اور بڑے آرام سے موبائل یوز کرنے میں بزی تھی جب ایک میڈ نے آ کر اسے بولا تو و سنت پیس کر رہ گئی
اپنے سر سے بولو کام ان کا ہے تو وہ خود یہاں آئیں میں کسی کی نوکر نہیں ہوں یہاں ،،
اس نے دانت پستے ہوئے کہا تو وہ خاموشی سے مڑ گئی
اگلے پانچ منٹ میں اسد اس کے سر پر کھڑا تھا
محترمہ آپ کو بلایا تھا میں نے شاید،،
ہاں تو کوئی احسان تو نہیں کیا کام تمہیں تھا مجھے نہیں اس لیے انا تمہیں چاہیے تھا مجھے نہیں،،
وہ بہت کا پرواہی کے انداز میں بولی اور دوبارہ موبائل میں گم ہو گئی اسد خاموش ہو گیا
ابھی اور اسی وقت آٹھ کر روم نومبر تھرٹی ٹو میں جاؤ ،،
عائزہ نے نہ گواری سے اسد کی طرف دیکھا
اسلام و علیکم بھائی،،
وعلیکم اسلام کیسی ہیں،،
اللہ کا کرم ہے، آپ سنائیں،،
فٹ الحمدللہ،،
عائشہ کو ایان بلکل اپنے بابا کی طرح لگا و خاموشی سے نظریں جھکا گئی،،
چلیں ،،
جی چلتے ہیں،،
پھر دونوں ہی اپنی اپنی کو پکڑ کے آرام سے گاڑی کی طرف لے گئے
@@@
میڈم عائزہ اسد سر آپ کو بولا رہے ہیں،،
جی جی نظر آ رہا ہے دونوں دوستو کو کسی بڑے گناہ کی سزا ملی ہے،،
عائشہ سر جھکا ہے حریم ہنس دی
مجھے بھی یہی لگتا ہے کیوں آئشی،،
ہمم،،
عائشہ،،
عائشہ نے شاہ کی طرف دیکھا تو شاہ پھر بولا
یہ ایان ہے جس کا ذکر میں اکثر کرتا تھا،،
ایان نے جان بوجھ کے کھانسی کی اور اپنی موجودگی کا احسان دلایا
اہم اہم،،
دونوں نے چونک کے پیچھے دیکھا عائشہ شاہ کو دیکھ کر شرمندہ ہو گی اور حریم ایان کو دیکھ کر آنکھ دبا کر ہنس دی جس پر ایان گھور کے رہ گیا مگر وہ پرواہ کیسے تھی وہاں
اسلام و علیکم،،
شاہ نے عائشہ کو دیکھتے ہوئے کہا تو دونوں نے سر ہلا کر جواب دیا
حریم یہ شازب ہے،،
اسلام و علیکم بھائی،،
وعلیکم اسلام بہنا کیسی ہو،،
حریم ہنس دی
دیکھ لیں آپ کے سامنے ہوں ،،
حریم نے ہنستے ہوئے عائشہ اور اپنے زخموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو عائشہ ہنس دی
ہاں یار لگتا ہے ہم نے کوئی گناہ اکٹھے بیٹھ کر کیا ہے جس کی سزا بھی حمے ایک جیسی ملی ہے،،
عائشہ کے کہنے پر حریم ہنس دی
یار سريسلی دیکھ نہ تجھے بھی پاؤں پے لگی مجھے پاؤں کے پیچھے اور تُجھے پاؤں کے آگے لگی اور مجھے سر کے آگے اور تُجھے سر کے پیچھے لگی ،،،what a itafaq،،
حریم کے ساتھ ساتھ عائشہ بھی پاگلو کی طرح ہنس دی جو کچھ فاصلے پر کھڑے شاہ اور ایان نے بڑے انہماک سے دیکھی تھی شاہ عائشہ کو اس طرح ہنستے ہوئے پہلی بار دیکھ رہا تھا اسے اس منظر سے حسین منظر دنیا میں کوئی نہ لگا
حریم ،،
عائشہ ہنس ہنس کے لوٹ پوت ہو رہی تھی زندگی میں پہلی دفعہ عائشہ اتنا ہنسی تھی حریم کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی
عائشہ ،،
ہنس ہنس کے اُن دونوں کی آنکھوں میں آنسو آ گے تو پھر آرام سے دونوں بینچ پر بیٹھ گئی
حریم یہ مت کہنا واشروم میں گر گئی تھی،،
حریم ہنس دی
نئی یار چھوٹا سا اکسیڈنٹ ہو گیا تھا تو بتا تُجھے کیا ہوا ہے،،
میں واشروم میں گر گئی تھی،،
حریم ہنس دی تو عائشہ بھی ہنس دی
ارے یار مجھے تو ایسا کچھ یاد نہیں کے ہم دونوں کا کچھ ایسا بھی پلان کیا تھا،،
وہ دونوں اس وقت پیپر دے رہی تھی آج ان دونوں کا لاسٹ پیپر تھا دونوں ہی خوش تھی پیپر کے حتم ہونے پر عائشہ نے رات کے تین بجے شاہ کو اچانک اٹھایا اور بتایا کہ اس کا پیپر ہے تو شاہ نے اس کو دو گھنٹوں میں تیاری کروا دی پھر صبح شاہ اسے خود آفس چھوڑنے گے تھے اس سے ٹھیک سے چلنے نہیں ہو رہا تھا مگر پھر بھی وہ مشکل سے چل کر کلاس تک گئی حریم کی ب یہی حالت تھی صبح نکلتے وقت گھر والو کے سامنے اتنا بڑا جھوٹ بولا کے واشروم میں گر گئی تھی اور کافی دیں ہو گی ہیں ایان اس کے اس جھوٹ پر مسکرا دیا
پیپر دے کر جب وہ باہر نکلی تو دوسری طرف سے حریم بھی لنگڑاتے ہوئے نکلی دونوں ایک دوسرے کے قریب آتے ہی قہقہ لگایا گئی تو آس پاس سب لڑکیاں ان کو حیرانگی سے دیکھنے لگی
جب ایان نے کہا
گھورنا بند کرو میرا سر درد کر رہا ہے اس کا کوئی حل نکالو ،،
کافی پی تو رہے ہیں،،
کنجوسی تمہاری نظر اسی میں ہے اس لیے اس کا اثر بلکل نہیں ہونے والا ،،
ہو گا دیکھ لینا ایک کام کرو،،
کیا ؟؟
کافی حاتم کر کے ادھر لیٹ جائیں،،
حریم نے اپنے ساتھ بیڈ پر بچی ہوئی جگہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو ایان خاموش ہو گیا
ایان نے کافی حتم کر کے حریم کی دوسری طرف لوٹ گیا حریم لیپ ٹاپ اٹھا لیے اور تیاری کرنے لگی تو عین نے اس کے گھٹنے پر سر رکھ کر اس کا ہاتھ پر کر بالوں پر رکھا جس کا مطلب تھا بالو میں اُنگلیاں چلاو حریم نے ایک جیتنے پر ٹاپ ٹاپ رکھا اور دوسرے پر عیاں کا سر رکھا تھا
ایان پلز،،
حریم سمجھ نہیں آ رہی ،،
مجھے اچھا نہیں لگتا نہ اور ویسے بھی میں نے پٹی لگائی تھی ٹھیک ہے اب،،
ماتھے کی پٹی سے پتہ چل رہا ہے کے پاؤں کی پٹی کیس طرح ہوئی ہو گی،،
ایان نے طنز کیا تو حریم منہ بنانے لگی جس پر عیاں نے آرام سے اس کا پاؤ سامنے کیا تو وہی بات تھی زخم کھائے اور پٹی کہیں جا رہی تھی وہ ہنس دیا،،
واہ ڈاکٹر صاحب کیا پٹی لگائی ہے بے وقوف لڑکی،،
پھر ایان نے اس کو ماتھے اور پاؤں پے دوبارہ پٹی لگائی تو حریم خاموشی سے دیکھتی رہی
پٹی لگا کر ایان واشروم ہاتھ دھو کے آیا تو حریم کافی پی رہی تھی ایان نے آرام سے اس کے ہاتھ سے کافی لے کر اس کے پاس بیٹھ کر پینے لگا جس پر حریم آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی ایان بلکل نارمل تھا جیسے رات کو کچھ ہوا ہی نہ ہو بلکل پہلی کی طرح وہ حیران ہوئی مگر پھر ٹھیک ہو گئی ابھی وہ گھورنے میں بزی تھی
حریم کمرے سے باہر نہیں آئی تھی کیونکہ اس سے چلنے نہیں ہو رہا تھا اور سب کو یہی لگا شاید وہ پڑھ رہی ہے
حریم ،،
ایان ابھی آفیس سے آیا تو فرش ہو کے حریم کے پاس آ گیا کیونکہ اس کے پاؤں کی چُوت کافی کھڑی تھی اور حریم بہت لا پرواہی تھی
جی ,
پڑھ رہی ہو پیپر ہے صبح ،،
جی،،
وہ بیڈ پر بوکس رکھے بارے آرام سے پڑھنے اور ساتھ کافی پینے میں مگن تھی
پاؤں دکھاؤ اپنا،،
ایان رہنے دیں میں خود کر لو گی،،
حریم کو شرم آ رہی تھی کو رت بھی ایان نے اس کے پاؤں کو ہاتھ لگایا تھا اور ابھی پھر سے نہیں ایان نے اچھی خاصی گھوری سے نوازا تو حریم خاموش ہو گئی
جانتی ہو عائش شاہ آپ کے بنا جینے کی پہلی کوشش میں ہی مارا جائے گا کیونکہ اس کے بس سے باہر ہے آپ کے بغیر رہنا،،
عائشہ دھیمے سے مسکرا دی شاہ نے اپنا حصار مزید تنگ کر دیا
شاہ،،
جی جان شاہ،،
گڈ نائٹ،،
شاہ ہنس دیا تو عائشہ نے مسکراتی ہوئے آنکھیں موند لی
@@@
گھر میں زورو شور سے حریم اور ایان کی شادی کی تیاریاں چل رہی تھی شادی کو ایک ہفتہ رہ گیا تھا اور حریم کا کل آخری پیپر تھا جس کی تیاری میں ایک بیزی تھی سب کو یہی لگا تھا کے کو تیاری کر رہی ہے اس لیے کسی نے ڈسٹرب نہیں کیا تھا
نہیں آپ نہیں بولیں ہے کبھی اب سوری مجھے اچھا نہیں لگتا کہ بول دیا کرو مجھے وہ پسند ہے،،
عائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو شاہ اسے دیکھ کر رہ گیا پھر آہستہ سے ہونٹ اس کے ماتھے پر رکھ دیے تو و آنکھیں بند کر گئی
صبح دادا جان آ رہے ہیں،،
شاہ نے بتایا تو و اک دم خوش ہو گئی،،
سچی،
بلکل اور جانتی ہو کل دادا جان جب آپ کو ایسی حالات میں دیکھے گئے تو وہ کبھی بھی عائشہ کو میرے حوالے نہیں کریں گے وہ عائشہ کو دور لے جائیں گے ،،مجھ سے دور،،
نہیں شاہ ایسا کچھ نہیں ہو گا دادا جان کو پتہ ہے شاہ کچھ غلط نہیں کریں گے ان کی عائشہ کے ساتھ اور نہ اس نے کیا ہے،،
شاہ مسکرا دیا اور اسے اپنے حصار میں کے کر آنکھیں موند لی پھر سرگوشی کے انداز میں کہا
شاہ سچ میں شرمندہ تھا عائشہ نے بسی سے شاہ کی طرف دیکھنے لگی
شاہ۔۔۔۔ شاہ پلیز چپ کر جائیں مجھے اچھا نہیں لگتا آپ مجھے سوری بولیں آپ کی غلطی نہیں ہے آپ کا غصّہ ہونا بنتا ہے مجھے آپ سے کوئی گلا نہیں شاید میں بہت سینسٹو ہوں پھوپھو کی باتیں دماغ اور دل دونوں کو تباہ کرتی ہیں میرا خود پے کوئی احتیار نہیں رہتا شاہ،،
وہ شاہ کی طرف دیکھ کر بولی تو شاہ اسے بہت غور سے دیکھنے لگا جس پر وہ نظریں جُھکا گئی
سوری ،،
کس لیے،،
شاہ نے اس کے بال کندھے سے پیچھے کرتے ہوئے کہا تو عائشہ نے ہاتھ پکڑ لیا اور اس پر ہونٹ رکھ دیے پھر بولی
آپ کے ساتھ غصہ ہوئی تھی اور آپ غصہ دلایا تھا اس لیے کان پکڑ کے سوری،،
شاہ کی جان آپ کا حق ہے غصہ ہونا اور میرا حق ہے میں آپ کو مناو نہ کے خود آپ پر غصہ ہو جاؤ سوری مجھے کہنا چاہیے آپ کو نہیں،،
عائشہ کو کچھ سمجھ نہیں آئی مگر سامنے دیوار پر شاہ کی تصویریں دیکھ کر و سمجھ ہے کہ وہ شاہ کے روم میں ہے
یہ آپ کا روم ہے؟؟،،
نہیں یہ ہمارا روم ہے شاہ کی جان،،
شاہ نے مسکرا کے کہا تو عائشہ آہستہ سے مسکرا دی
شاہ میرے ساتھ کیا ہوا تھا؟؟،،
جو بھی ہوا اچھا نہیں تھا بھول جائیں،،
وہ خاموش ہو گئی
مجھے معاف کر دیں عائش ،،
کچھ دیر خاموش کے بعد شاہ بولا تو عائشہ نہ سمجھی سے شاہ کی طرف دیکھا
میری وجہ سے آپ کی یہ حالت ہوئی مجھے غصہ نہیں کرنا چاہیے تھا آئی ایم سوری مجھے آپ کو سمجھنا چاہیے تھا ،،
اسے ہوش آ گئی تھی ابھی اس نے آنکھیں نہیں کھولی مگر کوئی مسلسل بولا رہا تھا
عائشہ
شاہ ابھی واپس آیا تھا رات کے ساڑھے گیارہ ہو چکے تھے عائشہ کو اپنے روم میں دیکھ کر اسے عجیب سی خوشی محسوس ہوئی تھی اس نے آرام سے عائشہ کو آواز دی
عائش آٹھ جائیں نہ پلیز،، آنکھیں کھولیں
شاہ نے بہت پیار سے اس کا رخ اپنی طرف کر کے اس کا سر اپنے بازو پر رکھا تو عائشہ نے آنکھیں کھول دی
شاہ،،
جی شاہ کی جان،،
آپ اس وقت یہاں،،
وہ بہت آہستہ بول رہی تھی اسے لگا شاید وہ اپنے روم میں تھی اور شاہ وہاں آئے تھے
کہاں،؟؟
شاہ اس وقت گاڑی لئے کے نکل گیا تھا وہ سچ میں شرمندہ تھا کیوں میں نے اس پے غصہ کیا اس کو گلاس لگ چکا تھا پر و پھر بھی چپ رہی مجھے معافی مانگنی چاہیے اس نے کچھ سوچ کے گاڑی کو گھر کے راستے پر ڈالا
رات کا جانے کون سا پہر تھا جب عائشہ کو کوئی اس کے پاس آوازیں دیتا محسوس ہوا اس سے آنکھیں نہیں کھولی ہے اسے شام میں ہوش آیا تھا مگر پھر نہ سمجھی سے سب کو دیکھنے لگی چچی جان پریشانی اس کے پاس بیٹھی اس پر کچھ پڑھ کے پھونک رہی تھی عائزہ آہستہ آہستہ باتیں کر رہی تھی فاطمہ اپی سے اس کو اٹھتا دیکھ کر سب کی جان میں جان آئی کچھ دیر اس کے پاس سب بیٹھے رہے ہلکا پھلکا کھانا فاطمہ اپی نے اسے کھلایا دودھ پلایا پھر کچھ دیر تک اس کے پاس بیٹھے تو عائشہ کا سر بھاری ہو گیا تو اسے پھر سے لیٹا دیا گیا کچھ دیر بعد وہ سو گئی تو سب وہاں سے اٹھ گیا سب نے اللہ کا شکر کیا تھا
وہ رو دیا اپنے باپ کے پیرو سے لپٹ کر کسی بچے کی طرح اور بابا جان خاموش ہو گے
یہ معافی عائشہ سے مانگو اور کل بابا جان کے سامنے جواب دہ ہونا اُن سے معافی مانگنا شازب مجھ سے امید تب رکھنا جب بابا جان نے معاف کر دیا ،،
بابا جان کہتے ساتھ ہی آٹھ کر باہر چلے گی اور شاہ وہی ہے بسی سے بیٹھ گیی
_________
حریم اور ایان کو صبح دادا جان نے گھر بھجوا دیا تھا حریم کو روم میں چھوڑنے کے بعد ایان سیدھا آفیس چلا گیا اسے پتہ تھا اُن پر حملا کیس نے کیا تھا آفیس جاتے ہیں اس کو سردی انفارمیشن دس منٹ کے اندر اندر اس کا وفادار بندے مرزا سے میل چکی تھی اب اسے پلان بنانا تھا رستم ہاشمی کی تباہی کا ایان کچھ سوچ کے کسی کو کال کی
@@
شاہ پھر بھی سر جھکائے رہا وہ اُن لڑکوں میں سے نہیں تھا جو اپنے باپ کے آگے اونچی آواز میں کرتے ہیں اور نہ ان سے جو باپ کو دھمکیاں دیتے ہیں وہ اپنے باپ کے سامنے تینوں بھائی سر تک نہیں اٹھاتے تھے کیونکہ اُن کی ماں نے ان کی پرورش ہی ایسی کی تھی
شازب وہ آپ کی اور عائشہ بچے کی شادی کی تاریخ طے کرنے کا رہے ہیں کل میں کیا جواب دوں گا شازب،،
وہ بے بسی سے بول رہے تھے
میں نے وعدہ کیا تھا عائشہ کا خیال رکھنے کا اس کی ہر تکلیف جو اس نے جھیلی تھی اُن زخموں کو بھرنے کا پر آپ کیا کیا بچے میرا سر جھکا دیا میرے باپ کے سامنے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا،،
اُن کی آنکھوں میں نمایاں چکی تھی شاہ آٹھ کر اُن کے قدموں میں بیٹھ گیا اور رو دیا
بابا مجھے معاف کر دیں پلیز بابا میں غلطی کر چکا ہوں مجھے معاف کر دیں ،،
شاہ نے سری بات بابا جان کو بتا دی تو وہ اور غصہ ہوئے
آپ پیار سے نہیں سمجھا سکتے تھے شازب میں بتا رہا ہوں میری بیٹی کو کچھ بھی ہوا اپنے ان ہاتھوں سے آپ کو شوٹ کر دوں گا،،
بابا جان نے اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے کہا تو شاہ سر جُھکا گیا وہ جانتا تھا بابا جان کو عائشہ کتنی پیاری ہے اور اسے پتہ تھا کہیں نہ کہیں اُس نے غلط کیا ہے اسی لیا عائشہ کے ساتھ ایسا ہوا ہے
بابا میں شرمندہ ہوں,
اس شرمندگی کا میں اچار ڈالو شازب ،،
بابا جان اس وقت انتہائی غصے میں تھے وہ شاہ کو بھیجنے کے موڈ میں نہیں تھے
تم جانتے ہو کل تمہارے دادا جان آ رہے ہیں میں کیا جواب دوں گا ان کو ،، بولو شازب،،
وہ غصے سے تھوڑی اونچی آواز میں بولے تو شاہ مزید سر جھکا گیا
جانتے ہو بابا جان کیس لیے آ رہے تھے ؟؟،،
چاہے انسان جیتنا بھی بڑا بن کے ماں باپ کا دار دل سے نہیں جاتا اس نے سلام کیا جس کا جواب بابا نے سر ہلا کر دیا
بیٹھو،،
انہوں نے ایک ہاتھ کے اشارے سے کہا تو شاہ بابا جان کے سامنے رکھے صوفے پر بیٹھ گیا
آپ نے بلایا تھا،،کوئی کام تھا آپ کو،،
برخوردار سچ سننا چھوٹا ہوں میں اور کچھ نہیں،،
بابا کا چہرہ کسی بھی جذبے سے عا ری تھا وہ سر جھکا گیا
بابا میں،،
شازب جھوٹ میں نہیں سننا چاہتا اور ایک بات مجھے اپنی بیٹی آپ سے زیادہ پیاری ہے یاد رکھنا اس کے معاملے میں کوئی کمپرومائز برداشت نہیں کرو گا،،
بابا جان نے غصے سے وارننگ دتے ہوئے کہا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain