حریم خوش ہوگئے تو ایان مسکرا کے سر ہلا گیا
تھنکیو ایان،،،
وہ خوش ہوتے ہوئے ایان کے گلے میں بازو ڈال گئی تو ایان مسکرا دیا
اچھا چلو جاؤ اب !مجھے کام کرنے دو،،
جلدی کریں،،
جی جو حکم،،
ایان نے سر خم کرتے ہوئے کہا تو حریم ہنس دی
پھر وہ لوگ آدھی گھنٹے بعد گھر سے نکل گئے تھے ایان اور وہ باتیں کرتے ہوئے گے تھے مگر یہ کیا
ایان عائشہ کے گھر یا راستہ نہیں جاتا،،
حریم گاڑی کو کسی اور راستے پے جاتے ہوئے ایان سا کہنے لگی تو ایان ہنس دیا
ایان وہ۔۔۔ ایک بات کہو مانے گے نہ،،
جی جی ضرور بولو،،
مجھے ایان مجھے عائشہ کے گھر جانا ہے شادی کا انویٹیشن دینے،،
ہم تو اس میں میں کیا کر سکتا ہوں؟؟،،
آپ مجھے لئے کر چلیں نہ ،،
کب جانا ہے،،
ابھی ،،
آدھے گھنٹے تک نکلتے ہیں میں کچھ کام کر لو،،
سچی،،
مگر ایان
ٹھاہ,
اس آواز پر حریم اک دم ڈر کے اچھلی تو ایان ہنس دیا
ایان گندے ،،
ایان ہنس دیا
کیا ہے گندی کوئی کام تھا،،
ہاں جی,
کیا؟؟،،
حریم اپنے ہاتھ مسلنے لگی تو عین کو سمجھ آ گیا کوئی فرمائش ہی کرنی ہے
اس نے شاہ کا فیس اپنے ہاتھوں میں لیا اور ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھ دیے یہ وہ اُمید تھی وہ طاقت تھی وہ ماں تھا جو شاہ عائشہ کو اکثر دیتا تھا اور آج عائشہ نے شاہ کو دیا تھا پھر شاہ کے سر کے ساتھ اپنا سر جوڑ کے بولی
میں آپ کو ہارنے نہیں دوں گی شاہ کبھی نہیں،،
اور پھر سے شاہ کے گلے لگ گئی ہجکیوں کی وجہ سے عائشہ کا وجود کامپ رہا تھا جس پر شاہ نے اپنا حصار تنگ کیا تو وہ بھی کم ہو گئی
شازب،،
اس آواز پر دونوں چونک گے
@@@
ایان ،ایان،،
حریم جو ایان کے کمرے میں آئی تھی اس سا کسی کام کے سلسلے میں آیان کو کمرے میں نہ پا کر حیران ہوئی سامنے لیپ ٹاپ اور کچھ فائلز کھلی پڑی تھی ,
وہ جو چاہتی ہیں آپ اچھی طرح جانتی ہے پھر جان بوج کر اپنی جگہ کیوں خالی کر رہی ہیں کسی دوسرے کے لیے میری محبت کا اور کیا ثبوت چاہیے عائشہ میں نے محبت کی ہے اور نکاح بھی کیا ہے آپ سے اگر میرے لیے نتاشا اہم ہوتی تو میں آپ سے اپنی محبت کا ثبوت دینے کے لیے نکاح نہیں کرتا آپ نے ہمیشہ میرے ساتھ زیادتی کی ہے ہمیشہ میری محبت میرے ضبط کو آزمایا ہے ،پر عائشہ اس دفعہ میں ہار گیا تو مجھ سے گِلہ مت کرنا،،
عائشہ کے کندھے پر سر رکھ کر وہ اپنا ضبط آزما گیا تھا وہ خاموش مگر اس کے اندر سب کچھ ٹوٹ پھوٹ رہا تھا عائشہ تو بس روئے جا رہی تھی وہ دونوں ہی بے آواز رو رہے تھے اور کوئی تیسرا ہنس رہا تھا عائشہ نے شاہ کی گرفت ہلکا کیا اور تھوڑا سا پیچھے جو تو شاہ کی سرخ آنکھیں اس سے بہت سی شکایتیں کر رہی تھی جس کا جواب عائشہ نے بہت اچھا دیا تھا
عائشہ کب تک پھوپھو کی باتوں پر خاموش رہیں گی سوچو ،سوچو اگر کبھی میں ساتھ نہ ہوا تو آپ کا کیا بنے گا عائشہ آپ تو لوگوں کی باتیں دماغ میں دل میں بیٹھا لو جی عائشہ آپ مر جائیں گی مجھ سے لکھوا لیں میرے بنا آپ کچھ نہیں ہیں عائشہ آپ شازب سکندر ہو آپ عائشہ سلیمان نہیں ہو آپ عائشہ شازب ہو کیا یہ کافی نہیں ،عائشہ کیا یہ کافی نہیں آپ میرے ساتھ نکاح میں ہیں ؟،کیا یہ کافی نہیں ہم ساتھ ہیں؟؟، کیا یہ کافی نہیں ؟؟؟ عائشہ کھونے کا ڈر نکل دیں نکاح ہوا ہے ہمارا اور نکاح جیسے رشتےکو دنیا کی کوئی طاقت حاتم نہیں کر سکتی سوائے اللہ کی ذات کے کیا میری قیمت چند باتیں ہیں جو کوئی آپ کو سنائے توآپ اسی وقت مجھے چھوڑ دو گی کیا سچ میں میں اتنا بے مول ہوں آپ کے لیے ؟ مجھے یقین ہے پھوپھو اس دفعہ پھر نتاشا کے لیے ہی آئی ہیں
عائشہ شاہ سا دور ہو گئی جو شاہ نے بہت شدت سے نوٹ کیا مگر چپ کر گیا
ٹھیک ہوں،،
آواز بہت آہستہ تھی یعنی پھوپھو کی باتیں اثر کر چکی تھی شاہ سوئچ کے رہ گیا اور اس کے نزدیک ہو کے بیٹھ گیا جس پر وہ مزید دور ہو گئی شاہ کو غصہ آیا تو اس نے عائشہ کو اٹھا کے گود میں بیٹھا دیا
اب دور ہو کے دکھا ئیں،،
عائشہ کے پل کے لیے ڈر گئی ہے تھی مگر پھر غصے سے بولی
چھوڑیں مجھے ،،
شاہ کو کوئی فرق نہیں پڑا تو وہ پھر غصے سے گویا ہوئی
شاہ میں نے کہا چھوڑیں مجھے ،،
وہ رو پڑی اور زبردستی شاہ کی گرفت سے نکلی اور آبی کچھ قدم باہر ک طرف بڑھائے ہو تھے کے شاہ نے پانی سے بھرا ہوا گلاس زمین پر عائشہ کے پیرو میں دی مارا جس پر عائشہ چیخ پڑی تو شاہ نے پکڑ کر اسے جھنجھوڑ ڈالا
،،آخر کب تک عائشہ آخر کب تک آپ ڈرین گی لوگو کی باتوں سے اور میرے ساتھ ساتھ خود کو بھی اذیت دیں گی
جی جی کیوں نہیں ،،
ایان حریم کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا جو جیولری اتر اتر کر پھینک رہی تھی وہ مسکرا دیا
پھر کافی دیر چیزیں ایان دیکھتا رہا جیولری بھابھی مما اور ایان نے میل کر پسند کر لی تھی پھر چیزیں اور کپڑے سب سمٹنے اور چائے کے ساتھ سب باتیں کرنے لگے اتنی دیر تک سویا ہوا تمور بھی اٹھ گیا تو ایان اور حریم اس کے ساتھ کھیلنے لگی ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ نوک جھوک بھی جاری رکھی
_________
عائشہ جب شاہ کے کہنے پر کھانا لے کر گئی تو و روم میں کہیں نظر نہیں آیا کھانا ٹیبل پر رکھ کر و مڑی تو واشروم سے پانی گرنے کی آواز آئی مطلب شاہ واشروم میں تھے وہ بھی پاس صوفے پر آرام دہ بیٹھ گئی اتنی دیر میں شاہ بھی نکل آیا عائشہ نے سلام کیا جس کا جواب شاہ نے سر ہلا کر دیا پھر صوفے پر بیٹھ گیا عائشہ کے ساتھ
کیسی ہیں،،
بھابھی نے کہا تو ایان فرش ہونے کا بول کے چل گیا مگر جاتے جاتے مسکراتے ہوئے حریم کو چھیڑ گیا جس پر حریم نے ایان دیکھا تو وہ آنکھ دبا کر اندر کی طرف چلا گیا
ویسے حریم سچ میں بہت پیاری لگ رہی ہو،،
حریم شرما گئی اور سر جھکا کر ہنس دی جس پر مما جان نے اسے گلے لگایا اور پیار کیا
ماشاءاللہ ہماری بیٹھی چاند کا ٹکڑا ہے اللہ ہماری بیٹی کو خوش رکھے ،،
امین انشاء االلہ،،
بھابھی نے فوراً کہا تو مما نے بھابھی کو بھی پیاری کیا جس پر بھابھی ہنس دی پھر حریم اور بھابھی نے میل کر امی کو پیار کیا تو وہ بھی ہنس دی
ماشاءاللہ اللہ نظر بد سے بچائے آپ سب کے پیار کو ،،
ایان نے مسکراتے ہوئے کہا تو مما جان نے ایان کو پاس بیٹھا کر ماتھے پر بوسا دیا اور دعائیں دی جس پر ایان مسکرا دیا
چلو اب پسند کرو اپنی دلہن کے لیے چیزیں،،
پھر مما اسے خود اٹھا کے لائی کافی زیادہ جیولری حریم کو دکھائی مگر حریم جی کو کچھ پسند نہیں آ رہا تھا سو مما اور بھابھی نے اپنی پسند سے جیولری لی اور حریم کو پہنائی اس پر بہت سوٹ کر رہی تھی کافی زیادہ جیولری اسے پہنائی ہوئی تھی اور ساتھ بہت سارے کپڑے بھی آج ٹیلر نے سلائی کر کے بھیجے تھے مہندی والا دوپٹہ جو کے بہت بھاری اور کام والا تھا حریم کے اوپر دیا تو وہ بہتر پیاری لگ رہی تھی اسے بہت اُلجھن ہو رہی تھی سب اُچ ہی بہت ہیوی تھا اس لیے و اُتارنے لگی مگر مما نے ڈانٹ لگا دی اتنی دیر میں ایان اندر داخل ہوا اور سب کو سلام کیا سامنے حریم کو بیٹھے دیکھ کر دل میں ماشاللہ کہ گیا
ارے او نہ ایان تم بھی پسند کرو حریم کے لیے،،
اچھا پر میں پہلی چینگ کر کے فرش ہو لو پھر اتا ہوں ویسے حریم پر ہر چیز ہی سوٹ کرے گی،،
انہوں نے بھائیو کو اکٹھے مل کے بیٹھنا سیکھایا تھا اُن کے گھر میں آج تک لڑائی نہیں ہوئی تھی کیونکہ وہ محبت تھی خوبصورت رشتے تھی جن کو نبھانا ثمرین بیگم نے اپنی اولاد کو سیکھایا تھا
عائشہ مجھے بھوک لگی ہے کھانا میرے روم میں لے آئیں،،
وہ جان بوج کے بول کے گیا تھا پھر ثمرین بیگم نے عائشہ کو کھانا دیا اور خود بھی شاہ کے ساتھ ہی کھانے کا بولا تو وہ سر ہلا کر چلی گئی
@@@
ایان اور حریم کی کی ہوئی شاپنگ مما اور بھابھی کو بہت پسند آئی آج گھر میں جیولر نے انا تھا مما وہاں بزی تھی حریم سو رہی تھی اسد ہسپتال چلا گیا اور ایان بھی آفیس تھا مما اور بھابھی دونوں جیولری پسند کر رہی تھی ملازمہ کو وہ تین دفعہ بھائی چکی تھی کے جا کے حریم کو بولا لائیں مگر نہ جی حریم بی بی پورا کا پورا استمبال بیچ کر سوئی ہوئی تھی
جیسی ماں ویسی بیٹی دونوں ہی کرکٹر لیس ،ہوں،،،
بس پھوپھو بہت ہو گیا اب آپ نے کچھ کہا تو میں بھول جاؤ گا آپ میری پھوپھو ہیں اور مجھ سے بڑی ہیں،،
شاہ جو لاؤنج میں سے گزر کر اپنے کمرے میں جا رہا تھا لیکن میں شور سن کے اس طرف آ گیا مگر آگے سننے والی الفاظ اس کے لیے سیسہ تھے جو اسے برداشت نہیں ہوئے تو وہ بول پڑا
لو جی بیٹا رہ گیا تھا اس کلمحی کی حمایت کے لیے آئے سکندر یہ پرورش کی ہے اپنے بچوں کی تم نے اور ثمرین بی بی سی بنایا اپنے بچوں کو اپنے اور اپنی بہن کی طرح ،،
پھوپھو ہاتھ لہرا لہرا کے باتیں مار رہی تھی وہاں موجود ہر فریق ہی ہی خاموش ہو گیا شاہ کچھ بولنے لگا پر چچا جان نے ہاتھ کے اشارے سے خاموش رہنے کے لیے کہا تو وہ سر جھکا گیا کیونکہ اس گھر میں ثمرین بیگم نے امن قائم کیا ہوا تھا
عائشہ فاطمہ اپی کی طرف دیکھنے لگی تو فاطمہ اپی سر جھکا گئی
عائشہ بچے ،،
جی چاچی جان،،
اِدھر بیٹھو کھانا دوں آپ کو،،
چچی جان میں لے لیتی ہوں،،
عائشہ نے چچی جان کو اٹھتے ہوئے دیکھا تو خود کھانا لینے لگی اور اُنہیں بیٹھے رہنے کے لیے کہا مگر پھوپھو کی زبان میں ایک دفاع پھر کھوجلی ہوئی
اے ہائے بی بی اسے تو باہر ہی کھانا دو کہیں اور اس کے برتن بھی الگ کرو ،،
کیا ہو گیا ہے اپا بیٹی ہے میری میں کیوں اس کے برتن الگ کرواؤ ،،
چاچا جان کچن میں چچی جان سے کسی کام کے سلسلے میں آئے تو اپنی بہن کے الفاظ سن کے اُن کو ایسے لگا جیسے کسی نے ان کو گولی مار دی تھی وہ بے یقینی سے پھوپھو کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگے جس پر پھوپھو کو آگ ہی تو لاگ گئی تھی
لو جی میاں میں ہی جھوٹی اور دھوکے باز ہوں تم لوگو کو یہی منحوس صحیح لگنی ہے
چچی جان نے اسے منع کر دیا اور کمرے میں بھی دیا خود وہ کام کرنے لگی جس پر فاطمہ اپی نے بہت روکا پر وہ نہ رکی
ارے ثمرین تم اس لڑکی کو کچن میں نہ آنے دیا کرو،،
پھوپھو نے منہ بناتے ہوئے کہا جس پر چاچی جان کا سلاد کاٹتا ہاتھ تھم گیا
نازیہ باجی ہم اپنی بیٹیوں کو کچن میں آنے سے نہیں روکتے ہمارے نزدیک ہماری بیٹیاں رحمت ہیں،،
اے ہائے بی بی تم تو زبان درازی پے اتر آئی میں تو بس اتنا کہا اس منحوس لڑکی کو کچن میں نہ آنے دیا کرو کہیں برا سایہ ہی نہ پر جائے اس کا ،،
زبان درازی تو نہیں کی باجی میں نے بس بات کی تھی عائشہ ہماری عائزہ سے بڑھ کر ہے ہمارے لیے اسے بھلا کیوں روکیں اور بیٹیوں کا سایہ نہیں پڑتا ،،
ہاں بی بی تم زیادہ ہی سیانی ہو ہم تو جھوٹے ہیں ایک تم ہی سچی ہو ،،
پھوپھو نے منہ بناتے ہوئے کہا تو چچی جان خاموش ہو گئی
عائشہ عصر کی نماز کے وقت اٹھی نماز پڑھ کے قرآن مجید کی تلاوت کی پھر باہر نکل گئی اسی بھوک لگی ہوئی تھی سو لاؤنج میں سب کو سلام کر کے سیدھا کچن میں گئی وہ حجاب میں تھی حجاب بغیر و کبھی کمرے سے بھی نہیں نکلی تھی ہمیشہ سے ہی و حجاب میں رہتی تھی کالج گھر یا کہیں خر جانا ہوتا تھا تو وہ حجاب کر لیا کرتی تھی اور شاہ کو اس کے حجاب سا بہت محبت تھی وہ خود بہت خیال رکھتا تھا کچن میں داخل ہوتے ہی سامنے کھڑی ہستی کو دیکھ کر عائشہ کا وہیں سے مڑ جانے کو دل کیا مگر بھوک بہت لگی ہوئی تھی اسے اس نے سب کو سلام کیا اور اپی فاطمہ کے پاس جا کے کھڑی ہو گئی مگر پھوپھو اسے دیکھ کر ہی برا سا منہ بنا رہی تھی جب سے وہ آئی تھی فاطمہ اور مریم کو بھگا رہی تھی کبھی یہ بناؤ کبھی یہ صحیح نہیں کبھی وہ صحیح نہیں مریم بھابھی کی طبیعت خراب ہونے لگ گئی تھی
عائشہ پیپر دے کر آئی تو گھر میں شعر کی آواز سنائی دی جس کا مطلب تھا پھوپھو لوگو کی انٹری ہو چکی ہے خاموشی سے اپنے کمرے میں آ گئی اور فرش ہو کر سو گئی اس نے ویسے بھی پھوپھو سے مل کے باتیں پر تانے ہی سننے تھے یہی بہتر تھا کے و ارمسے اپنی تھکن اتارتی وہ آرام سے سو گئی
ایان نے اپنے لیا شروانی اور ولیمے کے لیے بلیو کلر کا تھری پیس لیا دونوں نے رنگوں کا کونبنیشن کیا تھا پھر کافی دیر بھاگنے کے بعد جوتے لیے پھر جیولری کی شاپ پے کافی ٹائم ان کو لگ گیا حریم کے لیے ڈیمانڈ کا سیٹ لیا اور ساتھ خوبصورت سے کڑے لیے جو کے حریم کو بہت پسند آے اُن کو شاپنگ کرتے کرتے شام ہو گئی تھی حریم کو سخت بھوک لگی ہوئی تھی پھر اُن دونوں نے مزے سے کھانا کھایا اور رات کو اٹھ بجے گھر آئے وہ دونوں ہی تھکن سے چور ہو چکے تھے حریم تو اتے ہی سو ہے اس نے گاڑی سے شاپنگ بیگز بھی نہ نکلے اور سیدھی اندر چلی گئی پھر و ایان کو نکالنے پڑے و بھی کمرے میں آتی ہی صوفے پر بیگز پھکنتے ہی بعد پر گر گیا اور آنکھیں موند گیا مما بابا بھائی کے روم میں تھے اسد ابھی ہسپتال میں تھا سو وہ بھی آرام سے سو گیا
@@@
ایان کو حریم نے کہا تو وہ اٹھ کھڑا ہوا
آپ گاڑی نکلیں میں بڑی چادر لئے اؤ،،
اچھا ،،
اچھا ممانی،،
آرام سے جانا اور سب لئے انا آج ہی ،،
جی ٹھیک ہے،،اللہ حافظ،،
اللہ حافظ
ایان باہر نکل گیا اور حریم بھی چادر لئے کر ایان کے پیچھے ہی نکل گئی دونوں بڑے سے مال میں گے تھے پہلے ایک گھنٹے میں ایان اور حریم نے مہندی کے لیے ڈریسز لیے پھر ایک بوتیک میں سے برائڈل ڈریسز دیکھے کبی حریم کو پسند آیا تو ایان کو نہ آتا کبی ایان کو اتا تو حریم نخرے دکھاتی پھر تنگ ا کے ایان نے اپنی پسند کا ایک بہت ہی خوبصورت دیپ ریڈ کلر کا لہنگا لیا جو کے حریم کو بھی بہت پسند آیا تھا پھر اسی بوتیک سے ولیمے کے لیے ایک بہت ہی خوبصورت وائٹ کلر کی مکسی لی تھی
مہندی برات اور ولیمہ کے لیے دونوں نے اپنے اپنے ڈریسز اور جیولری جوتے اور جو جو آپ دونوں نے لینا ہے،،
اچھا ابھی جانا ہے کیا؟؟،،
ہاں! بچے آج ایان بھی فری ہے اور ویسے بھی میں چاہتی ہوں یا کام آپ دونوں پہلے ہی کر لو،،
چلیں ٹھیک ہے پھر آپ بھی ساتھ چلیں نہ،،
نہیں زینیہ اکیلی ہو جائے گی میں اس کے پاس رہتی ہوں آپ دونوں جاؤ،،
ٹھیک ہے تو ایان چلیں،،!؟؟
ہاں جی چلیں،،
فرش ہو کے ذرا میرے پاس اؤ،،
جی مما میں اتی ہوں،،
حریم روم میں جا کر فرش ہو کے آ گئی لاؤنج میں مما اور ایان بیٹھے تھے و بھی سلام کر کے وہی مما اور ایان کے ساتھ بیٹھ گئی
جی آپ نے بلایا تھا مما،،
ہاں بیٹے وہ میں کہ رہی تھی تم اور ایان جا کے شادی کے اپنے اپنے جوڑے لئے اؤ اور جو جو لینا ہے تینوں دن کے لیے ،،
حریم ایان کی طرف دیکھنے لگی تو ایان سر ہلا گیا
ایان فری ہیں کیا؟؟
جی میں تو فری ہوں آپ کا نہیں پتہ،،
حریم ایان کو گھور کے رہ گئی پھر مما کی طرف دیکھنے لگی
مما کیا کیا لینا ہے؟؟,
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain