ایان نے پیار سے پیچھے کیا تو دادا جان نے اسے اپنے حصار میں لئے لیا چچا جان نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا
سامنے اسٹیج پر بیٹھے شاہ کو حیرانگی ہوئی صبح والی بات یاد آئی تو شاہ خود اسٹیج سے اتر آیا عائشہ بضد تھی اسے نہیں جانا مگر شاہ کو اپنی طرف آتے دیکھ و ڈر گئی دادا جان کو زور سے پکڑ لیے
نہیں دادو پلیز،،
کچھ نہیں ہے میرے بچے کیا ہو گیا ہے،،
دونوں اک ساتھ بہت مکمل لگ رہے تھے شاہ عائشہ کو دیکھتے ہی مبہوت سا رہ گیا وہ اپنی مرضی سے ڈفرنٹ پوز بنوا رہا تھا عائشہ سر جھکائے اس کی شرارتوں پر مسکرا رہی تھی ایک منٹ کے لیے بھی شاہ نے اس کو خود سے دور نہیں کیا تھا کچھ دیر بعد کھانے کا شور اٹھا تو سبحان مصروف ہو گی عائشہ کے پاس حریم اور عائزہ تھی اُن اندر ہی کھانا لا کر دیا گیا مگر عائشہ نے منع کر دیا اسے بھوک نہیں تھی
کھانے کے بعد عائشہ کو شاہ کے پاس بٹھانے کے لیے دادو اور چچا جان لینے آئے برائیڈل سے نکل کر جب سڑیاں اترنے لگی تو ایان بھائی کو کھڑے دیکھ کر اُن کے گلے لگ گئی اور رو دی
ایان بھائی مجھے نہیں جانا پلیز،،
ارے میری جان کیا ہو گیا ،،
بھائی مجھے ڈر لگ رہا ہے،،
کچھ نہیں ہے میری جان دیکھو ہم سب پاس ہیں ،،
ہال کے انٹری دروازے پر پھولوں کی بھرمار تھی ایان اور حریم کو اسٹیج پر بٹھایا گیا تھا دونوں بہت خوبصورت لگ رہے تھے کوئی نوٹ اُن دونوں پر سے وارے گی تھے سب نے ہی اُن دونوں کا صدقا دیا برات کے بیٹھنے کے بعد ایان اور حریم فوٹو فائل کے لیے چلے گے تھے شاہ دوستو کے ساتھ گپیوں میں مصروف تھا دادا جان اور چچا جان نے کئی ہزاروں کے نوٹ اس پر سے کئی دفعہ وارے تھے کیونکہ وہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا عائشہ کو جب لیا گیا تو سب اُس کی بلائیں لئے لگے دادا جان چاچی جان چچا جان سب اس سے ملنے گے تو اس پر سے کوئی ان گنت نوٹ وار دیے وہ سچ میں کسی سلطنت کی ملکہ لگ رہی تھی دادا جان بہت خوش تھے آج ان کی پوتی ہمیشہ کے لیے اپنے گھر کی ہو جائے گی مگر اُن کو کیا پتہ تھا قسمت کے فیصلے کا کچھ دیر بعد عائشہ اور شاہ کا فوٹو شوٹ ہونے لگا
وہ پھر سے شاہ کے گلے لگ گئی جسے وہ کہیں چلا جائے گا اگر وہ چھوڑے گی تو کافی دیر شاہ اس کی قمر سہلاتا رہا پھر جب مکمل طور پر وہ ٹھیک ہوئی تو اس کے ماتھے پر آخری بار اپنے ہونٹ رکھے پھر آنکھوں پر پھر دونوں گال پر پھر دھیرے سے لیپس پر عائشہ آنکھیں بند کر گئی پھر آرام سے شاہ کے سینے پر سر رکھ دیا اور ایک ہاتھ اس کے دل پر رکھ دیا اور اکھیں بند کیے شاہ کی دھڑکن محسوس کرنے لگی
@@@@
