صبح کا دن کافی بھاگ دوڑ والا تھا کوئی ادھر بھاگ رہا تھا کوئی اُدھر عائشہ سبھی نماز کے بعد سو ہے تھی کیونکہ کوئی بھی اٹھا نہیں تھا سو وہ بھی مست مگن صوتی بنی شاہ نماز پڑنے ہے ہوئے تھے شاہ حمش اس کے اٹھنے سے پہلے آٹھ جاتے تھے وہ حیران ہوتی تھی شاہ نماز نہیں چھوڑتے تھے یہ اسے کچھ دن پہلے پتہ چل تھا وہ بغیر بتائیے گھر سے نکل جاتے تھے اکثر اور خاموشی سے واپس آ جاتے تھے کسی کو کچھ نہیں پتہ چلتاہے ہاں عائشہ کی کبھی کبھی ایک یہ دو نمازیں ضرور چھوٹ جاتی تھی بعد میں وہ قضاء ضرور پڑھتی تھی شاہ جب واپس آئے تھے اس میں زندگی لوٹ آئی تھی وہ ہمیشہ اللہ سے یہی کہتی تھی کے اللہ ان کو واپس لے آؤ کیونکہ شاہ کی لاش نہیں ملی کسی کو ب بس کارڈ موبائل اور باقی چیزیں گاڑی کے پاس ملی تھی
مگر دانیال بھائی اور حسن بھائی اور دونوں بھبا بھیان مما بابا دادو ایان حریم سب جا چکے تھے آخر کار رات ایک بجے کے قریب ساری نوجوان پارٹی کو چین آیا اور سب اپنے اپنے كمرو میں چلے گئے عائشہ روم میں آتے ہی سو گئی تھی ہاں البتہ شاہ باہر سب کچھ چیک کر کے آیا تھا عائشہ کو سوئے دیکھ کر شاہ مسکرا دیا آج والی حرکت پر شاہ کو سچ میں بہت غصہ آیا تھا مگر خاموش ہو گیا کیونکہ و جانتا تھا عائشہ نے پھر سے کسی کی باتیں اپنے دماغ میں بٹھائی ہوئی ہوں گی جو برا خواب بن کے آیا ہوں گا ایف شاہ کی جان اتنی سینسٹو کیوں ہو آپ کو سوئچ رہا تھا اور ساتھ عائشہ کو دیکھ رہا تھا جو نہ جانے کس جہاں میں پہنچی ہوئی تھی
حریم اور عائشہ نے اسے پکڑا ہوا تھا پیچھے لڑکیوں نے اس کے اوپر دوپٹہ کیا ہوا تھا دادا جان اپنی پوتی کو دیکھ دیکھ خوش ہو رہے تھے پھر اسٹیج پر چچا جان اور دادا جان ہاتھ پکڑ کر لے گئے تھے اسٹیج کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا محبت کے رنگوں سے چاہت کی چاشنی سے اس کے بھائیو کی محنت نے سب بھائی کے آس پاس کھڑے تھے تو کیمرا مین نے یہ منظر کچ کیا تھا مکمل منظر مما جان واری صدقے جا رہی تھی اُن کی اکلوتی بیٹی اپنے مامو کے گھر جا رہی تھی اُن کی یہ خواہش تھی مگر ایسے پوری ہو گی کبھی سوچا نا تھا و بہت خوش تھی
رات کافی دیر تک فنگشن چلتا رہا تھا گھر کے بارے داؤد منشن جا چکے تھے اور نوجوان پارٹی ہلا گلا خوب کر رہی تھی عائشہ اور شاہ تو نہیں گے تھے
شاہ مجھے سچ میں اندازہ نہیں ہوا پتہ نہیں عجیب سی حالت ہو گئی ہے میری میں پاگل ہو جاؤ گی یا آپ کو کر دوں گی ،،
اچھا چھوڑو خاموش ہو جاؤ کچھ نہیں ہے جو تھا حتم ہو گیا ،،
چینج کر لیں ،،
ہمم،،
@@@
عائزہ اور حریم تیار تھی بالکل عائشہ ابھی ہو رہی تھی عائزہ بہت پیاری لگ رہی تھی سب اس کی بلائیں لے رہے تھے حریم عائزہ کے پاس تھی مہندی کے لیے داؤد منشن جانا تھا اور پھر حریم نے وہی رہنا تھا اور صبح برات کے ساتھ سیدھا ہال ہی انا تھا فنگشن باہر سٹارٹ تھا چونکہ علیحدہ علیحدہ فنگشن رکھا گیا تھا اس لیے فنگشن جلدی جلدی شروع کیا گیا تھا تاکہ بعد میں داؤد منشن بھی جا سکیں عائزہ کی فرینڈز اور کولیگز بھی آئی ہوئی تھی اس لیے یہ فنگشن زیادہ تر لڑکیوں کے لیے ہی ارینج کیا گیا تھا سب لڑکیوں نے عائزہ کو باہر لایا تھا
کیا ہوا ہے ،،
آپ ٹھیک ہو،،
ہاں میں بلکل ٹھیک ہوں کیوں کیا ہوا تھا مجھے،،
کچھ نہیں ،،
وہ آنسو صاف کرتے ہوئے واپس مر گئی شاہ پریشان ہو گیا تھا و بھ اس کے پیچھے ہی چلا گیا
عائشہ کو یہ خواب کافی دنوں سے تنگ کر رہا تھا مگر وہ اگنور کر رہی تھی اللہ جانے اب کیا باقی تھا ہونا جس کا اندازہ اسے نہیں ہو رہا تھا عالیہ بھابھی کی باتیں اسے عجیب سی لگی تھی افف یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ ۔۔پاگل ہو جاؤ گی میں یا پھر شاہ کو کر دوں گی ۔۔حد ہو گئی اب تو۔۔ وہ روم میں پہنچنے تک اپنی سوچ میں مگن رہی اسے نہیں پتہ تھا شاہ اس کے پیچھے ہی ہے روم میں جاتے ہیں وہ وارڈ کی طرف جانے لگی تو شاہ نے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو وہ سیدھا شاہ کے سینے سے لگی
ش۔۔شاہ آئی ام سوری مجھے اندازہ نہیں ہوا ،،
شاہ کی طرف دیکھتے ہی عائشہ نے کہا تو شاہ خاموش رہا
دانیال بھائی سنیں،،
جی گڑیا،،
شاہ کہاں ہیں؟؟
لان کے پچھلے حصے میں بیٹھا ہے،،
شکریہ،،
وہ بھاگتی ہوئی شاہ کے پاس پہنچی شاہ اس کو دیکھتے ہی بے یقیں ہوا
عائش،،
وہ اسے گھور کے رہ گیا اور جلدی سے اس کے پاس پہنچا
کیا حالت بنائی ہوئی ہے آپ نے ایسے باہر آتے ہیں،،
اس نے اس کے سر پر دوپٹہ پھیلا کر دیا جو اس کے آس پاس سارا پھیل گیا وہ رو رہی شاہ کا ایک دم دهان اس کی طرف گیا تو حیران رہ گیا
لان کی پچھلی سائڈ پے ہوں میں ا جاؤ،،
چل ٹھیک ہے آ جاؤ ،،
@@@
عائشہ ایک دم جھٹکے سے اٹھی
شاہ،،
وہ شاہ کو آواز دینے لگی مگر شاہ نہیں تھا
شاہ کہاں ہیں آپ،،
اور گلے میں دوپٹہ ڈالے باہر نکل گئی اسے نہیں پتہ تھا وہ کس حالت میں باہر جا رہی ہے اُسے صرف یاد تھا و برا خواب جو و دیکھ چکی تھی وہ رو دی ساری خویلی میں اسے شاہ کہیں نہیں دکھا و فکر مند ہو گئی رو تو رہی تھی وہ بال اس کے کھلے ہوئے تھے جو شاہ کھول دیتا تھا ہمشہ سے ہی اسے کسی کی پرواہ نہیں تھی بس تھی تو شاہ کی بس وہ کہاں ہے
__________
سب ٹھیک ہے اب بس کچھ دیر تک فنگشن سٹارٹ کرتے ہیں ،،
عائز کہاں ہے،،
ایان نے پوچھا
روم میں ہے وہ بھی سوئی ہوئی ہے ہسپتال سے آج آ کے سو گئی تھی ،،
تو ٹھیک نہیں لگ رہا کیا بات ہے،،،
ایان نے پوچھا
سر درد ہے بس تھوڑا سا،،
رک میں چائے مگواتا ہوں دونوں پیتے ہیں،،
کہاں گم ہے آج کل،،
آفس ہی تھا اور گھر بس،،
عائشہ نظر نہیں اہم مجھے وہ ٹھیک ہے،،
ہاں جی بلکل ٹھیک ہے سوئی ہوئی ہے ،،
طبیعت ٹھیک ہے اس کی،،
ایان کو تشویش ہوئی
ہاں ٹھیک ہے تھک گئی تھی بھاگ بھاگ کے اس لیے سو گئی ،،
تیاریاں مکمل ہیں بلکل سیکورٹی بھی پرفکت ہے ،،
ایان نے پوچھا تو شاہ نے ہاں میں سر ہلا دیا
شاہ کو محسوس ہوا وہ تھکاوٹ کی وجہ سے سو چکی ہے شاہ نے آرام سا پیچھے کیا تو وہ سچ میں سو چکی تھی و مسکرا گیا اسے اٹھا کر بیڈ پر لٹایا تھکن اس کے فیس اکسپرشنز سے واضح نظر آ رہی تھی اس کا چشمہ اُتار کر پرے رکھا اور جھک کر اسے بہت سا پیار کیا وہ پر سکون ہو گئی تھی شاہ مسکرا دیا پھر اٹھ کر اپنے اور عائشہ کے ڈریسز نکالے و جانتا تھا عائشہ تھک چکی ہے کچھ دیر آرام کر لے گی تو فرش ہو جائے گی ابھی مہندی سٹارٹ ہونے میں ایک گھنٹہ تھا سو وہ باہر تیاریاں دیکھنے نکل گیا ایان شاہ کو دیکھتے ہیں اس کی طرف آیا
اوئے جگرے ،،
ہاں گردے بول،،
دونوں ہنس دیے
عائشہ جیتنا ہو سکے اُن سے دور بھاگ رہی تھی کیونکہ اُن کے جملے و کافی بار سن چکی تھی اِدھر اِدھر گزرتے ہوئے و پکی منحوس بن گئی تھی سب ہی اسے منحوس ہی تصور کرتے تھے کیونکہ پھوپھو سب کے دماغ میں یہ بات اچھی طرح ڈال گئی تھی وہ خاموش ہو جاتی تھی اور سب کچھ اللہ پر چھوڑ رہی تھی چاچی جان نے ابھی کچن میں آئی
ارے عائشہ بچے آپ ابھی یہی ہو،،
ماما تھوڑا سا کام رہ گیا تھا ،،
بچے جاؤ کمرے میں شاہ انتظار کر رہا ہو گا گھن چکر بنی ہوئی ہو اتنے دنوں سے آرام بھی کر لو کچھ،،
چچی جان کو فکر ہوئی تو انہوں نے اسے روم میں بھیج دیا وہ سچ میں بہت تھک چکی تھی ابھی تو بس بستر ملی اور کوئی نہ پوچھئے اسے اور وہ سو جائے و کمرے میں داخل ہوئی تو شاہ کو وارڈ میں گھسے دکھ مسکرا دی
شاہ کیا کر رھے ھیں،،
عائزہ اسد کے ولیمے کے دیں شاہ کا ولیمہ بھی رکھا گیا تھا اس لیے ساتھ ان دونوں کی تیاریاں بھی کرنی تھی سب ہی گھر کے افراد گھن چکر بنے ہوئے تھے مسلسل تین دن بھاگ دور کر کے شادی اور ولیمے کی تیاریاں مکمل کی تھیں دنوں عائشہ شاہ کو بلکل ٹائم نہیں دے پائی تھی شاہ نے بھی شکوہ نہیں کیا تھا اس رات کے واقعے کے بعد عائشہ تو کم از کم سامنے آنے والی نہیں تھی مگر شاہ ہلکی پھلکی نوک جوک دونوں میں چلتی رہی تھی مگر روم میں اُن کی کوئی بات نہ ہوتی تھی دونوں ہی تھکے ہوتے تھے سو جاتے تھے عائشہ تو کبھی ٹائم سے روم میں جاتی ہے نہیں تھی اور اس کے جانے تک شاہ سو چکا ہوتا تھا وہ ٹھیک ہے تھی آج عائزہ کی مہندی تھی اور عائشہ گن چکر بنی ہوئی تھی پوری خویلی مہمانوں سے بھری ہوئی تھی اس دفعہ تو عالیہ بھابھی بھی آئی تھی
سب گھر والے داؤد منشن گے ہوئے تھے کیونکہ وہاں آج اسد اور عائزہ کی شادی کو ڈیٹ رکھنی تھی دادو اور ایان حریم سب وہی تھے شاہ اور عائشہ کے علاوہ باقی سب وہی تھے اج سب کا فیصلہ تھا اسی ہفتے کے اینڈ پے شادی کا دن رکھا جائے سب نے رضا مندی دے دی اسد اور عائزہ بے خبر ہسپتال میں بیٹھے تھے رات کو کافی دیر ہو چکی تھی جب سب گھر واپس اے تھے اُن کے آنے تک عائزہ ہے خبر سو چکی تھی صبح کا دن کافی زیادہ مصروفیات کا دن تھا کیونکہ شادی میں صرف تین دن تھے اور تیاریاں بہت زیادہ تھی عائشہ کو جب پتہ چلا تو وہ بہت خوش ہوئی ہیں البتہ سنجیدگی ابھی بھی بر قرار تھی اس نے سب کے ساتھ مل کے تیاریاں شروع کر دی تھی گھر کی چھوٹی بھی ہونے کی حیثیت سے اسے ہر کام میں شامل کیا گیا تھا
شاہ میں سب کو بولا لو گی ،،
شاہ ہنس دیا وہ سچ میں ڈر رہی تھی شاہ کو اس پے ڈھیروں پیار آیا محبت سے دیکھتا و اسے ساتھ ساتھ پیار کر رہا تھا
گھر میں کوئی نہیں ہے،،
عائشہ کو جھٹکا لگا مطلب سارے راستے بلاک فرار نہیں ملنا شاہ کی شرارتیں بڑھتی جا رہی تھی اور وہ خاموشی سے دیکھ رہی تھی شاہ نے اس کی آنکھیں بند کی مگر عائشہ پھر سے بولی
شاہ پلیز مجھے ڈر لگ رہا ہے،،
مجھے بھوک لگی ہے،،
مجھے بھی لگی ہے،،
وہ ہونٹ دانتوں تلے دبانے لگی جہاں شاہ کو ابھی بھی نظریں تھی
شاہ مجھے واشروم جانا ہے،،
وہ روہانسی ہو گئی مگر شاہ کو کی پرواہ نہیں
شاہ،،
اس نے آہستہ سے پُکارا مگر شاہ کی نظریں اب بھی ہونٹوں پے ہی تھی
کیا مسئلہ ہے آپ کو کیوں تنگ کر رہی ہیں مجھ مصوم کو،،
شاہ ہنس دیا
مسئلہ تو آپ ہی ہو پتہ نہیں کب حل کرنا ہے آپ نے،،
ہاں تو اسی لیے گڈ نائٹ بولا ہے نہ مجھے نیند آ رہی ہے،،
بلکل نہیں سونا اب پوری رات میری،،
شاہ نے کہا تو عائشہ کا رنگ اڑ گیا
نہ۔۔۔نہیں مجھے بھوک لگی ہے اور مجھے واپس جانا ہے،،
بھوک تو مجھے بھی لگی ہے اور واپس تو جانے کا سوچنا بھی مت امپاسبل ہے،،
وہ گھور کے رہ گئی جانتی تو وہ پہلے ہی تھی کے اسے اب واپس کبھی نہیں جانا مگر شاہ کو تنگ کرنا اپنا فرض سمجھا
شاہ پلیز نہ مجھے واپس جانا ہے مجھے نہیں آپ کے پاس رہنا ،،
عائشہ نے منہ بنا کے کہا تو شاہ جھٹکے سے دوبارہ بیڈ پر لٹایا اور جھکنے کی تھا مگر عائشہ ڈر کے جلدی سے بولی
ش۔۔۔شاہ سنیں ،،
جی سنائیں،،
وہ رات کو لیٹ اٹھی تھی آٹھ کے بیٹھی انگڑائی لے رہی جب سامنے لم ٹاپ میں گم بیٹے شاہ کی آواز آئی
گڈ مارننگ،،
ہو حیران ہوئی
میں اتنا زیادہ سوئی،،
اس نے وال کلاک دیکھی جو اٹھ بجا رہی تھی
گڈ نائٹ،،
ارے،،
وہ دوبارہ لیٹ چکی تھی سر تک کمبل تان چکی تھی شاہ نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے آرام سے کمبل اُتارا تو اس کی آنکھیں بند تھی
میڈیم رات کے آٹھ بجے ہیں صبح کے نہیں،،
اس کا انداز غصے والا تھا شاہ ہنس دیا پھر برابر میں لیٹتے ہوئے بولا
چلو مجھے ہگ کرو پھر،،
کوئی جواب نہیں شہ کا دل کر رہا تھا مزید اسے تنگ کرے تو اسے تھوڑا سا اور چھیڑ دیا اس دفعہ و جھنجھلا گئی اور ٹانگیں اِدھر اُدھر کرنے لگی شاہ کو ہنسی آئی
شاہ کی جان ہگ کرو نہ مجھے،،
عائشہ نے غصے سے ہگ کر دیا تو شاہ کو جھٹکا لگا وہ ہنس دیا عائشہ سچ میں سوئی ہوئی تھی شاہ کے چھیڑنے پر چڑ گئی تھی کیونکہ اس کی نیند میں خراب کر رہ تھا شاہ شاہ نے اپنا حصار مزید تنگ کیا اور آنکھیں موند گیا
آئی لو یو شاہ کی جان،،
عائشہ کے لب مسکرا دیے
شاہ مسکرا دیا
میری نیندیں اڑا کے خود کتنے مزے سے سو گئی ہو شاہ کی چشمش جان ،،
شاہ نے اس کا چشمہ اترا تو وہ تھوڑا سا کسمسائی مگر پھر سے سو گئی پھر اسے اٹھا کر بیڈ پر لٹایا تو اس نے شاہ کی شرٹ پکڑ لی ماتھے پر شکنیں تھی شاہ نے جھک کر پیار کیا تو وہ حتم ہو ہے اپنی شرٹ چھوروآئی مگر نہ جی عائشہ جی کہاں چھوڑنے والی تھی شاہ نے اس کا حجاب کھولا اور بال بھی کھول دیے پھر اسے صحیح کر کے لٹایا اور خود پاس ہی بیٹھ گیا بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے مگر عائشہ جی کو آرام نہیں تھا شاہ کے گرد حصار بنا ہے تو شاہ کو لگا وہ جاگ رہی ہے
شاہ کا پارہ بچا جاگ رہا ہے نہ،،
شاہ نے اسے چھیڑا تو وہ چڑ گئی
اہ،،
دو۔۔دور رہیں مجھ سے،،
شاہ آہستہ آہستہ پاس آ رہا تھا
آواز نہیں آئی کچھ کہا ،،
ما۔۔میں نے کہا دور رہیں،،
اوہو جان شاہ کیا کہ رہی ہیں مجھے آواز نہیں ا رہی،،
میں نے کہا مجھ سے دور رہیں آپ،،
وہ آہستہ آہستہ پیچھے جا رہی تھی جیسے شاہ آگے اتے و پیچھے ہوتی جا رہی تھی
ہاں جی اب بتاؤ ذرا کہاں جانا ہے آپ کو،،
شاہ نے کہا مگر عائشہ تو کہیں اور ہی کھوئی ہوئی تھی شاہ نے تھوڑا جھک کے دیکھا تو محترمہ آنکھیں بند کیے شاہ کی دھڑکن سننے میں بزی تھی شاہ مسکرا دیا اور اس کے سر پر پیار کیا کافی دیر تک جب وہ نہ ہلی تو شاہ نے پکارا مگر کوئی جواب نہیں شاہ نے آرام سے پیچھے کیا تو وہ محترمہ سو چکی تھی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain