Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

ایان نے پیار سے پیچھے کیا تو دادا جان نے اسے اپنے حصار میں لئے لیا چچا جان نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا
سامنے اسٹیج پر بیٹھے شاہ کو حیرانگی ہوئی صبح والی بات یاد آئی تو شاہ خود اسٹیج سے اتر آیا عائشہ بضد تھی اسے نہیں جانا مگر شاہ کو اپنی طرف آتے دیکھ و ڈر گئی دادا جان کو زور سے پکڑ لیے
نہیں دادو پلیز،،
کچھ نہیں ہے میرے بچے کیا ہو گیا ہے،،

Mirh@_Ch
 

دونوں اک ساتھ بہت مکمل لگ رہے تھے شاہ عائشہ کو دیکھتے ہی مبہوت سا رہ گیا وہ اپنی مرضی سے ڈفرنٹ پوز بنوا رہا تھا عائشہ سر جھکائے اس کی شرارتوں پر مسکرا رہی تھی ایک منٹ کے لیے بھی شاہ نے اس کو خود سے دور نہیں کیا تھا کچھ دیر بعد کھانے کا شور اٹھا تو سبحان مصروف ہو گی عائشہ کے پاس حریم اور عائزہ تھی اُن اندر ہی کھانا لا کر دیا گیا مگر عائشہ نے منع کر دیا اسے بھوک نہیں تھی
کھانے کے بعد عائشہ کو شاہ کے پاس بٹھانے کے لیے دادو اور چچا جان لینے آئے برائیڈل سے نکل کر جب سڑیاں اترنے لگی تو ایان بھائی کو کھڑے دیکھ کر اُن کے گلے لگ گئی اور رو دی
ایان بھائی مجھے نہیں جانا پلیز،،
ارے میری جان کیا ہو گیا ،،
بھائی مجھے ڈر لگ رہا ہے،،
کچھ نہیں ہے میری جان دیکھو ہم سب پاس ہیں ،،

Mirh@_Ch
 

ہال کے انٹری دروازے پر پھولوں کی بھرمار تھی ایان اور حریم کو اسٹیج پر بٹھایا گیا تھا دونوں بہت خوبصورت لگ رہے تھے کوئی نوٹ اُن دونوں پر سے وارے گی تھے سب نے ہی اُن دونوں کا صدقا دیا برات کے بیٹھنے کے بعد ایان اور حریم فوٹو فائل کے لیے چلے گے تھے شاہ دوستو کے ساتھ گپیوں میں مصروف تھا دادا جان اور چچا جان نے کئی ہزاروں کے نوٹ اس پر سے کئی دفعہ وارے تھے کیونکہ وہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا عائشہ کو جب لیا گیا تو سب اُس کی بلائیں لئے لگے دادا جان چاچی جان چچا جان سب اس سے ملنے گے تو اس پر سے کوئی ان گنت نوٹ وار دیے وہ سچ میں کسی سلطنت کی ملکہ لگ رہی تھی دادا جان بہت خوش تھے آج ان کی پوتی ہمیشہ کے لیے اپنے گھر کی ہو جائے گی مگر اُن کو کیا پتہ تھا قسمت کے فیصلے کا کچھ دیر بعد عائشہ اور شاہ کا فوٹو شوٹ ہونے لگا

Mirh@_Ch
 

وہ پھر سے شاہ کے گلے لگ گئی جسے وہ کہیں چلا جائے گا اگر وہ چھوڑے گی تو کافی دیر شاہ اس کی قمر سہلاتا رہا پھر جب مکمل طور پر وہ ٹھیک ہوئی تو اس کے ماتھے پر آخری بار اپنے ہونٹ رکھے پھر آنکھوں پر پھر دونوں گال پر پھر دھیرے سے لیپس پر عائشہ آنکھیں بند کر گئی پھر آرام سے شاہ کے سینے پر سر رکھ دیا اور ایک ہاتھ اس کے دل پر رکھ دیا اور اکھیں بند کیے شاہ کی دھڑکن محسوس کرنے لگی
@@@@
عائشہ اور حریم اور باقی سب لڑکیاں پالر کے لیے نکل گئی بارات دو بجے کے قریب ہال کے لیے نکل گئی تھی لڑکیاں تیار ہو کے ہال پہنچ گئی تھی عائزہ اور حریم پہلے آ گئی تھی اور عائشہ کے ساتھ سارا وہی رک ہے تھی کیونکہ اس نے تھوڑا لیٹ انا تھا بارات کا ویلکم بہت دھماکے دار کیا گیا تھا

Mirh@_Ch
 

ابھی وہ دروازے میں ہی تھا کے عائشہ نے ایک دم اٹھتے ہوئے چلا کر کہا تو شاہ وہی سے واپس بھاگا
عائشہ کیا ہوا بچے،،
ما۔۔۔مما شاہ،،
شاہ اک دم پاس آیا تو اس نے کچھ نہیں دیکھا بس شاہ کو دیکھتے ہیں اس کے گلے لگ گئی اور رونے لگی مما جان پریشان ہو گئی اور خاموشی سے اٹھ کے باہر چلی گئی
عائش کیا بات ہے جان میں پاس ہوں،،
شاہ نے اس کے بالوں کو شاہ سہلاتے ہوئے کہا
شاہ کی جان ریلیکس کچھ نہیں ہے میں آپ کے پاس ہوں دیکھیں،،
شاہ نے اوپر کر کے اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لاتے ہوئے پیار سے کہا تو عائشہ ہجکیان لینے لگی
ش۔۔۔شاہ۔۔ آپ۔۔مو۔۔مجھے ۔۔کبھی۔۔چھو۔۔۔چھوڑ ۔۔کے ۔۔نہیں۔۔جائیں۔۔گے۔۔نہ،،
بلکل نہیں میری جان کبھی نہیں اگر اللہ نے چاہا تو میں ہمیشہ آپ کے پاس آپ کے ساتھ ہوں انشاء االلہ،،،

Mirh@_Ch
 

کیا ہوا میرے بیٹے کو،،
کچھ نہیں چاچی جان مما کی یاد آ رہی ہے پلیز مجھے یہاں اپنی گود میں آج لٹنے دین،،
ارے میرا بچا بے شک آپ پورا دن لیٹی میں بھی تو آپ کی مما ہی ہوں آج سے آپ مجھے مما بولنا ،،
چاچی جان نے جھک کر اس کے ماتھے پر بوسا دیا تو عائشہ آنکھیں بند کر گئی
مما ،،
شاہ اک دم کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اواز دی تو مما جان نے خاموش رہنے کا کہا و ادا سے پاس ا کر بیٹھ گیا عائشہ کو دیکھ کر وہ تھوڑا سا اُلجھا مگر پھر خاموش ہو گیا
سو گئی ہو کیا؟؟
ماما جان نے ہاں میں سر ہلا دیا تو شاہ نے آرام سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور باہر چلا گیا
ش۔۔۔شاہ،،

Mirh@_Ch
 

یہ دن خوشیوں سے بھرا ہوا تھا عائشہ صبح نو بجے اٹھی تو ساری پارٹی ینگ ابھی تک گھوڑے گدے بچ کے سوئی ہوئی تھی اسے غصہ آیا شاہ چچا جان اور دادو ہال کے انتظامات دیکھنے گے ہووے تھے عائشہ کو نہ جانے کیوں گھبراہٹ ہو رہی تھی عجیب سا ڈر اس کے دل میں بیٹھا ہوا تھا اسے شاہ کو دیکھنے کا دل کر رہا تھا مگر وہ خویلی میں کہیں نہیں تھا وہ چاچی جان کے پاس چلی گئی کچھ خواب بہت خوف ناک تھا کچھ دل میں ڈر عجیب سا مما بابا آپ کہاں ہیں پلیز آ جائیں آج پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے مجھے مما آپ کی بیٹی آج ہمیشہ کے لیے کسی کی زندگی میں شامل ہو جائے گی بابا ماما آپ نہیں ہو میرے ساتھ
چاچی جان تسبیح پڑھ رہی تھی عائشہ نے جا کے اُن کی گود میں سر رکھ دیا تو وہ چونک گئی

Mirh@_Ch
 

سوچا تو میں نے بھی نہیں تھا عائشہ کی جان اتنی خوبصورت ہو سکتی ہے،،
عائشہ کہ کر ہنس دی تو شاہ نے اس کی طرف مسکرا کر دیکھا یا منظر پھر سے کیچ کیا گیا تھا وہ دونوں سچ میں کسی ریاست کے شہزادہ شہزادی لگ رہے تھے انتہائی خوبصورت
__________
فنگشن رات دیر تک چلتا رہا ینگ پارٹی نے خوب ہلا گلا کیا کافی موج مستی کے بعد جب دادا جان نے ٹوکا تب جا کر و لوگ اندر کی طرف گے شاہ نے پورا وقت عائشہ کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا عائشہ کی لاکھ کوشش کی با وجود شاہ نے نہیں چھوڑا تھا عائشہ روم میں آتے ہی سو گئی اسے کوئی ہوش نہیں تھی پچھلے تین دنوں سے و جگ رہی تھی اس لیے یہ وقت اسے غنیمت لگا سو فوراً بے ہوش ہو گئی
صبحِ کا سورج اپنے ساتھ کی زندگیاں لئے کے ڈوبنے والا تھا اور قسمت کے اس فیصلے سے سب ہی انجان تھے سب بہت کچھ تھے

Mirh@_Ch
 

بیان سے باہر وہ تھوڑا ہی چلی کے دادا جان اور چچا جان نے اس کے ہاتھ پکڑے سفیان بھائی دانیال اور حسن اورایان بھی نے چاروں کونوں سے اُسے اوپر کیا دوپٹہ پکڑا ہوا تھا اسٹیج کے قریب پہنچ کے اسٹیج پر کھڑا شاہ نیچے آ گیا آہستہ آہستہ چلتے ہووے و سچ میں کسی ریاست کی شہزادی لگ رہی تھی اس پاس کھڑی سب لڑکیوں نے اس پر پھولوں کی برسات اچھی خاصی کی تھی شاہ نے نزدیک آ کے تھوڑا سا جھک کے ہاتھ آگے کیا تو عائشہ دادو اور چاچو کی طرف دیکھنے لگی پھر سر جھکا گئی دادو نے عائشہ کا ہاتھ شاہ کے ہاتھ میں دے دیا شاہ مسکرا کر اسے لے کر اسٹیج تک چلتا گیا
میں سوچ نہیں سکتا تھا تم اتنی خوبصورت لگ سکتی ہو،،
عائشہ نے حیرانگی سے شاہ کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا تو کیمرا من نے یہ منظر کچ کر لیا

Mirh@_Ch
 

شرم کرو بتمیزو،،
لو جی ہم کیوں شرم کریں ،،
بچوں عائشہ کو لے آو،،
ابھی کچھ اور کہتی حریم باہر سے شہرین بیگم نے کہا حریم کا میکپ تھوڑا سا رہ گیا تھا ان کو ہنستے ہوئے دیکھ کر شہریم بیگم نے بے اختیار تینوں کے لیے دعا کی اور مسکراتی ہوئی باہر چلی گئی
پھر دونوں اسے باہر لے گئی لان میں قدم رکھتے ہی اس کا دھماکے دار ویلکم کیا گیا پٹاخے نار اور نہ جانے کون کون سے دھماکے کیے گئے دروازے سے لے کر اسٹیج تک پھول ہی پھول تھے اسٹیج پر سامنے جھولا پڑا اور اسٹیج تو اس قدر خوبصورتی سے سجایا گیا تھا کے کوئی حد نہیں پورا لان ایک الگ ہی منظر پیش کر رہا تھا کل واقع کچھ بھی نہیں تھا عائشہ حیران رہ گئی آسماں ایک الگ ہی رنگ دکھا رہا تھا کس قدر خوبصورت منظر تھا

Mirh@_Ch
 

وہ مسکراتے ہوئے عائشہ کے پاس چلی گئی جو قیامت لگ رہی تھی
ماشاء االلہ کتنی پیاری لگ رہی ہو اللہ نظر بد سے بچائے تُجھے ،،
یار زیادہ ہیوی نہیں ہو گیا،،
کہاں کوئی ماشا اللہ بہت پیاری لگ رہی ہوں آئشی،،
حریم تو واری صدقے جا رہی تھی عائزہ پیچھے سے آئی تو حریم کو دیکھ کر مسکرا دی
تم اتنی جلدی آ گئی مجھے یقین نہیں آ رہا،،
عائشہ کا قہقہ بے اختیار تھا عائزہ نے بھی بھر پور ساتھ دیا
حریم جھینپ گئی

Mirh@_Ch
 

ایان سريسلی آپ کو یاد نہیں ہے،،
نہیں تم بتا دو،،
میں نہیں بتا رہی جائیں کام کریں اپنا،،
وہ ناراض ہو گئی تھی ایان مسکرا دیا وہ جانے لگی تو ایان نے اس کا ہاتھ پکڑا و سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی تو ایان نے اسے بیڈ پر بیٹھا کر سائڈ ڈرا سے ایک پیک نکالا اور اس کے پاس بیٹھ گیا پھر اسے آرام سے کھول کر حریم کا بازو پکڑا اور حریم کی طرف دیکھا وہ مسکرا گئی ایان نے اس کی کلائی پر ڈائمنڈ کا برسلیٹ پہنا دیا
خوش،،
بہت زیادہ،،
اب میراگفت دو،،
حریم سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی تو ایان شرارت سے مسکرا دیا حریم سٹپٹا گئی اور فوراً آٹھ کے باہر بھاگی ایان کے قہقے نے اس کا دور تک پیچھا کیا
بے شرم،،

Mirh@_Ch
 

ہاں ٹھیک ہے میں بھی باہر جا رہا ہوں،،
ایان،،
ایان جانے لگا تو حریم نے پھر سے آواز دی
جی،،
ایان آپ کچھ بھول رہے ہیں،،
کیا بھول رہا ہوں میں،؟
ایان آہستہ سے چلتے ہوئے پاس آیا تو حریم منہ بنانے لگی
آج ہماری ویڈنگ نائٹ ہے،،
تو،،

Mirh@_Ch
 

جب اسے چینج کیے سیمپل سے کپڑوں میں دیکھا منہ کھولے و اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتا رہ گیا پھر خود بھی وضو کر کے ساتھ جائے نماز بچھا کر پڑھنے لگا جب وہ نماز پڑھ کے فارغ ہوا تو حریم قرآن مجید کھول رہی تھی ایان مسکرا دیا
سورہ رحمٰن،،
حریم نے ایان کی طرف دیکھا اور مسکرا کے کھول دی پھر ایک نے ترجمہ اور دوسرے نے تلاوت کی سکون ہی سکون تھا دونوں کے چہروں پر
پھر دونوں پڑھ کر اٹھے تو حریم تیار ہونے لگی کیونکہ ابھی کچھ دیر تک عائشہ کی مہندی سٹارٹ ہونے والی تھی
ایان ،،
جی،،
میں چینج کاری کے عائشہ کے پاس چلی جاؤ ،،

Mirh@_Ch
 

مجھے خطرے کی بو کیوں آ رہی ہے،،
انی بھی چاہیے،،کیوں کزنز،،
سب ہنس دیے
کیا چاہیے،،
اپنا وائلیٹ دے دیجئے،،
فاطمہ اپی بولی تو ایان نے جلدی سے اپنا وائلیٹ نکل کر دے دیا
اللہ کا واسطہ ہے آپ نے کچھ مانگنا میں کنگلا ہو گیا ہوں،،
ارے ابھی سے ہی ،،
سب ہنس دیے وائلیٹ چیک کرنے کے بعد ایان کو اندر بھیج دیا گیا ایان جیسے ہی اندر داخل ہوا حریم کو نماز پڑتے دیکھ حیران ہوا اور چار سو چالیس واٹ کا جھٹکا تو اس وقت لگا

Mirh@_Ch
 

جاتی دفعہ بھی کالی زبان کا استعمال دیکھا کر ہی جانا،،
پیچھے ہو فضول انسان ،،
وہ ایک دفعہ پھر بابا کے گلے لگ گئی پھر قرآن مجید کے سائے تلے اسے رخصت کیا سلیمان منشن اس کا بہت ہی دھماکے دار ویلکم ہوا تھا کافی رسمو کے بعد اسے عائشہ اور سب لڑکیاں اس کے کمرے میں چھوڑ آئی تھی اس کا کمرہ بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ہر طرف گلاب کے تازہ پھول بچھے ہوئے تھے پورا کمرہ پھولوں کی مہک سے بھرا ہوا تھا وہ مسکرا دی اور آرام سے بیڈ پر بیٹھ کر سیلفیاں لئے لگی ایان کافی دیر بعد جب آیا تو دروازے پر اچھی خاصی بھیڑ جو کے کزنز کی تھی دیکھ کر بے ہوش ہوتے ہوتے بچا
تم سب یہاں کیا کر رہے ہو،،
ارے دولہے راجہ صاحب ائیے ،،
علیزے بھابھی جو کے سفیان بھائی کی بیگم تھی بولی

Mirh@_Ch
 

پھر بھابھی بھائی دونوں کے
چپ کر باندری رو کیوں رہی ہے ،،
عدن بھائی نے جان بوج کر کہا تو وہ روتے ہوئے بولی
مجھے بھوکے ٹماٹر کی یاد آئے گی،،
تو آ جانا ملنے اور ہاں روز روز مت ٹپک پڑنا ہمارے سر پر،،
عدن بھائی ،،
وہ چڑ کے بولی تو سب ہنس دیے
پھر اسد کے گلے لگ کر رو دی
چپ کر بلبتوڑی کیوں ایان کے پیسے تباہ کرے گی میکپ والی رو ایسے رہی ہو جیسے ایان تمہیں جنگ پے لئے کر جا رہا ہے،،
تو کوارا ہی مرے گا ڈبل بیٹری دفعہ ہو،،

Mirh@_Ch
 

ارے یار مہربانی تمہاری پر تھوڑا کم کرو،،
ایان نے مسکینی اسی صورت بنا کے کہا
بلکل نہیں میں دادو کو بولا رہی ہوں ورنہ شرافت سے نکل دیں،،
عائشہ نے دھمکی دی تو ایان نے فوراً ٹوکا اور حریم کی طرف مدد طلب نگاہوں سے دیکھا مگر اس نے پہلی ہی ہری جھنڈی دیکھا کر ایان کی ہر اُمید توڑ دی
ارے دادو کو کیوں بولنا ہے تمہارا اور میرا معاملہ ہے ،،
چلیں پھر دیں،،
دے دو ایان بچیاں ہیں ،،
پاس کھڑے داؤد صاحب نے کہا تو ایان منہ بنا کر رہ گیا اور ایک لاکھ نکال کر عائشہ کو دے دیا عائزہ اور عائشہ ہنس دی اور آٹھ گئی پھر رخصتی کا شور اٹھا تو حریم کا ضبط حتم ہو گیا ماما بابا کے گلے لگ کے وہ بہت روئی

Mirh@_Ch
 

اس نے اچھی طرح خود کو ڈھانپ لیا چہرہ سے صرف آنکھیں نظر آ رہی تھی لمبی فراق پے حجاب کیا اور اس نے بڑی سے چادر لی ہوئی تھی وہ کسی سلطنت کی ملکہ لگ رہی تھی بہت خوبصورت پھر اس نے اور عائزہ نے دودھ پلائی کی رسم کرنے کے بعد ایک لاکھ روپے کی ڈیمانڈ کی جس پر ایان اسے گھور کر رہ گیا عائزہ ہنس دی
تم دونوں تو اپنے بھائی کو ہی لوٹ رہی ہو،،
چپ کر کے دیں اس وقت آپ کوئی بھائی شائی نہیں ہیں ،،
عائزہ فوراً بولی تو ایان گھور کر رہ گیا
یار اس دودھ میں ایسا کیا تھا سونا تو نہیں ڈالا ہوا تھا،،
صبح چھے بجے آٹھ کے یہ دودھ آپ کے لیے بنایا ہے اتنی محنت کی ہے ہم نے چلیں شاباش دیں اِدھر،،
وہ اسٹیج پر اس طرح بیٹھی تھی کے اسے صرف ایانّ اور حریم ہی بس دیکھ سکتے تھے دوسری طرف عائزہ کھری تھی

Mirh@_Ch
 

شاہ کال تو دیکھ لیتے ابھی دو سیکنڈ ہوئے تھے ،،
عائشہ بچے خریت ہے،،
دادو کی آواز سن کے جلدی سے وہ بولی
جی جی دادو خریت ہے یہ پوچھنا تھا کے رخصتی کب تک ہو رہی ہے،،
آپ باہر آئی ذرا دودھ پلائی کی رسم کے لیے حریم بولا رہی ہے،،
اچھا آپ باہر آئیں میں بھی نکلتی ہوں،،
اچھا،،