Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

یہاں اسٹڈی میں ہوں عائزے ،،
اوہو تم یہاں کیا کر رہی ہو شاہ کی چشمیش جان چلنا نہیں ہے کیا کے لاسٹ موومنٹ پے نہ کرنے والی ہو اگر ایسا ہوا تو مجھ سے بات مت کرنا آئندہ،،
نہیں نہیں ایسا نہیں کرو گی مری شونو ،،
رونے کی وجہ سے اس کو فلو ہو گیا تھا اور آواز بھاری ہو گئی تھی کچھ سردیوں کا آغاز تھا اسے بخار بخار بھی فیل ہو رہا تھا مگر وہ لا پرواہی کر رہی تھی
رو رہی تھی نہ تم آج بھی شازب بھائی کو یاد کر کے روٹی ہو عائشے مت سزا دو خود کو پلیز دیکھو آج کتنے عرصے بعد تم مہتاب منشن جا رہی ہو بابا جان نے مجھے اسپشلی بھیجا تھا تمہیں لینے ان کا کہنا ہے اُن کی بیٹی آن کو بھول گئی ہے ایک تم ہو اتنی منتیں کی تب جا کے کہیں مانی ہو مگر ابھی روم میں آ کر جم ہی گئی ہو مما جان بھی تمہیں بہت یاد کرتی ہیں عائشے ،،
اوہو چل تو رہی ہوں اب کیا ہے ،،

Mirh@_Ch
 

آج بھی میں شرما جاتی ہوں شاہ یاد آتی ہے آپ کی عائشہ مر چکی ہے مگر عائش آج بھی زندہ ہے شاہ زندہ ہے آپ کی محبت آپ کا جنوں آپ کا عشق اور نہ جانے کیوں زندہ ہوں میں مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی شاہ واپس آ جائیں شاہ واپس آ جائیں پلیز آپ کی عائش تھک گئی ہے آج شاہ تھک گئی ہے ،،
دل کھول کہ آج ہم خوب روئے
لے ڈوبی آج ہمیں تھکاوٹ صبر کی
اس کا ضبط حتم ہو گیا چشمہ اُتار کر ایک سائیڈ پے رکھتے ہوئے وہ آج پھر پھوٹ پھوٹ کے رو دی و رو رہی تھی مگر وہاں کوئی نہیں تھا کوئی نہیں سوائے دیواروں کے کوئی نہیں تھا
عائشے ،، عائشے کہاں ہو یارا ،،
عائشہ نے جلدی سے ڈائری بند کی اور ڈرا میں رکھ کے لوک کیا اور اپنے آنسو صاف کے کے جلدی سے چشمہ پہنا اور خود کو نارمل کیا

Mirh@_Ch
 

اس دن عائشہ مر گئی تھی ہمیشہ کے لیے اس دن سب نے عائشہ کو کھو دیا تھا وہ دن آج تک کسی کو نہیں بھولا تھا کیونکہ اس دن عائشہ مر گئی تھی ہاں وہ دن عجیب تھا نہ شاہ اور نہ عائشہ دونوں ہی چلے گئے تھے سب کو چھوڑ کر شاہ سے محبت عائشہ کی زندگی تھی اس محبت میں پتہ نہیں کیا اثر تھا شاہ آج بھی آپ کی عائشہ زندہ ہے آپ میں قسمت کا یہ کھیل عجیب ہے شاہ قسمت نے عائشہ سے شاہ کو تو چھین لیا مگر اس کی یادیں کیسے چھینے گی اس کی محبت کیسے چھینے گی شاہ آپ کی اور میری محبت امر ہے محبت کبھی نہیں مرتی کبھی نہیں شاہ آپ کی عائشہ بڑی ہو گئی ہے وہ سب سمجھنے لگی ہے مچور ہو گئی ہے وہ شاہ کی جان شاہ کو بہت مس کرتی ہے کب آئیں گے آپ شاہ گیارہ مہینے ہو چکے ہیں شاہ میرے انتظار کو آپ کب آئیں گے شاہ پتہ ہے مجھے سب آج بھی شاہ کی جان بلاتے ہیں

Mirh@_Ch
 

تب ایک دفعہ پھر سے پورا گھر منہ پی بل گرا تھا عائزہ اور اسد تو بھوکے پیاسے بس کوشش میں لگی تھی گھر کا منظر عجیب ہو گیا تھا
آج تین دن بعد دادا جان کو ہوش آیا گیا تھا سب نے شکار کا سانس لیا مگر وہ خاموش تھے کچھ بھی نہیں بول رہے تھے گھر میں سے کوئی بھی نہیں رویا تھا کسی کو یقین ہی نہیں ہوا تھا روتا کوئی کیوں پھر عائشہ کی زندگی کی امید نہیں رہی تھی کسی کو۔۔ سات دن سے وہ ہوش حواس سے بے گانہ ہسپتال کے بیڈ پر پڑی تھی جیسے اس نے یہاں سے کبھی اٹھنا ہی نہیں

Mirh@_Ch
 

کراچی کی فضا عجیب سا منظر پیش کر رہی تھی وہاں تو سب ہی چلا رہے تھے سب ہی رو رہے تھے سب ہی گھر تباہ ہو گی تھے رستم ہاشمی یہ تم نے کیا کیا کیوں کیا تم نے میں آج خود سے کراچی کے ہر اک انسان ہر شہری سے وعدا کرتا ہوں رستم ہاشمی کی موت ایک عبرت ناک موت ہو گئی انشاء االلہ ایان نے مٹی اٹھا کر چوم لی اور اپنے ماتھے پر لگا لی اپنی موت کے لیے تیار ہو جاؤ رستم ہاشمی کیونکہ اب تمہارا انت آ گیا ہے اس دن کو گھر واپس آ گیا تھا اپنے کی بندے و وہاں چھوڑے خود آیا تھا مگر وہ بتانا نہیں چاہتا تھا دانیال اور حسن کو پتہ چلا تو وہ خاموش ہو گی اس دن وہ دونوں بھائی بہت روۓ تھے مگر چچا اور دادو بھی بعد قسمتی سے سن چکے تھے چچا جان خاموش ہو گی اور اللہ کا شکر کیا تو جیسے راضی میں بھی ویسے راضی میرے مولا
دادا جان ظاہری تو خاموش ہو گی مگر اگلے دن جب اُن کو ہارٹ اٹیک آیا

Mirh@_Ch
 

اس نے ہر جگہ پتہ کروا لیا تھا مگر ناکام اچانک کسی خیال کے تحت اس نے ٹی وی آن کیا ٹی وی پر چلنے والی نیوز نے اسے سب کچھ سمجھا دیا تھا وہ اسی وقت کراچی کے لیے نکل گیا کراچی جا کر جب شاہ کے آفیس اور اس کے اندر سب علاقوں کی حالت دیکھی تو وہ رونا شروع ہو گیا کہیں بچے رو رہے تھے کہیں پورے گھر تباہ تھا کہیں ملبے کے نیچے سے لوگوں کی لاشیں نکال رہے تھے فوج اور ریسکیو والے کہیں مرد عورتیں بازو اور ٹانگوں کے بغیر پڑے تھے تو کہیں بلڈنگز پوری کی پوری گرری پڑی تھی وہ رو دیا لوگو کی حالت دیکھ کر وہ رو دیا تھا چار دن وہاں رہا تھا وہ شاہ کا ہر ممکن پتہ کیا تھا اس نے مگر نہیں ملا آفیس کے لوگ جو بچ گیا تھے اُن سے پتہ چلا تھا آخری دھماکا شاہ کی گاڑی کے پاس ہوا تھا اور وہاں ایان کا ضبط حتم ہوگیا اور وہ چلا کر رونے لگا

Mirh@_Ch
 

عائزہ جو کے پچھلے پانچ دن سے گھن چکر بنی ہوئی تھی آج تھک گئی تھی ہار گئی تھی اور ابھی وہ ڈاکٹر عائزہ بن کے اپنے ہی گھر والوں کو بتا رہی تھی نہیں بچا سکتی وہ اُن کی بیٹی کو دادا جان بھی ہسپتال میں ایڈمٹ تھے ہارٹ اٹیک ہوا تھا اُن کو شاہ کی موت کا سن کے
اس دن عائشہ کو ہسپتال لانے کے بعد جب ایان کو سب کچھ پتہ چلا تو وہ فوراً مہتاب منشن آیا تھا جب شاہ کا نمبر بند آیا تو اس کے دماغ میں ایک شخص آیا
،،رستم ہاشمی،،

Mirh@_Ch
 

وہ بے ہوش ہو چکی تھی سب حتم ہو گیا تھا سب کچھ کچھ نہیں تھا باقی کچھ بھی نہیں
بابا شازب بھائی کو بولا لیں ورنہ عائشہ مر جائے گی ایز ا ڈاکٹر میں کہ رہی ہوں میں آپ کی پیشنٹ کو نہیں بچا پاؤ گے تین دن ہو چکے ہیں بے ہوش اُن کو یہاں لائے ہوئے مگر وہ آج بھی صرف شاہ شاہ کہ رہی ہیں بابا وہ ریکور نہیں کر رہی ہے نروبریک ڈاؤن ہوا ہے اور وہ بھی زبردست قسم کا جہاں پیشنٹ کے بچنے کے صرف %25 چانس ہیں مگر وہ روئی بھی نہیں ہے بابا جان اس کے ہارٹ پر اثر ہوا ہے شدید قسم کا پوری باڈی میں صرف دل اور دماغ سن ہو کے رہ گیا ہے اس کا ہمارے پاس اسے بچانے کے صرف %10 چانس ہیں آئی ایم سوری ،،،

Mirh@_Ch
 

ہاں پھوپھو آپ سچ کہتی تھی میں منحوس ہوں اسی لیے شاہ مجھے چھوڑ کر چلے گئے،، میں منحوس ہوں مجھ سے دور چلے جاؤ سب خدا کا واسطہ ہے چلے جاؤ سب میں منحوس ہوں، چچا جان آپ کے بیٹا کو میری منہوسیت کھا گئی وہ چلا گیا مجھے آپ سب کو چھوڑ کے چلا گیا ،،شاہ کیوں کیا ایسا !!! کیوں،،
وہ رو نہیں رہی تھی اسے رونا آ ہی نہیں رہا تھا وہ رونا چاہتی تھی مگر آنسو نہیں تھے اُن کی آنکھوں میں وہ چیخ رہی تھی چلا رہی تھی زندگی میں پہلی بار وہ گلا کر رہی تھی بال بکھرے دلہن بنی میکپ پھیلا ہوا وہ رات والے خولیے سے بلکل مختلف بکھری ہوئی تھی وہ کہیں سے بھی پہلے دن کی دلہن نہیں لگ رہی تھی زندگی میں پہلی دفعہ کو سب کے سامنے بال کھولے سر سے دوپٹہ اُتارے کھڑی تھی

Mirh@_Ch
 

پھوپھو نے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا تو بابا جان عائشہ کی طرف دیکھنے لگی جس کی حالت غیر ہو چکی تھی وہ پریشان ہوئے اج تک وہ لڑکی حجاب کے بغیر کسی کے سامنے نہیں آئی تھی اور آج اس کے سر پیٹ دوپٹہ تک نہیں تھا بال کھلے تھے جو قمر سے نیچے جاتے تھے اُنہیں اپنی پوتی بکھری ہوئی لگی پاگل سی
دادو شاہ چلے گئے مجھے چھوڑ کے دادو میری زندگی برباد کر کے شاہ چلے گے ،،
عائشہ کہتے ساتھ ہی دادو کے گلے لگ گئی تو پھوپھو ایک دفعہ پھر بولی
بابا میں کہتی تھی یہ منحوس ہے دیکھ لی نہ آپ نے اس کی منہوسیت،،

Mirh@_Ch
 

سوری معاف کر دینا سب میں اگر آج نہ گیا تو کی زندگیاں تباہ ہو جائیں گی،،
پھوپھو نے بلند آواز میں پڑھا تو عائشہ ایک دم رکی اور بھاگ کے پھوپھو کے ہاتھ سے کاغذ لیا اس لائن کو وہ بار بار پڑھ رہی تھی نہ جانے وہ کیا تلاش کرنا چه رہی تھی سب نے نہ سمجھ انداز میں دیکھا عائشہ کی حالت قابلِ رحم تھی وہ زور زور سے ہنسنے لگی سب کو اس کے پاگل ہونے پر شبہ ہوا پھوپھو نے نحوست سے رخ موڑ لیا
بابا جان آج کیا کہنا چاہیں گے آپ ؟؟,,
پھوپھو نے غصے سے کہا تو دادا جان نے نہ سمجھ انداز میں دیکھا عائشہ ہنستے ہوئے نیچے بیٹھ چکی تھی
میں سمجھا نہیں،،
بابا جان وہ چلا گیا ہے اس منحوس کی وجہ سے وہ کہتا ہے زندگیاں برباد ہوں گی جانا ضروری ہے،،

Mirh@_Ch
 

دادو شاہ کہاں ہیں،،
ہو گا کہیں دوستو کے پاس فکر مت کرو آ جاتا ہے میرا بچا،،
دادا جان نے عائشہ کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے پیار سے کہا
عائشہ خاموشی سے خالی خالی نظروں سے دیکھنے لگی
عائشہ چینج تو کر لیتی ،،
پاس کھڑی فاطمہ اپی نے کہا مگر عائشہ نے جیسے سونا ہی نہیں تھا دادا جان نے خاموش رہنے کا اشارہ کر دیا
کافی دیر بعد حسن اور دانیال بھائی آئے تو انہوں نے بتایا و کہیں نہیں ہے چچا جان بھی مایوس تھے عائشہ خاموشی سے سر جھکا گئی تو طے ہوا عائشہ تُجھے کوئی خوشی راس نہیں انی ،، و خود پے ہنس دی سب نے حیرانگی سے دیکھا
عائشہ،،
فاطمہ اپی نے غصے سے کہا تو وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی کنٹرول کرنے لگی مگر وہ اور زیادہ زور سے ہنسنے لگی سامنے سے آتی پھوپھو کے ہاتھ میں ایک کاغذ کا ٹکڑا تھا

Mirh@_Ch
 

یہ موبائل میرے شوہر کا ہے کیا آپ ان کو جانتے ہیں یہ موبائل آپ کو کہاں سے ملا وہ خود کہاں ہیں،،
عائشہ ابھی بول رہی تھی جب کل کاٹ دی گئی تھی اس نے دوبارہ کی دفعہ کیا تھا مگر کوئی جواب نہیں فون بند کر دیا گیا تھا وہ وہی بیٹھ کے رونا شروع ہو گئی
نہیں یہ ممکن نہیں ہے ایسا نہیں ہو سکتا شاہ کہاں ہیں آپ مجھ سے بات کریں عائشہ مر جائے گی شاہ پلیز ایسا مت کریں،،
وہ رونا شروع ہو گئی وہ شاہ کو بولا رہی تھی ایسے جسے وہ ابھی کہیں سے آ جائے گا
وہ باہر آہستہ آہستہ چلی ہوئی گئی سب ناشتا کر چکے تھے اور دادا جان پریشان سے کھڑے تھے حسن بھائی اور دانیال بھی غائب تھے چچا جان فون پے بات کر رھے تھے
وہ چلتی ہوئی دادا جان کے پاس چلی گئی تو دادا جان اسے دیکھ کر مسکرا دیے و بے جان ہو چکی تھی مسکرا بھی نہ سکی

Mirh@_Ch
 

میں جھوٹ بول رہی ہوں پھر کیا نہیں آئے وہ ،،
اچھا چلو جاؤ کمرے میں میں دیکھتی ہوں،،
اچھا،،
وہ سر ہلاتی ہوئی واپس چلی گئی اسے سمجھ کچھ نہیں آ رہا تھا کیا ہو رہا ہے مجھے،،
کمرے میں آ کر اس نے اپنا موبائل ڈھونڈا اور شاہ کو کال کی کافی دیر رینگ ہوتی رہی پھر جا کے اٹھا ہی لیا گیا
شاہ کہاں ہیں آپ کچھ خیال ہے آپ کو میرا میں پریشان ہو رہی ہوں جلدی سے گھر آئیں جہاں بھی ہیں میں انتظار کر رہی ہوں،،
وہ اپنی دھن میں بولی جاتی رہی تھی مگر جب اگلا بولا تو عائشہ نے ایک دفعہ پھر نومبر کو گھورا جہاں شاہ لکھا ہوا تھا
سوری میڈیم ہمیں یہ موبائل کل رات کو دھماکے میں زخمیوں کے پاس ملا تھا ہم نہیں جانتے یہ کس کا ہے ،،،
ا۔۔۔آپ کون ہیں؟؟
میڈیم میں خیام بات کر رہا ہوں ،،اور یہ موبائل مجھے کل رات ملا تھا مجھے نہیں پتہ یہ کس کا ہے،،

Mirh@_Ch
 

اس نے وارڈروب کھولی تو حیران رہ گئی شاہ کے کپڑے غائب تھی صرف دو سوٹ ہینگ تھے بس جوتے سب تھے سوائے جوگرز کے وہ حیران ہوتی ہوئی باہر نکلی سارے کمرے میں سے شاہ کی آدھی چیزیں غائب تھی اسے یقین نہیں آ رہا تھا وہ ویسے ہی باہر چلی گئی نیچے سب ناشتے میں بزی تھے اسے ابھی کسی نے نہیں دیکھا تھا تو مریم بھابھی کا دھیان اس کی طرف اچانک گیا و بھاگ کے اس کے پاس آئی اور اسے اک سائڈ پے کیا
پاگل ہو گئی ہو شازب ڈانٹے گا جو چینج کرو جا کے،،
وہ حیران ہوئی
بھابھی شاہ کہاں ہیں ؟؟،،
لو جی مجھے کیا پتہ ہے شاہ تمہارے پاس روم میں ہو گا نہ،،
نہ۔۔۔نہیں شاہ میرے پاس نہیں آئے،،
کیا؟؟ پاگل ہو گئی ہو،،
سچ میں آئے رات سے نہیں آئے،،
مریم بھابھی جیتنا حیران ہوتی کم تھا
ایسا کیسے ممکن ہے میں نے خود اسے روم میں جاتے ہوئے دیکھا تھا،،

Mirh@_Ch
 

زیادہ رسمو کے بعد آخر کار اس کو شاہ کے روم میں لے کر جایا گیا روم میں انٹر ہوتے ہی پھولوں کی بھر مار اک دفاع پھر سے اس پر ہوئی تھی پورا روم ڈفرنٹ پھولوں سے سجایا گیا تھا وہ دیکھ کر مبہوت سے رہ گئی اس میں اور ان پھولوں میں کوئی فرق نہیں لگ رہا تھا بہت خوبصورت دونوں ہی و بے انتہا خوش تھی زندگی بہت خوبصورت لگ رہی تھی وہ بیڈ پر گھوم کے بیٹھی اور مزے سے پھولوں کے ساتھ کھیلنے لگی دو گھنٹے کے مسلسل انتظار کے بعد نہ جانے کب وہ سو گئی پتہ ہی نہ چلا قسمت کے فیصلے سے انجان نیند کی وادیوں میں و پہنچ گئی،
_______
صبح وہ لیٹ اٹھی تھی ٹائم دیکھا تو اٹھ بج رہی تھی اپنے ساتھ خالی جگہ دیکھ کر وہ حیران ہوئی سب کچھ ویسے کا ویسا تھا وہ جیسے سوئی تھی ویسی ہی تھی وہ حیران ہوئی آٹھ کر واشروم دیکھا ڈریسنگ روم بالکنی مگر شاہ کہیں نہیں تھا
شاہ کہاں چلے گئے،،

Mirh@_Ch
 

میری بیگم مسکرا دی ہے لو کیا یاد کرو گی جاؤ اب جان چھوڑو اور عائشہ کو سیکھا دینا اس دودھ کو بنانا،،
دونوں ہنس دی تو شاہ نے دو لاکھ روپے اُن کے ہاتھ پر رکھ دیا وہ خوشی خوشی آٹھ کے چلی گئی کچھ دیر یوہی ہلا گلا چلتا رہا پھر رخصتی کا شور اٹھا حریم اور ایان تو داؤد صاحب کے ساتھ کچھ دیر پہلے نکل گے تھے عائشہ اور شاہ اپنی الگ سے گاڑی میں نکل گے اور باقی گاڑیاں اُن کی گاڑی کے پیچھے ہی تھی مہتاب منشن اُن کا ویلکم بہت دھماکے دار کیا گیا تھا گولہ بارود فائرنگ اور نہ جانے کیا کیا ان کے ویلکم میں کیا گیا تھا آسمان کا منظر الگ تھا خویلی ایک الگ ہی منظر پیش کر رہی تھی پوری خویلی کو اس قدر خوبصورتی سے سجایا گیا تھا کے کوئی حد نہیں لاؤنج میں داخل ہوتے ہی ایک دفعہ پھر سے اُن کا بھرپور ویلکم کیا گیا تھا

Mirh@_Ch
 

بھاگو میرے پاس کچھ نہیں ہے،،
کیوں جی کیس خوشی میں،،
اسی خوشی میں رکھیں اِدھر دو لاکھ روپے،،
ک۔۔کیا دو لاکھ،،
شاہ نے بے ہوش ہونے والے انداز میں کہا تو وہ ہنس دی
نہ دوں تو،،
تو ہم چچا جان اور دادو سے بول کے آپ کی جیب بہت زیادہ ہلکی کروا لیں گی ،،
جیب میں کچھ ہو گا تو ہلکی کرواؤ گی نہ،،
بہت کچھ ہے اتنے آپ غریب نہیں ہیں محترم،،
فاطمہ اپی نے ہنستے ہوئے کہا تو شاہ اور عائشہ مسکرا دیے،،

Mirh@_Ch
 

دودھ پلای کی رسم کے لیے فاطمہ اپی اور حریم آئی تھی عائزہ البتہ گم تھی
ہاں تو دولہا بھی صاحب کیسا تھا دودھ،،
شاہ نے آدھا خود پیا اور آدھا عائشہ کی طرف بڑھا دیا دونوں نے جب پی لیا تو مزے سے حریم نے پوچھا
یمی بہت مزے کا تھا عائشہ کو بھی سیکھا دو،،
سیکھا دیں گے سیکھا دیں گے پہلے قیمت تو دیں،،
فاطمہ اپی نے مزے سے کہا تو شاہ اک آئی برو اٹھا کر پوچھا
مطلب کون سے قیمت،،
دودھ کی قیمت جو مزے سے دونوں نے پیا ہے،،
ہنس کے حریم نے کہا تو شاہ گھور کے رہ گیا

Mirh@_Ch
 

شاہ نے پیار سے اس کے سامنے ہاتھ پھیلایا تو عائشہ مزید دادا جان کے ساتھ لگ ہے دادا جان شاہ کی طرف دیکھنے لگے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ کہا ایان دادا جان اور چچا جان نے پیار سے عائشہ کا ہاتھ شاہ کے ہاتھ پر رکھ دیا تو شاہ آرام سے اسے لئے کر آہستہ آہستہ اسٹیج کی طرف چل دیا عائشہ پیچھے دیکھنے لگی جہاں سب وہیں کھڑے تھے کوئی بھی نہیں آیا تھا اس کے پیچھے اسٹیج کے قریب پہنچتے ہی ایک دفعہ پھر سے پیسو اور پھولوں کی دکان آن کے اوپر پھینک دی گئی تھی عائشہ سر جھکا گئی حقیقت تو یہ تھی کہ عائشہ اب بھی ڈر رہی تھی کسی انجانی خوف سے کسی قیامت سے کسی ٹریجڈی سے کچھ تو ہونے والا تھا اسٹیج پر شاہ کے پاس بیٹھے سب کی نظروں کا مرکز بنی ہوئی تھی سب اس چاند سورج کی جوڑی کو سراہ رہے تھے دادا جان پریشان ہو گے تھے مگر ظاہر نہیں کروایا سب اللہ پر چھوڑ چکے تھے