مم۔ مما ۔۔ باب۔۔ بابا۔۔ جانی چھ۔۔چھوڑ ۔۔دو۔۔۔نہ ما۔۔۔میرے ماما بابا کو۔۔۔پلیز بھائی ۔۔۔نہ۔۔۔نہیں ،،
شاہ اسے اٹھانے ہی لگا تو اس کی یہ باتیں سنی
عائش عائش کچھ نہیں ہے جانِ شاہ کچھ نہیں ہے،،
شاہ نے ایک دم اسی جھنجھوڑا تو وہ ہوش میں آئی اور شاہ کے گلے لگ گئی جس پر شاہ نے اپنا حصار اس کے گرد بنایا اور اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا
ریلیکس کچھ نہیں ہے جان دیکھو میں پاس ہوں خاموش ہو جاؤ کچھ نہیں ہے،،
شاہ اسے ریلیکس کرنے کے لیے اسے پانی دیا تو اس نے تھوڑا سا پیا اور پھر سے شاہ کے سینے پر سر رکھ ہے پھر شاہ نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا تو وہ رونا تو بند ہو گئی مگر اس کی ہجکیان نہیں رکی اسے سچ میں بہت بخار تھا آگ لگی ہوئی تھی اس کے جسم کو شاہ کو محسوس ہوا وہ ہلکی ہلکی کامپ رہی تھی شاہ نے دیکھا تو اس کی آنکھیں بند تھی
بیڈ پر لیٹا کر اس پر کمبل اچھی طرح سیٹ کیا اور ٹھنڈا پانی لانے کیلئے گئی عظمت بی اُن کی پرانی ملازمہ تھی وہ بہت اچھی باتوں تھی پھر کافی دیر بعد بھی جب آرام نہ آیا تو اُن کو ایک ہونے لگی انہوں نے شاہ کو کال کی تو اس کا فون بند جا رہا تھا کافی دفاع کرنے کے بعد بھی جب کوئی جواب نہ آیا تو وہ سچ میں پرشان ہو گئی پھر بھی وہ پٹیاں پاس بیٹھ کر کرتی رہی کُچھ دیر بعد شاہ نے خود کال کی تو عظمت بی نے اسے عائشہ کی طبیعت کا بتایا تو وہ دس منٹ کا بول کے کال کاٹ گیا شاہنے خود کال کی تو عظمت بی نے اسے عائشہ کی طبیعت کا بتایا تو وہ دس منٹ کا بول کے کال کاٹ گیا شاہ ریش ڈرائیو کر کے گھر پہنچا گھر جاتے ہی وہ سیدھا عائشہ کے کمرے میں گیا تو عظمت بی کو پٹیاں کرتے دیکھا تو عظمت بی شاہ کو دیکھ کر اٹھ گئی شاہ نے آرام سے اس کو اٹھایا
اسے پیپر بھی یاد کرنا تھا سو اس کے لیے فرش ہونا ضروری تھا شاہ بھی سو گیا تھا
دونوں ہی تھکے ہوئے تھے سو آرام سے سوتے بنے
_________
عائشہ کو اپنی طبیعت رات کو ہی صحیح نہیں لگ رہی تھی مگر وہ پھر بھی اگنور کر کے مزے سے پیپر یاد کرنے میں بزی ہو گئی صبح جب طبیعت زیادہ قریب ہو گئی تو وہ ڈرائیور کے ستھگی پیپر اس نے بہت مشکل سے دیا تھا اس کی آنکھیں بہت ریڈ ہو چکی تھی سر درد بہت زیادہ ہو گیا تھا اس نے بمشکل پیپر سبمٹ کیا اور حریم سے میل کے آ گئی حریم بھی پریشان ہو گئی تھی عائشہ کی طرف دیکھ کر اس نے اس کے فون سے ڈرائیور کو کال کی اور اسے گھر بھیجا پھر خود بھی چلی گئی عائشہ کی سچ بہت بڑی حالت ہو گئی تھی اتے ہی لاؤنج میں عظمت بی نے اسے پکڑا نہیں تو وہ گر جاتی پھر آہستہ آہستہ اسے کمرے میں لے گئی
اسد ہنسی چھپانے کے لیے بے بی کے ساتھ کھیلنے لگا اور بھابھی اپنی ہنسی چھپانے کے لیے فروٹس کھانے لگی کیونکہ ایان حریم کے پیچھے کھڑا ہو کے اپنی تعریفیں سن رہا تھا
واہ تھنکس میڈیم حریم ،،
ایان نے طنز کیا تو حریم دانتوں تلے زبان دے گئی
ویسے بھابھی ان محترمہ کا سایہ بھی مت پڑنے دینا ورنہ یہ ضدی کم عقل اور ایک نمبر بے وقوف نکلے گا ،،
ایان نے اچھی خاصی حریم کی کر دی تو اسد اور بھابھی کا قہقہ بلند ہوا جس پرہریم ہکا بکا سے رہ گئی جس پر ایان نے اسے اچھا خاصا گھورا جس پر وہ چڑ گئی
مجھ سے بات مت کرنا آپ سب،،
وہ کہتے ساتھ ہی روم سے باہر چلی گئی تو سب کے قہقے نے اس کا دور تک پیچھا کیا
@@@
وہ دونوں شام کو واپس آ گئے تھے کیونکہ گھر والو نے دو دن بعد انا تھا عائشہ واپس آتے ہی چینگ کر کے سو ہے کیونکہ وہ ٹھیک ہے تھی
اسد نے غصے سے کہا گھور کے رہ گئی
تو پھر کیا ہوا آ گی ہو تو تم کون سا اپنی ان ٹانگوں شریف پرچل کے آئے ہو جو یہ غصہ دیکھا رہے ہو بڑا آیا غصہ دیکھنے والا بیوی کو دیکھنا یہ غصہ،،
حریم نے اٹھتے ہوئے اسد کی اچھی خاصی طبیعت صاف کی
بیٹھو اِدھر،،
پھر اٹھ کر اسد کو بیٹھنے کے لئے کہا اور بے بی اسد کو پکڑایا تو اسد کو اپنی اس پاگل سے بہن پر بہت پیار آیا اور پھر حریم کچھ سوچنے لگی
اسد بھیو نام کیا رکھیں،،
خود ہی رکھ لو مجھے نہیں پتہ،،
ایان،،
ایک دم بھابھی نے کہا ہرین شروع ہو گئی
او بھابھی وہ سنجیدہ بکرا ایک ہی کافی ہے ایسے لگتا ہے جیسے ہنسی ان محترم پر حرام ہے ہو اور ہاں بیبی کو اس سے دور ہی رکھنا اویں کہیں وہ بھی اس کی طرح سنجیدہ بکرا بن کے گا،،
حریم ہسپتال رات کو ہی آ گئی تھی اور پھر وہ واپس نہیں ہے تھی پورا وقت وہ بےبی کو اٹھائے گھومتی رہی ساتھ بھابھی کے لیے فروٹس بھی کاٹتی اور دیتی رہی
اے حریم،،
اسد غصےسے آیا اور ہم کو آواز دی تو حریم اس کی طرف یکھنے لگی
کیا ہے؟؟،
تمہارا موبائل کہا ہے،،
مجھے کیا پتہ گھر میں ہی کہیں ہو گا،،
تمہیں پتہ ہے نہیں،،؟
نہیں کیوں کیا ہو گیا جو میرے موبائل کا پوچھ رہی ہو،،
عدن بھائی کا لیپ ٹاپ نہیں میل رہا تھا سو آپ محترمہ کو کال کی پر نہ جی آپ کہ موبائل خضور پڑے ہیں کہیں بندھ مجبوراً مجھے یہ بھابھی سے پوچھنے انا پڑا ،،
مگر یہ کیا یہاں تو وکٹ ہی اڑن چھو ہو گئی تو تینوں ہنسنے لگی جس پر دادا جان نے ان کی نظر اُتاری
کیا ہو رہا ہے بچوں،،
اسلام و علیکم دادا جان،،
وعلیکم السلام میرے بچو کیسے ہو ،،
ایک وقت میں دادا جان نے دونوں کو گلے لگا لیا
ہم ٹھیک ہیں دادا جان آپ سنائیں اپنی صحت کا،،
اللہ کا کرم ہے اور میرے بچوں کی دعائیں ،،
دادا جان نے ہنستے ہوئے کہا تو تینوں مسکرا دیے
پھر عائزہ اور عائشہ دونوں سارا کے پاس چلی گئی اور شاہ دادا جان کے ساتھ باہر کے انتظامات دیکھنے لگا اور باقیوں سے ملنے لگا
@@@
ارے عائشہ تم بھی آئی ہو سوری میں نہ دیکھا نہیں،،
اسلام و علیکم آپی،،
بس بس ٹھیک ہے اپی شاپی کہنےکی کی ضرورت نہیں ہے تم سے تو میں تین سال چھوٹی ہی لگتی ہوں گی،،
جو کے سب سے بڑا جھوٹ تھا اس کا میکپ سے بھرا ہوا چہرہ اور عائشہ کا میکپ سے پاک اور خوبصورت چہرہ جس پر معصومیت تھی اور اس کا چہرہ ایسا تھا جیسے محلے میں ایک سازشی عورت کا ہوتا ہے
عائشہ خاموش رہ گئی مگر عائزہ سن چکی تھی
ہاں ہاں نتاشا اپی عائشہ تم سے چھوٹی ہیں اسی لیے دیکھو آن کے کپڑوں پر کتنا کم کپڑا ویسٹ ہوا ہے نہ چھوٹے چھوٹے کپڑے تو صرف بچے ہی پہنتے ہیں نہ اور دوپٹہ تو لاتے ہی نہیں بلکل نتاشا اپی کی طرح کیوں اپی جان،،
عائزہ کیسے اپنی بیستی پلس بھابھی پلس سسٹر پلس اس کی لائف کو کسی کی بتو کا شکار ہونے دیتی اس نے بھی پھر چوکے پر رکھ کے چھکا مارا
وہ بس عائشہ کی طرف دیکھ کر رہ گیا جو کے سر جھکائے شیاد رو چکی تھی شاہ نے ایک جھٹکے سے اسے دور کیا جس پر وہ تین قدم شاہ سے دور ہو گئی
دور رہ کر بات کیا کرو نتاشا ،،
ارے شاہ کیا ہوگیا فیوچر میں بھی تو یہ جگہ میری ہی ہے تو کیا ہو گیا آج تھوڑی سے اُسے کر لی تو،،
بکواس بند کرو سب دیکھ رہے ہیں تمہاری سائیکی ،،
اوئے ہینڈسم سائیکو بھی تو تمہارے پیچھے ہی ہوں نہ،،
وہ عائشہ کو مکمل بھول گئی تھی اور شاہ سے بس باتیں کیے جا رہی تھی مگر شاہ کا دھیان تو صرف عائشہ میں تھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کے وہ عائشہ کا سامنا کیسے کرے گا
نتاشا پلیز ہٹو راستے سے ہمیں اندر جانا ہے،،
جہاں تو چلو نہ ،،
وہ اس کا ہاتھ پکڑے لگی تو شاہ نے جلدی سے عائشہ کا ہاتھ پکڑا اور آنکھوں کے اشارے سے اسے ساتھ چلنے کے لیے کہا جس پر نتاشا کو تو آگ ہی لگ گئی تھی
وہ دونوں دوپہر کے وقت وہاں پہنچے تھے دونوں ہی چاند سورج کی جوڑی لگ رہے تھے عائشہ اور شاہ دونوں نے ہی آج بلیک کلر کے ڈرسیز پہنے ہوئے تھے دونوں کو ساتھ چلتے دیکھ کر کچھ لوگ واری صدقے جا رہے تھے اور کچھ لوگ حسد سے جل رہے تھے مگر اُن دونوں کو کوئی فکر نہیں تھی وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرائے تو عائشہ سر جھکا گئی شاہ نے جھک کر اس کے کان میں کچھ کہا تو وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنس دی جیسپر کسی دیکھنے والے آگ ہی تو لگ گئی تھی
شاہ،،
انے والی ہستی کو دیکھ کر عائشہ کو غصہ انے لگا
__________
شاہ ،،
انے والی ہستی کو دیکھ کر عائشہ غصے سے سر جھکائے گئی اور انہیں والی ہستی اس قدر شرم تھی کے اس نے عائشہ کی جگہ عائشہ کا حق چھینا تھا اس نے شاہ کے گلے میں بازو ڈالتے ہوئے کندھے پر سر رکھ شاہ خود اس افت کے لیے تیار نہیں تھا
ہٹ کمینے دفعہ مر تھا ہسپتال میں،،
ہاہاہا آ رہا ہوں نام بتا کوں سا ہسپتال ہے،،
پھر ایان نے ہسپتال کا نام بتایا اور کال کاٹ دی اور خود بھی ہنس پڑا
بے شرم انسان،،
آج زینی بھابھی کو اللہ نے پیارے سے بیٹے سے نوازا تھا حریم بہت خوش تھی آخر کار اس سے بھی چھوٹا اک گھر میں آ گیا تھا وہ سچ میں بہت خوش ہوئی و ابھی ہسپتال نہیں آئی تھی مگر رات کا کھانا کے کر آنے والی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ اڑ کے ہسپتال پہنچ جاتی سب ہی گھر میں بہت خوش تھے عدن بھائی تو خوشی سے جھوم رہی تھے آخر کیوں نہ جھومتے اُن کی پہلی اولاد تھی سب اللہ کا بہت شکر کر رہے تھے کے دونوں کی جان بھی بچ گئی اور اتنا پیارا بیٹا بھی اللہ نے دے دیا عدن بھائی نے ہر طرف مٹھائیاں بٹوآئی تھی کیونکہ وہ بہت زیادہ خوش تھے
@@@
مہتاب چوہدری تُجھے اپنے خاندان کے وارث بھائی عزیز نہیں ہیں نہ اپنے بیٹے اور بہو کی طرح تو ٹھیک ہے پھر ان دونوں کی موت بھی یاد گار بنا دیتا ہوں تیرے بیٹے اور بہو کی طرح ،،
وہ کہتا حبیاثت سے ہنسنے لگا
@@@
اوئے مبارک ہو تو چاچا بن گیا،،
ایان جو کے اس وقت ہسپتال میں کھڑا تھا زینی بھابھی کی طرح بیٹا پیدا ہوا تھا کی خوش خبروں کو اسد کو کال پر سنا رہا تھا
ابے اُو ذلیل انسان نہ مہندی نہ بارات نہ ولیمہ ڈائریکٹ چچا ہی بنا دیا شرم نہیں ائی تجھے،،
اسد کے بچے بکواس نہ کر میں اپنی نہیں عدن بھی کی بات کر رہا ہوں زینی بھابھی کا ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے تو تو ذلیل کمینے پتہ نہیں کیا سمجھے جا رہا ہے دفعہ ہو،،
ایان نے چڑ کر کہا تو اسد ہنس پڑا
اچھا اچھا مجھے لگا ،،
میرے چار ٹھکانے تباہ ہوئے ہیں اور تم کمینوں میں سے ایک بھی نہ مرا ارے تم لوگ مر جاتے مگر میرے ٹھکانے تو بچہ جاتے کمبختو،،
صاحب معاف کر دو صاحب ہم نے بہت کوشش کی مگر نہیں بچا سکے ہمارے چار بندے انہوں نے مار دیے ہیں صاحب ہمارا کوئی قصور نہیں،،
دل کر رہا تم سب کو مار دوں تم سب کی وجہ سے ایک مہینے کے اندر اندر میرے چھے اڈے تباہ ہو چکے ہیں ،،
رستم ہاشمی آج پھر سے اپنے تباہ ہونے والی اڈو کی وجہ سے اپنے چیلوں پر چلا رہا تھا اور ان کو مار رہا تھا اس کے کروڑوں کا نقصان ہو چکا تھا
مجھے وہ دونوں کل تک یہاں چاہیے زندہ یا مردہ کیسے بھی ہوں ،،سمجھے تم لوگ،
وہ چلا کر کہتا ہے چیز کو ٹھوکر مارتا وہاں سے چلا گیا
دونوں ہی ہنس دیے اسی طرح آن کا سفر ہلکی پھلکی باتوں میں گزرا
@@@@
ارے ہو کتوں مرو یہاں سب جلدی کرو،،
رستم ہاشمی جو کے خود کسی کتے سے کام نہیں لگ رہا تھا اپنے چیلوں کو شدید طش کی صورت میں آوازیں دے رہا تھا جس پر سب بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئے تو اس نے گولیاں چلانا شروع کر دی پسٹل کا منہ زمین کی طرف کیے و بس چلائی جا رہا تھا اس کے کئی چیلو کے پیرو اور ٹانگوں پر گولیاں لگ چکی تھی مگر وہ باز نہیں آ رہا تھا
تم سب کو میں نے کس لیے رکھا ہوا ہے،،
صاحب رحم کرو ۔۔صاحب رحم ،،
بتاؤ مجھے کس لیے تم سب کو رکھا ہوا ہے،،
صاحب بتاتے ہیں۔۔صاحب رحم کرو،،
بہت کہنے کے بعد اس نے فائرنگ کرنا بند کی تو اس کے کئی چیلے زحمی ہو چکے تھے
شاہ یہ وٹامن سی کیا ہوتا ہے؟؟
شاہ کے ہنسنے پر عائشہ دوسری طرف منہ کر کے باہر دیکھنے لگی
وٹامن سی مطلب وٹامن کانفڈنس ،،
ہیں؟؟مجھ میں کانفڈنس کی کمی ہے؟،
جی بہت زیادہ اسی لیا کہتا ہوں میری کمپنی میں رہا کرو بہت تیز ہو جاؤ گی،،
نہیں مجھے نہیں ہونا تیز ۔۔ تیزی اچھی نہیں ہوتی،،
شاہ ہنس دیا
اچھا میں کسی کے لیا بس آپ کو اپنے لیے تیز کرنا ہے،،
ہاں تو آپ کے لیے تو میں پہلے ہی تیز ہوں،،
کہاں کوئی اپنی بات آپ اتکے بغیر مجھ تک پہنچا نہیں سکتی بڑی آئی،،
شاہ نے زپ میں پھنسا دھاگہ نکلا اور آرام سے بند کر دی ساتھ اپنی بات کو حتم بھی کیا وہ اسے سمجھا رہا تھا کے وہ ہی اس کی زندگی میں سب سے اہم انسان ہے جس کو ہر بات و بلا جھجھک بتا سکتی ہے پھر شاہ نے بڑی محبت سے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ دیے یہ اس لیے تھا کے و عائشہ کی عزت کرتا تھا اور ہمیشہ کرتا رہے گا یہ وہ مان تھا جو و عائشہ کو دینا چاہتا تھا مگر وہ شاید اب بھی اس سے ڈرتی تھی جو اسے بالکل پسند نہیں تھا
چلیں،،
ج۔۔جی،،
وہ آہستگی سے علیحدہ ہوئی اور بیڈ پر پڑی اپنی بڑی چادر اور دوپٹہ اٹھا کر اوپر لیا اپنے آپ کو پوری طرح کور کر کے و شاہ کے ساتھ نکل آئی پھر وہ دونوں گاؤں کے لیے نکل گئے
سفر شروع ہوئے ابھی ایک گھنٹہ ہی گزرا تھا جب عائشہ کے سوال پر شاہ ہنس پڑا
وہ بیک ۔۔شاہ وہ،،
وہ شاہ کے گلے لگ گئی جس پر شاہ مسکرا دیا
وٹامن سی کی کمی ہے آپ میں اور مجھ سے بات کرنے کے لیے وٹامن سی بہت ضروری ہے کم آن یار عائش میں آپ کا شوہر ہوں اور آپ مجھے اتنی سی بات کلیئر لی نہیں بتا سکتی ،
جیسے عائشہ کو دیکھنے سے ضروری آج اس کے لیے کچھ نہیں عائشہ نے جلدی سے بیڈ پر سے دوپٹہ اٹھانے کی کوشش کی مگر شاہ نے راستے میں ہی روک لیا و اس کے سامنے کھڑا ہو گیا تو عائشہ ناظرین چرانے لگی
ش۔۔شاہ وہ۔۔وہ دوپٹہ م۔۔میرا ،،
وہ بس اسے ہر چیز کو بھول کے دیکھے جا رہا تھا چونکہ تو تب جب موبائل جانب نے رانا شروع کر دیا
اوہو سوری اندازہ نہیں ہوا۔۔ چلیں،،
شاہ کہتے ساتھ ہی باہر کی طرف چل دیا مگر دروازے کے پاس جا کے پھر مڑا
کیا ہوا جانا نہیں ہے کیا؟؟،،
شاہ۔۔وہ۔۔وہ،،
کیا بات ہے عائش ،،
شاہ نے بہت پیار سے پوچھا تو عائشہ نے پیچھے کی طرف اشارہ کر دیا شاہ کو سمجھ آ تو گئی تھی مگر پھر جان بھوج کے پوچھا تاکہ عائشہ میں اس کے سامنے بولنے کا کونفڈنس آئے
کیا؟؟
اچھا میں اپنے ہاتھوں سے کھلاؤ گا نہ تو بھوک خود ہی لگ جائے گی جو شاباش فرش ہو کے اؤ،،
اہان شاہ۔۔۔۔،،
اسے نے شاہ پر زور دیا تو شاہ نے زبردستی اُسئے واشروم بھیجا
پھر دونوں نے مل کے مزے سے کھانا کھایا اور شاہ نے تھوڑا سا شروع سے کھانا عائشہ کو اپنے ہاتھ سے کھلایا تو پھر عائشہ خود ہی کھانے لگی جس پر شاہ مسکرا دیا پھر دونوں کھانے کے دوران ایدھی اُدھر کی باتیں بھی کرنے لگی اور کھانا خوش گوار ماحول میں کھایا گیا۔
_______
آج شاہ اور عائشہ کو سارا کی بارات پر جانا تھا اور شام کو واپس بھی انا تھا کیونکہ صبح عائشہ کا پیپر تھا
عائش آپ تیار ہوں گی،،
شاہ بنا نوک کیے اندر آ گیا اور نظریں موبائل پر رکھ کر عائشہ سے پوچھنے لگا وہ بالکل تیار تھا ایک دم سامنے کا منظر دیکھ کر بس کھو گیا
ابھی اتنا ہی کہا تھا کے عائشہ بجلی کی سی تیزی سے اٹھ بیٹھی جس پر شاہ کا قہقہ بلند ہوا تو عائشہ شرمندہ سے ہو کے رہ گئی
آپ کو شرم نہیں اتی ایک لڑکی کے کمرے میں آ کے اس سے جھوٹ بولتے ہیں،،
بلکل نہیں آتی جب وہ لڑکی آپ کی بیوی ہو اور جھوٹ آپ پیار سے مان جاتی تو نہ بولتا،،
شاہ نے بارے مزے سے بات کلیئر کر دی تو عائشہ گھورنے لگی
گھور کیوں رہی ہیں کیا زیادہ ہینڈسم لگ رہا ہوں؟؟،،
شاہ نے مسکراتے ہوئے چڑانے والے انداز میں کہا تو عائشہ اِدھر اُدھر دیکھنے لگی بیشک شاہ بہت ہینڈسم تھا مگر ابھی وہ اقرار کرنے کے موڈ میں نہیں تھی سو چپ رہی
اچھا جاؤ فرش ہو کے اؤ کھانا کھا لو صبح ناشتہ بھی نہیں کیا تھا آپ نے،،
مجھے بھوک نہیں ہے شاہ،،
عائشہ نے نخرالے انداز میں کہا تو شاہ مسکرا دیا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain