آپ ادھر دیکھ رہی ہیں یا میں خود کچھ کرو،،
شاہ میں دادو کو بولا لو گی،،
بولا لو دروازہ بند ہے،،
شاہ نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا تو عائشہ خاموش ہو گئی
چلو اِدھر دیکھو شاباش،،
دادو آپ برائیڈل روم میں آئیں گے پلیز،،
ایسے کہنے سے تھوڑی آ جائیں گے،،
شاہ نے ہنس کے کہا تو عائشہ نے موبائل اوپر کر کے دیکھایا جہاں کال چل رہی تھی اس کے طوطے ارّ گے
عائشہ کی بچی رات میں بتاتا ہوں آپ کو میں،،اچھا نہیں کیا آپ نے،،
شاہ وہی سے ہی واپس دوڑ لگا گیا تو عائشہ ہنس ہنس کے پاگل ہو گئی
بابا جان نے کہا تو مما جان ہنس دی
کیا سکندر،،
وہ مسکرا دیے
وہ جیسے ہی برائیڈل روم میں داخل ہوا وہ اکیلی بیٹھی موبائل میں گھسی ہوئی تھی شاہ اس کی پشت کو گھور کر رہ گیا وہ ایک دم اٹھی اور جیسے ہی پیچھے مڑی
شاہ ،،
________
شاہ آپ ،،
عائشہ ایک دم رخ موڑ گئی
اِدھر دیکھو،،
نہیں روپ نہیں آئے گا پھر مجھ پہ میں نہیں دیکھو گی جائیں آپ یہاں سے،،
شاہ سٹپٹا گیا اگر بابا کو پتہ چلتا تو اس کی اچھی خاصی کلاس لیگ جانی تھی
نہیں نہیں کچھ تو ہے،،
کچھ نہیں ہے نہ مما جان،،
شاہ نے مسکینی سی شکل بنا کر کہا تو ماں جی بھی سر ہلا گئی وہ جانے لگا تو مما جان نے روکا
برائیڈل روم میں دیکھو،،
وہ مسکرا دیا اور مما کی گل پے بوسا لئے کر چلا گیا
بابا جان گھور کر رہ گئے
ٹھرکی کہیں کا میری والی کو بھی نہیں چھوڑتا،،
مما جان عائشہ کہاں ہے میں نے صبح سے نہیں دیکھا اسے،،
ہائے ہمارے بیٹے کو عائشہ کی یاد آ رہی ہے،،
کوئی ایسی وسی حد ہو گئی اب ،،
ماما جان ہنس دی اپنے بیٹے کی محبت دیکھ کر وہ سچ میں بہت اُداس لگ رہا تھا
رات کو ایک ہی دفعہ دیکھ لینا اب نہیں دیکھ سکتے آپ،،
پلیز مما ایسا تو مت کریں پلیز آپ اچھی مما ہیں نہ پلیز ماں جائیں،،
ارے ہمارا بیٹا اتنا بے صبرا ہے ،،
ماما پلیز مان جائیں نہ،،
ماما جان ہنس دی تو بابا جان بھی وہاں آ گے
کیا بات ہے بڑی ہنسی آ رہی ہے ماں بیٹے کو،،
عدن بھائی نے کہا اور آخری بات شرارت سے کہی تو حریم گھورنے لگی جس پر تینوں ہنس دیے
اسٹیج پر دونوں بیٹھے کمال لگ رہے تھے سب ہی ان کی تعریفوں کے پُل باندھ رہے تھے اس لیے ساتھ ساتھ ان دونوں کی نظر کوئی نہ کوئی اُتار لیتا کیونکہ دونوں ہی نظر لگ جانے کی حد تک پیارے لگ رہے تھے نے انتہا بے شمار
💖💖💖💖
ماما ،،
جی بیٹے،،
شاہ جو کے ابھی فارغ ہو کے آیا تھا عائشہ کے کہیں نظر نہ انے پر مما سے پوچھنے لگا تھا جو مہمانوں میں گھیری ہوئی تھی
بات سنیں،،
وہ تھوڑا دور ہوا اور مما بھی آ گئی
کیا بات ہے بیٹے ،،
وہ فکر مند ہوئی
وہ حیران ہوئی اس وقت وہ حریم کو پالر سے لئے کر آئی تھی اور باہر ما ما جان کو ڈھونڈ رہی تھی جب شہرین بیگم نے اس کی بلائیں لی وہ حیران ہوتے ہوئے مما کے پاس چلی گئی کھانے کے بعد حریم کو ایان کے پاس باہر اسٹیج پر بٹھایا گیا حریم کے دونوں طرف اس کے بھائی اس کے ہاتھ پکڑے اسے اسٹیج تک لے گی ایان حریم کو دیکھتے ہی بے ہوش ہوتے ہوتے بچا یہ اتنی پیاری بھی لگ سکتی ہے وہ اپنی سوچ پر مسکرا گیا آگے ہو کے اس نے حریم کا ہاتھ پکڑا تو اسد نے اسے گھورا اس نے آنکھوں کے اشارے سےپوچھا کیا ہے؟؟
اسد نے ہاتھ پکراتے ہوئے کہا
خیال رکھیں ورنہ تیری خیر نہیں ،،
چل ہٹ بڑا آیا،،
ایان نے کہا تو وہ ہنس دیا اور ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا
آج سے یہ ہمیشہ کے لیے تمہاری تم ہم سب سے زیادہ اسے بہتر جانتے ہو اس لیے اس کو سنبھال لینا ہماری جان نہ کھاتی رہے ،،
عائشہ پہلے آ گئی تھی کیونکہ حریم کی کوئی بہن نہیں تھی اس لیے ساری رسمیں بہن والی اسے ہی کرنی تھی اس لیے وہ پہلے آ گئی وہ بہت پیاری لگ رہی تھی شاہ کے سامنے وہ جان بوجھ کے نہیں آ رہی تھی اس نے صبح سے شاہ کو نہیں دیکھا تھا اب بھی شاہ پتہ نہیں کہاں تھے اس نے شکر کیا تھا ورنہ اس پے روپ نہیں انا تھا نہ وہ سوچ کے رہ گئی پر پھر بھی شاہ کو ایک دفعہ تو نظر آ جانا چاہیے تھا نہ حریم اور عائزہ بھی آ گئی تو باہر کھانے کا شور اٹھا عائشہ اور عائزہ حریم کے پاس رہی حریم بہت پیاری لگ رہی تھی بہت پیاری آج اس پے ٹوٹ کے روپ آیا تھا سب اُس پے وری صدقے جا رہے تھے سب ہی اس کا بار بر صدقا د رہے تھے عائشہ پر سے آتے ہی دادا جان نے کئی ہزاروں کے نوٹ وار دیے تھے عائزہ کسی بات پے ہنسی تو شہرین بیگم نے اس پر سے بہت سے نوٹ وار دیے
اوئے ہوئے کیا بات ہے،،
کیا کہنے جناب کے،،
واہ کمال،،
عائشہ نظریں جھکا گئی
اسی طرح رائے کے تین بجے تک ان سب نے محفل لگائے رکھی اور پھر سب آہستہ آہستہ اپنے کمروں میں چلی گے سب بہت خوش تھے
💖💖💖💖
اگلا دن خوشیاں لائے ہوئے تھا سب ہی بہت خوش تھے صبح سب ہی ادھر اُدھر بھاگ دوڑ رہے تھے سب ہی کاموں بزی تھے سب بچا پارٹی بارہ بجے کے قریب اٹھی اور اٹھتے ہی اِدھر اُدھر بھاگنے لگے حریم اور عائشہ اور لڑکیاں تو پالر چلی گئی بائیس ہال کے انتظامات مکمل کرکے واپس آئے اور خود کی تیاریاں مکمل کی دو بجے کے قریب بارات ہال کے لیے نکل گئی تھی سب ہی بہت خوش تھے ایان کی خوشی کی انتہا نہیں تھی سب ہال میں پہنچے تو سب لڑکیاں پہلے سے وہاں موجود تھے حریم اور عائزہ ابھی پالر ہی تھی
ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﮐﺘﺎﺏ#
ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ#
ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﮬﻢ ﺟﻮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ#
ﻭﮦ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﺒﮭﯽ ﺗﻢ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺅ#
ﮐﮧ ﺩﻝ ﮬﻮ ﺭﮬﺎ ﮬﮯ ﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭ#
ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ#
ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺭﯾﺎﮞ ﮬﻮﮞ ﺗﻮ#
ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﮬﮯ#
ﻣﺤﺒﺖ ﮬﻮ ﺭﮨﯽ ﮬﮯ ﺑﮯ ﺣﺴﺎﺏ#
__________________
ارے شہزادہ آیا ہے شہزادے صاحب شعر عرض کروں ذرا،،
شاہ ہنس دیا اور پھر عائشہ کو نظروں کے حصار میں لاتے ہوئے گویا ہوا
ﻣﺤﺒﺖ ﮬﻮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺑﮯ ﺣﺴﺎﺏ#
ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ#
ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮ ﮐﺮ#
ﮬﻮ ﺭﮨﯽ ﮬﮯ ﺑﮯ ﺣﺠﺎﺏ#
ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ#
ﺳﻨﻮ ﺟﺎﻧﺎﮞ#
ﮬﻢ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ#
ﻟﮑﮫ ﮐﮯ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﻧﺎﻡ#
کبھی بےچین سے ہو کر سوچو تو
ایک نظر دیکھ لینا
آئینے میں خود کو
کیونکہ
کیونکہ تم میں
ہم بستے ہیں،،
(ڈاکٹر سمیہ ملک)
اوئے ہوئے واہ جی واہ کمال کر دیا
سب نے محتلف رائے دی تو مریم بھابھی شرما گئی
نیکسٹ
او تیرے سنگ یارا خوش رنگ بہارا
تو رات دیوانی میں زرد ستارہ،،
واُو مزا آ گیا کمال ،،
واہ بھائی اتنا پیار ،،
سب نے ہوٹنگ کی تو فاطمہ اپی شرما گئی
نیکسٹ،،
مریم بھابھی،،
اوئے ہوئے،، چلیں کوئی شعر عرض کریں حسن بھائی صاحب کے لیے،،
کبھی شام کو تم جو بیٹھو تو
کبھی یاد جو میری آئے تو
حریم شرما گئی
چلو جی نیکسٹ,,
دانیال بھائی،،
سوئنگ عرض کریں اپنی بیگم کے لیے،،
سب ہنس دیے
او کرام خدایا ہے
تُجھے مجھ سے ملایا ہے
تُجھ پے مرکے ہی تو
مجھے جینا آیا ہے
پھر پاس بیٹھی اشرا کزن نے ایک چیت نکالی تو اس میں حریم کا پہلے نام نکلا سب نے ہوٹنگ کی تو حریم ہنس دی
چلو دلہن صاحبہ کوئی شعر عرض کروں اپنے دولہے راجہ کے لیے،،
عائزہ نے شرارت سے کہا تو سب ہنس دیے
،،میری سانسوں کے سلطان پیا
،،تیرے ہاتھ میں ہے میری جان پیا
،،میں تیرے بن ویران پیا
،،تو میرا کل جہاں پیا
اوئے ہوئے ،، واہ واہ کمال
سب نے مل کے نعرہ لگایا تو حریم شرما گئی
یہ جان کر دونوں ہی اس بات پر ابھی تک یقین نہیں کر سکے تھے
_________
رات کو دیر تک فنگشن چلتا رہا کافی مزا آیا سب ہی کزنز لاسٹ پے بیٹھ گے بزرگ خضرات سب آٹھ کر اندر چلے گئے اور اب نوجوانوں کی محفل لگی مہندی کا فنگشن تی حتم ہو گیا مگر اب سب شعر و شاعری اور سونگز کی طرف اے سب اسٹیج پر گول دائرے کی شکل میں بیٹھ ہے سب ہی جوڑیاں ایک ساتھ بیٹھی تھی سو شرارتیں اور نوک جوک ساتھ ساتھ چلتی رہی عائزہ اور اسد پھر اتفاق سے ساتھ بیٹھ گئے کیونکہ عائزہ تو شاہ کے ساتھ بیٹھی تھی مگر اس کی دوسری سائڈ پے اسد بیٹھ گیا وہ اُسے گھور کے رہ گئی
گیم سٹارٹ کریں،،
عائزہ نے کہا تو سب نے ہاں کیا
چلیں پھر اس باؤل میں سے ایک چیت نکالیں اور دیکھیں شروعات کیس سے کرنی ہے،،
شرم کر،،
سرگوشی کے انداز میں کہا تو ایان ہوش میں آیا شاہ خود بھی عائشہ کو دیکھ رہا تھا مگر وہ اس پاس سب سے نظریں چورا کر دیکھ رہا تھا وہ بہت پیاری لگ رہی تھی وہ مبہوت سا رہ گیا مگر ہوش میں ضرور تھا اسد اور عدن نے حریم کا ہاتھ آیا کے ہاتھ میں دیا تو ایان نے تھوڑا جھک کر ہاتھ پکڑا دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ اور یہ منظر کیمرا مین نے کیچ کر لیا پھر آہستہ سے اسے اوپر اپنے ساتھ بتایا حریم نے شرارہ پہن رکھا تھا پنک اور یلو اور سبز رنگ کے کومبینیشن میں پھولوں کا زیور پہنے و سچ میں بہت پیاری لگ رہی تھی عائشہ بلیک پر گولڈن کڑھائی والی فراک پہنی ہوئی تھی شاہ نے بلیک پر گولڈن اور بلیک واسکٹ پہنی ہوئی تھی عائزہ اور اسد نے حیرانگی سے ایک دوسرے کو دیکھا جو ایک جیسے کامبینیشن کے درس میں تھے دونوں ایک دوسرے کو کزن تھے
کچھ لگ بھی بہت پیاری تھی سلجھی ہوئی پیاری سی و مسکراتے ہوئے دور تک عائزہ کو دیکھ کر رہی جب اسد اُن کی نظروں کے تعاقب میں عائزہ کو دیکھ کر حیران ہوا مطلب میں گیا افف میرے اللہ رحم،، و سوچ رہ گیا
کیا دیکھ رہی ہیں مما جانی،،
ارے اسد کچھ نہیں بس عائزہ کو دیکھ رہی تھی بس،،
اوہ اچھا دیکھتی رہیں ،،
شہرین بیگم ہنس دی و کہ کر چلا گیا
💖💖💖
حریم کو باہر لایا گیا تو اس کے ایک طرف عائشہ اور دوسری طرف عائزہ تھی دروازے سے لے کر اسٹیج تک اس پر پھولوں کی برسات کی گئی باہر کا منظر اس قدر حسین تھا کے تینوں دیکھ کر مبہوت رہ گئی پھر اسٹیج سے تھوڑا سا نزدیک جا کر ایک ہاتھ اسد اور دوسرا عدن بھائی نے پکڑ لیا ایان حریم کو دیکھتے ہی بس کھو گیا وہ اسے ارد گرد کی پرواہ کیے بنا بس دیکھے جا رہا تھا پاس کھڑے سے نے زور سے کندھا مارا
مہندی کا فنگشن شروع ہو چکا تھا ایان سفید شلوار قمیض پے مہندی رنگ کی جیکٹ میں غضب ڈھا رہا تھا سامنے اسٹیج دادا جان اور چچا جان اور تایا جان کے پاس بیٹھا ہنستے ہوئے بہت پیارا لگ رہا تھا فاطمہ اپی اس پر وری صدقے جا رہی تھی وہ بہت خوش تھی آج ان کا بھائی اُن کے سامنے ہے دادا جان اور چاچو بر بر اس پر سے سڑک دے رھے تھے آج سب کی خوشی کی انتہا تھی کیونکہ آج سلمان صاحب اور سیماب کے اکلوتے بیٹے کی شادی تھی سب لڑکوں نے آج جسے کپڑے اور اوپر واسکٹ ڈفرنٹ کلر کی پہنی ہوئی تھی لڑکیوں نہیں کھلی شواریں اور اوپر شارٹ شرٹس بنوائی ہوئی تھی حجاب البتہ اپنے شعروں کی واسکٹ کے رنگ کے لیے ہوئے تھے سب ہی بہت اچھے لگ رہے تھے
عائزہ حریم کو لے آو بچے فنگشن شروع کریں ،،
شہرین بیگم نے عائزہ سے کہا
جی مامی جان ابھی لائی،،
شہرین بیگم کو عائزہ بہت پسند آئی
تو پھر یہی رہو میرے پاس،،
حد کرتے ہیں چھوڑیں اور آپ چینج کریں شاور لیں نیند اڑ جائے گی آپ کی ،،
عائشہ نے شاہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو نے مسکرا کر شرارت کر دی جس پر عائشہ کے طوطے کبوتر سب اڑ گے
افف شاہ گندے،،
شاہ نے ہنس کے چھوڑ دیا
حجاب ضرور لینا ،،
عائشہ چنجینگ روم میں گھس گئی شاہ کے قہقہے نے اس کا اندر تک پیچھا کیا
شاہ اس کے کندھے پر سر رکھے آنکھیں موند گیا
شاہ،،
جی شاہ کی جان،،
میں جاؤ چینج بھی کرنا ہے،،
نہیں،،
شاہ آپ کے بھی نکل دیے ہیں آپ چینج کریں ،،
عائشہ نے اپنا آپ شاہ کی گرفت سے نکالتے ہوئے کہا مگر شاہ نے گرفت اور سخت کر دی
شاہ جانے دین نہ پلیز،،
ضروری ہے!! ،
نہیں ،،
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain