ڈاکٹر عائشہ کا چیک اپ کرکے دوائیاں لکھ کے دے گیا تھا سب گھر والے عائشہ کے پاس پریشان سے بیٹھے تھے چاچی جان عائشہ کو دیکھ دیکھ کر ہلکان ہو رہی تھی فاطمہ اپی الگ پرشان تھی مریم بھابھی اس کے لیا لیکن میں جلدی والا دودھ لنی گئی ہوئی تھی ساتھ کھانے پینے کو کچھ عائزہ تو تھی ہی ہسپتال اور پھوپھو اور نتاشا دونوں اپنے کمرے میں بیٹھی ہنس رہی تھی شاہ نے جا کر دوائیاں لائی تو اتے ہی فاطمہ بھابھی نے کہا کہ بابا اسے اپنی روم می بولا رہی ہیں وہ بہت پریشان تھا اور اوپر سے بابا کا بلاوا اسے لگا امتحان کی گھڑی پاس آ گئی وہ ایک نظر عائشہ کو دیکھ کر چل گیا ڈاکٹر نے کہا تھا کچھ دور تک ہوش آ جائے گا پٹی بھی ڈاکٹر نے کر دی تھی شاہ بابا جان کے کمرے کی طرف چلا گیا دروازہ نوک کیا تو اسی وقت اندر اؤ کا جواب آ گیا وہ ڈر گیا تھا
ان دونوں کو دیکھ کر اسے آج پتہ چلا تھا آیان اتنا سنجیدہ کیوں رہتا ہے اسے آج پتہ چلا تھا ایان کیوں بہت کم ہنستا تھا اسے افسوس ہوا اپنی سوچ پر کے وہ ایان کو کتنی باتیں سناتی تھی آج ایان کو بچوں کی طرح روتے دیکھ اس نے خود سے کوئی وعدہ کیا تھا
حریم بچے ادھر آؤ،،
دادا جان نے بلایا تو چونک کے حریم نے اُن کی طرف دیکھا
ارے میرا بچا کیا ہوا تو کیوں رہے ہو،،
دادا جان حریم کے پاس صوفے پر بیٹھے اور اسے سینے سا لگاتے ہوئے بولے پھر ایان کو بھی دوسری طرف سینے سے لگایا اور دونوں کے سر پر بوسا دیا اور آنکھیں موند لی۔
میرا بچہ اللہ کا شکر ہے آپ مجھے میل گے بہت ڈھونڈا میں نہ آج تک ڈھونڈتا ہوں آج تک ہر جگہ دھکے کھاتا رہا ہوں اپنے بیٹے کی نشانی کے لیے،،
دادا جان بتا رہے تھے اور ایان حیران آن کے گلے لگا بس روئے جا رہا تھا آج اسے منزل ملی تھی آج اسے اپنی پہچان میل گئی تھی آج اسے اپنی زندگی میل گئی تھی
دادا جان میں نہ بھی بہت ڈھونڈا مگر آج تک میں پتہ نہ لگا سکا مجھے کیا پتہ تھا تقدیر نے ہمیں ایسے ملانا ہی،،
دادا جان نے علیحدہ کرتے ہوئے اس کا آنسو صاف کیے تو ایان نے دادا جان کے ہاتھوں پر بوسا دیا
شکر اللہ کا آپ مجھے مل گئے ورنہ میں شاید خود کو ہمیشہ قصور وار سمجھتا،،
میرے بچے جو ہوتا ہے بہتری کے لیے ہوتا ہے،،
حریم کو و دونوں ہی بھول گیا تھے شاید وہ خاموشی سے بیٹھے رو رہی تھی
بیٹے میں وہ انسان ہوں جو آج تک اپنے بیٹے بہو کی موت کے غم سے نہیں نکلا ایک مجبور باپ میں و ہوں جو آج تک اپنے پوتے کو ڈھونڈتا رہا لیکن آج وہ میرے سامنے بیٹھ ک مجھے پوچھ رہا ہے میں کون ہوں،،
کو کھڑے ہوتے ہوئے بے بسی سے بولے تو ایان یوتھ کے اُن کے گلے لگ گیا
دادا جان میں پہچان گیا تھا پر مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی مجھے معاف کر دیں،،
آیان رو پڑا تھا اور دادا جان کی آنکھیں تو ویسے ہی روئی ہوئی تھی وہ رو رہے تھے اپنے بیٹے بہو کی تصویریں دیکھ کر حریم یہ سب دیکھ کر حیران پریشان نہ سمجھیں سے بس دیکھ رہی تھی دادا جان کہنے پر وہ آنکھیں پڑے بے یقینی سے ان دونوں کو روتے ہوئے دیکھ رہی تھی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے
اپنے
یہ کون ہے،،
انہوں نے ایان سے پوچھا
میری بیوی،،
کیا نام ہے آپ کا بچے،،
حریم،،
ماشاء االلہ اللہ میرے بچوں کو ہمیشہ خوش رکھے آمین،،
آپ نے جواب نہیں دیا !! کون ہیں آپ؟؟؟
وہ ایان کی طرف بہت غور سے دیکھتے ہوئے مسکرائے
سچ میں جاننا چاہتے ہو،،
جی بالکل،، اور تصویریں کہاں سے آئی ہیں،،
اپنے گھر ہے آپ کا پوری زندگی تھی گزار دو بشک،،
ایان الجھ گیا حریم کے دماغ کے اوپر سے سب باتیں گزر رہی تھی اس لیے وہ خاموش ہی رہی
میں آپ کو جانتا ہوں کیا؟؟،
ایان نے سوالیہ نظروں سے پوچھا تو وہ مسکرا دیے
جنمو کا رشتا ہے،،
آپ کون ہیں اور یہ پورا لاؤنج میرے ما بابا کی تصویروں سے کیوں بھرا ہوا ہے؟؟،،
آپ سچ میں جاننا چاہتے ہو کہ میں کون ہوں اور یہ تصوریں کہا سے آئی اور ان سے میرا راستہ کیا ہے،،؟؟
جی ہاں،،
حریم ایان کے منہ سے اس ک مما بابا کی تصویریں سن کے بہت غور سے ایک ایک تصویر کو دیکھنے لگی وہ حیران ہوئی جسے سمجھ نہیں رہی تھی کے یہ سب کیا ہو رہا ہے بزرگ نے ایک نظر حریم کو دیکھا جو لاؤنج کی دیواروں پر تصویروں کو بڑے غور سے دیکھ رہی تھی
کچھ کھاؤ پیو گی بہت ٹھنڈ تھی کچھ گرم مگواؤ،،
نہیں شکریہ،،
لیکن انہوں نے کسی ملازم کو آواز دے کر گرم کپڑے اور بہت سے چیزیں مگوای اور خود بھی سامنے صوفے پر بیٹھ گیا اور بہت غور سے ایان کے چہرے کو دیکھنے لگے حریم کو اس وقت بہت خوف آ رہا تھا وہ ایان کے ساتھ چپکی بیٹھی تھی جیسے کوئی اسے کھا جائے گا اگر و الگ ہوئی تو
بیٹا آپ کا نام کیا ہے؟؟،
ایان،،
اور آپ کے بابا کا،،
مہتاب چوہدری کہ بیٹے سلیمان چوہدری کا اکلوتا وارث ایان سلمان مہتاب چوہدری ،،
وہ بزرگ خاموش ہو گے اتنی دیر میں ملازم کھانے کی چیزیں اور چائے لئے کر آ گیا ٹیبل پر رکھ کر و واپس مڑ گیا
کھاؤ بچوں،،
نہیں شکریہ ہم بس آج کی رات یہ رہنا چاہتے ہیں ،،
عائشہ میرا بچا،،
شاہ نے جلدی سے اٹھا کر باہر لا کر بیڈ پر لٹایا اور خود جلدی سے ڈاکٹر کو کال کی بابا جان پریشان سے اس کے پاس بیٹھ گیا اور شاہ خود کو بہت بے بس محسوس کیا
_________
آپ کون ہیں،
ایان نے سوالیہ نظروں سے پوچھا تو وہ مسکرا دیے ایان وہاں لگی سب تصویروں کو دیکھ کر اُلجھ گیا
میں ایک بندہ ناچیز،،
یہ تصویریں کہا سے لی آپ نے،،
انہوں نے ایک مرتبہ پورے لاؤنج میں نظریں دوڑائی اُن کے چہرے پر اُداسی چھا گئی
آ جاؤ اِدھر بیٹھو بچی سے کھڑے نہیں ہوا جہ رہا،،
وہ بات بدل گیا تو ایان بھی ہوش میں آیا اور حریم کو پکڑ کر وہاں رکھے صوفے پر بٹھایا
شاہ نے واشروم کا دروازہ دیکھا تو کھلا ہوا پایا وہ حیران ہوا پھر نوک کیا مگر کوئی جواب نہیں اسے فکر ہوئی اس نے آواز دی مگر کوئی جواب نہیں اس دفعہ اس نے آرام سا دروازہ کھولا مگر سامنے کا منظر اس کے کوے کبوتر سب جگا گیا
عائشہ ،،
وہ بھاگتے ہوئے عائشہ تک گیا مانو اس کی جان پے بن آئی تھی
عائشہ ،،
عائشہ زمین پے گری بے ہوش پڑی تھی کے پاؤں سے خون نکل رہا تھا اس کے پاںؤ میں گلاس کا شیشہ لگا ہوا تھا یعنی وہ گری تھی نہ چلنے کی وجہ سے اور ہے ہوش ہو گئی
عائشہ آنکھیں کھولیں عائشہ ،،
شاہ اس کو اٹھانے لگا جیسے ہی سر کے نیچے ہاتھ رکھا وہاں بھی خون
وہ ڈر گیا بابا بھی آواز سن کر وہاں آ گے اور سامنے کا منظر دیکھ کر ان کی جان پے بن گئی
،،
اچھا !!خیال رکھا کرو ہماری بیٹی کا جان پدر،،
بابا جان کے لہجے میں محبت واضع تھی
جی بابا رکھتا ہوں،،
شاہ نے سر جھکا کر کہا تو بابا جان مسکرا دیے
اچھا رکھتے ہو کھانا ابھی تک پڑا ہوا ہے ہمارے بچے نے کل سے کچھ نہیں کھایا جانتے ہو،،
شاہ کو حیرانگی ہوئی مگر چھپا گیا بابا کے سامنے اگر و روتی ہوئی نکلی تو اس سے آگے شاہ نہیں سوچ سکا
واشروم سے ہی نہیں آ رہی کہ سے گئی ہوئی ہے،،
بابا جان کو فکر ہوئی
ارے جاؤ دیکھو تو سہی ہمارے بچے کو،،
جی بابا،،
اُن کی نکاح کو مگر آج بھی اس کا رویہ وہی تھا سرد
جانِ پدر یہ کیا ہوا ہے،،
شاہ نے چونک کے آنکھیں کھولئی اور سامنے بابا جان کو کھڑے پا کر جلدی سے کھڑا ہو گیا
بابا وہ وہ عائشہ سے گر گیا تھا گلاس ،،
شاہ نے جھوٹ بولا
عائشہ ٹھیک ہے نہ کہاں ہے میرا بچہ،،
بابا جان نے فکر مندی سے کہا
وہ واشروم میں ہے ہے،،
اسے چوٹ تو نہیں لگی ما دیکھا آپ نے،،
نہیں بابا ٹھیک ہے وہ چوٹ نہیں لگی کپڑے گیلے ہو گی تھے اس لیے گئی ہے،،
آواز نیچی رکھو ہمارے گھر میں عورتوں کی آواز اونچی نہیں ہوتی اور کون سے حق کی بات کر رہی ہو نتاشا حق اس نے نہیں تم نے اس کا چھینا ہے ہمیشہ سمجھی پہلے بھی کہا چکا ہوں پھر کہ رہا ہوں یہ سے نکلو اور آج کے بعد میرے کمرے میں مت انا ،،
شاہ سخت لہجے میں جواب دیا مگر آہستہ آواز میں کیونکہ اونچی آواز میں چلانا اس کی شحصیت کا حصہ نہیں تھا
جا رہی ہوں تم دونوں کو،،
اپنی بکواس بند کرو اور نکلو یہاں سے،،
اس سے پہلے نتاشا کچھ اور کہتی شاہ نے درمیان میں ہی ٹوک دیا اور وہ پیر پٹھتی باہر چلی گئی اور شاہ صوفے پر گرنے کے انداز میں بٹھا اور آنکھیں موند کر پشت سے ٹیک لگا گیا وہ تھک گیا تھا اکیلے اس سفر میں چل چل کے ہمیشہ سے ہی اس نے عائشہ سا محبت کی تھی مگر جواب میں ہمیشہ سرد مہری ہی آئی تھی وہ بھی مرد تھا کب تک سہتا چودا سال ہو چکے تھے
شازب
دونوں اس آواز پر چونک گی عائشہ جلدی سے الگ ہوئی اور بنا پیچھے مڑے سیدھا واشروم کی طرف بھاگ گئی انے والی ہستی کھا جانے والی نظروں سے دونوں کو دیکھا شاہ رخ موڑ گیا کیونکہ نتاشا کا خلیہ بہت برا تھا
او ماں تو ماں تھی بیٹی بھی بند دروازے پیچھے پتہ نہیں کون سے کارنامے سر انجام دے رہی ہے ،،
تم اپنی بکواس اور یہ گھٹیا سوچ کو لے کہ دفعہ ہو جاؤ دوسری بات میرے کمرے میں آنے سے پہلے نوک کر کے انا آج کے بعد اور اپنے یہ طور طریقے اپنے گھر میں استعمال کرنا یہاں نہیں جا سکتی ہو تم،،
شاہ انتہائی غصے سے کہا اور رخ موڑ کر دوسری جانب دیکھنے لگا
اچھا میں بکواس کرتی ہوں اور میرے طور طریقے ٹھیک نہیں تو اپنی شرم نہیں اتی میرے حق پے ڈھاکا ڈالتے ہوئے ،،
نتاشا نے چلاتے ہوئے کہا تو شاہ کو مزید غصے نے گھیر لیا
ایان تھوڑا تیز ہوا تو جنگل کے باہر ایک بہت بڑی کوٹھی نظر آئی وہاں اندر چلا گیا گارڈ نہیں تھا کوئی و حیران ہوا اندر وہ گیا تو سامنے دروازہ نظر آیا اس نے نوک کیا اور حریم کو اُتارا مگر کوئی جواب نہیں آیا کافی دفعہ کیا مگر کوئی جواب نہیں آیا ایان نے دروازہ کھولا اور حریم کو لئے کر آہستہ آہستہ اندر لئے گیا اندر اسے اک بزرگ نظر آئے وہ حیران ہوا
معاف کیجئے گا ہم نے نوک کیا پر کسی نے کھولا نہیں ہمارے پیچھے کچھ لوگ لگے ہوئے تھے اس لیا ہم اندر آ گے،،
ایان نے مختصر بات بتائی تو وہ بزرگ پیچھے مڑ ے میں کو دیکھ کر ایان اک پل کے لیے تھم گیا اس کی کائنات تک ایک دفعہ ہل کے رہ گئی
@@@
اس کو پھاڑ کر حریم کے ماتھے اور پاؤں پر باندی حریم بولی تو ایان نے گھور کر دیکھا جس پر خاموش ہو گئی اور محبت بھری نظروں سے عیاں کو دیکھنے لگی ایان نے اور کوٹ اسے پہنایا اور ہاتھ پکڑ کر آہستہ آہستہ چلنے لگا مگر حریم بہت مشکل سے چل رہی تھی پھر ایان نے اسے آرام سے گود میں اٹھا لیا تو حریم بولی
ایان میں ٹھیک تھی،،
پر مجھے ٹھیک نہیں لگی ،،
ایان سامنے دیکھ کر آرام آرام سے چل رہا تھا اس کا جسم واضع ہو رہا تھا کیونکہ اس کے جسم پر صرف بنیان ہی رہ گئی تھی اور نہ پیرو میں جوتا تھا حریم کو احتیار ایان پر پیار آیا تو وہ اسے دیکھے گی اور بہت محبت سے اس کی گال کو لبو سے چھوا اور کندھے پر سر رکھ دیا تو ایان اسے دیکھ کر رہ گیا ابھی تھوڑا ہی چلا تھا کے پیچھے سے آوازیں انہوں شروع ہوئی دونوں ہی چونک گی
ہم دونوں مارے جائیں گے،، پلیز
حریم ایان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کر گئی تو عین نے ایک جھٹکے سے ششا اس کی آڑ ھی سے نکلا تو وہ چیخ پر پاس ہی کچھ لوگوں کے چلنے کی آواز آئی تو ایان اور حریم اک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے
شی،،
ایان حریم جو کچھ بولنے لگی تھی اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور پاس پڑا پتھر اٹھا کر دور جھاڑیوں میں پھینکا وہاں کوئی کتا تھا جس کو پتھر لگا اور وہ اٹھ کر بھاگنے لگا جس پر سارے لوگ اس طرف بھاگ گئے تو عین نے شکر کا سانس لیا اور حریم کے منہ سے ہٹا کر اسے دیکھنے لگا حریم دوپٹہ کہیں گر گیا تھا جوتا بھی نہیں تھا اور ماتھے میں سے خون نکل رہا تھا ایان نے پہلے اپنے جوتے اُتارے اور حریم کو پہنائے جس پر حریم ناکافی نہیں نہ کی مگر عین نے نہ سنا پھر اپنا اوور کوٹ اتر کر پاس رکھا نیچے سے اپنی شرٹ اتاری
وہ زمین پر گری روئے جا رہی تھی اور بس ایان کو پکار رہی تھی
کیا ہوا حریم۔،،
ایان نے ایک دم فکرمندی سے پوچھا تو حریم مزید رونے لگ پڑی
ایان میرے میں کچھ لگ چکا ہے ،،
وہ اپنے پاؤں کو پکڑے بیٹھی روتے ہوئے ایان کو بتا رہی تھی رات بہت ہو چکی تھی کچھ نظر بھی نہیں رہا تھا موبائل اُن کے کہیں گر گے تھےاور کچھ نظر آ نہیں رہی تھی پھر ایان اس کے پاس بیٹھ کے اس کا پاؤں پکڑا تو اس میں بڑا سا ٹکڑا شیشے کا لگا ہوا تھا حریم دیکھ کر کانپ گئی اور نہ میں سر ہلایا لگی
ایان نہیں پلیز مجھے بہت درد ہو رہا ہے پلیز،،
وہ رو دی تو ایان نے دلاسہ دیا
کش نہیں ہو گا حریم پلیز کچھ بھی نہیں ہو گا وہ لوگ آتے ہوں گے اور ہمیں بھاگنا ہے،،
ایان مجھے درد ہو رہا ہے ،،
اِدھر میری طرف دیکھو کچھ نہیں ہو گا حری میری جان سمجھو اگر کو وہ لوگ یہاں تک پہنچ گے تو بہت برا ہو گا
حریم مری ایک بات مانو گے،,
کیا؟؟
تمہیں یاںہ سے نکلنا ہے سامنے اس جنگل میں بس بھاگتے جانا ہے پیچھے نہیں دیکھنا ٹھیک ہے ،،
نہیں میں نہیں ایان،،
حریم میری خاطر پلیز،،
ایان آپ کو کچھ،،
مجھے کچھ نہیں ہو گا پکّا،،
ایان نے کیسے ہی دو تین فائر کیا دوسری جانب اور ساتھ ہی آنسو گیس پھینک دی جس پر ان کو کچھ سمجھ نہیں آنے دی اور پھر دونوں بس جنگل کی طرف بھاگتے چلے گئے ان کو صرف گولیوں کی آواز سنائی دے رہی تھی
ایان،،
حریم نے ایک دم زور سے کہا
حریم تم ٹھیک ہو،،
ایان یہ ۔۔۔یہ ۔۔۔سب ۔۔کیا۔۔۔ہے،،
وہ رو رہی تھی اس کے ماتھے پر سے خون بھی نکل رہا تھا مگر اسے بس گولیوں کی آواز آ رہی تھی
کچھ نہیں ہے ریلیکس میری طرف دیکھو ،،
حریم ایان کی طرف دیکھنے لگی تو اس نے ایک ہاتھ اس کی گل پر رکھا
تم یہ دروازہ کھولو اور سوچو کچھ نہیں میں پاس ہوں،،
ایان نہیں مجھے ڈر لگ رہا ہے وہ۔۔وہ مار دیں گے،،
کچھ نہیں ہو گا ،،ریلیکس،،
ایان نے گن میں گولیاں دیکھی تو چھے تھی پھر سیٹ کے نیچے دیکھا تو آنسو گیس تھی اس نے ایک سید نے نیچے ہو کے باہر دیکھا تو دس کے قریب لوگ تھے اور سب کے پاس کافی اسلحہ تھا
تو یہ کے ہم عائشہ کے گھر کل جائیں گے ابھی ہم اچھا سا کھانا کہا کے ساحل پہ جائیں گے اور شاپنگ تو تم نے نہیں کرنی اور جو پھر تم کہو پھر وہاں چلیں گے،،
ایان ہم عائشہ کے گھر جا رھے تھے وہیں چلیں ،،
نہ کل شام پکّا,,
ایان بھی اپنی ماننے والو میں سے تھا
ایان پلیز نہ ،،
نہیں کوئی پلیز ویلز نہیں چلے گا،،
ایان میں نہیں بات کرو گی آپ!!!،،،
ابھی اتنا ہی کہا تھا کے گاڑی پر فائرنگ ہونا شروع ہو گئی
ایان!!،،
حریم چیخ پڑی اور گاڑی بے قابو ہو گئی پھر جا درخت کے ساتھ لگی اور فرنگ ابھی بھی ہو رہی تھی ایان اس اچانک آفات پر سچ میں بھوکھلا گیا تھا اس نے پہلے حریم کو دیکھا دونوں ہی جھکے ہوئے تھے اس لیے فائرنگ سے بچ گئے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain