یہاں اسٹڈی میں ہوں عائزے ،،
اوہو تم یہاں کیا کر رہی ہو شاہ کی چشمیش جان چلنا نہیں ہے کیا کے لاسٹ موومنٹ پے نہ کرنے والی ہو اگر ایسا ہوا تو مجھ سے بات مت کرنا آئندہ،،
نہیں نہیں ایسا نہیں کرو گی مری شونو ،،
رونے کی وجہ سے اس کو فلو ہو گیا تھا اور آواز بھاری ہو گئی تھی کچھ سردیوں کا آغاز تھا اسے بخار بخار بھی فیل ہو رہا تھا مگر وہ لا پرواہی کر رہی تھی
رو رہی تھی نہ تم آج بھی شازب بھائی کو یاد کر کے روٹی ہو عائشے مت سزا دو خود کو پلیز دیکھو آج کتنے عرصے بعد تم مہتاب منشن جا رہی ہو بابا جان نے مجھے اسپشلی بھیجا تھا تمہیں لینے ان کا کہنا ہے اُن کی بیٹی آن کو بھول گئی ہے ایک تم ہو اتنی منتیں کی تب جا کے کہیں مانی ہو مگر ابھی روم میں آ کر جم ہی گئی ہو مما جان بھی تمہیں بہت یاد کرتی ہیں عائشے ،،
اوہو چل تو رہی ہوں اب کیا ہے ،،
آج بھی میں شرما جاتی ہوں شاہ یاد آتی ہے آپ کی عائشہ مر چکی ہے مگر عائش آج بھی زندہ ہے شاہ زندہ ہے آپ کی محبت آپ کا جنوں آپ کا عشق اور نہ جانے کیوں زندہ ہوں میں مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی شاہ واپس آ جائیں شاہ واپس آ جائیں پلیز آپ کی عائش تھک گئی ہے آج شاہ تھک گئی ہے ،،
دل کھول کہ آج ہم خوب روئے
لے ڈوبی آج ہمیں تھکاوٹ صبر کی
اس کا ضبط حتم ہو گیا چشمہ اُتار کر ایک سائیڈ پے رکھتے ہوئے وہ آج پھر پھوٹ پھوٹ کے رو دی و رو رہی تھی مگر وہاں کوئی نہیں تھا کوئی نہیں سوائے دیواروں کے کوئی نہیں تھا
عائشے ،، عائشے کہاں ہو یارا ،،
عائشہ نے جلدی سے ڈائری بند کی اور ڈرا میں رکھ کے لوک کیا اور اپنے آنسو صاف کے کے جلدی سے چشمہ پہنا اور خود کو نارمل کیا
اس دن عائشہ مر گئی تھی ہمیشہ کے لیے اس دن سب نے عائشہ کو کھو دیا تھا وہ دن آج تک کسی کو نہیں بھولا تھا کیونکہ اس دن عائشہ مر گئی تھی ہاں وہ دن عجیب تھا نہ شاہ اور نہ عائشہ دونوں ہی چلے گئے تھے سب کو چھوڑ کر شاہ سے محبت عائشہ کی زندگی تھی اس محبت میں پتہ نہیں کیا اثر تھا شاہ آج بھی آپ کی عائشہ زندہ ہے آپ میں قسمت کا یہ کھیل عجیب ہے شاہ قسمت نے عائشہ سے شاہ کو تو چھین لیا مگر اس کی یادیں کیسے چھینے گی اس کی محبت کیسے چھینے گی شاہ آپ کی اور میری محبت امر ہے محبت کبھی نہیں مرتی کبھی نہیں شاہ آپ کی عائشہ بڑی ہو گئی ہے وہ سب سمجھنے لگی ہے مچور ہو گئی ہے وہ شاہ کی جان شاہ کو بہت مس کرتی ہے کب آئیں گے آپ شاہ گیارہ مہینے ہو چکے ہیں شاہ میرے انتظار کو آپ کب آئیں گے شاہ پتہ ہے مجھے سب آج بھی شاہ کی جان بلاتے ہیں
تب ایک دفعہ پھر سے پورا گھر منہ پی بل گرا تھا عائزہ اور اسد تو بھوکے پیاسے بس کوشش میں لگی تھی گھر کا منظر عجیب ہو گیا تھا
آج تین دن بعد دادا جان کو ہوش آیا گیا تھا سب نے شکار کا سانس لیا مگر وہ خاموش تھے کچھ بھی نہیں بول رہے تھے گھر میں سے کوئی بھی نہیں رویا تھا کسی کو یقین ہی نہیں ہوا تھا روتا کوئی کیوں پھر عائشہ کی زندگی کی امید نہیں رہی تھی کسی کو۔۔ سات دن سے وہ ہوش حواس سے بے گانہ ہسپتال کے بیڈ پر پڑی تھی جیسے اس نے یہاں سے کبھی اٹھنا ہی نہیں
کراچی کی فضا عجیب سا منظر پیش کر رہی تھی وہاں تو سب ہی چلا رہے تھے سب ہی رو رہے تھے سب ہی گھر تباہ ہو گی تھے رستم ہاشمی یہ تم نے کیا کیا کیوں کیا تم نے میں آج خود سے کراچی کے ہر اک انسان ہر شہری سے وعدا کرتا ہوں رستم ہاشمی کی موت ایک عبرت ناک موت ہو گئی انشاء االلہ ایان نے مٹی اٹھا کر چوم لی اور اپنے ماتھے پر لگا لی اپنی موت کے لیے تیار ہو جاؤ رستم ہاشمی کیونکہ اب تمہارا انت آ گیا ہے اس دن کو گھر واپس آ گیا تھا اپنے کی بندے و وہاں چھوڑے خود آیا تھا مگر وہ بتانا نہیں چاہتا تھا دانیال اور حسن کو پتہ چلا تو وہ خاموش ہو گی اس دن وہ دونوں بھائی بہت روۓ تھے مگر چچا اور دادو بھی بعد قسمتی سے سن چکے تھے چچا جان خاموش ہو گی اور اللہ کا شکر کیا تو جیسے راضی میں بھی ویسے راضی میرے مولا
دادا جان ظاہری تو خاموش ہو گی مگر اگلے دن جب اُن کو ہارٹ اٹیک آیا
اس نے ہر جگہ پتہ کروا لیا تھا مگر ناکام اچانک کسی خیال کے تحت اس نے ٹی وی آن کیا ٹی وی پر چلنے والی نیوز نے اسے سب کچھ سمجھا دیا تھا وہ اسی وقت کراچی کے لیے نکل گیا کراچی جا کر جب شاہ کے آفیس اور اس کے اندر سب علاقوں کی حالت دیکھی تو وہ رونا شروع ہو گیا کہیں بچے رو رہے تھے کہیں پورے گھر تباہ تھا کہیں ملبے کے نیچے سے لوگوں کی لاشیں نکال رہے تھے فوج اور ریسکیو والے کہیں مرد عورتیں بازو اور ٹانگوں کے بغیر پڑے تھے تو کہیں بلڈنگز پوری کی پوری گرری پڑی تھی وہ رو دیا لوگو کی حالت دیکھ کر وہ رو دیا تھا چار دن وہاں رہا تھا وہ شاہ کا ہر ممکن پتہ کیا تھا اس نے مگر نہیں ملا آفیس کے لوگ جو بچ گیا تھے اُن سے پتہ چلا تھا آخری دھماکا شاہ کی گاڑی کے پاس ہوا تھا اور وہاں ایان کا ضبط حتم ہوگیا اور وہ چلا کر رونے لگا
عائزہ جو کے پچھلے پانچ دن سے گھن چکر بنی ہوئی تھی آج تھک گئی تھی ہار گئی تھی اور ابھی وہ ڈاکٹر عائزہ بن کے اپنے ہی گھر والوں کو بتا رہی تھی نہیں بچا سکتی وہ اُن کی بیٹی کو دادا جان بھی ہسپتال میں ایڈمٹ تھے ہارٹ اٹیک ہوا تھا اُن کو شاہ کی موت کا سن کے
اس دن عائشہ کو ہسپتال لانے کے بعد جب ایان کو سب کچھ پتہ چلا تو وہ فوراً مہتاب منشن آیا تھا جب شاہ کا نمبر بند آیا تو اس کے دماغ میں ایک شخص آیا
،،رستم ہاشمی،،
وہ بے ہوش ہو چکی تھی سب حتم ہو گیا تھا سب کچھ کچھ نہیں تھا باقی کچھ بھی نہیں
بابا شازب بھائی کو بولا لیں ورنہ عائشہ مر جائے گی ایز ا ڈاکٹر میں کہ رہی ہوں میں آپ کی پیشنٹ کو نہیں بچا پاؤ گے تین دن ہو چکے ہیں بے ہوش اُن کو یہاں لائے ہوئے مگر وہ آج بھی صرف شاہ شاہ کہ رہی ہیں بابا وہ ریکور نہیں کر رہی ہے نروبریک ڈاؤن ہوا ہے اور وہ بھی زبردست قسم کا جہاں پیشنٹ کے بچنے کے صرف %25 چانس ہیں مگر وہ روئی بھی نہیں ہے بابا جان اس کے ہارٹ پر اثر ہوا ہے شدید قسم کا پوری باڈی میں صرف دل اور دماغ سن ہو کے رہ گیا ہے اس کا ہمارے پاس اسے بچانے کے صرف %10 چانس ہیں آئی ایم سوری ،،،
ہاں پھوپھو آپ سچ کہتی تھی میں منحوس ہوں اسی لیے شاہ مجھے چھوڑ کر چلے گئے،، میں منحوس ہوں مجھ سے دور چلے جاؤ سب خدا کا واسطہ ہے چلے جاؤ سب میں منحوس ہوں، چچا جان آپ کے بیٹا کو میری منہوسیت کھا گئی وہ چلا گیا مجھے آپ سب کو چھوڑ کے چلا گیا ،،شاہ کیوں کیا ایسا !!! کیوں،،
وہ رو نہیں رہی تھی اسے رونا آ ہی نہیں رہا تھا وہ رونا چاہتی تھی مگر آنسو نہیں تھے اُن کی آنکھوں میں وہ چیخ رہی تھی چلا رہی تھی زندگی میں پہلی بار وہ گلا کر رہی تھی بال بکھرے دلہن بنی میکپ پھیلا ہوا وہ رات والے خولیے سے بلکل مختلف بکھری ہوئی تھی وہ کہیں سے بھی پہلے دن کی دلہن نہیں لگ رہی تھی زندگی میں پہلی دفعہ کو سب کے سامنے بال کھولے سر سے دوپٹہ اُتارے کھڑی تھی
پھوپھو نے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا تو بابا جان عائشہ کی طرف دیکھنے لگی جس کی حالت غیر ہو چکی تھی وہ پریشان ہوئے اج تک وہ لڑکی حجاب کے بغیر کسی کے سامنے نہیں آئی تھی اور آج اس کے سر پیٹ دوپٹہ تک نہیں تھا بال کھلے تھے جو قمر سے نیچے جاتے تھے اُنہیں اپنی پوتی بکھری ہوئی لگی پاگل سی
دادو شاہ چلے گئے مجھے چھوڑ کے دادو میری زندگی برباد کر کے شاہ چلے گے ،،
عائشہ کہتے ساتھ ہی دادو کے گلے لگ گئی تو پھوپھو ایک دفعہ پھر بولی
بابا میں کہتی تھی یہ منحوس ہے دیکھ لی نہ آپ نے اس کی منہوسیت،،
سوری معاف کر دینا سب میں اگر آج نہ گیا تو کی زندگیاں تباہ ہو جائیں گی،،
پھوپھو نے بلند آواز میں پڑھا تو عائشہ ایک دم رکی اور بھاگ کے پھوپھو کے ہاتھ سے کاغذ لیا اس لائن کو وہ بار بار پڑھ رہی تھی نہ جانے وہ کیا تلاش کرنا چه رہی تھی سب نے نہ سمجھ انداز میں دیکھا عائشہ کی حالت قابلِ رحم تھی وہ زور زور سے ہنسنے لگی سب کو اس کے پاگل ہونے پر شبہ ہوا پھوپھو نے نحوست سے رخ موڑ لیا
بابا جان آج کیا کہنا چاہیں گے آپ ؟؟,,
پھوپھو نے غصے سے کہا تو دادا جان نے نہ سمجھ انداز میں دیکھا عائشہ ہنستے ہوئے نیچے بیٹھ چکی تھی
میں سمجھا نہیں،،
بابا جان وہ چلا گیا ہے اس منحوس کی وجہ سے وہ کہتا ہے زندگیاں برباد ہوں گی جانا ضروری ہے،،
دادو شاہ کہاں ہیں،،
ہو گا کہیں دوستو کے پاس فکر مت کرو آ جاتا ہے میرا بچا،،
دادا جان نے عائشہ کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے پیار سے کہا
عائشہ خاموشی سے خالی خالی نظروں سے دیکھنے لگی
عائشہ چینج تو کر لیتی ،،
پاس کھڑی فاطمہ اپی نے کہا مگر عائشہ نے جیسے سونا ہی نہیں تھا دادا جان نے خاموش رہنے کا اشارہ کر دیا
کافی دیر بعد حسن اور دانیال بھائی آئے تو انہوں نے بتایا و کہیں نہیں ہے چچا جان بھی مایوس تھے عائشہ خاموشی سے سر جھکا گئی تو طے ہوا عائشہ تُجھے کوئی خوشی راس نہیں انی ،، و خود پے ہنس دی سب نے حیرانگی سے دیکھا
عائشہ،،
فاطمہ اپی نے غصے سے کہا تو وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی کنٹرول کرنے لگی مگر وہ اور زیادہ زور سے ہنسنے لگی سامنے سے آتی پھوپھو کے ہاتھ میں ایک کاغذ کا ٹکڑا تھا
یہ موبائل میرے شوہر کا ہے کیا آپ ان کو جانتے ہیں یہ موبائل آپ کو کہاں سے ملا وہ خود کہاں ہیں،،
عائشہ ابھی بول رہی تھی جب کل کاٹ دی گئی تھی اس نے دوبارہ کی دفعہ کیا تھا مگر کوئی جواب نہیں فون بند کر دیا گیا تھا وہ وہی بیٹھ کے رونا شروع ہو گئی
نہیں یہ ممکن نہیں ہے ایسا نہیں ہو سکتا شاہ کہاں ہیں آپ مجھ سے بات کریں عائشہ مر جائے گی شاہ پلیز ایسا مت کریں،،
وہ رونا شروع ہو گئی وہ شاہ کو بولا رہی تھی ایسے جسے وہ ابھی کہیں سے آ جائے گا
وہ باہر آہستہ آہستہ چلی ہوئی گئی سب ناشتا کر چکے تھے اور دادا جان پریشان سے کھڑے تھے حسن بھائی اور دانیال بھی غائب تھے چچا جان فون پے بات کر رھے تھے
وہ چلتی ہوئی دادا جان کے پاس چلی گئی تو دادا جان اسے دیکھ کر مسکرا دیے و بے جان ہو چکی تھی مسکرا بھی نہ سکی
میں جھوٹ بول رہی ہوں پھر کیا نہیں آئے وہ ،،
اچھا چلو جاؤ کمرے میں میں دیکھتی ہوں،،
اچھا،،
وہ سر ہلاتی ہوئی واپس چلی گئی اسے سمجھ کچھ نہیں آ رہا تھا کیا ہو رہا ہے مجھے،،
کمرے میں آ کر اس نے اپنا موبائل ڈھونڈا اور شاہ کو کال کی کافی دیر رینگ ہوتی رہی پھر جا کے اٹھا ہی لیا گیا
شاہ کہاں ہیں آپ کچھ خیال ہے آپ کو میرا میں پریشان ہو رہی ہوں جلدی سے گھر آئیں جہاں بھی ہیں میں انتظار کر رہی ہوں،،
وہ اپنی دھن میں بولی جاتی رہی تھی مگر جب اگلا بولا تو عائشہ نے ایک دفعہ پھر نومبر کو گھورا جہاں شاہ لکھا ہوا تھا
سوری میڈیم ہمیں یہ موبائل کل رات کو دھماکے میں زخمیوں کے پاس ملا تھا ہم نہیں جانتے یہ کس کا ہے ،،،
ا۔۔۔آپ کون ہیں؟؟
میڈیم میں خیام بات کر رہا ہوں ،،اور یہ موبائل مجھے کل رات ملا تھا مجھے نہیں پتہ یہ کس کا ہے،،
اس نے وارڈروب کھولی تو حیران رہ گئی شاہ کے کپڑے غائب تھی صرف دو سوٹ ہینگ تھے بس جوتے سب تھے سوائے جوگرز کے وہ حیران ہوتی ہوئی باہر نکلی سارے کمرے میں سے شاہ کی آدھی چیزیں غائب تھی اسے یقین نہیں آ رہا تھا وہ ویسے ہی باہر چلی گئی نیچے سب ناشتے میں بزی تھے اسے ابھی کسی نے نہیں دیکھا تھا تو مریم بھابھی کا دھیان اس کی طرف اچانک گیا و بھاگ کے اس کے پاس آئی اور اسے اک سائڈ پے کیا
پاگل ہو گئی ہو شازب ڈانٹے گا جو چینج کرو جا کے،،
وہ حیران ہوئی
بھابھی شاہ کہاں ہیں ؟؟،،
لو جی مجھے کیا پتہ ہے شاہ تمہارے پاس روم میں ہو گا نہ،،
نہ۔۔۔نہیں شاہ میرے پاس نہیں آئے،،
کیا؟؟ پاگل ہو گئی ہو،،
سچ میں آئے رات سے نہیں آئے،،
مریم بھابھی جیتنا حیران ہوتی کم تھا
ایسا کیسے ممکن ہے میں نے خود اسے روم میں جاتے ہوئے دیکھا تھا،،
زیادہ رسمو کے بعد آخر کار اس کو شاہ کے روم میں لے کر جایا گیا روم میں انٹر ہوتے ہی پھولوں کی بھر مار اک دفاع پھر سے اس پر ہوئی تھی پورا روم ڈفرنٹ پھولوں سے سجایا گیا تھا وہ دیکھ کر مبہوت سے رہ گئی اس میں اور ان پھولوں میں کوئی فرق نہیں لگ رہا تھا بہت خوبصورت دونوں ہی و بے انتہا خوش تھی زندگی بہت خوبصورت لگ رہی تھی وہ بیڈ پر گھوم کے بیٹھی اور مزے سے پھولوں کے ساتھ کھیلنے لگی دو گھنٹے کے مسلسل انتظار کے بعد نہ جانے کب وہ سو گئی پتہ ہی نہ چلا قسمت کے فیصلے سے انجان نیند کی وادیوں میں و پہنچ گئی،
_______
صبح وہ لیٹ اٹھی تھی ٹائم دیکھا تو اٹھ بج رہی تھی اپنے ساتھ خالی جگہ دیکھ کر وہ حیران ہوئی سب کچھ ویسے کا ویسا تھا وہ جیسے سوئی تھی ویسی ہی تھی وہ حیران ہوئی آٹھ کر واشروم دیکھا ڈریسنگ روم بالکنی مگر شاہ کہیں نہیں تھا
شاہ کہاں چلے گئے،،
میری بیگم مسکرا دی ہے لو کیا یاد کرو گی جاؤ اب جان چھوڑو اور عائشہ کو سیکھا دینا اس دودھ کو بنانا،،
دونوں ہنس دی تو شاہ نے دو لاکھ روپے اُن کے ہاتھ پر رکھ دیا وہ خوشی خوشی آٹھ کے چلی گئی کچھ دیر یوہی ہلا گلا چلتا رہا پھر رخصتی کا شور اٹھا حریم اور ایان تو داؤد صاحب کے ساتھ کچھ دیر پہلے نکل گے تھے عائشہ اور شاہ اپنی الگ سے گاڑی میں نکل گے اور باقی گاڑیاں اُن کی گاڑی کے پیچھے ہی تھی مہتاب منشن اُن کا ویلکم بہت دھماکے دار کیا گیا تھا گولہ بارود فائرنگ اور نہ جانے کیا کیا ان کے ویلکم میں کیا گیا تھا آسمان کا منظر الگ تھا خویلی ایک الگ ہی منظر پیش کر رہی تھی پوری خویلی کو اس قدر خوبصورتی سے سجایا گیا تھا کے کوئی حد نہیں لاؤنج میں داخل ہوتے ہی ایک دفعہ پھر سے اُن کا بھرپور ویلکم کیا گیا تھا
بھاگو میرے پاس کچھ نہیں ہے،،
کیوں جی کیس خوشی میں،،
اسی خوشی میں رکھیں اِدھر دو لاکھ روپے،،
ک۔۔کیا دو لاکھ،،
شاہ نے بے ہوش ہونے والے انداز میں کہا تو وہ ہنس دی
نہ دوں تو،،
تو ہم چچا جان اور دادو سے بول کے آپ کی جیب بہت زیادہ ہلکی کروا لیں گی ،،
جیب میں کچھ ہو گا تو ہلکی کرواؤ گی نہ،،
بہت کچھ ہے اتنے آپ غریب نہیں ہیں محترم،،
فاطمہ اپی نے ہنستے ہوئے کہا تو شاہ اور عائشہ مسکرا دیے،،
دودھ پلای کی رسم کے لیے فاطمہ اپی اور حریم آئی تھی عائزہ البتہ گم تھی
ہاں تو دولہا بھی صاحب کیسا تھا دودھ،،
شاہ نے آدھا خود پیا اور آدھا عائشہ کی طرف بڑھا دیا دونوں نے جب پی لیا تو مزے سے حریم نے پوچھا
یمی بہت مزے کا تھا عائشہ کو بھی سیکھا دو،،
سیکھا دیں گے سیکھا دیں گے پہلے قیمت تو دیں،،
فاطمہ اپی نے مزے سے کہا تو شاہ اک آئی برو اٹھا کر پوچھا
مطلب کون سے قیمت،،
دودھ کی قیمت جو مزے سے دونوں نے پیا ہے،،
ہنس کے حریم نے کہا تو شاہ گھور کے رہ گیا
شاہ نے پیار سے اس کے سامنے ہاتھ پھیلایا تو عائشہ مزید دادا جان کے ساتھ لگ ہے دادا جان شاہ کی طرف دیکھنے لگے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ کہا ایان دادا جان اور چچا جان نے پیار سے عائشہ کا ہاتھ شاہ کے ہاتھ پر رکھ دیا تو شاہ آرام سے اسے لئے کر آہستہ آہستہ اسٹیج کی طرف چل دیا عائشہ پیچھے دیکھنے لگی جہاں سب وہیں کھڑے تھے کوئی بھی نہیں آیا تھا اس کے پیچھے اسٹیج کے قریب پہنچتے ہی ایک دفعہ پھر سے پیسو اور پھولوں کی دکان آن کے اوپر پھینک دی گئی تھی عائشہ سر جھکا گئی حقیقت تو یہ تھی کہ عائشہ اب بھی ڈر رہی تھی کسی انجانی خوف سے کسی قیامت سے کسی ٹریجڈی سے کچھ تو ہونے والا تھا اسٹیج پر شاہ کے پاس بیٹھے سب کی نظروں کا مرکز بنی ہوئی تھی سب اس چاند سورج کی جوڑی کو سراہ رہے تھے دادا جان پریشان ہو گے تھے مگر ظاہر نہیں کروایا سب اللہ پر چھوڑ چکے تھے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain