Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

وہ جسے ہی اندر داخل ہوئی دروازہ کھٹاک سے بند ہوا وہ جلدی سے مڑی تو شاہ نے دروازہ لوک کر دیا
یہ۔۔یہ۔۔لوک کیوں کیا ہے،،
میری مرضی میرا کمرہ میری بیوی کوئی مسئلہ،،
عائشہ دانت پیس کے رہ گئی
سب کچھ آپ ہی کا ہے تو میں یہاں کیا آپ کی شادی کی بریانی کھانے آئی ہوں،،
عائشہ نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تو شاہ ہنس دیا اور قریب آنے لگا
دو۔۔۔دور رہیں میں کہ رہی ہوں،،
وہ روہانسی ہو گئی تو شاہ ایسا ری ایکشن دیا جیسے سنا ہی نہ ہو
ش۔۔شاہ،،
جی شاہ کی جان،،

Mirh@_Ch
 

دفعہ ہو پیچھے ،،
ایان آٹھ کے چلا گیا شاہ ہنس دیا اور اس کے پیچھے ہی باہر چلا گیا جہاں لاؤنجمیں جہاں سب بیٹھے تھے
ایان بھائی چلیں،،
ایان بے چارہ
نہیں گڑیا ابھی کچھ دیر بیٹھو ،،
جی،،
وہ بیٹھ گئی اور ایان باہر نکل گیا شاہ کو دیکھ کر عائشہ نظروں کا زاویہ بدل گئی
عائشہ روم میں آئیں،،
وہ ہونکو کی طرح منہ کھولے اس آرڈر پر دانت پیس کے رہ گئی اور شاہ صاحب یہ جا وہ جا حد ہو گئی سب مسکرا رہے تھے مریم بھابھی تو کھانسنہ شروع ہو گئی تھی عائشہ سر جھکائے آٹھ گئی

Mirh@_Ch
 

اور تو یہ جان لے اگر تو لینے آیا ہے تو چپ چاپ واپس چلا جا میں نہیں بھیجنا ،،
میں نہیں لئے کر جا رہا یار پر تم بھی تو سمجھو وہ کن حالات سے گزری ہے،،
میرے بھی حالات سیم تھے یار ہاں میں بس لڑکا ہوں اور وہ لڑکی نازک سے ۔۔ہے نہ،،
تُجھے سمجھانا بھینس کے آگے بین بجانا ہے افف ،،
ایان جھنجھلا گیا تھا عائشہ نے صبح اسے کال کر کے کہا کہ اسے یہاں نہیں رہنا واپس لئے کر جائیں وہ رو رہی تھی ایان کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی ایک طرف بہن اور دوسری طرف دوست و جو بھی سے زیادہ عزیز تھا
اسے کچھ ٹائم دو شازب،،
جتنا مرضی ٹائم لئے مگر میرے ساتھ رہے،،

Mirh@_Ch
 

شاہ نے پورا ڈبا اس کے سامنے رکھ دیا تو عائشہ نے انگنت ٹشو اٹھا کر آنکھوں پر رکھ لیے
مجھے واشروم جانا ہے،،
وہ روہانسی ہو گئی شاہ نے اٹھا کے واشروم کرنے دیا عائشہ جھنجھلا گئی
اٹھانا ضروری تھا،،
بلکل،،
شاہ نے ہنس کے جواب دیا تو وہ خاموش ہو گئی شاہ واپس چلا گیا
@@@
تو نے اسے کیا کہا ہے،،
افف پچھلے پندرہ منٹ سے یہی تجھے کہ رہا ہوں میں نے اسے کچھ نہیں کہا،،
تو اس نے مجھے کال کیوں کی پھر اور وہ ضد کر رہی ہے واپس جانے کی ،،

Mirh@_Ch
 

اپنی نے بسی پر اسے رونا آیا وہ آنکھیں بند کر گئی جب شاہ نے آزاد کیا مگر اس کے آنسو دیکھ کر شرمندہ ہوا وہ کروٹ بدل گئی اور گہرے سانس لینے لگی ساتھ ہجکیوں سے رونے لگی
عائش،،آئی ایم سوری یار،،
وہ بے بسی سے بولا کتنا رُلائے گا شاہ و خود کو کوس رہا تھا وہ روئے جا رہی تھی
عائشہ پلیز ،،
شاہ نے اس کا رخ اپنی طرف کیا تو آنکھیں ناک ہونٹ انفکت ہوتا فیس ریڈ ہو گیا ہوا تھا آنکھیں ابھی بھی بند تھی
عائشہ
شاہ نے اسے بیٹھایا تو اس نے اکھیں کھولی مگر پھر بند کر گئی اور اٹھنے لگی شاہ نے جلدی سے پکڑ کر نہ می سر ہلایا
کیا چاہیے؟؟
ٹی۔۔ٹشو،،
ایک منٹ ،،

Mirh@_Ch
 

وہ سیٹپٹا گئی شاہ کو پیچھے کیا اپنا پورا زور لگا کے مگر ناکام و جھنجھلا گئی
پیچھے ہٹیں مجھے باہر جانا ہے،،
وہ غصے سے بولی تو شاہ شاہ تھوڑا اور آگے ہو گیا اس کے اس پاس ہاتھ و اور جھک گیا تو عائشہ غصہ ہو گئی اور مزید پیچھے جھک گئی
نہ ہٹو تو۔۔
وہ بھی شاہ تھا وہ بھی عائشہ کا کسی مان لیتا آسانی سے
مزید جھکتا گیا اور اک جھٹکے سے عائشہ کو پیچھے بیڈ پر گرا دیا اور خود اس پر جھک گیا ڈر کے مارے عائشہ آنکھیں بند کر گئی شاہ مسکرا گیا
ش۔۔شاہ۔۔پلیز،،

Mirh@_Ch
 

مجھے یہاں کون لئے کے آیا ہے،،
شاہ مسکرا دیا پھر تھوڑا سا اونچا ہو کے عائشہ کے قریب ہوا پھر آہستگی سے بولا
پوری رات میرے پاس میرے بیڈ پر میرے کمرے میں میرے بے حد قریب رہنے کے بعد آپ اب بھی پوچھ رہی ہیں آپ کو یہاں کون لئے کر آیا ،،

Mirh@_Ch
 

وہ آنکھیں کھولیں ایسے گھور رہی تھی جیسے کھا جائے گی ابھی اسے لگا کوئی خیال ہے اس نے سر جھٹک دیا کیونکہ اکثر اس کے ساتھ ایسا ہوتا تھا شاہ اس کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ ہمیشہ خیال ہے تصور کرتی تھا حالانکہ حقیقت ہوتی تھی
وہ آرام سے بیڈ پر بیٹھ گئی شاہ اس کے پاس نیچے بیٹھ گیا وہ حیران ہوئی شاہ ہنوز اس کی طرف دیکھے جا رہا تھا اور مسکرا رہا تھا
شاہ نے اپنے یخ ٹھنڈے ہاتھوں سے جب عائشہ کے ہاتھ پکڑے تب اسے ہوش آیا تو وہ بڑی حیرانگی سے دیکھنے لگی مگر پھر رخ موڑ گئی

Mirh@_Ch
 

مجھ میں ہمت نہیں رہی اب شاہ میرا دل کرتا ہے میں خود کو حتم کر لو واپس آ جائیں شاہ پلیز ورنہ آپ کی عائش جان دے دے گی ،،
وہ اپنے آنسو خود صاف کر رہی تھی بار بار اور روئے جا رہی تھی شاہ نے خود کو ملامتی نظروں سے دیکھا کتنا بد قسمت ہوں میں میری وجہ سے وہ معصوم سی لڑکی کتنا روئی ہے کتنا کچھ سہ رہی ہے کتنی باتیں سنی لوگو کی صرف میری وجہ سے
شاہ نے بے بسی سے سوچا اتنی دیر میں عائشہ اٹھنے لگی تھی وہ جیسے ہی کھڑی ہوئی چکرا گئی اور بیڈ کو تھامنے لگی مگر یہ کیا عائشہ نے جھٹکے سے پیچھے دیکھا اسے شاہ نے تھام لیا تھا شاہ کو اپنے سامنے دیکھ کر وہ بے یقیں ہوئی
ش۔۔۔شاہ،،

Mirh@_Ch
 

عائش میری جان میں اب آپ کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا ،،
شاہ کی آنکھوں میں آنسو تھے یہ لڑکی اس زندگی تھی اس کے ساتھ برا و انجانے میں صحیح مگر کر گیا تھا وہ جانتا تھا اس نے برا کیا ہے اور وہ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی خاموشی سے و اسے بازوئوں میں اٹھائے اپنے کمرے میں لے گیا کیونکہ اب اسے ہی بھر پائی کرنی تھی اپنے کیے کی وہ جانتا تھا
صبح عائشہ کی آنکھ جیسے ہی کھلی اس کا سر چکرانے لگا تو سر پر ہاتھ رکھے آہستہ سے اٹھی مگر شاہ کا روم دیکھ کر حیران ہوئی
مجھے یہاں کون لئے کر آیا ہے،،
وہ نہ سمجھ انداز میں ادھر اُدھر دیکھنے لگی شاہ کی یاد پھر سے تازہ ہو گئی تھی وہ رو دی
کیوں کیا شاہ کیوں کیا میرے ساتھ ایسا آپ کی وجہ سے مجھے سب منحوس سمجھتے ہیں میں بھی خود کو منحوس سمجھتی ہوں

Mirh@_Ch
 

اس سے زیادہ نہیں دیکھا گیا تھا عائشہ کی یہ حالت اس کی وجہ سے ہوئی تھی وہ کیسے اتنے مہینے عائشہ سے غافل رہا تھا وہ تو صرف اس کے دل میں محبت جگانا چاہتا تھا وہ چاہتا تھا عائشہ اس سے کھینچی کھینچی نہ رہے اس کے زندہ ہونے کا سب کو پتہ تھا مگر عائشہ کو بتانے سے اس نے سختی سے منع کیا تھا وہ چاہتا تھا عائشہ اپنی سرد مہری تو حتم کرے لیکن ایسا ہو جائے گا عائشہ اپنی ایسی حالت بنا لے گی اسے اندازہ تک نہیں تھا اسے نہیں پتہ تھا عائشہ اس سے اتنی محبت کرتی ہے وہ تو بس اپنے اوپر خول چڑا رکھا تھا سرد مہری کا نہیں جانتا تھا غلطی بہت بڑی و کر چکا تھا وہ وہاں سے اٹھ کر جانے لگا مگر روکا گیا تھا
شاہ مجھے یھاں سے لے جائیں پلیز اکیلا مت چھوڑیں ،،
وہ بے ہوشی میں شاہ کو پکڑ رہی تھی شاہ ہے اختیار اس کی طرف بڑھا

Mirh@_Ch
 

آپ مجھے اس لیے پیار کر رہی ہیں کے میں آپ کے بیٹے کی آخری نشانی اس کی محبت ہوں ہے نہ مما،،
نہیں میرا بچا ایسا نہیں ہے میری جان میری گڑیا ایسا نہیں سوچتے آپ ہماری بیٹی ہو ،،
چاچی جان کے پیچھے کھڑی فاطمہ اپی رو رہی تھی عائشہ نظریں پھیر گئی پتہ نہیں کہ اس سے سب ملے اور کب وہ بیٹھی اسے تو ہوش ہی نہیں رہی تھی کافی دور وہاں اُن سب میں بیٹھی رہی تھی مگر ہوش سے بے گانہ اسے کچھ نہیں پتہ تھا کون کیا کر رہا ہے اور کون اسے کیا پوچھ رہا تھا یاد تھا تو بس شاہ اسے چھوڑ گیا تھا رات کے کسی پہر اسے ہوش آیا تھا اسے نہیں پتہ تھا وہ کہاں ہے بس نے ہوشی کے عالم میں پانی پکڑنا چاہا تو اسے کسی نے پانی پلا دیا تھا اور پھر سے ہوش سے ہے گانا ہو گئی مگر اسے کسی کا لمس اپنے ہاتھوں اور منہ پر محسوس ہو رہا تھا مگر نقاہت سے آنکھیں کھولنے پر راضی نہیں تھی
جانِ شاہ،،

Mirh@_Ch
 

میں منحوس ہوں مجھ سے دور رہیں سب،،
وہ اپنے ہوش میں نہیں تھی چاچی جان کو جھٹکا لگا وہ جلدی سے آگے بڑھی مگر عائشہ نے روک دیا
پلیز مجھ سے دور رہیں ،،
وہ رو رہی تھی
میرا بچہ اپنی مما کے ایک دفعہ گلے لگ جاؤ پلیز،،
چاچی ماں ہاتھ جوڑنے لگی تھی مگر عائشہ جلدی سے اُن کے گلے لگ گئی
میرے بیٹے میرے شاہ کی جان میرا بچا میری عائشہ،،
وہ خاموش تھی کچھ بھی نہیں بولی خالی نظریں تھی اس کی اس دن سے و بچتی انتہائی مگر کہ تک بچتی آخر سامنا تو ہونا تھا نہ اک دن
چاچی جان نے ماتھا ہاتھ گال پر بوسا دیا تو وہ خالی نظروں سے دیکھتے رہیں

Mirh@_Ch
 

چاچا جان چاچی جان بھاگ کے اپنی بیٹی کی طرف آئے تھے چچا جان کے گلے لگ کر وہ بے آواز رو دی
بابا ،،
میرا بیٹا کیسا ہے،،
میں ٹھیک ہوں بابا آپ کیسے ہیں،،
چاچا جان لفظ بابا سن کے ہی کھل گے ان کو شاہ واپس مل گیا تھا
میرا بچہ باپ اپنے بچوں کے باہر کیسا ہوتا ہے،،
وہ خاموش ہو گئی اور جلدی سے چچا جان سے دور ہو گئی اس کو اپنا آپ منحوس لگا تھا پھر سے
ماما کے گلے نہیں لگو گی میرا بچا،،
اسے ڈر لگ رہا تھا

Mirh@_Ch
 

دادا جان کے سامنے اور اب وہ خاموش سے لڑکی
گاڑی میں بیٹھتے ہی عجیب سی گھبراہٹ ہونے لگی تھی اسے عائزہ کو کچھ بھی محسوس نہیں ہونے دیا تھا اس نے وہ آئزا کی ضد پے آ تو گئی تھی مگر ایک مہینہ وہاں رکنا اس کے لیے قیامت تھا وہ خاموشی سے باہر دیکھ رہی تھی جیسے اس سفر میں کچھ کھوجنا چہ رہی تھی وہ
گاڑی پورچ میں رکھتے ہیں نہ جانے کیا کیا یاد آیا تھا اسے اہ ۔۔۔شاہ۔۔ وہ سرد اہ بھر کے رہ ہے باہر نکل کے وہ نقاب اُتار چکی تھی اندر جاتے ہوئے اس کی سانس بند ہو رہی تھی قدم بھاری ہو گے تھے عائزہ اندر جا رہی تھی اور وہ اس کے پیچھے چل رہی تھی
ماما بابا بھا بھیو دیکھو کوں آیا ہے جلدی آؤ ،،
عائزہ نے جاتے ہی سب کو لاؤنج میں شور کر کے بولا لیا تھا عائشہ لاؤنج میں قدم رکھتے ہی کیا کیا یاد نہیں آیا تھا زندگی اس کی زندگی یہاں تھی وہ رو رہی تھی

Mirh@_Ch
 

اس نے عائشہ کے اس رویہ پر ہمیشہ مسکرا دیتی تھی وہ جانتی تھی عائشہ کن حالات سے گزری تھی اس لیے وہ خاموش ہو جاتی
آئشی اپنا خیال رکھنا ٹھیک ہے،،
حریم نے ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی تو عائشہ دور ہو گئی
ج۔۔جی ٹھیک ہے،،
اللہ حافظ،،
حریم خاموشی سے ایک سائڈ پے ہو گئی وہ ایسا ہی کرتی تھی ہاتھ تک خود کو نہیں لگانے دتی تھی اوپر سے حریم پریگننٹ تھی سو وہ مزید دور ہو گئی تھی دادا جان اکثر اسے دیکھ کر حیران ہوتے تھے دادا جان ایان کی شادی کے بعد سے اس کے ساتھ ہی رہتے تھے وہ اکثر عائشہ کے پاسجاتے تو وہ کبھی دادو کے پاس نہیں بیٹھتی تھی اسے لگتا تھا دادا جان بھی اس کی منہوسیت کا شکار ہو جائیں گے ہوں ہاں میں بس جواب دیتی رہتی اور خود کبھی کچھ تو کبھی کچھ کرنے لگ جاتی دادا جان کی ساتھ بھی و بدل گئی تھی پہلے بچی بن جاتی تھی

Mirh@_Ch
 

اور وہ اس کے پاؤں تک پڑنے کو تیار تھی اس لیے عائشہ نے حامی بھر لی تھی جانے کی مگر عائشہ ڈر رہی تھی شاہ سے شاہ کی یادوں سے جو اس گھر سے جوڑی ہیں شاہ کے ساتھ گزارے لمحوں سے وہ ڈر رہی تھی مگر خاموش تھی
او شاہ کی جان کہاں کھو گئی اب،،
عائزہ نے اس کے سامنے چٹکی بجائی تو و ہوش میں آئی
کہیں نہیں یہی ہوں ،،
چلیں ،،
میں عبایا کر لو ،،
اچھا،،
عائشہ خود کو چھپا کر رکھتی تھی و لوگو کی نظر میں نہیں انا چاہتی تھی اس کا حسن اس کے لیے مصیبت بنتا تھا مگر اس نے اسے چھپا دیا تھا ہمیشہ کے لیے
وہ نکلی تو حریم کو سامنے دیکھ کے رخ دوسری طرف کر گئی وہ ہمیشہ سے ایسا ہی کرتی تھی حریم کو دیکھ کر یہ تو مڑ جاتی یا پاس سے گزر جاتی حریم پھر بھی اس سے بہت محبت کرتی تھی کبھی کوئی شکوہ نہیں کیا

Mirh@_Ch
 

سب کے پاس ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے آپ میں مگن رہتی چچا جان اور چاچی جان بہت دفعہ آئے تھے مگر و سامنے نہ آتی تھی وہ آج بھی سمجھتی تھی کے شاہ اس کی وجہ سے اپنے گھر والوں سے دور چلا گیا ہے اور آج بھی خود کو منحوس سمجھتی تھی عائزہ تھی جو اس کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتی تھی عائزہ اور اسد کا رشتا طے کر دیا گیا تھا حریم بھابھی کے روپ میں ایک بہت اچھی بھابھی ثابت ہوئی تھی آج بھی ان دونوں کی دوستی ویسی ہی تھی محبت بھری بھابھی بن کے حریم اس کا اور زیادہ خیال رکھتی اس سے باتیں کرتی سب بہت اچھے تھے لیکن اگر کوئی بدلہ تھا تو وہ صرف عائشہ کی ذات تھی شاہ کے بنا وہ کچھ نہیں تھی شاہ نے سچ کہا تھا وہ مر جائے گی شاہ کے بنا شاہ کے بنا و کچھ بھی نہیں ہے کچھ نہیں آج اسے گیارہ مہینے بعد عائزہ خود لینے آئی تھی

Mirh@_Ch
 

تین مہینوں میں اپنی زندگی کی نوید سنا چکی تھی ایان بہت خوش ہوا تھا مگر وہ بدل گئی تھی عائشہ کو اُن دِنوں چشمہ لگ گیا تھا کیونکہ ڈاکٹرز نے کہا تھا دماغ پر بہت بڑی طرح اثر ہوا ہے عائشہ کا سر ہر وقت درد کرتا رہتا تھا پھر چیک اپ سے پتہ چلا کہ نرو بریک ڈاؤن کی وجہ سے اس کی نظر پر اثر ہوا ہے اس لیے اسے چشمہ لگا دیا گیا تھا چشمے کی وجہ سے وہ اور زیادہ سنجیدہ دیکھنے لگی تھی وہ بہت بدل گئی تھی شاہ کا نام اس نے اپنی زبان پر لانا تک چھوڑ دیا تھا مگر ایک بند کمرے میں وہ ہمیشہ شاہ کے ساتھ ہوتی اس کی یادوں کے ساتھ ہوتی و خاموش ہو گئی تھی نہ بولتی نہ کچھ مانگتی بس خاموش ہو گئی نہ پہلے والی ہنسی نہ باتیں کچھ نہیں تھا اس کے پاس ایک مسکراہٹ تھی بس اس کے لبو پر۔۔۔ بس ہر وقت اپنے روم میں رہتی تھی

Mirh@_Ch
 

عائشہ نے جھنجھلا کر کہا وہ ڈر رہی تھی مہتاب منشن جانے سے وہاں پھر سے سب کچھ یاد انا تھا شاہ کی یادیں شاہ کا روم نہیں ہمارا روم شاہ ایک دفعہ پھر سے عائشہ ہار گئی تو کیا میں وہاں سب کو پھر سے دیکھو گی تو سہ پاؤ گے اللہ میری مدد کریں مجھے وہاں نہیں جانا پلیز
اس دین جب ڈاکٹرز نے سوری کیا تو دادا جان اک دفاع پھر سے خاموش ہو گے تھے پہلے شاہ پھر عائشہ دادا جان کو زبردست دھجکا لگا مگر سنبھل گے فوراً ٹریٹمنٹ دینے سے عائشہ تین مہینے تک کوما میں رہی تھی اس کا دماغ بعد ہو چکا تھا زندگی اس میں سانس لیتی تھی مگر مردہ ہو کر اس کو ایان اپنے ساتھ سلیمان منشن لئے گیا تھا کیونکہ اب وہ عائشہ کو کبھی بھی مہتاب منشن نہ چھوڑتا وہاں بھر پور خیال اور توجہ اسے ملٹی رہی تھی