عائشہ اور حریم اور باقی سب لڑکیاں پالر کے لیے نکل گئی بارات دو بجے کے قریب ہال کے لیے نکل گئی تھی لڑکیاں تیار ہو کے ہال پہنچ گئی تھی عائزہ اور حریم پہلے آ گئی تھی اور عائشہ کے ساتھ سارا وہی رک ہے تھی کیونکہ اس نے تھوڑا لیٹ انا تھا بارات کا ویلکم بہت دھماکے دار کیا گیا تھا
ابھی وہ دروازے میں ہی تھا کے عائشہ نے ایک دم اٹھتے ہوئے چلا کر کہا تو شاہ وہی سے واپس بھاگا
عائشہ کیا ہوا بچے،،
ما۔۔۔مما شاہ،،
شاہ اک دم پاس آیا تو اس نے کچھ نہیں دیکھا بس شاہ کو دیکھتے ہیں اس کے گلے لگ گئی اور رونے لگی مما جان پریشان ہو گئی اور خاموشی سے اٹھ کے باہر چلی گئی
عائش کیا بات ہے جان میں پاس ہوں،،
شاہ نے اس کے بالوں کو شاہ سہلاتے ہوئے کہا
شاہ کی جان ریلیکس کچھ نہیں ہے میں آپ کے پاس ہوں دیکھیں،،
شاہ نے اوپر کر کے اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لاتے ہوئے پیار سے کہا تو عائشہ ہجکیان لینے لگی
ش۔۔۔شاہ۔۔ آپ۔۔مو۔۔مجھے ۔۔کبھی۔۔چھو۔۔۔چھوڑ ۔۔کے ۔۔نہیں۔۔جائیں۔۔گے۔۔نہ،،
بلکل نہیں میری جان کبھی نہیں اگر اللہ نے چاہا تو میں ہمیشہ آپ کے پاس آپ کے ساتھ ہوں انشاء االلہ،،،
کیا ہوا میرے بیٹے کو،،
کچھ نہیں چاچی جان مما کی یاد آ رہی ہے پلیز مجھے یہاں اپنی گود میں آج لٹنے دین،،
ارے میرا بچا بے شک آپ پورا دن لیٹی میں بھی تو آپ کی مما ہی ہوں آج سے آپ مجھے مما بولنا ،،
چاچی جان نے جھک کر اس کے ماتھے پر بوسا دیا تو عائشہ آنکھیں بند کر گئی
مما ،،
شاہ اک دم کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اواز دی تو مما جان نے خاموش رہنے کا کہا و ادا سے پاس ا کر بیٹھ گیا عائشہ کو دیکھ کر وہ تھوڑا سا اُلجھا مگر پھر خاموش ہو گیا
سو گئی ہو کیا؟؟
ماما جان نے ہاں میں سر ہلا دیا تو شاہ نے آرام سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور باہر چلا گیا
ش۔۔۔شاہ،،
یہ دن خوشیوں سے بھرا ہوا تھا عائشہ صبح نو بجے اٹھی تو ساری پارٹی ینگ ابھی تک گھوڑے گدے بچ کے سوئی ہوئی تھی اسے غصہ آیا شاہ چچا جان اور دادو ہال کے انتظامات دیکھنے گے ہووے تھے عائشہ کو نہ جانے کیوں گھبراہٹ ہو رہی تھی عجیب سا ڈر اس کے دل میں بیٹھا ہوا تھا اسے شاہ کو دیکھنے کا دل کر رہا تھا مگر وہ خویلی میں کہیں نہیں تھا وہ چاچی جان کے پاس چلی گئی کچھ خواب بہت خوف ناک تھا کچھ دل میں ڈر عجیب سا مما بابا آپ کہاں ہیں پلیز آ جائیں آج پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے مجھے مما آپ کی بیٹی آج ہمیشہ کے لیے کسی کی زندگی میں شامل ہو جائے گی بابا ماما آپ نہیں ہو میرے ساتھ
چاچی جان تسبیح پڑھ رہی تھی عائشہ نے جا کے اُن کی گود میں سر رکھ دیا تو وہ چونک گئی
سوچا تو میں نے بھی نہیں تھا عائشہ کی جان اتنی خوبصورت ہو سکتی ہے،،
عائشہ کہ کر ہنس دی تو شاہ نے اس کی طرف مسکرا کر دیکھا یا منظر پھر سے کیچ کیا گیا تھا وہ دونوں سچ میں کسی ریاست کے شہزادہ شہزادی لگ رہے تھے انتہائی خوبصورت
__________
فنگشن رات دیر تک چلتا رہا ینگ پارٹی نے خوب ہلا گلا کیا کافی موج مستی کے بعد جب دادا جان نے ٹوکا تب جا کر و لوگ اندر کی طرف گے شاہ نے پورا وقت عائشہ کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا عائشہ کی لاکھ کوشش کی با وجود شاہ نے نہیں چھوڑا تھا عائشہ روم میں آتے ہی سو گئی اسے کوئی ہوش نہیں تھی پچھلے تین دنوں سے و جگ رہی تھی اس لیے یہ وقت اسے غنیمت لگا سو فوراً بے ہوش ہو گئی
صبحِ کا سورج اپنے ساتھ کی زندگیاں لئے کے ڈوبنے والا تھا اور قسمت کے اس فیصلے سے سب ہی انجان تھے سب بہت کچھ تھے
بیان سے باہر وہ تھوڑا ہی چلی کے دادا جان اور چچا جان نے اس کے ہاتھ پکڑے سفیان بھائی دانیال اور حسن اورایان بھی نے چاروں کونوں سے اُسے اوپر کیا دوپٹہ پکڑا ہوا تھا اسٹیج کے قریب پہنچ کے اسٹیج پر کھڑا شاہ نیچے آ گیا آہستہ آہستہ چلتے ہووے و سچ میں کسی ریاست کی شہزادی لگ رہی تھی اس پاس کھڑی سب لڑکیوں نے اس پر پھولوں کی برسات اچھی خاصی کی تھی شاہ نے نزدیک آ کے تھوڑا سا جھک کے ہاتھ آگے کیا تو عائشہ دادو اور چاچو کی طرف دیکھنے لگی پھر سر جھکا گئی دادو نے عائشہ کا ہاتھ شاہ کے ہاتھ میں دے دیا شاہ مسکرا کر اسے لے کر اسٹیج تک چلتا گیا
میں سوچ نہیں سکتا تھا تم اتنی خوبصورت لگ سکتی ہو،،
عائشہ نے حیرانگی سے شاہ کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا تو کیمرا من نے یہ منظر کچ کر لیا
شرم کرو بتمیزو،،
لو جی ہم کیوں شرم کریں ،،
بچوں عائشہ کو لے آو،،
ابھی کچھ اور کہتی حریم باہر سے شہرین بیگم نے کہا حریم کا میکپ تھوڑا سا رہ گیا تھا ان کو ہنستے ہوئے دیکھ کر شہریم بیگم نے بے اختیار تینوں کے لیے دعا کی اور مسکراتی ہوئی باہر چلی گئی
پھر دونوں اسے باہر لے گئی لان میں قدم رکھتے ہی اس کا دھماکے دار ویلکم کیا گیا پٹاخے نار اور نہ جانے کون کون سے دھماکے کیے گئے دروازے سے لے کر اسٹیج تک پھول ہی پھول تھے اسٹیج پر سامنے جھولا پڑا اور اسٹیج تو اس قدر خوبصورتی سے سجایا گیا تھا کے کوئی حد نہیں پورا لان ایک الگ ہی منظر پیش کر رہا تھا کل واقع کچھ بھی نہیں تھا عائشہ حیران رہ گئی آسماں ایک الگ ہی رنگ دکھا رہا تھا کس قدر خوبصورت منظر تھا
وہ مسکراتے ہوئے عائشہ کے پاس چلی گئی جو قیامت لگ رہی تھی
ماشاء االلہ کتنی پیاری لگ رہی ہو اللہ نظر بد سے بچائے تُجھے ،،
یار زیادہ ہیوی نہیں ہو گیا،،
کہاں کوئی ماشا اللہ بہت پیاری لگ رہی ہوں آئشی،،
حریم تو واری صدقے جا رہی تھی عائزہ پیچھے سے آئی تو حریم کو دیکھ کر مسکرا دی
تم اتنی جلدی آ گئی مجھے یقین نہیں آ رہا،،
عائشہ کا قہقہ بے اختیار تھا عائزہ نے بھی بھر پور ساتھ دیا
حریم جھینپ گئی
ایان سريسلی آپ کو یاد نہیں ہے،،
نہیں تم بتا دو،،
میں نہیں بتا رہی جائیں کام کریں اپنا،،
وہ ناراض ہو گئی تھی ایان مسکرا دیا وہ جانے لگی تو ایان نے اس کا ہاتھ پکڑا و سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی تو ایان نے اسے بیڈ پر بیٹھا کر سائڈ ڈرا سے ایک پیک نکالا اور اس کے پاس بیٹھ گیا پھر اسے آرام سے کھول کر حریم کا بازو پکڑا اور حریم کی طرف دیکھا وہ مسکرا گئی ایان نے اس کی کلائی پر ڈائمنڈ کا برسلیٹ پہنا دیا
خوش،،
بہت زیادہ،،
اب میراگفت دو،،
حریم سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی تو ایان شرارت سے مسکرا دیا حریم سٹپٹا گئی اور فوراً آٹھ کے باہر بھاگی ایان کے قہقے نے اس کا دور تک پیچھا کیا
بے شرم،،
ہاں ٹھیک ہے میں بھی باہر جا رہا ہوں،،
ایان،،
ایان جانے لگا تو حریم نے پھر سے آواز دی
جی،،
ایان آپ کچھ بھول رہے ہیں،،
کیا بھول رہا ہوں میں،؟
ایان آہستہ سے چلتے ہوئے پاس آیا تو حریم منہ بنانے لگی
آج ہماری ویڈنگ نائٹ ہے،،
تو،،
جب اسے چینج کیے سیمپل سے کپڑوں میں دیکھا منہ کھولے و اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتا رہ گیا پھر خود بھی وضو کر کے ساتھ جائے نماز بچھا کر پڑھنے لگا جب وہ نماز پڑھ کے فارغ ہوا تو حریم قرآن مجید کھول رہی تھی ایان مسکرا دیا
سورہ رحمٰن،،
حریم نے ایان کی طرف دیکھا اور مسکرا کے کھول دی پھر ایک نے ترجمہ اور دوسرے نے تلاوت کی سکون ہی سکون تھا دونوں کے چہروں پر
پھر دونوں پڑھ کر اٹھے تو حریم تیار ہونے لگی کیونکہ ابھی کچھ دیر تک عائشہ کی مہندی سٹارٹ ہونے والی تھی
ایان ،،
جی،،
میں چینج کاری کے عائشہ کے پاس چلی جاؤ ،،
مجھے خطرے کی بو کیوں آ رہی ہے،،
انی بھی چاہیے،،کیوں کزنز،،
سب ہنس دیے
کیا چاہیے،،
اپنا وائلیٹ دے دیجئے،،
فاطمہ اپی بولی تو ایان نے جلدی سے اپنا وائلیٹ نکل کر دے دیا
اللہ کا واسطہ ہے آپ نے کچھ مانگنا میں کنگلا ہو گیا ہوں،،
ارے ابھی سے ہی ،،
سب ہنس دیے وائلیٹ چیک کرنے کے بعد ایان کو اندر بھیج دیا گیا ایان جیسے ہی اندر داخل ہوا حریم کو نماز پڑتے دیکھ حیران ہوا اور چار سو چالیس واٹ کا جھٹکا تو اس وقت لگا
جاتی دفعہ بھی کالی زبان کا استعمال دیکھا کر ہی جانا،،
پیچھے ہو فضول انسان ،،
وہ ایک دفعہ پھر بابا کے گلے لگ گئی پھر قرآن مجید کے سائے تلے اسے رخصت کیا سلیمان منشن اس کا بہت ہی دھماکے دار ویلکم ہوا تھا کافی رسمو کے بعد اسے عائشہ اور سب لڑکیاں اس کے کمرے میں چھوڑ آئی تھی اس کا کمرہ بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ہر طرف گلاب کے تازہ پھول بچھے ہوئے تھے پورا کمرہ پھولوں کی مہک سے بھرا ہوا تھا وہ مسکرا دی اور آرام سے بیڈ پر بیٹھ کر سیلفیاں لئے لگی ایان کافی دیر بعد جب آیا تو دروازے پر اچھی خاصی بھیڑ جو کے کزنز کی تھی دیکھ کر بے ہوش ہوتے ہوتے بچا
تم سب یہاں کیا کر رہے ہو،،
ارے دولہے راجہ صاحب ائیے ،،
علیزے بھابھی جو کے سفیان بھائی کی بیگم تھی بولی
پھر بھابھی بھائی دونوں کے
چپ کر باندری رو کیوں رہی ہے ،،
عدن بھائی نے جان بوج کر کہا تو وہ روتے ہوئے بولی
مجھے بھوکے ٹماٹر کی یاد آئے گی،،
تو آ جانا ملنے اور ہاں روز روز مت ٹپک پڑنا ہمارے سر پر،،
عدن بھائی ،،
وہ چڑ کے بولی تو سب ہنس دیے
پھر اسد کے گلے لگ کر رو دی
چپ کر بلبتوڑی کیوں ایان کے پیسے تباہ کرے گی میکپ والی رو ایسے رہی ہو جیسے ایان تمہیں جنگ پے لئے کر جا رہا ہے،،
تو کوارا ہی مرے گا ڈبل بیٹری دفعہ ہو،،
ارے یار مہربانی تمہاری پر تھوڑا کم کرو،،
ایان نے مسکینی اسی صورت بنا کے کہا
بلکل نہیں میں دادو کو بولا رہی ہوں ورنہ شرافت سے نکل دیں،،
عائشہ نے دھمکی دی تو ایان نے فوراً ٹوکا اور حریم کی طرف مدد طلب نگاہوں سے دیکھا مگر اس نے پہلی ہی ہری جھنڈی دیکھا کر ایان کی ہر اُمید توڑ دی
ارے دادو کو کیوں بولنا ہے تمہارا اور میرا معاملہ ہے ،،
چلیں پھر دیں،،
دے دو ایان بچیاں ہیں ،،
پاس کھڑے داؤد صاحب نے کہا تو ایان منہ بنا کر رہ گیا اور ایک لاکھ نکال کر عائشہ کو دے دیا عائزہ اور عائشہ ہنس دی اور آٹھ گئی پھر رخصتی کا شور اٹھا تو حریم کا ضبط حتم ہو گیا ماما بابا کے گلے لگ کے وہ بہت روئی
اس نے اچھی طرح خود کو ڈھانپ لیا چہرہ سے صرف آنکھیں نظر آ رہی تھی لمبی فراق پے حجاب کیا اور اس نے بڑی سے چادر لی ہوئی تھی وہ کسی سلطنت کی ملکہ لگ رہی تھی بہت خوبصورت پھر اس نے اور عائزہ نے دودھ پلائی کی رسم کرنے کے بعد ایک لاکھ روپے کی ڈیمانڈ کی جس پر ایان اسے گھور کر رہ گیا عائزہ ہنس دی
تم دونوں تو اپنے بھائی کو ہی لوٹ رہی ہو،،
چپ کر کے دیں اس وقت آپ کوئی بھائی شائی نہیں ہیں ،،
عائزہ فوراً بولی تو ایان گھور کر رہ گیا
یار اس دودھ میں ایسا کیا تھا سونا تو نہیں ڈالا ہوا تھا،،
صبح چھے بجے آٹھ کے یہ دودھ آپ کے لیے بنایا ہے اتنی محنت کی ہے ہم نے چلیں شاباش دیں اِدھر،،
وہ اسٹیج پر اس طرح بیٹھی تھی کے اسے صرف ایانّ اور حریم ہی بس دیکھ سکتے تھے دوسری طرف عائزہ کھری تھی
شاہ کال تو دیکھ لیتے ابھی دو سیکنڈ ہوئے تھے ،،
عائشہ بچے خریت ہے،،
دادو کی آواز سن کے جلدی سے وہ بولی
جی جی دادو خریت ہے یہ پوچھنا تھا کے رخصتی کب تک ہو رہی ہے،،
آپ باہر آئی ذرا دودھ پلائی کی رسم کے لیے حریم بولا رہی ہے،،
اچھا آپ باہر آئیں میں بھی نکلتی ہوں،،
اچھا،،
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain