ جاؤ گا نہ میری جان بہت ضروری ہے جانا میرا پلیز ،،
شاہ نے اسے حصار میں لاتے ہوئے ماتھے پر ہونٹ رکھے اور پھر باہر نکل گیا
اسے یقین نہیں کے شاہ نہیں ہے وہ یہی کہتی تھی شاہ ہے وہ زندہ ہے اور جب وہ زندہ تھے اس کے سامنے آئے تھے معافی مانگی تھی تو کیوں پھر و نفرت یا نہ شکری کرتی کیوں و اپنی دعاؤں کی قبولیت حاصل نہ کرتی و اللہ کا بہت زیادہ شکر کرتی تھی کے شاہ زندہ تھے اس کے پاس واپس آگے تھے و شاہ کو اپنے لیے کسی خزانے سے کم نہیں سمجھتی تھی وہ اس کا حاصل تھا اس کے صبر کا پھل شاہ کے ساتھ کیا ہوا کسی ہوا و نہیں جانتی تھی جانتی تھی تو بس اتنا کے و شاہ سے دور نہیں رہ سکتی تھی کیونکہ اگر وہ زندہ تھی تو سانس شاہ تھا اس کے لیے آکسیجن سے کم نہیں تھا اس کا محرم اس کا شاہ اس کی کسی نیکی کا صلہ لگتا تھا اسے و سوچے جا رہی تھی دنیا جہاں سے بے خبر اپنی سوچو میں گم تھی یاد تھا تو بس یہ کے شاہ ہے اس کے پاس اس کے ساتھ اور صرف اس کا بن کے و سوچے جا رہی تھی اور کب سوئی اسے نہیں پتہ
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain