بہن ہے میری اور میری بہن کے قریب اب آپ مجھے نظر مت انا ورنہ اپنی حالت کی ذمےداری آپ خود ہوں گی،،
بہن !!! وہ ہنس دی
یہ بہن نہیں بنتی کسی کی ہاں اگر،،،
نازیہ،،
دادا جان کی روب دار آواز سے ایک منٹ کے لیے سب کانپ گے عائشہ کو اس وقت موت بھی آ جاتی تو اسے منظور تھی بس و یہاں سے غائب ہونا چاہتی تھی کچھ بھی کر کے
ہماری خاموشی شاید تمہیں راس نہیں نازیہ بچے اس لیے اب ہم بولنے پر مجبور ہیں،،
ہاں ہاں بولیں بابا میں بھی سننا چاہتی ہوں آج آخر سنا ہی دین بتا ہی دیں کیوں آپ نے شازب اور ایان دونوں کے لیے ہی میری بیٹی کا انتہائی نہیں کیا آخر میری بتی میں کیا کمی ہے اور اس منحوس میں کیا ہے ایسا،،
پھوپھو نے چلا کر کہا تو بابا جان خاموش ہو گے
نازیہ میری بات سنو،،
مجھے آپ کی کوئی بات نہیں سننی آپ یہ فیصلہ نہیں کر سکتے ،،
ہم یہ فیصلہ کر چکے ہیں نازیہ ،،
میں بھی دیکھتی ہوں آپ کیسے اس فیصلے پر عمل کرتے ہیں اس منحوس کی وجہ سے آپ میری بیٹی پر ظلم کر رہے ہیں نہ،،
پھوپھو عائشہ کی طرف لپکی مگر ایان نے راستے میں ہی روک لیا
خبردار خبردار اگر آپ عائشہ کے قریب بھی آئی تو میں لحاظ بلکل نہیں کرو گا بتا رہا ہوں میں،،
ایان نے انتہائی سخت لہجے میں کہا تو پھوپھو اس کی طرف دیکھ کر رہ گئی
تم ہوتے کوں ہو ہمارے فیصلے میں بولنے والے اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے روکنے کی،،
پھوپھو نے ایان کے ہاتھ جھٹکتے ہوئے چلا کر کہا تو ایان کا ضبط جواب دے گیا
اچھا ایک اور فیصلہ بچوں ہم نے کیا ہے،،
سب نے نہ سمجھ انداز میں دیکھا،
ہم نے فیصلہ کیا ہے کے اب شاہ اور عائشہ کی شادی ہو جانی چاہیے،،
اور یہ میرے رہتے ہوئے نہ ممکن ہے بابا ،،،
__________
پھوپھو اور نتاشا جو کے شاپنگ کرنے گئی ہوئی تھی بیگز اٹھے جیسے ہی لاؤنج میں داخل ہوئے دادا جان کی بات سن ک پھوپھو کو آگ ہی تو لگ گئی تھی
میرے ہوتے ہوئے یہ ممکن نہیں بابا،،
سب نے چونک کر دیکھا تو پھوپھو بیگز وہی رکھ کے اُن کی طرف آئی
آپ نے سوچا بھی کیسے اس منحوس کی شادی آپ شازب سے کریں گے اور میں ہونے دوں گی نتاشا کے علاوہ،،
وہ دادا جان پر چلا گیا تو سب ہکا بکا رہ گے ایان کو بہت غصہ آیا مگر ضبط کر گیا
واہ ہماری فرسٹ کزن،،
حسن بھائی بڑے مزے سے بولے تو حریم اُن کی طرف دیکھنے لگی ابھی و کچھ بولتی دانیال بھی بول پڑے
ایان سلیمان مہتاب چوہدری کچھ بولو گے،،
ایان کی طرف سب حیرانگی سے دیکھنے لگے
فاطمہ اور عائشہ تو آنکھیں پھاڑے ایان کو دیکھنے لگی عائشہ اور فاطمہ دونوں کی مسکراہٹ سمٹ گئی
ایان ،،
فاطمہ اپی بے یقین تھی ایان کھڑا ہو گیا وہ خوف زدہ تھا مگر فاطمہ اپی نے اس کے گلے لگ کر سارے خوف حتم کر دیے وہ رو رہی تھی چچا جان اور چاچی دونوں ہی ایان کو آج سولہ سال بعد اپنے سامنے دیکھ کر بہت خوش ہوئے پھر ایان سب سے ملا داد جان بہت خوش ہوئے عائشہ بہت روئی تھی شاہ نے یقین تھا اج تک اسے نہیں پتہ چلا تھا پیرس میں وہ اٹھ سال اکٹھے رہے تھے ساتھ اسد بھی تھا وہ حیران تھا
نہیں نہیں پھوپھو ہم کھا کر اے تھے،،
چاچی جان مسکرا دی بہت عرصے بعد اُن کو کسی نے پھوپھو کہا تھا بھائی کی یاد پھر سے آ گئی ان کو و خاموش ہو گئی حریم اُن کی اداسی بھانپ گئی اسے اچھا نہیں لگا تھا اور آٹھ کر اُن کے قدموں میں بیٹھ گئی جس پر چاچی جان نے حیرانگی سے حریم کو دیکھا تو اُن کی آنکھ میں نمی تھی
پھوپھو آپ جانتے ہیں میں کون ہوں،؟؟؟،،
سب نہ سمجھی سے دیکھنے لگے حریم کا یوں بیٹھنا
ثمرین بیگم نے نہ سمجھی سے دیکھا تو حریم مسکرا دی
پھوپھو میں حریم ہوں آپ کے اکلوتے بھائی کی بیٹی پھوپھو میں داؤد صدیقی کی بیٹی آپ کی بھتیجی ہوں،،
ثمرین بیگم نے نہ ایسے دیکھا جیسے کچھ غلط سن لیا تھا انہوں نے حریم ہنس دی
ایسے تو مت دیکھیں ،،
اس بیگم نے اس کے ایک اک نقش کی ہاتھ سے چھوا اور پھر اسے اٹھا کر اپنے پاس بٹھایا سب گھر والے ہونکو کی طرح یہ دیکھ رہے تھے
عائشہ کی بچی شرم کرو بھائی کو ایسے کہتے ہیں،،
عائشہ گڑبڑا گئی
نہیں ۔۔۔نہیں۔۔ میں تو مطلب بتایا تھا D F M کا،،
عائشہ نے معصومیت سے کہا تو حسن بھائی کا قہقہ بلند ہوا جس پر سب ایک دفعہ پھر حسن کی بے وقوفی پر ہنس دیے
بات یہ تھی عائشہ ہم بہت پہلے آپ کو انوائٹ کرنے آ رہی تھی مگر ہمارا راستے میں چھوٹا سا اکسیڈنٹ ہو گیا تھا اس لیا آج انا پڑا ،،
کوئی بات نہیں آیا بھی میں تو مذاق کر رہی تھی یہ نہ بھی بولتی تو میں زبردستی آ جاتی جیسے اس نے مجھ سے زبردستی دوستی کی تھی ،،
حریم ہنس دی تو جو ہر وقت کتابوں میں گھسی رہتی تھی مجھے لگا بچی پاگل نہ ہو جائے اس لیا تُجھ سے دوستی کر کی،،
سب مسکرا دیے تو چاچی جان گویا ہوئی
بچوں کھانا کھاؤ گے،،
عائشہ یہ D F M کیا ہوتا ہے،،
عائشہ ہنس دی دادا جان عائشہ کی طرف دیکھنے لگے
حریم بتا دوں،،
عائشہ نے معصومیت سے پوچھا تو حریم اسے گھور کے رہ گئی
چلو رہنے دو،،
عائشہ حریم کی تنبیہ نظریں سمجھ گئی
نہیں عائشہ بتاؤ نہ،،
حسن بھائی نے مسکینی سی صورت بنا کے کہا تو عائشہ بولی
دور فٹے منہ،،
عائشہ نے کہا تو سب ہنس دیے
آئشی آج ہم پتہ ہے کیوں آئے ہیں،،
عائشہ نہ سمجھی سے دیکھنے لگی
کس لیے،،
یہ لو
حریم نے ایک لفافہ اسے پکڑا دیا تو عائشہ نے نہ سمجھی سے اسے کھولا مگر اس کے اندر لکھا ہوئے الفاظ پڑھ کے حیران ہوئی
حریم کی بچی تیری شادی ہو رہی ہے اور وہ بھی پانچ دن بعد اور تو مجھے آج بتا رہی ہے ،،
عائشہ نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تو حریم ہنس دی
تُجھ جیسی دوست پے D F M ،،
حریم ہنس دی تو ایان نہ سمجھی سے دیکھنے لگا
اسلام و علیکم،،
دونوں نے سلام کیا اور شاہ ایان کے گلے لگا تو عائشہ حریم کے گلے لگی دادا جان پاس بیٹھے مسکرا رہے تھے چچا جان حسن اور دانیال بھائی بھی آج گھر ہی تھے عائشہ نے عائزہ کو ڈھونڈا تو وہ اسے نہ نظر آئی اُن کے آگے کافی زیادہ چیزیں اور کولڈ ڈرنکس رکھ دی گئی تھی دونوں ہی بہت پیارے لگ رہے تھے ایان بہت غور سے بر بر عائشہ اور فاطمہ اپی کو اور کبھی چچا جان اور دانیال بھائی کو دیکھتا وہ آج اپنی اصلی فیملی کے ساتھ تھا جہاں سب اُس سے انجان تھے سوائے دادا جان کے وہ بہت خوش تھا آج سولہ سال بعد اسے اس کے اپنے ملے تھے اس کی خوشی حریم جانتی تھی وہ بھی بہت خوش تھی اس کے عائشہ سے کئی رشتے نکل آئے بھابھی کزن دوست بہن اور پوری دنیا عائشہ دادا جان کے پاس ٹانگیں اوپر کیا بڑے مزے سے بیٹھ گئی یہ جانے بغیر کے کوئی اس کا بہت برا حال کرے گا
اپنے کان پکڑے یہ میرے ہیں،،
ہاں تو جو تمہارا ہے وہ میرا ہے اور جو میرا ہے وہ صرف میرا ہے،،
ہاں یہ تو سہی ہے پر یہ کان،،!!!! اک منٹ !!!!!!،،
وہ شاہ کو گھورنے لگی جو آپ کا وہ کس خوشی میں صرف آپ کا ہے،،
عائشہ نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تو شاہ کا قہقہ لگا گیا اس کا قہقہ بہت بلند تھا عائشہ جھینپ گئی
اوئے تم دونوں کو شرم نہیں آتی،،
فاطمہ بھابھی جو کب سا ان کی نوک جھونک سے محظوظ ہو رہی تھی اچانک بولی تو عائشہ نے اچھل کر پیچھے دیکھا
شاہ مسکراہٹ دبا گیا تو عائشہ شرمندہ ہو گئی
نیچے کیوں بیٹھے ہو دونوں اور کچھ شرم کر لو باہر تم دونوں کے دوست اے ہیں،،
فاطمہ اپی نے کہا تو شاہ اور عائشہ دونوں آٹھ بیٹھے عائشہ اب کافی زیادہ ٹھیک ہو چکی تھی
شاہ بیٹھ گیا اور عائشہ کے کان پکڑ لیے،،
ہا !!!! شاہ یہ میرے کان ہیں آپ کو نظر نہیں اہم رہا اپنے پکڑنے کو کہا تھا میں نے،،
شاہ قہقہ لگا کر ہنس دیا
نہ نہ شاہ کی جان ایک کام کرو آئیں دو مجھ سے نہیں ہوتے،،
شاہ نے مصنوئی اکٹنگ کرتے ہوئے کہا تو عائشہ سوچ میں پڑھ گئی
ٹھیک کام پکڑیں،،
شاہ نے آرام سے عائشہ کے کان پکڑ کر سوری سوری سوری کی رٹ لگائے دی تو عائشہ جھنجھلا گئی
چپ کریں،،
شاہ نے بریک لگائی ٹی عائشہ گھور رہی تھی
اچھا شاہ کی جان سوری،،
ہا!!!! اتنا بورنگ سوری ،،کان پکڑ کر کھڑے ہو کر اٹھک بیٹھک کریں اور سوری سوری کہیں،،
کیا؟؟؟؟
شاہ چلا ہی تو پڑا تھا وہ کیا ڈیمانڈ تھی شاہ سوئچ کے رہ گیا،،
سوچ لو،
سوچ لیا،،
ٹھیک ہے،،
شاہ نے کھڑے ہوا اور پھر بیٹھ گیا ،،
کان کون پکڑے گا،،
عائشہ نے معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے
شاہ آپ بہت بے شرم ہیں گندے،،
وہ رخ موڑ تو شاہ کی ہنسی کو بریک لگی
ارے ارے جان شاہ یہ غضب مت کیجئے گا پلیز،،
ٹھیک ہے نہیں کرو گی چلیں پھر سوری بولیں،،
ہائے کون نہ مرے اس معصومیت پر،،
شاہ کے کہنے پر عائشہ کھلکھلا کر ہنس دی
نہیں نہیں مرے کوئی نہ آویں قتل میرے سر چڑ ھ جائے گا،،
عائشہ کے کہنے پر شاہ ہنس دیا
چلیں چلیں سوری بولیں باتوں میں مت الجھائے مجھ معصوم کو،،
شاہ ہنس دیا عائشہ ایک ادا سے بولی تھی
پھوپھو بڑبڑاتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف چل دی اور دادا جان اور چچا جان نے بسی سے نظریں ایک دوسرے سے چورا گے
_________
ایان اور حریم اج عائشہ کے گھر جا رہے تھے اُن کی شادی کو پانچ دن رہ گے تھے حریم کے پاؤں کی وجہ سے وہ آج کا رہے تھے ایان نے شاہ کو کال کر دی تھی اور حریم نے عائشہ کو اس لیے وہ تھوڑی لیٹ نکلے تھے
گاڑی کو پورچ میں داخل ہوتے دیکھ کر اوپر بالکنی میں عائشہ کو بہت خوشی ہوئی حریم پہلی بار اس کے گھر آئی تھی اسے نہیں پتہ تھا وہ کیوں آئی ہے پر جیسے بھی تھا و بہت خوش تھی وہ جلدی سے نیچے آنے لگی مگر یہ کیا
ہائے او ربا ،،
عائشہ دھڑام سے زمین بوس ہو گئی سامنے سے آتے شاہ کی ہنسی چوٹ گئی تو عائشہ جلدی سے اٹھکر بیٹھ گئی شاہ بھاگتا اس تک پہنچا تو وہ خفا ہو گئی کیونکہ شاہ ابھی تک ہنس رہے تھے
منحوس کہیں کی ہر طرف اپنی منہوسیت پھیلا رکھی ہے جادو گرنی ،،
بس کر دو نازیہ بچے بیٹیاں منحوس نہیں ہوتی،،
دادا جان آرام سے بولے تو پھوپھو کو گویا آگ ہی لگ گئی تھی کہ
ہاں ہاں ہم کسی کے کچھ لگتے ہی نہیں منحوس اپنے ماں باپ کو کھا گئی ارے میری ماں تک کو کھا گئی پیدا ہوتے ہی اب یہاں لا پھینکی ہے میرے بھائی اور بھتیجوں میں منحوس ڈورے ڈالتی رہے اور ان کو لے اڑے،،
شاہ سے برداشت بلکل نہیں ہوا تھا اس کی عزت ہے عائشہ وہ کیسے برداشت کرتا
بس کر دیں پھوپھو اللہ کا واسطہ ہے بس کر دیں عزت ہے وہ اس گھر کی بیٹی ہے وہ آپ کے مرے ہوئے بھائی کی کچھ تو لحاظ کر لیں ،،
شاہ غصے سے کہتے ساتھ ہی غصے سے باہر نکل گیا
ہوں!!! عزت ،،دبھا عزت کے نام پے !!منحوس،،
ا چچا جان سر جھکا گے عائشہ کا وہی رونا نکل گیا وہ اٹھنے لگی تو شاہ نے اگلے ہی کے جلدی سے پکڑا ورنہ وہ گر جاتی جلدی میں اُٹھتے ہوئے
دھیان سے،،
عائشہ نے انتہائی غصے سے کھا جانے والی نظر سے شاہ کو دیکھا جس پرشہ کو اپنی غلطی ہے اندازہ ہو گیا
اے ہائے کیا زمانہ آ گیا ہے کیسا جلد باز لڑکا ہے ایسے پکڑا جیسے بیوی ہے اس کی،،ہوں!!!! جیسی ماں ویسی بیٹی،،
دادا جان بھی غصہ ہو گئے مگر خاموش تھے وہ نہیں چاہتے تھے اپنے بیٹے کے گھر میں کسی قسم کی لڑائی ہو چچا جان ہنوز سر جھکائے ہی تھے عائشہ کو بہت غصہ آیا
چھوڑیں مجھے ،،اور سو میل دور رہا کریں مجھ سے،،
عائشہ نے غصے سے کہا اور اپنا آپ شاہ کی گرفت سے آزاد کیا فاطمہ اپی اوپر سے آئی اور عائشہ کو غصہ کرتے دیکھا تو عائشہ کو ارآم سے پکڑ لیا
ہوں!!
اور سکندر ہمارا نواب ذرا آپ سے بھی زیادہ جذباتی ہے عائشہ کے معاملے میں،،
بابا جان بھی ہنس دیے اور دادا جان بھی عائشہ شرما گئی سر جھکا گئی تو شاہ بھی مسکرا دیا
جانتا ہوں بابا جان اللہ ان دونوں کو خوش رکھے،،
سب نے دل سے امین کہیں
پھوپھو اسی وقت لاؤنج میں آئی اور اس دعا پر برا سا منہ بنایا
اللہ اس منحوس کو دور ہی رکھی میرے شاہ سے،،
وہ دل میں کہنے لگی
ارے او نہ نازیہ بیٹے،،
نہیں نہیں بابا جان اس منحوس کے ہوئے آپ کو کوئی کہاں نظر اتا ہے بیٹھے آپ ہی اسے باہو میں لیے،،
بابا جان خاموش ہو گی شاہ کو بہت غصہ آیا مگر ضبط کر گیا
صحیح کہا تم نے پر کبھی کبھی غلطیاں ہو جایا کرتی ہیں معاف کر دو،،
بابا جان آپ کو پتہ ہے اس نے کیا کیا ہے،،
بلکل بچے میں سب جانتا ہوں شازب سب کچھ بتا چکا ہے، معاف کر دو ہمارا نواب زادہ ہے،،
آپ کے اسی لد پیار نے اسے بگاڑ دیا ہے،،
کب بگڑا ہے سکندر بچے ہمارے بیٹے کبھی نہیں بگڑ سکتے ،،
اسے بولیں عائشہ سے معافی مانگے،،
چچا جان ان کی غلطی نہیں ہے میرا خود پاؤں سلپ ہو گیا تھا میں خود گیری ہوں،،
لو سن لو اب تو معاف کر دو،،
ٹھیک ہے میں نے معاف کیا بابا جان بس عائشہ کو لے کر آپ جانتے ہیں میں تھوڑا جذباتی ہوں ،،
دادا جان ہنس دیے
دونوں نے جا کر سلم کیا اور شاہ نے عائشہ کو دادا جان کے پاس صوفے پر بٹھایا تو وہ خوشی سے دادا جان کے گلے لگ گئی پھر دادا جان شاہ سے ملے بابا جان خاموش تھے شاہ اور عائشہ دادا جان کے دونوں طرف چپکے بیٹھے تھے
سکندر،،
جی بابا جان،،
بابا جان نے غور سے شاہ اور سکندر صاحب کو دیکھا وہ سمجھ گئے
کیا بات ہے،،
کچھ نہیں بابا جان،،
بیٹے اس کچھ نہیں میں سب کچھ ہے خیریت ہے میرے بیٹے سے ناراض کیوں ہو؟؟،،
دادا جان نے گھورا تو سکندر صاحب خاموش ہو گئے
سکندر اس شازب کی کوئی غلطی نہیں ہے میں جانتا ہوں شاہ تھوڑا غصے والا ہے مگر یہ اس کی غلطی نہیں،،
پر بابا جان اس کو غصہ نہیں کرنا چاہیے تھا،،
کیوں ؟؟اور کس خوشی میں،،
اس لیے کے آپ محترمہ بعد قسمتی سے ایک ڈاکٹر ہیں اور آپ کا بہت شکریہ ہو گا اگر میری جان پر یہ احسان عظیم کریں گی تو کیونکہ میں تھوڑا سا بزی ہوں اس لیے نہیں جا سکتا،،
اسد نے کڑ کے جواب دیا تو عائزہ برے برے منہ بنتی چلی گئی مگر جاتے ہوئے جتانے سے باز نہ آئی
یاد رکھیں یہ احسان ہے اور اس احسان کا بدلہ میں تم سے ضرور لو گی یاد رکھنا،،
اسد خاموش ہو گیا مگر پھر مسکرا گیا اگر آپ شازب کی بہن نہ ہوتی تو محترمہ آپ کو پھر میں پوچھتا و سوئچ کے رہ گیا پھر خاموشی سے ابھی ابھی آئے ہووے کیس کی طرف چلا گیا،،
@@@@
عائشہ لوگ جب گھر پہنچے تو دادا جان آ چکے تھے عائشہ کو شاہ پکڑ کر اندر لے گیا لاؤنج میں دادا جان اور بابا جان بیٹھے باتیں کر رہے تھے بابا نے شاہ کو عائشہ کو لاتے دیکھا تو خاموش ہو گئے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain