وہ میں نہیں چھوڑنا چاہتا،،
کیا کہا،،؟؟
آپ نے کچھ سنا،،
جہنم میں جاؤ،،
وہ کہ کر چلی گئی تو وہ ہنس دیا پھر کچھ سوچ کر کاونٹر پر کال کی اور آرام سے بیٹھ کر سوچنے لگا
@@@
حریم بچے،،
حریم کالج پیپر دے کے آئی ہی تھی کے مما نے آواز دے دی
جی مما جان،،
آپ یہ جاب کیوں کرنا چاہتی ہیں ،؟؟
تمہارا جینا حرام کرنے کے لیے،،
سامنے والی ہستی اسے دیکھ کے رہ گئی
ٹھیک ہے لیٹر آپ کے گھر پہنچ جائے گا پرسو،،
پرسو کیوں کل کیوں نہیں،،
ٹھیک ہے کل،،بیسٹ آف لک ،،آپ کو یہ جاب مل گئی ،،
تھنکس میں نہیں کہو گی،،
میں تھنکس لینا بھی نہیں چاہتا ،،
ٹھیک ہے جان چھوڑو اب،،
وہ اٹھتے ہوئے کہنے لگی
بیٹھ جائیں،،پلیز
وہ آرام سا بولا
مجھے انٹرویو ہی نہیں دینا،،
عائزہ بیٹھ جائیں،،
سمجھنے والی انداز میں کہا
مجھے سمجھ نہیں آ رہی تم تم عائزہ سکندر کا انٹرویو لو گے،،
بیٹھ تو جائیں عائزہ سکندر،،
سامنے والے نے سخت لہجے میں کہا تو عائزہ بیٹھ گئی اور منہ چیڑاتے ہوئے دے دی سامنے والے نے اس کی فائل دیکھتے ہوئے سوال پوچھا
سو وہ اٹھ کے اندر چلی گئی جا کے سلام کیا اس کا سر جھکا ہوا تھا جیسے ہی اس نے اٹھایا سامنے بیٹھی ہستی کو دیکھ کر اس کا منہ کڑوا ہو گیا
تم،، تم یہاں کیسے،،؟؟
اس نے غصے سے پوچھا
آپ آئیں بیٹھیں،،
سامنے والی نے تحمل سا کہا
تم میرا انٹرویو لو جی؟؟،
وہ پھر برسی
جی آئیں بیٹھیں،،
سامنے والا پھر صبر کر گیا
تمہیں لگتا ہے میں تمہیں انٹرویو دوں گی،،
جس کی انکھیں اس سے شکایتیں کر رہی تھی جس پر وہ ناظرین جھکا گئی تو شاہ نے اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھتے ہوئے اسے قریب کر کے آنکھیں موند لی
اب پلیز سو جائیں میں تھک گیا ہوں اور آپ کی بھی طبیعت ٹھیک نہیں اور نہ کریں پلیز،،
جی ،،
عائشہ نے اتنا ہی کہا اور آنکھیں موند گئی
کہتے ہیں اللہ پر یقین و واحد یقین ہے جو تمہیں دنیا کی بڑی سے بڑی جنگ بھی جیت کے دے سکتا ہے
عائشہ بھی مطمئن تھی کیونکہ اُسے اللہ پر یقین تھا اس نےسب اللہ کے حوالے کیا تھا اور خود مطمئن ہو گئی
_________
آج گھر میں گہماگہمی تھی آج پھوپھو لوگو نے آنا تھا جس کی وجہ سے تیاریاں ہو رہی تھی عائزہ کا آج انٹرویو تھا سو وہ جلدی سے ناشتا کر کے نکل گئی گاڑی اس کی اپنی تھی سو جلدی ہی پہنچ گئی وہ جا کر ابھی بیٹھی ہوئی تھی جب ایک لڑکی نے کہا کہ آپ کو اندر بولا رہنے ہیں
میں نے اکثر سنا ہے ایسا مگر میں کہتی ہوں محبت نہیں لوگ برے ہوتے ہیں جو محبت لفظ کو استعمال کرتے ہیں محبت کوشش یا محنت سے حاصل نہیں ہوتی یہ عطا ہے نصیب ہے کہتے ہیں زمین کے سفر میں اگر کچھ آسمانی ہے نہ تو صرف ، محبت ، ہے عزت کا دوسرا نام محبت ہے
کتنے خود غرض ہوتے ہیں یہ اپنے محبت کے نام پر دل میں منافقت رکھتےہیں اوپر سے ہمارے اپنے ہمارے ساتھ اندر سے ہمارے خلاف ،،دوغلے لوگ ،،یہ کیا جانے محبت کیا ہے،،
عائش،،
شاہ نے آواز دی تو عائشہ نے بس ہمم ہی کہا
ہمم ،،
میں آپ کے ساتھ ہوں،،آپ اکیلی نہیں ہیں ،،
کتنا اچھا لگتا ہے جب کوئی آپ کو یقین سے کہتا ہے کچھ نہیں ہو گا کہ تمہارے ساتھ ہوں عائشہ کو اللہ پر یقین تھا اور کہتے ہیں نہ اللہ پر یقین کبھی تمہیں ہارنے نہیں دیتا وہ مطمئن ہو گئی اور کروٹ شاہ کی طرف لی
شاہ نے اس کا بازو ہٹایا اور اسے ڈانٹنے والے انداز میں کہا کیونکہ وہ کب سے دیکھ رہا تھا عائشہ روئے جا رہی جب تو وہ اسی وقت گیا تھا جب عائشہ تکیے پر اس کا سر رکھ رہی تھی مگر پھر بھی آنکھیں بند ہی رکھی پھر کافی دیر بھی و چپ نی ہوئی تو شاہ کو مجبوراً بولنا پڑا پھر اسے خود سے قریب کیا
شاہ پلیز ،،
وہ دور ہو گئی شاید وہ سچ میں ڈر گئی تھی اور اس ڈر کے حصار نے اسے چچڑا کر دیا تھا اس لیے وہ غصہ کر رہی تھی
عائشہ،،
شاہ نے گھور کر کہا شاہ اس کا پورا نام تبھی بولتا تھا جب وہ غصے ہوتا یہ پھر ڈانٹتا تھا وہ کروٹ بدل گئی
یہ محبتیں بھی کتنی عجیب ہوتی ہیں مل جائے تو کھونے کا خوف نہیں جاتا ہے اور نہ ملے تو پانے کا جوش نہیں جاتا اور عائشہ تو پا کے شاید کھونے والی تھی یہ پھر اس نے کبھی پائی ہی نہیں تھی یہ محبت بری چیز ہوتی ہے
کیا پھوپھو مجھے شاہ کا نکاح میں رہنے دیں گی یہ نتاشا؟؟اللہ آپ تو سب جانتے ہو نہ سب کچھ پلیز اللہ جی ایسا مت کرنا میں مر جاؤ گی اللہ آپ جانتے ہو اپنی زندگی میں میں نے صرف ایک نام سے محبت کی ہے اور وہ صرف شاہ ہیں اللہ آپ جانتے ہو نہ جب وہ جب مجھے چھوڑ کے گے تھے میں کتنا روئی تھی اللہ آپ جانتے ہو نہ میں اب نہیں رہ سکتی شاہ کے بغیر میں رہنا ہے نہیں چاہتی و سوچتے سوچتے بس روئے جا رہی تھی آنکھوں پے و بازو رکھ چکی تھی شاہ آپ نے مجھے اپنی عادت کیوں ڈالی کیوں ؟میں ڈرتی تھی نہ مجھے ڈرنے دیتے کم از کم میں خوش تھی مجھے خوش تو رہنے دیتے ۔۔۔وہ ایک دم ڈر گئی تھی
عائش پھوپھو کی جان چھوڑ دیں ایسا کچھ نہیں ہو گا جیسا آپ سوچ کے رو رہی ہیں،،
ایسے کیسے میں سو جاؤ آپ لیٹو یہ،،
عائشہ آٹھ کے بیٹھ گئی اور اپنی گود کی طرف اشارہ کر کے شاہ کو لیٹنے کو کہا
عائش کچھ نہیں ہوا آپ،،
شاہ پلیز،،
شازب خاموشی سے لیٹ گیا تو عائشہ آہستہ آہستہ اس کا سر دبانے لگی کچھ ہی دیر میں شاہ نیند کی وادیوں میں اُتر گیا عائشہ نے آرام سے شاہ کا سر تکیے پر رکھا اور خود بھی قریب ہی لیٹ گئی اور سوچنے لگی کل پھوپھو لوگ بھی آ جائیں گے ساتھ نتاشا اور احمز بھی ہوں گے کیا کر کے جائیں گی پھوپھو اس دفعہ وہ شاہ کی طرف کروٹ لئے کر اسے دیکھنے لگی اور سوچتی گئی سوچتی گئی اسے آج بھی پھوپھو سے ڈر لگتا تھا کیا پھوپھو شاہ کے لیۓ آ رہی ہیں ؟کیا نتاشا کی شاہ سے شادی کے لیے ؟؟کیا نتاشا میری جگہ۔۔نہیں ایسا نہیں ہو گا دادا جان کیا کریں گے کیا وہ پھوپھو کو ہمارے نکاح کا سچ بتا دیں گے ؟
بھی حریم تھی بدلہ پورا لیتی تھی پھر خاموشی سے بیٹھ گئی
@@@/
کچھ دیر بعد شاہ ہاتھ میں دو کپ کافی لیے اندر داخل ہوا تو عائشہ دیکھ کر حیران ہوئی پھر شاہ نے ایک کپ عائشہ کی طرف بڑھا دیا تو اس نے خاموشی سے تھام لیا شاہ بھی اس کے پاس ہی آرام سے بیٹھ گیا ان میں فاصلہ نہیں تھا شاہ اس کو بک کھولے دیکھ کر مسکرا دیا اور آرام سے عائشہ کے کندھے پر بازو رکھ کر عائشہ کو سمجھانے لگا اسے ٹھیک دو گھنٹوں تک پڑھایا اور پھر دس منٹ میں اس کی تیاری پکی کروائی عائشہ جب بھی تھک جاتی مزید شاہ کی طرف جھک جاتی پھر جب اسے نیند آنے لگی تو شاہ نے خود ہی بک بند کر دی
لیٹ جاؤ،،
وہ آرام سے لیٹ گئی تو شاہ مسکرا دیا
شاہ آپ کا سر درد ہو رہا ہے،،
عائشہ نے شاہ کی طرف دیکھ کر کہا تو شاہ عائشہ کو دیکھ کر رہ گیا
جی پر آپ سو جاؤ بس طبیعت خراب ہے آپ کی،،
مما کی آواز آئی
حریم بیٹے ناشتا،،
مما بھوک نہیں ہے،،
انڈا کھا لو بس پلیز جان،،
اچھا نہ،،
وہ بے دلی سے واپس موڑی اور جا کر سب کو سلام کیا اسد ابھی ٹیبل پر نہیں آیا تھا سو اس نے انڈا اٹھایا پھر باہر بھاگ آئی کے کہیں اُسئے اسد نہ دیکھ لے مما اس کی اس عمل پر ٹوکا بھی اور ہنس بھی پڑی پھر وہ آرام سے باہر نکل آئی یہ کیا اسد تو باہر تھا کال آئی تھی اسے کسی کی و سن کے اندر کی طرف آ رہا تھا حریم اسے گھور کے رہ گئی
اسد کے بچے اپنا یہ گلاس زیادہ منہ بند رکھنا ورنہ بابا کو آواز دی دوں گی میں،،
اس سے پہلے ک ایان کچھ بولتا حریم نے آئی کا منہ بند کروا دیا بابا کا نام لے کر اور خود بھاگ کے گاڑی میں جا بیٹھی جس پر اسد ک قہقہ بلند ہوا تو حریم گاڑی سے باہر منہ نکل کے اُسے کچھ سخت کہ کر گئی
بہت کمینے ہو تم اسد کے بچے،،
اپنی زندگی سے بھی کوئی ناراض ہوتا ہے کیا؟؟،،
شاہ نے سرگوشی کے انداز میں کہا تو عائشہ اِدھر اُدھر دیکھنے لگی آنکھیں اس کی جھکی ہوئی تھی پھر اس کی آنکھوں پہ ہونٹ رکھ دیے
بس اتنا کہا ایسے مت دیکھا کریں جانِ شاہ ،،
شاہ نے کہا تو عائشہ جھکے سر کو ہلا گئی پھر شاہ نے آرام سا اسے چھوڑ اور رخ موڑ گیا
بک کہاں ہے آپ کی ،،
کوئی جواب نہیں وہ جانتا تھا اس کی حالت غیر ہو چکی تھی وہ خاموشی سے باہر نکل گیا عائشہ نے شکریہ کیا کے شاہ باہر گے تھی و منہ پر ہاتھ رکھ کے خود کو نارمل کرنے لگی پھر واشروم میں جا کر منہ پر پانی پھنکا وہ ڈر گئی تھی شاہ کے اس قدر نزدیک انے پر پھر باہر آ کر اس نے بک پکڑی اور آرام سے پیپر یاد کرنے لگی
@@@
حریم نماز کے بعد ایک دفعہ پھر سے بک لئے کر بیٹھ گئی کچھ دیر بعد وہ تیار ہوئی اور بغیر ناشتے کے ابھی وہ باہر نکلی ہی تھی
عائشہ کی آنکھیں پھر بھی بند رہیں شاہ نے اس کے بال پیچھے کیے تو عائشہ نے آنکھیں کھول لی اور شاہ کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر نظریں جھکا گئی مگر شاہ اس کے اُلجھے بالوں کو سلجھانے لگا تو وہ آنکھیں کھولے شاہ کو بس دیکھے گی شاہ نے جان بھوج کے اس کی طرف نہیں دیکھا تھا اور اپنے کام میں مگن رہا اور وہ سمجھی شاید شاہ اسے نہیں دیکھ رہے
جانِ شاہ مت دیکھا کرو مجھے ایسے ،،
شاہ نے اس کے بال سلجھا کر کہا تو ویسے ہی شاہ کے حصار میں ہی تھی شاہ کے کہنے پر آنکھیں بند کئے سر جھکا گئی تو شاہ اس کے پاس سے اٹھ کر جانے لگا تو وہ شاہ کے ہاتھ تھام گئی
شاہ آپ ناراض ہو کے جا رہے ہیں،،
اس کے لہجے میں فکر تھی
شاہ نے اسے وہی بیڈ پر کھڑا کیا تو اسے ہلکے سے چکر اے تو وہ شاہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ گئی وہ شاہ سے تھوڑا سا اونچا ہو گئی
عائش اُو جانِ شاہ ،،
شاہ ابھی آفس سے آیا تو سیدھا عائشہ کے کمرے میں ہی آ گیا اسے آرام سے سوتے دیکھ کر اس کے پاس بیٹھ گیا پھر یاد آیا کہ اس کا تو پیپر بھی ہ صبح پھر اسے بڑے پیار سے اٹھنے لگا
عائش اٹھیں نہ جان،،
عائشہ نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولی تو شاہ کو اتنے پیار سے پکارتے ہوئے وہ بخار میں بھی مسکرا دی جس پر شاہ نے آگے ہو کے اسے آرام سے اٹھا کر بٹھایا اور تھوڑے فاصلے پر خود بھی بیٹھ گیا
کیسی طبیعت ہے،،
میں بالکل ٹھیک فٹ آپ کے سامنے،،
عائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو شاہ کو اپنی اس کیوٹ سے جان پر بہت پیار آیا بند کھلی آنکھیں بال کھولے ریڈ ائز گلابی ہونٹوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ شاہ کو وہ بہت پیاری لگی
نظر لگ جائے گی،،
عائشہ کہ کر منہ پر ہاتھ رکھ گئی تو شاہ ہنس دیا
جس پر ایان کے اسی طرح حصار میں لیے لیٹ گیا حریم بھی ایان کے سینے پر سر رکھ کے آنکھیں موند گی بے فکری سے
@@@@
پوری رات شاہ عائشہ کے پاس رہا اس کے دماغ پر بخار چڑھ گیا تھا ڈاکٹرز نے بتایا تھا کہ اُس نے کسی چیز کی بہت ٹینشن لی ہے جس کی وجہ سے اس کے دماغ پر اثر ہوا ہے پوری رات اسے ہوپٹل میں رکھنے کے بعداگلے دن شام سا ڈھے پانچ بجے گھر لایا گیا و مکمل ٹھیک نہیں ہوئی تھی پھر گاؤں کال کی تو فاطمہ اپی مریم بھابھی عائزہ اور دونوں بھائی آ گے تھی شام تک عائشہ کا سب نے بہت خیال رکھا تھا اس کا صبح پیپر تھا مگر اس سے پڑنے نہیں ہو رہا تھا شاہ رات بارہ بجے کے قریب آفیس سے آیا تو سیدھا عائشہ کے کمرے میں گیا
حریم نہ سمجھی سے دیکھنے لگی
پاس ہی تو ہوں،،
نہیں اور پاس اؤ،،
وہ تھوڑا سا آیان کے اور قریب ہوئی
تھوڑا سا اور،،
افف،،
وہ چڑ کر آیانّ گود میں بیٹھ گئی
اب ٹھیک ہے،،
وہ غصے سے بولی تو ایان ہنس دیا اور اسے اپنے حصار میں کی کر اس کی گال پر ہونٹ رکھ دیے جس پر حریم کو کرنٹ لگ گیا پھر شرما کر ایان کے سینے میں سر چھپا گئی اور احتجاجن ایان کا نام لمبا کھنچا
ایا نننننننننننننن۔۔۔،،
اچھا چلو کھانا کھاؤ،،
چلیں کھلائیں پھر حریم ایان کے پاس اس کے حصار میں ہی صحیح ہو کے بیٹھ گئی ایان اس کی نئی فرمائش پر اس کی طرف دیکھ کر رہ گیا پھر چھوٹے چھوٹے نوالے اسے کھلانے لگا جیسے حریم بارے مزے سے کھانے لگی
آپ نے کھانا کھایا،،؟
ایان نے نہ میں سر ہلا دیا تو حریم گھور نے لگی جس پر ایان کندھے اچکا گیا
پھر حریم نے نوالہ اس کے منہ میں ڈالا تو آیان نے نہ میں سر ہلایا جس پر حریم نے غصے سے گھور ا
کھائیں گے اب،،
پھر ایان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر جان بھوج کر نوالے کے ساتھ اس کی انگلی بھی دانتوں تلی ہلکی سی دبائی تو حریم کی ہلکی سی چیخ نکلی جس پر ایان لا پرواہی سے ادھر اُدھر دیکھنے لگا تو حریم مسکرا دی اسی طرح کی نوک جھوک میں دونوں نے کھانا کھایا اور پھر ایان نے حریم کو پیپر یاد کروای
تب وہ عائشہ کی وجہ سے بہت پریشان تھی مگر رات کو ہنے والے فیصلے نے اسے پاگل ہی کر دیا تھا وہ کل شام سے اپنے روم میں گئی ہوئی ابھی تک نہیں نکلی تھی باہر آندھرا ہر طرف پھیل چکا تھا اور وہ ابھی تک اپنے کمرے میں بیٹھی تھی کے بیگ میں کچھ کھانے چیزیں تھی جو اس نے حتم کر لی تھی مگر بھوک پھر بھی لگی ہوئی تھی وہ انہی سوچو میں تھی کے کسی کھانا کھایا جائے اتنی دیر دروازہ کھولنے کی آواز پر چونک کر اس نے پیچھے دیکھا تو آیان ٹرے میں کھانا رکھے اندر داخل ہوئے وہ ایک دم مسکرا دی اسے پتہ تھا ایان کو جب پتہ چلا تو وہ اس کے لیے کھانا ضرور لے کر آئیں گے وہ خوش ہو گئی ایان کھانے کی ٹرے بیڈ پر رکھی تو حریم ایان گلے میں بازو ڈال کر گلے لگا گئی یہ عمل ہے احتیار تھا
تھینک یو ایان تھنک یو سو مچ مجھے سچ میں بہت بھوک لگی تھی،،
رات کو ایان اور حریم کو بابا جان نے اپنے کمرے میں بلایا تھا اور ان دونوں کو پس بیٹھا کر سمجھایا اور شادی کہ بولا جس پر حریم کو اعتراض ہوا اس کے پیپرز ہیں مگر داؤد صاحب نے کہا کہ پیپرز کے بعد ہی وہ شادی کی ڈیٹ رکھیں گے حریم نے بہت سے بہانے لگائے مگر بات نہ بن سکی پھر و خاموش ہو گئی بھابھی کو کل ہی وہ ریچارج کروا کے کا چکے تھے بےبی کے ساتھ ہر وقت داؤد صاحب اور شہریں بیگم کھیلتے رہتے تھے حریم کے پیپرز کے بعد ڈیٹ رکھی گئی سب نے مل کر رات کو بیٹھ کر فیصلہ کیا تھا جس پر سب نے رضامندی دے دی تھی ٹھیک تین ہفتے بعد اُن کی شادی کی ڈیٹ رکھی گئی تھی مما جان اور بھابھی تو بہت خوش ہوئی اسد نے تو حریم کو تنگ کر کر کے کھ نہیں چھوڑا تھا بے چاری کا آخر چڑ کر و اپنے روم میں بھاگ جاتی کل جب وہ پیپر دے کے آئی تھی
بوا عائش نے کچھ کھایا ہے،،
فکر مند کھڑی بوا سے شاہ نے پوچھا تو انہوں نے بتایا
نہیں بچے صبح بھی ناشتا نہیں کر کے ہے اور رات کو اتے ہی سو گے تھے آپ دونوں ،،
اوہو مطلب کل سے کچھ نہیں کھایا اس نے کل ہال میں بھی کچھ خاص نہیں کھایا تھا چلیں میں عائش کو ہسپتال لے کر جا رہا ہوں آپ کھیل رکھنا ،،
جی بچے دھیان سے جانا،،
جی اللہ حافظ،،
شاہ عائشہ کو اٹھائے کے گاڑی میں بٹھایا تو وہ صحیح سے نہ بیٹھ سکی ایک طرف گرنے لگی تو شاہ نے دروازہ بند کر کے آرام سے اس دروازے کے ساتھ ٹیک لگوائی پھر دوسری جانب خود بیٹھ کر کا سر اپنے کندھے پر رکھ کر ایک بازو سے اس کے گرد حصار بنایا اور دوسرے ہاتھ سے ڈرائیو کر کے دس منٹ میں و ہسپتال پہنچا وہاں ڈاکٹرز اسے لی کر اندر چلی گے اور شاہ باہر سر جھکے منہ پر ہاتھ رکھے بیٹھ گیا وہ کسی ہارے ہوئے انسان کی طرح لگ رہا تھا
@@@
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain