عائشہ شام کو اٹھی ہی تھی کے دروازے پے دستک سن کے جان بھوج کے پھر سے آنکھیں بند کر گئی اسے پتہ تھا شاہ اسے اٹھانے آئے ہوں گے سو وہ آرام سے آنکھیں بند کیے سوتی بنی
او میڈیم اٹھو کھانا کھا لو،،
کوئی جواب نہیں
عائش،،
شاہ نے بغور عائشہ کو دیکھا تو اسے سمجھ آ گئی وہ جاگ رہی ہے
عائش مجھے پتہ ہے آپ نہیں سو رہی اس لیے شرافت سے اٹھ جائیں،،
ہاں ہاں آپ کو تو الہام ہو گیا ہے نہ میں جاگ رہی ہوں اٹھاتے رہیں میں بھی دیکھتی ہوں کیسے اٹھاتے ہیں،،
عائشہ بس سوچ کے رہ گئی اور اپنی سوچ پر خود ہی دل ہی دل میں مسکرا دی
شاہ کو ایک آئیڈیا آیا
جانِ شاہ آپ بہت برا سوتی ہیں دیکھیں شرٹ کہاں گئی ہوئی ہے ،،
حا،، اپنا دیکھا ہے کبھی گلاس کی طرح لمبا ہے،،
استغفراللہ اتنا پیارا تو ہے کہاں لمبا ہے بلبتوڑی،،
ہاں تو میرا ڈونگے کی طرح کہاں ہے اتنا پیارا ہے،،
حریم تو اپنے منہ کی تعریف سن کے ہی بے ہوش ہونے والی تھی اتنا پیارا فیس تھا اس کا گولو سا اور اسد نے کیا بنا دیا تھا
چلو نکلو یہاں سے میں چینگ کر کے اتی ہوں،،
کتنے گھنٹے،،
ستر،،
ہائے اؤ ربا میں گیا،،
حریم ہنس دی پھر اسے نیچے بھیج کر جلدی سے ریڈی ہوئی اور اگلے پانچ منٹ میں اس کے ساتھ گھومنے پھرنے نکل گئی بھابھی ویسے جا نہیں سکتی تھی اور گھر میں مما بابا ویسے جاتے نہیں تھی جو کے کچھ دیر پہلے خوب گھوم پھر کے آئے تھے سو وہ اکیلے ہی دونوں نکل گے
@@@
اسد کا ڈراما بھر پور جذبات سے بھرا ہوا تھا جس پر حریم کو بلکل ترس نہیں آ رہا تھا الٹا و الم نیند خراب ہونے پے اسے بری طرح گھورنے میں بزی تھی
تو مرے گا میرے ہاتھوں اسد کے بچے ڈبل بیٹری کہیں کے میں نہیں جا رہی تمہارے ساتھ کہیں میں خود غریب ہوئی وی ہوں،
آخری بات حریم نے منہ بنا کے کہیں تو اسد کا قہقہ بے اختیار تھا جس پر حریم منہ بنا گئی
غریبی کنجوسی کمینی چل میری ساتھ آ میں آج تُجھے زبردست سے کھانا کھلاتا ہوں کیا یاد کرے گی کیس سہی سے پلا پڑا ہے،،
اہو سہی نیو نیو بنا ہے اڈا تو سہی کنجوس ہے ایک نمبر کا،،
اسد اپنی اتنی بری بستی پر حریم کو گھور کے رہ گیا ویسے بھی تاریخ گواہ ہے بہنوں کا بھائی کچھ نہیں بگاڑ سکے آج تک تو اسد کیا کرتا
چل بلبتوڑی اپنے ڈونگے جیسے منہ پر جو لیپا پوپی کرنی ہے کر لو پھر چلتے ہیں،،
اوئے حریم اٹھو ،حریم آٹھ نکمي،،
حریم جو کے مزے سے سوئی ہوئی تھی اسد جرسی افت کے لیے تیاری نہیں تھی ہڑبڑا کے اٹھی تو اسد کو دیکھ کر اس کا پار ا ہائی ہو گیا
کیا ہے سونے دو مجھے ،،
اس نے چلا کر کہا تو اسد بھی اپنے نام کا ایک تھا
اے بلبتوڑی آٹھ جیسے تو نے ہی پاکستان کو سونے کا اواڈ جیت کے دینا ہے ہر وقت سوتی رہتی ہے،،
کیوں تمہیں کیا مسئلہ ہے نکلو یہ سے اور بلبتوڑی تمہاری بیوی ہو گی ،،
وہ بھی حریم تھی کوں سا کسی سا کام تھی ایک کی سو سناتی تھی
وہ تو شہزادی ہو گی شہزادی آٹھ بلبتوڑی ہر وقت مری ہوئی پڑی رہتی ہے میں بے چارہ جب سے آیا ہوں ہسپتال کے چکر لگا رہا ہوں کسی کو مجھ غریب پے تر س نہیں آیا کے اؤ اسد کہیں باہر گھومنے چلیں چلو جو کھانا تم کھاؤ گے پیسے ہم دیں دی گے ،،
عائشہ کسی کے ساتھ بات نہیں کرتی تھی حریم ہمیشہ اس سے باتیں کرتی اس سے پوچھتی ایسی طرح ان دونوں کی دوستی ہو گئی جس میں حریم کا زیادہ ہاتھ تھا،،
@@@
گھر آ کر حریم مزے سے سو گئی گھر میں مما بابا کسی ڈنر پر گے تھے اسد ہسپتال میں تھا اور بھابھی آرام کر رہی تھی بھی آفیس میں تھے ایان بھی آفیس میں تھے سو و مزے سے سو گئی ویسے بھی وہ تھک گئی تھی اور اسے اور کوئی کام بھی نہیں تھا سو یہی بہتر لگا
@@@
عائشہ جب گھر آئی تو اسے بہت زیادہ تھکاوٹ ہو گئی تھی ویسے بھی کل سارا کی بارات میں اسے حال پہنچنا تھا کھانا ویسے عظمت اپا بنا چکی تھی اسے اور کوئی کام نظر نہ آیا تو وہ آرام سے سوتی بنی شاہ آفیس سے ابھی نہیں اے تھے اج و تھوڑا لرے انے والے تھے سو وہ سو گئی
@@@
سب فٹ تو سنا شازب بھی کیسے ہیں،،
ٹھیک ہیں بہت اچھے ہیں وہ،،
مجھے پتہ ہے ایان سے میں جتنی تعریفیں اُن کی سنٹی ہوں نہ تم سوچ نہیں سکتی،،
عائشہ ہنس دی
اچھا جی یہ بھی گڈ ہو گیا ،،
اچھا یار کال پے بات کریں گے ڈرائیور آ گیا ہے،،
اوکے جناب اپنا کھیل رکھنا،،
تم بھی اللہ حافظ،،
اللہ حافظ،،
حریم چلی گئی تو پھر عائشہ بھی ساتھ ہی نکل گئی وہ دونوں بیسٹ فرینڈز تھی جب عائشہ کالج آئی تھی تب حریم کو عائشہ بہت اچھی لگی تھی مگر
حریم نے اندازہ لگایا عائشہ کے چہرے کی خوشی سے جس پر آیا ہنس دی
بلکل بیسٹ ترین ہوا ہے ،،
واہ دیکھا میں کہا تھا نا،،
تمہارا بھی کچھ کام نہیں ہوا بیسٹ سے ،،
حریم ہنس دی کیونکہ عائشہ صحیح تو کہ رہی تھی
ہاں جی کمال کا ہوا ہے،،
گڈ ،،
گھر میں سب کا سناؤ،،
وہ شرمندہ ہوئی تو شاہ نے نہ میں سر ہلایا پھر دونوں ادھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے اور ساتھ اک دوسرے کی کمپنی بھی انجوئے کرنے لگے باتیں کرنے کے دوران کب عائشہ کی کو نیند نے گھیر لیا اسے پتہ ہی نہیں چلا و ارمسے شاہ کی گود میں سر رکھ گئی جس پر شاہ مسکرا دیا پھر اس کے بالوں میں انگلیاں چلنے لگا اور اسے دیکھنے لگا
___________
وہ دونوں اس وقت پیپر دے کے نکلی تو ایک دوسرے کو دیتے ہی بھاگ کے ایک دوسرے کے گلے لگ گئی جیسے پتہ نہیں کتنے جنمو کی ایک دوسرے سے دور تھی
کیسی ہے جان من،،
حریم نے چہکتے ہوئے عائشہ سے پوچھا تو عائشہ ہنس دی
ٹھرکی عورت باز آ جا ،،،
حریم ہنس دی
میں ٹھیک ہوں تو سناؤ ،،
میں بھی فٹ ،،
پیپر مجھے پتہ ہے تیرا بیسٹ ہوا ہے،،
وہ بہت خوش ہوئی اسے شاہ سے پڑھ کر بہت مزا آیا کیونکہ پیپر کے مطابق صرف مین پوائنٹس ہی کیے تھے اس نے خوشی سے نعرا لگایا تو اوپر سے شاہ آ گیا تو وہ ہنس دیا عائشہ شرمندہ ہو کے رہ گئی
کوئی بات نہیں شرمندہ نہیں ہوتے جان شاہ ،،
شاہ کے ہاتھ میں دو کافی کے مگ تھے جن کو دیکھ کر عائشہ حیران ہوئی تو شاہ مسکرا دیا
میری طرف سے آج ،،
تھینک یو،،
نہ تھنکس نہیں کہتے جان شاہ آپ کا حق ہے،،
عائشہ مسکرا دی پھر دونوں مزے سے کافی پینے لگے کافی پینے کے ساتھ ساتھ عائشہ بوکس و پیپرز بھی سمیٹنے لگی تو شاہ نے ٹوکا
عائش اِدھر میرے ساتھ ابھی کافی حتم کریں بعد میں یہ سب کر لینا ،،
سوری ،،
کتنی تیاری ہوئی،،
%50،، الموست ہو ہی گئی ہے ،،
ڈیٹس گریٹ ،،
بک دو،،
عائشہ نے بک پکڑا دی تو شاہ نے ایک نظر بک کو دیکھا پھر عائشہ کو اپنے پاس کیا اور اس کے کندے پر بازو رکھا
یہ دیکھو law ہے کیا ،،
دس منٹ کے اندر اندر شاہ نے اس کی کی ہوئی %50 تیاری کو پکا کیا تھا پھر نیکسٹ ایک گھنٹے کے اندر اسے پوری بک چھان کے مکمل تیاری کروا دی تو عائشہ بہت حیران ہوئی اس نے بہت تیزی سے کام کیا تھا پھر نیکسٹ بیس منٹ میں اسے اگلی %50تیاری پکی کارروائی تھی شاہ پیرس سے پر کے آیا تھا اس لیے پاکستانی پیپر کا اندازا لگانا اس کے لیے مشکل نہیں تھا دو گھنٹوں کے اندر اندر اس نے عائشہ کو کمال کی تیاری کروا دی تھی پھر شاہ باہر چلا گیا اور عائشہ لیپ ٹاپ پر پیپرز دیکھنے لگی جو کے اسے خفظ ہو چکے تھے
رات کو شاہ دس بجے کے قریب اپنا کام کر کے فارغ ہوا تو اسے عائشہ کا خیال آیا اس نے جلدی سے اپنا کام وائند اپ کیا اور عائشہ کے کمرے میں چلا گیا جہاں محترمہ لیپ ٹاپ کھولے بارے آرام سے کافی کے ساتھ تیاری کرنے میں مگن تھی وہ اسے دیکھ کر مسکرا دیا
عائش ،،
وہ ایک دم چونک گئی
اوہو سوری،،
نہیں کوئی بات نہیں،،
سوری لیٹ ہو گیا،،
کوئی بات نہیں شاہ اٹس اوکے،،
عائشہ نے مسکرا کر کہا تو شاہ مسکرا دیا
ایک دم اپنے ہاتھ اٹھائے تو بک نیچے گرنے لگی مگر ایان نے پکڑ لی
او بک یہ لو،،
حریم نے بک لے لی ایان مسکرا دیا اپنی بے خبری پر پھر حریم سے پوچھنے لگا
میں تیاری کرواتا ہوں ،،
اچھا ،،
پھر ایان اسے تیاری کروانے لگا مسلسل دو گھنٹے اس کے پاس بیٹھ کر اسے بک کے مین پوائنٹس سمجھا دیے حریم کو 60% پیپر کی تیاری اس نے دو گھنٹے میں ہی کروا دی پھر حریم کچن میں گئی اور کھانا لے کر آئی دونوں نے کھانا کھایا اور پھر کافی ایان بنا کے لایا پھر کافی کے ساتھ ساتھ اسے مزید پوائنٹس سمجھا دیے
اس طرح چار گھنٹوں میں اسے و مکمل پیپر کتیاری کروا چکا تھا پھر رات دو بجے تک وہ دونوں تھک گے تو ایان ویسے ہی حریم کو اپنے حصار میں لیے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند گیا حریم بھی آرام سے سو گئی کیونکہ تیاری اس کی بیسٹ ہو چکی تھی سو وہ مطمئن ہو گئی
@@@@
پیپر میرا اور بُک ان محترم پاس کیا کر رہی ہے اب کیسے لو ان سے بک،،
وہ سوچنے لگی مگر ایان اس کی نظروں کی تپش کی وجہ سے اٹھ گیا جیسے ہی اس کی آنکھ کھلی تو حریم کو اپنی طرف گھورتے پا کر اسے نہ سمجھی سے دیکھنے لگا پر و کہیں اور ہی کھوئی ہوئی تھی اسے ایان کے آٹھ جانے کا اندازہ ہی نہ ھوا تو ایان نے چڑ کر پوچھا
کیا بات ہے حریم،،
حریم نے چونک کر ایان کی طرف دیکھا تو ایان گھور کر رہ گیا
کو۔۔۔کچھ نہیں میری بک..،،
کہا ہے،،
ایان کو بلکل اندازہ نہیں تھا اس کی بک اس کے پاس ہے
ا۔۔آپ کے پاس،،
میرے،،
دونوں نے کھانا خاموشی سے کھایا پھر کھانا کھا کر عائشہ نے برتن سمیٹے عظمت اپا اپنے کواٹر میں چلی گئی تھی پھر عائشہ اپنے کمرے میں چلی گئی کو پیپر بھی یاد کرنا تھا اس لیے شاہ کچھ دیر تی وی دیکھتا رہا اور پھر کچھ کام کرنے کے لیے اپنے کمرے میں چلا گیا اسے عائشہ کو پیپر کی تیاری بھی کروانی تھی سو اپنا پہلے حاتم کرنے چلا گیا
@@@
حریم رات کو نو بجے کے قریب اٹھی تھی تو ایان کرسی پر بیٹھے بیٹھے سوتے ہوئے دیکھ کر حیران ہوئی پھر اٹھی تو ہلکے ہلکے چکر آ رہے تھے مگر و اگنور کر گئی اور واشروم میں فرش ہونے کیلئے چلی گئی فرش ہو کر آئی تو اسے اپنی بک نظر نہ آئی اِدھر اُدھر دیکھنے لگی مگر کہیں نظر نہیں آئی آک دم اس دھیان ایان کی طرف گیا تو و سینے پر بک رکھے بارے مزے سے گلے لگائے سوئے ہوئے تھے وہ ہنس دی
عائشہ ہنس دی تو عائزہ بھی ہنس دی پھر سب نے ڈھیر ساری نصیحتیں کی اور نکل گے شاہ بھی گھر آ گے تھی سوع سب نے فکری سے نکل گیا ویسے بھی گھر میں ہر وقت کیمرے اور سیکورٹی ہوتی تھی گیٹ پر گارڈز بھی ہر وقت رہتے تھے نوکرانیوں میں سے صرف ایک کو رکھا تھا باقی سب کو چھٹی دے دی تھی
کھانا کھائیں گے آپ،،
اندر جاتے ہوئے عائشہ نے شاہ سے پوچھا تو وہ سر ہاں میں ہلا گیا پھر لاؤنج میں جا کر بیٹھ گیا اور ٹی وی آن کر لیا عائشہ حیران ہوئی اور نہ سمجھی سے شاہ کو دیکھا جس پر شاہ مسکرا دیا
یہی نہیں کھا لو آج،،
مرضی ہے آپ کی،،
شاہ ہنس دیا
چلیں اتا ہوں میں،،
جی ،،
پھر عائشہ کچن میں چلی گئی تو عظمت اپا نے کھانا لگا دیا وہ ٹیبل پر بیٹھ گئی اور کھانا نکلنے لگی اتنی دیر میں شاہ بھی آ گیا
عائزہ بچارو والا منہ بنا کر عائشہ کے پاس آئی تو آئشک بہت ہنسی آئی صبح سے اسے منانے میں لگی تھی مگر عائشہ بھی اپنے نام کی ایک تھی نہیں راضی ہوئی ابھی اسے بہت کیوٹ لگی تو اسے گلے لگا لیا
ہائے عائشے تھنکو میری شونی مونی ،،
عائزہ ہنس دی تو عائشہ بھی ہنس دی پھر الگ ہوئی اور اسے نصیحتیں کرنے لگی دادی اماں کی طرح
اپنا بہت بہت خیال رکھنا اور بھی کا بھی اور گھر کا بھی وقت پر کھانا کھا لینا اور پیپر دھیان سے دینا اور زیادہ مت پڑھنا پورا پورا ہی پڑھنا اور پرسو پیپر کے بعد ضرور بھائی کے ساتھ آ جانا ٹھیک ہے ،،
اچھا اچھا ٹھیک ہے امّاں جی،،،
نہیں مجھے بھوک نہیں ابھی بھابھی نے سوپ بنا کر دیا تھا ،،
اچھا،،
اتنی دیر میں بھابھی چائے اور ساتھ کچھ کھانے کے لیے بھی لے آئی تو ایان آن سے چیزیں لئے کر ٹیبل پر رکھنے لگا
پھر بھابھی بھی پاس بیٹھ گئی اور حریم سے طبیعت پوچھی تو جس پر اس نے کہا ٹھیک ہوں تو بھابھی مسکرا دی پھر کچھ دیر باتیں کرنے لگی اور پھر بھابھی اٹھ کے باہر چلی گئی کیونکہ اُن کو کام تھا ایان نے حریم کو آرام کرنے کے لیے کہا اور خود اس کی بک لے کر بیٹھ گیا جیسے پیپر حریم کا نہیں اس کا ہو
@@@
تین بجے سب نکلنے کے لیے تیار کھڑے تھے گاڑیوں میں سامان رکھ چکے تھے عائشہ سب کو دیکھ رہی تھی تب عائزہ اس کے پاس آئی
عائشے پلیز یار مان جا نہ اب دیکھ تُجھے پتہ ہے نہ ایسے مذاق میں کرتی رہتی ہوں پلیز یار شوری نہ،،
ایان میں ٹھیک تھی،،
ہم نظر آ رہا ہے،،
_______
ایان نے حریم کو بازووں میں اٹھا کر بیڈ پر بٹھایا اور اسے پاس پڑا پانی دیا جیسے اس نے تھوڑا سا پی لیا
ٹھیک ہو اب،،
جی،،
اور یہ کتابیں کیوں کھلی ہیں،؟؟،
صبح پیپر ہے میرا اس لیے پڑھ رہی تھی،،
میں تیاری کروا دو گا پر ابھی کچھ کھا لو،،
دو کپ چائے دے سکتی ہیں پلیز ،،
ارے کیوں نہیں ضرور،،
حریم کے کمرے میں لے آئیں،،
اچھا،،
ایان حریم کے کمرے میں گیا تو وہ واشروم سے سر پر ہاتھ رکھے نکل رہی تھی
حریم،،
ایان بھاگ کے اس کے پاس گیا
تم ٹھیک ہو ،،
ایان چا۔۔چکر آ گیا تھے،،
حریم ایان کو پکڑ کر بولی تو عین نے اسے بازووں میں اٹھا لیا
وہ اسے سزا دینا چاہتی تھی مگر نہ دے سکی و ہار گئی کیونکہ اس انسان کو و بچپن سے محبت کرتی آئی تھی دس سال اس کو اپنی دعاؤں میں مانگا تھا اور آج جب یہ حاصل ہوا تو وہ اس کو نہ کردہ جرم کی سزا کیسے دیتی ایان اس کی زندگی تھا اس کی محبت اس کی پہچان اس کا نام انہی سوچو میں وہ اندر آ گئی کیونکہ اسے پتہ تھا ایان ضرور اس کے کمرے میں اے گا
ایان اوپر بالکنی میں حریم کو دیکھ چکا تھا فرش ہو کے وہ اسی کے کمرے میں آنے لگا تو بھابھی کو کچن میں دیکھ کر ان کے پاس کھڑا ہو گیا
اسلام و علیکم،
وعلیکم السلام ،
کیسے ہو ،،
اللہ کا کرم ہے فٹ،،
بھابھی مسکرا دی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain