وہ جسے ہی اندر داخل ہوئی دروازہ کھٹاک سے بند ہوا وہ جلدی سے مڑی تو شاہ نے دروازہ لوک کر دیا
یہ۔۔یہ۔۔لوک کیوں کیا ہے،،
میری مرضی میرا کمرہ میری بیوی کوئی مسئلہ،،
عائشہ دانت پیس کے رہ گئی
سب کچھ آپ ہی کا ہے تو میں یہاں کیا آپ کی شادی کی بریانی کھانے آئی ہوں،،
عائشہ نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تو شاہ ہنس دیا اور قریب آنے لگا
دو۔۔۔دور رہیں میں کہ رہی ہوں،،
وہ روہانسی ہو گئی تو شاہ ایسا ری ایکشن دیا جیسے سنا ہی نہ ہو
ش۔۔شاہ،،
جی شاہ کی جان،،
دفعہ ہو پیچھے ،،
ایان آٹھ کے چلا گیا شاہ ہنس دیا اور اس کے پیچھے ہی باہر چلا گیا جہاں لاؤنجمیں جہاں سب بیٹھے تھے
ایان بھائی چلیں،،
ایان بے چارہ
نہیں گڑیا ابھی کچھ دیر بیٹھو ،،
جی،،
وہ بیٹھ گئی اور ایان باہر نکل گیا شاہ کو دیکھ کر عائشہ نظروں کا زاویہ بدل گئی
عائشہ روم میں آئیں،،
وہ ہونکو کی طرح منہ کھولے اس آرڈر پر دانت پیس کے رہ گئی اور شاہ صاحب یہ جا وہ جا حد ہو گئی سب مسکرا رہے تھے مریم بھابھی تو کھانسنہ شروع ہو گئی تھی عائشہ سر جھکائے آٹھ گئی
اور تو یہ جان لے اگر تو لینے آیا ہے تو چپ چاپ واپس چلا جا میں نہیں بھیجنا ،،
میں نہیں لئے کر جا رہا یار پر تم بھی تو سمجھو وہ کن حالات سے گزری ہے،،
میرے بھی حالات سیم تھے یار ہاں میں بس لڑکا ہوں اور وہ لڑکی نازک سے ۔۔ہے نہ،،
تُجھے سمجھانا بھینس کے آگے بین بجانا ہے افف ،،
ایان جھنجھلا گیا تھا عائشہ نے صبح اسے کال کر کے کہا کہ اسے یہاں نہیں رہنا واپس لئے کر جائیں وہ رو رہی تھی ایان کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی ایک طرف بہن اور دوسری طرف دوست و جو بھی سے زیادہ عزیز تھا
اسے کچھ ٹائم دو شازب،،
جتنا مرضی ٹائم لئے مگر میرے ساتھ رہے،،
شاہ نے پورا ڈبا اس کے سامنے رکھ دیا تو عائشہ نے انگنت ٹشو اٹھا کر آنکھوں پر رکھ لیے
مجھے واشروم جانا ہے،،
وہ روہانسی ہو گئی شاہ نے اٹھا کے واشروم کرنے دیا عائشہ جھنجھلا گئی
اٹھانا ضروری تھا،،
بلکل،،
شاہ نے ہنس کے جواب دیا تو وہ خاموش ہو گئی شاہ واپس چلا گیا
@@@
تو نے اسے کیا کہا ہے،،
افف پچھلے پندرہ منٹ سے یہی تجھے کہ رہا ہوں میں نے اسے کچھ نہیں کہا،،
تو اس نے مجھے کال کیوں کی پھر اور وہ ضد کر رہی ہے واپس جانے کی ،،
اپنی نے بسی پر اسے رونا آیا وہ آنکھیں بند کر گئی جب شاہ نے آزاد کیا مگر اس کے آنسو دیکھ کر شرمندہ ہوا وہ کروٹ بدل گئی اور گہرے سانس لینے لگی ساتھ ہجکیوں سے رونے لگی
عائش،،آئی ایم سوری یار،،
وہ بے بسی سے بولا کتنا رُلائے گا شاہ و خود کو کوس رہا تھا وہ روئے جا رہی تھی
عائشہ پلیز ،،
شاہ نے اس کا رخ اپنی طرف کیا تو آنکھیں ناک ہونٹ انفکت ہوتا فیس ریڈ ہو گیا ہوا تھا آنکھیں ابھی بھی بند تھی
عائشہ
شاہ نے اسے بیٹھایا تو اس نے اکھیں کھولی مگر پھر بند کر گئی اور اٹھنے لگی شاہ نے جلدی سے پکڑ کر نہ می سر ہلایا
کیا چاہیے؟؟
ٹی۔۔ٹشو،،
ایک منٹ ،،
وہ سیٹپٹا گئی شاہ کو پیچھے کیا اپنا پورا زور لگا کے مگر ناکام و جھنجھلا گئی
پیچھے ہٹیں مجھے باہر جانا ہے،،
وہ غصے سے بولی تو شاہ شاہ تھوڑا اور آگے ہو گیا اس کے اس پاس ہاتھ و اور جھک گیا تو عائشہ غصہ ہو گئی اور مزید پیچھے جھک گئی
نہ ہٹو تو۔۔
وہ بھی شاہ تھا وہ بھی عائشہ کا کسی مان لیتا آسانی سے
مزید جھکتا گیا اور اک جھٹکے سے عائشہ کو پیچھے بیڈ پر گرا دیا اور خود اس پر جھک گیا ڈر کے مارے عائشہ آنکھیں بند کر گئی شاہ مسکرا گیا
ش۔۔شاہ۔۔پلیز،،
مجھے یہاں کون لئے کے آیا ہے،،
شاہ مسکرا دیا پھر تھوڑا سا اونچا ہو کے عائشہ کے قریب ہوا پھر آہستگی سے بولا
پوری رات میرے پاس میرے بیڈ پر میرے کمرے میں میرے بے حد قریب رہنے کے بعد آپ اب بھی پوچھ رہی ہیں آپ کو یہاں کون لئے کر آیا ،،
وہ آنکھیں کھولیں ایسے گھور رہی تھی جیسے کھا جائے گی ابھی اسے لگا کوئی خیال ہے اس نے سر جھٹک دیا کیونکہ اکثر اس کے ساتھ ایسا ہوتا تھا شاہ اس کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ ہمیشہ خیال ہے تصور کرتی تھا حالانکہ حقیقت ہوتی تھی
وہ آرام سے بیڈ پر بیٹھ گئی شاہ اس کے پاس نیچے بیٹھ گیا وہ حیران ہوئی شاہ ہنوز اس کی طرف دیکھے جا رہا تھا اور مسکرا رہا تھا
شاہ نے اپنے یخ ٹھنڈے ہاتھوں سے جب عائشہ کے ہاتھ پکڑے تب اسے ہوش آیا تو وہ بڑی حیرانگی سے دیکھنے لگی مگر پھر رخ موڑ گئی
مجھ میں ہمت نہیں رہی اب شاہ میرا دل کرتا ہے میں خود کو حتم کر لو واپس آ جائیں شاہ پلیز ورنہ آپ کی عائش جان دے دے گی ،،
وہ اپنے آنسو خود صاف کر رہی تھی بار بار اور روئے جا رہی تھی شاہ نے خود کو ملامتی نظروں سے دیکھا کتنا بد قسمت ہوں میں میری وجہ سے وہ معصوم سی لڑکی کتنا روئی ہے کتنا کچھ سہ رہی ہے کتنی باتیں سنی لوگو کی صرف میری وجہ سے
شاہ نے بے بسی سے سوچا اتنی دیر میں عائشہ اٹھنے لگی تھی وہ جیسے ہی کھڑی ہوئی چکرا گئی اور بیڈ کو تھامنے لگی مگر یہ کیا عائشہ نے جھٹکے سے پیچھے دیکھا اسے شاہ نے تھام لیا تھا شاہ کو اپنے سامنے دیکھ کر وہ بے یقیں ہوئی
ش۔۔۔شاہ،،
عائش میری جان میں اب آپ کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا ،،
شاہ کی آنکھوں میں آنسو تھے یہ لڑکی اس زندگی تھی اس کے ساتھ برا و انجانے میں صحیح مگر کر گیا تھا وہ جانتا تھا اس نے برا کیا ہے اور وہ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی خاموشی سے و اسے بازوئوں میں اٹھائے اپنے کمرے میں لے گیا کیونکہ اب اسے ہی بھر پائی کرنی تھی اپنے کیے کی وہ جانتا تھا
صبح عائشہ کی آنکھ جیسے ہی کھلی اس کا سر چکرانے لگا تو سر پر ہاتھ رکھے آہستہ سے اٹھی مگر شاہ کا روم دیکھ کر حیران ہوئی
مجھے یہاں کون لئے کر آیا ہے،،
وہ نہ سمجھ انداز میں ادھر اُدھر دیکھنے لگی شاہ کی یاد پھر سے تازہ ہو گئی تھی وہ رو دی
کیوں کیا شاہ کیوں کیا میرے ساتھ ایسا آپ کی وجہ سے مجھے سب منحوس سمجھتے ہیں میں بھی خود کو منحوس سمجھتی ہوں
اس سے زیادہ نہیں دیکھا گیا تھا عائشہ کی یہ حالت اس کی وجہ سے ہوئی تھی وہ کیسے اتنے مہینے عائشہ سے غافل رہا تھا وہ تو صرف اس کے دل میں محبت جگانا چاہتا تھا وہ چاہتا تھا عائشہ اس سے کھینچی کھینچی نہ رہے اس کے زندہ ہونے کا سب کو پتہ تھا مگر عائشہ کو بتانے سے اس نے سختی سے منع کیا تھا وہ چاہتا تھا عائشہ اپنی سرد مہری تو حتم کرے لیکن ایسا ہو جائے گا عائشہ اپنی ایسی حالت بنا لے گی اسے اندازہ تک نہیں تھا اسے نہیں پتہ تھا عائشہ اس سے اتنی محبت کرتی ہے وہ تو بس اپنے اوپر خول چڑا رکھا تھا سرد مہری کا نہیں جانتا تھا غلطی بہت بڑی و کر چکا تھا وہ وہاں سے اٹھ کر جانے لگا مگر روکا گیا تھا
شاہ مجھے یھاں سے لے جائیں پلیز اکیلا مت چھوڑیں ،،
وہ بے ہوشی میں شاہ کو پکڑ رہی تھی شاہ ہے اختیار اس کی طرف بڑھا
آپ مجھے اس لیے پیار کر رہی ہیں کے میں آپ کے بیٹے کی آخری نشانی اس کی محبت ہوں ہے نہ مما،،
نہیں میرا بچا ایسا نہیں ہے میری جان میری گڑیا ایسا نہیں سوچتے آپ ہماری بیٹی ہو ،،
چاچی جان کے پیچھے کھڑی فاطمہ اپی رو رہی تھی عائشہ نظریں پھیر گئی پتہ نہیں کہ اس سے سب ملے اور کب وہ بیٹھی اسے تو ہوش ہی نہیں رہی تھی کافی دور وہاں اُن سب میں بیٹھی رہی تھی مگر ہوش سے بے گانہ اسے کچھ نہیں پتہ تھا کون کیا کر رہا ہے اور کون اسے کیا پوچھ رہا تھا یاد تھا تو بس شاہ اسے چھوڑ گیا تھا رات کے کسی پہر اسے ہوش آیا تھا اسے نہیں پتہ تھا وہ کہاں ہے بس نے ہوشی کے عالم میں پانی پکڑنا چاہا تو اسے کسی نے پانی پلا دیا تھا اور پھر سے ہوش سے ہے گانا ہو گئی مگر اسے کسی کا لمس اپنے ہاتھوں اور منہ پر محسوس ہو رہا تھا مگر نقاہت سے آنکھیں کھولنے پر راضی نہیں تھی
جانِ شاہ،،
میں منحوس ہوں مجھ سے دور رہیں سب،،
وہ اپنے ہوش میں نہیں تھی چاچی جان کو جھٹکا لگا وہ جلدی سے آگے بڑھی مگر عائشہ نے روک دیا
پلیز مجھ سے دور رہیں ،،
وہ رو رہی تھی
میرا بچہ اپنی مما کے ایک دفعہ گلے لگ جاؤ پلیز،،
چاچی ماں ہاتھ جوڑنے لگی تھی مگر عائشہ جلدی سے اُن کے گلے لگ گئی
میرے بیٹے میرے شاہ کی جان میرا بچا میری عائشہ،،
وہ خاموش تھی کچھ بھی نہیں بولی خالی نظریں تھی اس کی اس دن سے و بچتی انتہائی مگر کہ تک بچتی آخر سامنا تو ہونا تھا نہ اک دن
چاچی جان نے ماتھا ہاتھ گال پر بوسا دیا تو وہ خالی نظروں سے دیکھتے رہیں
چاچا جان چاچی جان بھاگ کے اپنی بیٹی کی طرف آئے تھے چچا جان کے گلے لگ کر وہ بے آواز رو دی
بابا ،،
میرا بیٹا کیسا ہے،،
میں ٹھیک ہوں بابا آپ کیسے ہیں،،
چاچا جان لفظ بابا سن کے ہی کھل گے ان کو شاہ واپس مل گیا تھا
میرا بچہ باپ اپنے بچوں کے باہر کیسا ہوتا ہے،،
وہ خاموش ہو گئی اور جلدی سے چچا جان سے دور ہو گئی اس کو اپنا آپ منحوس لگا تھا پھر سے
ماما کے گلے نہیں لگو گی میرا بچا،،
اسے ڈر لگ رہا تھا
دادا جان کے سامنے اور اب وہ خاموش سے لڑکی
گاڑی میں بیٹھتے ہی عجیب سی گھبراہٹ ہونے لگی تھی اسے عائزہ کو کچھ بھی محسوس نہیں ہونے دیا تھا اس نے وہ آئزا کی ضد پے آ تو گئی تھی مگر ایک مہینہ وہاں رکنا اس کے لیے قیامت تھا وہ خاموشی سے باہر دیکھ رہی تھی جیسے اس سفر میں کچھ کھوجنا چہ رہی تھی وہ
گاڑی پورچ میں رکھتے ہیں نہ جانے کیا کیا یاد آیا تھا اسے اہ ۔۔۔شاہ۔۔ وہ سرد اہ بھر کے رہ ہے باہر نکل کے وہ نقاب اُتار چکی تھی اندر جاتے ہوئے اس کی سانس بند ہو رہی تھی قدم بھاری ہو گے تھے عائزہ اندر جا رہی تھی اور وہ اس کے پیچھے چل رہی تھی
ماما بابا بھا بھیو دیکھو کوں آیا ہے جلدی آؤ ،،
عائزہ نے جاتے ہی سب کو لاؤنج میں شور کر کے بولا لیا تھا عائشہ لاؤنج میں قدم رکھتے ہی کیا کیا یاد نہیں آیا تھا زندگی اس کی زندگی یہاں تھی وہ رو رہی تھی
اس نے عائشہ کے اس رویہ پر ہمیشہ مسکرا دیتی تھی وہ جانتی تھی عائشہ کن حالات سے گزری تھی اس لیے وہ خاموش ہو جاتی
آئشی اپنا خیال رکھنا ٹھیک ہے،،
حریم نے ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی تو عائشہ دور ہو گئی
ج۔۔جی ٹھیک ہے،،
اللہ حافظ،،
حریم خاموشی سے ایک سائڈ پے ہو گئی وہ ایسا ہی کرتی تھی ہاتھ تک خود کو نہیں لگانے دتی تھی اوپر سے حریم پریگننٹ تھی سو وہ مزید دور ہو گئی تھی دادا جان اکثر اسے دیکھ کر حیران ہوتے تھے دادا جان ایان کی شادی کے بعد سے اس کے ساتھ ہی رہتے تھے وہ اکثر عائشہ کے پاسجاتے تو وہ کبھی دادو کے پاس نہیں بیٹھتی تھی اسے لگتا تھا دادا جان بھی اس کی منہوسیت کا شکار ہو جائیں گے ہوں ہاں میں بس جواب دیتی رہتی اور خود کبھی کچھ تو کبھی کچھ کرنے لگ جاتی دادا جان کی ساتھ بھی و بدل گئی تھی پہلے بچی بن جاتی تھی
اور وہ اس کے پاؤں تک پڑنے کو تیار تھی اس لیے عائشہ نے حامی بھر لی تھی جانے کی مگر عائشہ ڈر رہی تھی شاہ سے شاہ کی یادوں سے جو اس گھر سے جوڑی ہیں شاہ کے ساتھ گزارے لمحوں سے وہ ڈر رہی تھی مگر خاموش تھی
او شاہ کی جان کہاں کھو گئی اب،،
عائزہ نے اس کے سامنے چٹکی بجائی تو و ہوش میں آئی
کہیں نہیں یہی ہوں ،،
چلیں ،،
میں عبایا کر لو ،،
اچھا،،
عائشہ خود کو چھپا کر رکھتی تھی و لوگو کی نظر میں نہیں انا چاہتی تھی اس کا حسن اس کے لیے مصیبت بنتا تھا مگر اس نے اسے چھپا دیا تھا ہمیشہ کے لیے
وہ نکلی تو حریم کو سامنے دیکھ کے رخ دوسری طرف کر گئی وہ ہمیشہ سے ایسا ہی کرتی تھی حریم کو دیکھ کر یہ تو مڑ جاتی یا پاس سے گزر جاتی حریم پھر بھی اس سے بہت محبت کرتی تھی کبھی کوئی شکوہ نہیں کیا
سب کے پاس ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے آپ میں مگن رہتی چچا جان اور چاچی جان بہت دفعہ آئے تھے مگر و سامنے نہ آتی تھی وہ آج بھی سمجھتی تھی کے شاہ اس کی وجہ سے اپنے گھر والوں سے دور چلا گیا ہے اور آج بھی خود کو منحوس سمجھتی تھی عائزہ تھی جو اس کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتی تھی عائزہ اور اسد کا رشتا طے کر دیا گیا تھا حریم بھابھی کے روپ میں ایک بہت اچھی بھابھی ثابت ہوئی تھی آج بھی ان دونوں کی دوستی ویسی ہی تھی محبت بھری بھابھی بن کے حریم اس کا اور زیادہ خیال رکھتی اس سے باتیں کرتی سب بہت اچھے تھے لیکن اگر کوئی بدلہ تھا تو وہ صرف عائشہ کی ذات تھی شاہ کے بنا وہ کچھ نہیں تھی شاہ نے سچ کہا تھا وہ مر جائے گی شاہ کے بنا شاہ کے بنا و کچھ بھی نہیں ہے کچھ نہیں آج اسے گیارہ مہینے بعد عائزہ خود لینے آئی تھی
تین مہینوں میں اپنی زندگی کی نوید سنا چکی تھی ایان بہت خوش ہوا تھا مگر وہ بدل گئی تھی عائشہ کو اُن دِنوں چشمہ لگ گیا تھا کیونکہ ڈاکٹرز نے کہا تھا دماغ پر بہت بڑی طرح اثر ہوا ہے عائشہ کا سر ہر وقت درد کرتا رہتا تھا پھر چیک اپ سے پتہ چلا کہ نرو بریک ڈاؤن کی وجہ سے اس کی نظر پر اثر ہوا ہے اس لیے اسے چشمہ لگا دیا گیا تھا چشمے کی وجہ سے وہ اور زیادہ سنجیدہ دیکھنے لگی تھی وہ بہت بدل گئی تھی شاہ کا نام اس نے اپنی زبان پر لانا تک چھوڑ دیا تھا مگر ایک بند کمرے میں وہ ہمیشہ شاہ کے ساتھ ہوتی اس کی یادوں کے ساتھ ہوتی و خاموش ہو گئی تھی نہ بولتی نہ کچھ مانگتی بس خاموش ہو گئی نہ پہلے والی ہنسی نہ باتیں کچھ نہیں تھا اس کے پاس ایک مسکراہٹ تھی بس اس کے لبو پر۔۔۔ بس ہر وقت اپنے روم میں رہتی تھی
عائشہ نے جھنجھلا کر کہا وہ ڈر رہی تھی مہتاب منشن جانے سے وہاں پھر سے سب کچھ یاد انا تھا شاہ کی یادیں شاہ کا روم نہیں ہمارا روم شاہ ایک دفعہ پھر سے عائشہ ہار گئی تو کیا میں وہاں سب کو پھر سے دیکھو گی تو سہ پاؤ گے اللہ میری مدد کریں مجھے وہاں نہیں جانا پلیز
اس دین جب ڈاکٹرز نے سوری کیا تو دادا جان اک دفاع پھر سے خاموش ہو گے تھے پہلے شاہ پھر عائشہ دادا جان کو زبردست دھجکا لگا مگر سنبھل گے فوراً ٹریٹمنٹ دینے سے عائشہ تین مہینے تک کوما میں رہی تھی اس کا دماغ بعد ہو چکا تھا زندگی اس میں سانس لیتی تھی مگر مردہ ہو کر اس کو ایان اپنے ساتھ سلیمان منشن لئے گیا تھا کیونکہ اب وہ عائشہ کو کبھی بھی مہتاب منشن نہ چھوڑتا وہاں بھر پور خیال اور توجہ اسے ملٹی رہی تھی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain