شازب بچے آج جلدی آ جانا سارا کی شادی ہے دو دن بعد سو ہم آج ہی جائیں گے تو عائشہ نہیں جا رہی اس لیے وہ اکیلی نہ ہو ،،
جی بابا میں آ جاؤ گا کب تک نکلیں گے آپ سب،،
تین بجے تک انشاء االلہ،،
ٹھیک ہے میں آ جاؤ گا اللہ حافظ،،
شاہ کے نکلتے ہی عائشہ بھی اٹھ کے روم میں آ گئی اسے پیپر کی تیاری کرنی تھی سو آ گئی عائزہ کو ابھی وہ سزا دینا چاہتی تھی اس لیے اسے اگنور موڈ پے ہی رکھا
@@@
پورا دن حریم پیپر کی تیاری میں بزی رہی نقاہت کی وجہ سے بار بار اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھی مگر و ڈھیٹو کی طرح پھر بھی لگی ہوئی تھی عصر کی نماز کے بعد وہ پڑنے بیٹھی تو دل بوجل ہو گیا تھا تو و بالکنی میں آ گئی کچھ دور وہ بیٹھی تو عین کی گاڑی کو گیٹ سے داخل ہوتی دیکھ کر ایان کو کے بارے میں سوچنے لگی وہ سچ میں اس کا تھا کتنا پیارا تھا
جس پر شاہ کو صبح صبح جھوٹ بولنا پڑا
عائشہ ناشتا کر لو بچے،،
مریم بھابھی نے نیچے کھڑے ہو کر آواز دی جس پر عائشہ تھوڑی دیر بعد ناشتے کے لیے نیچے آ گئی وہ آرام سے آ کر سلام کر کے شاہ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی کیونکہ وہ کرسی ہمیشہ سے ہی اس کے لیے رکھی جاتی تھی عائزہ تو گھور کے رہ گئی خود کو اگنور کرنے پر جبکہ شاہ مسکرا دیا
بابا عائشے آنکھیں خراب ہو گئی،،
سب ناسمجھی سے عائزہ کو دیکھنے لگی
اس کو میں نظر نہیں آئی ایس لیا کم از کم مجھے تو یہی کہا ہے،،
کیا اندازِ لا پرواہی تھا سب ہنس دیے تو عائشہ عائزہ کو گھور کے رہ گئی مگر بولی پھر بھی نہیں
اتنی دیر میں دانیال بھی اور حسن بھی آفیس کے لیے اٹھ گی کیونکہ آج سارا کی شادی کے لیے گاؤں جانا تھا سو وہ جلدی جا رہے تھے شاہ بھی ساتھ ہی آٹھ گیا
پھر سٹور روم میں ہے وہاں سے ایک بہت بڑی سفید رنگ کی چادر لی پھر اس پر رنگ لگایا اور آرام سے عائشہ کے کمرے میں چلی گئی اسے عائشہ اٹھی ہوئی محسوس ہوئی و آرام سے واشروم میں چلی گئی پھر زمین پر رنگ پھینکا اور شیشے پر you۔۔kill۔۔۔لکھ کر آرام سے پیچھے شیشے کے سامنے کھڑی ہو گئی پھر جیسے ہو عائشہ اندر داخل ہوئی اس کا دماغ گھوم گیا اور وہ چیخیں مارنے لگی جس پر عائزہ کے قہقہے لگ رہے تھے اور وہ مزید ڈرتی ہوئی واپس بھاگ گئی اور عائزہ پیچھے سے زور زور سے ہنسنے لگی
اسلام و علیکم،،
وعلیکم السلام،،
گڈ مارننگ،،
گڈ مارننگ بیٹے،،
شاہ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے ہوئے کہا
شاہ یہ چیخیں کیس کی تھی،،
وہ عائزہ کی تھی یہ گرنے لگی تھی و تو شکر ہے میں نے پکڑ لیا سوبچ گئی،،
شاہ کو عائزہ نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا
شاہ نے کہا تو عائزہ پھر سے ہنسنے لگی
جی بالکل ،،
پھر بھی سے الگ ہو کر و عائشہ کی طرف مڑ ی جو کے سر جھکائے کھڑی تھی
عائشے تم آج بھی اتنی ہی ڈرپوک ہو یار مجھے لگا میرے بھائی کی محبت تمہیں بہادر بنا دے گی مگر اس نے تو تمہیں اور زیادہ ڈرپوک بنا دیا ہائے اُو ربا میں کیتھے جاوا،،
شاہ مسکرا دیا تو عائشہ رج کے شرمندہ ہوئی اور اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی جس پر دونوں کا قہقہ بلند ہو
یہ کیا خلیہ بنایا ہوا ہے تم نے عائزہ چینگ کرو کہ کے،،
شاہ کو عائزہ عجیب بھوتنی ٹائپ کی بندی لگ رہی تھی جس پر عائزہ ہنس دی
ہوا یوں تھا کے جب عائزہ اٹھی اور فرش ہو کے باہر ائی تو اسے عائشہ کہیں نظر نہ آئی اس کے دماغ میں ایک شرارت آئی وی بچوں کے کمرے میں گئی وہاں سے اس نے ریڈ کلر لیا
عائش ریلیکس کچھ بھی نہیں ہے میری طرف دیکھو کچھ نہیں ہے ریلیکس،،
نہ۔۔نہیں۔۔شاہ۔۔وہاں۔۔کوئی۔۔تھا،،
خاموش کچھ نہیں ہے،،
شاہ نے اس کے بال درست کیے اور اس کے آنسو صاف کیے اور اس کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر اسے ریلیکس کیا
سامنے کھڑا فریق ان دونوں کی محبت دیکھ کر سچ میں بہت ایمپریس ہوا تھا اور ان دونوں کے خوش رہنے کی دعا بھی کی پھر وہ آہستہ اجس چلتی ہوئی پاس آئی اور زور زور سے ہنسنے لگی پر دونوں نے بیک وقت پیچھے دیکھا اور دونوں ہی حیران ہوئے
عائزہ،،؟؟؟؟
تو وہ مزید ہنسنے لگی
اسلام و علیکم بھیو،،
وہ بھاگ کے بھائی کے گلے لگ گئی جس پر شاہ بھی مسکرا دیا
اچھا تو یہ ساری کارستانی تمہاری تھی ڈراما کوئین،،
عائشہ نماز کے بعد سو گئی تھی ابھی اٹھی ٹائم دیکھا تو صبح کے چھے بجے تھی وہ فرش ہونے واشروم میں گئی قدم رکھتے ہی سامنے کے منظر نے اس کا دماغ گھما کر رکھ دیا وہ چیخیں مرتی ہوئی واپس باہر بھاگی سامنے سے آتے شاہ سے بہت بڑی طرح ٹکرائی شاہ کو دیکھتے ہیں وہ شاہ کے گلے لگ گئی اور رونے لگی شاہ اس افت کے لیے تیار نہیں تھا ایک پل کے لیے وہ خود بھی چکرا گیا مگر جلد ہی سنبھل گیا پھر عائشہ کی طرف دیکھا تو وہ سچ میں پریشان ہو گیا
عایش کیا ہوا آپ ٹھیک ہیں،،
شاہ نے اسے الگ کرتے ہوئے پوچھا تو عائشہ سسکیوں کے درمیان رک رک کر بولنے لگی
ش۔۔شا۔۔شاہ۔۔ما۔۔میرے۔۔کام۔۔کمرے۔۔ما۔۔میں ۔۔بھوت تھا۔۔شاہ۔۔وا۔۔وہاں۔۔وش۔۔۔واشروم۔۔میں۔۔۔خ۔۔۔خون۔۔بھی۔۔میں۔۔نے۔۔ہو۔۔خود۔۔دیکھا ہے ،،
تم چلے جاؤ ما ہوں حریم کے پاس تم دونوں فرش ہو جاؤ میں ناشتا یہی لے اتی ہوں"""
نہیں بھابھی ناشتا نہیں چاہیے آپ بس حریم کا خیال رکھنا مجھے ابھی نکلنا ہے کوشش کرو گا جلدی آ جاؤ"""
ٹھیک ہے پر ناشتا کر کے چلے جاتے "
کوئی بات نہیں وہی سے کر لو گا"
ایان حریم کے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بھابھی سے بات کر رہا تھا حریم بس خاموشی سے ایان کو دیکھئے جا رہی تھی اسےسمجھ نہیں آ رہا تھا کے کیا فیصلہ کرے اس انسان کے بارے میں جو اس قدر خوبصورت روپ بھی رکھتا ہے پر و چاہتی تھی تھوڑی سی سزا دے ہی لو پر اس کا دل نہیں مان رہا تھا
دھیان سے جانا "
بھابھی ان دونوں کو دیکھ کر واری صدقے جا رہی تھی بھابی نے کہا تو ایان سر ہلا گیا
حریم اپنا خیال رکھنا اور کچھ الٹا سیدھا مت کھانے دینا اسے بھابھی "
وہ مسکرا کر کہا گیا
_______
انہوں نے ایان کے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو وہ جاگ گیا وہ جانتی تھی حریم کی طبیعت خراب ہو گئی تھی اس لیے ایان پوری رات اس کے لیے جاگتا رہا ہے کہیں اُس کو بخار نہ ہو گیا ہو اس لیا ماتھا چیک کیا
بھابھی آپ ""
ایان جیسے ہی اٹھا اپنی پرواہ کیے بغیر اس نے فٹ سے حریم کا ماتھا چیک کیا جو کے نارمل تھا اس نے شکریہ کا سانس لیا حریم نے بازو پیچھے کیا اور ایان کو دیکھا جو کے اس کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا تھا بھابھی کو دونوں پر بہت پیار آیا بے احتیار ان دونوں کی خوشیوں کی دعا مانگ گئی
تم دونوں ٹھیک ہو "
ایان کی سرخ آنکھیں بتا رہی تھی کے اس کی نیند پوری نہیں ہوئی مگر اسے اپنی پرواہ کہاں تھی
"""ج۔۔جی بھابھی میں ٹھیک ہوں آپ پلیز حریم کا خیال رکھیے گا مجھے ابھی آفیس جانا ہے میں نہ جاتا پر آج ارجنٹ جانا ہے کچھ ضروری کیس کے سلسلے میں"
پھر دماغ پر زور دینے پر جب سب کچھ یاد آیا تو اسے ایان پر غصہ آنے لگا وہ ایک دم اٹھی پر اسے چکر آیا تو وہ دوبارہ آرام سے لیٹ گئی اس کی کل صبح سے طبیعت خراب تھی مگر رات کو و سب سننے کے بعد اس کو کچھ سمجھ نہیں آیا کے کب وہ بے ہوش ہو گئی تھی اسے اس وقت خود پے بہت غصہ آ رہا تھا مگر کچھ نہ کر سکی
بھابھی نے جب دیکھا حریم صبح کے ساڑھے سات بجے بھی نیچے نہیں آئی تو اُن کو فکر ہوئی وہ ناشتا بنا چکی تھی اس لیے اوپر حریم کے کمرے کی طرف چلی گئی جب کمرے کا دروازہ کھولا تو سامنے ایان کو حریم کے پاس بیٹھے بیٹھے سوئے ہوئے بہت حیران ہوئی اور حریم جو پاس سر پر ہاتھ رکھے لیٹی تھی اس کو دیکھ کر تفشیش ہوئی وہ ایک منٹ میں سا معاملہ سمجھ گئی وہ مزید اندر ہے تو ٹیبل پر بریڈ اور ساتھ جیم کا ڈبہ اور ساتھ چائے کا کپ پٹیاں ساتھ میڈیسن اور پانی و ناسمجھی سے دیکھنے لگی
جانِ شاہ آج ہی کیا مجھے سارا حفظ کر لینا ہے کچھ کل کے لیے بھی چھوڑ دیں میں ڈسٹرب ہو رہا ہوں""""/
عائشہ اپنی سوچو میں اس قدر گم تھی کے اسے اندازہ ہی نہ ہوا کے وہ شاہ کو دیکھے جا رہی ہے شاہ کے اس طرح ٹوکنے پر و رج کے شرمندہ ہوئی اور سر جھکائے گئی شاہ سچ میں ڈسٹرب ہوا تھا شاہ کہتے ساتھ ہی اوندھے منہ عائشہ کی گود میں کروٹ لئے کر عائشہ کے گرد حصار بنا گیا پھر عائشہ نے آرام سے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند گئی
@@@
پوری رات ایان حریم کی پٹیاں کرتا رہا تین بجے کے قریب کہیں جا کر اس کا بخار کام ہوا تو ایان نے اللہ کا شکر ادا کیا اور وہی آرام سے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر نہ جانے کب نیند کی وادیوں میں چلا گیا
حریم کی آنکھ تو تب کھلی جب اسے سر پر کسی بھاری چیز کی گمان ہوا اس نے جیسے ہی آنکھیں کھولی ایان کو سوئے دیکھ کر وہ حیران رہ گئی
اسے یاد ہے جب نتاشا شاہ کو شاہ کہتی تھی تو عائشہ کتنا چڑتی تھی و کبھی کبھی لڑ پڑتی تھی کے شازب کو شاہ مت بلایا کرو مگر وہ باز نہیں آتی تھی اس کے نکاح کی سچائی اس کی پھپھو نازیہ سے آج تک چھپائی گئی تھی کیونکہ انہوں نے پھر سے کوئی فساد کھڑا کر دینا تھا جو دادا جان نہیں چاہتے تھے پھوپھو اسے بہت بڑا بھلا کہتی رہتی تھی اور وہ بس رو دتی تھی چپ کے اللہ کے سامنے بچپن سے ہی عائشہ نے لوگو کی بجائے اللہ سے لو لگائی تھی وہ انسانوں سے زیادہ اللہ کو اپنی باتیں بتانے میں سکون محسوس کرتی تھی اور شاہ تو اس کی و دعا ہے جو و دن میں نجانے کتنی دفعہ مانگتی تھی اسے شاہ سے محبت تھی پر و اظہار نہیں کرتی تھی پتہ نہیں کیوں و ڈرتی تھی اسے آج بھی ڈر لگتا تھا
عائشہ آہستہ آہستہ شاہ کا سر دبانے لگی تو شاہ آنکھیں بند کر گیا کچھ دیر بعد شاہ نیند کی وادیوں میں جھومنے لگے عائشہ بغور شاہ کے چہرے کو دیکھ رہی تھی ماتھے پر گرے ہے ترتیب بال ماتھے پر شکنیں کھڑی مغرور ناک سرخ ہونٹ بڑھی ہوئی شيو جو بڑی نفاست سے بنائی گئی تھی گندمی مگر سفید رنگ و سچ میں بہت پر کشش انسان تھا اک بہت ہی خوبصورت انسان جو کسی بھی لڑکی کا آئیڈیل ہو سکتا ہے یہ انسان سچ میں اس کا تھا صرف اس کا شاہ جب عائشہ اٹھ اور شاہ چود ھا سال کا تھا جب ان دونوں کا نکاح ہوا تھا وہ تب عائشہ سے محبت کرتا تھا مگر اب اس کی محبت عشق کی منزل تک پہنچ چکی تھی کتنا خوبصورت احساس ہوتا ہے جب ایک لڑکی کا ہمسفر اس سے اتنی محبت کرتا ہے اسے عزت دیتا ہے عائشہ خود کو ایک بہت ہی خوش قسمت لڑکی سمجھتی تھی
کچھ نہیں آج بس خود ہی آ جاؤ،،
عائشہ سر جھکا گئی اور برتن اٹھائے باہر نکل گئی
برتن رکھ کے آئی تو شاہ آنکھیں بند کئے اک ہاتھ سینے پے رکھے شاید سو چکے تھے عائشہ کو تو یہی لگا تھا کم از کم لیپ ٹاپ بند کر کے وہ شاہ کے پاس آ گئی اس نے شاہ کے سر پر ہاتھ رکھا تو شاہ نے پکڑ کر سینے پر رکھ لیا عائشہ خاموشی سے شاہ کے پاس بیٹھ گئی تو شاہ نے اس کی گود میں سر رکھ دیا دوسرے ہاتھ سے عائشہ نے بالوں میں انگلیاں چلانا شروع کر دی
سر میں درد ہو رہا ہے شاید آپ کے،،
عائشہ کو محسوس ہوا تو اس نے شاہ سے کہ دیا جس پر شاہ نے آنکھیں کھول کر عائشہ کی طرف دیکھا تو عائشہ اِدھر اُدھر دیکھنے لگی تو شاہ اس کی نظریں چرانے کی اس کوشش پر مسکرا دیا
ہمم ہو رہی ہے"
اچھا"
مطلب آپ کو نہیں پتہ،،
نہیں،،
کوئی نہ کل خود ہی پتہ چل جائے گا،،
اوکے،،
عائشہ برتن اٹھانے لگے تو شاہ بھی وہی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا
کافی لاؤ یہ چائے؟؟؟،،
پیپر ہے کل ،،
کل نہیں پرسو ہے،،
اچھا تیاری کیسی ہے،،
ابھی تک تو ٹھیک ہی ہے،،
کل میں خود آپ کو تیاری کروا دوں گا،،
شاہ نے کہا تو عائشہ نے سر ہلا دیا
اور سنائیں گھر میں آج کسی نے انا تھا آپ کو پتہ ہے،،
کس نے؟؟؟
عائشہ نے نہ سمجھی سے پوچھا تو شاہ ہنس دیا
وہ آ کے شاہ کے پاس نظریں جھکائے بیٹھ گئی
کھانا کھایا ،،
عائشہ کھانا کھایا تھا مگر ابھی بتاتی تو ڈانٹ پڑ جانے تھی اس لیا آرام سے جھوٹ بول دیا
ج۔۔جی کھا لیا،،
جھوٹ صحیح سے بولا کرو یہ بولا ہی نہ کرو اور مجھ سے بلکل نہیں اوکے،،
جی،،
وہ زور زور سے سر ہاں میں ہلانے لگی تو شاہ مسکرا دیا اور چھوٹے چھوٹے نوالے اس کو بھی کھلانے لگا جو عائشہ خاموشی سے کھانے لگی
عائشہ کھانا لے کر ای تو شاہ آنکھوں پر بازو رکھے شاید سو چکے تھے
شاہ،،
اس طرح پکار کر تو جان بھی مانگو تو حاضر ہے جانِ شاہ،،
شاہ مسکراتے ہوئے آٹھ کے بیٹھ گیا جس پر عائشہ بھی مسکرا دی
کھانا کھا لیں،،
وہ واپس لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ گئی
اِدھر پاس اؤ وہاں کیوں چلی گئی،،
شاہ نے فوراً ٹوکا تو عائشہ شرمندہ ہو گئی
جی،،
عایش،،
عائشہ نے چونک کر پیچھے دیکھا تو شاہ مسکرا دیا
ڈر گئی تھی،،
ہاں شاید،،
آپ ابھی آئے ہیں؟؟،،
جی،
کھانا لاؤ،،
ہاں لے اؤ،،
اچھا میں ابھی آئی،،
عائشہ مسکراتے ہوئے آٹھ کر چلی گئی تو شاہ بھی مسکرا دیا
مما کیسی ہیں آپ؟؟،
بیٹے میں تو ٹھیک ہوں میرا بچا کیسا ہے،،
آپ کے سامنے ہوں میری شونی مونی مما جانی،،
پھر بابا جان نے ماتھے پر بوسا دیا اور گلے لگایا
کیسا ہے میرا بچہ،،
ما اپنے مما بابا کی دعاؤں سے فٹ ہوں ،،
عائزہ نے بڑی محبت سے مسکراتے ہوئے کہا
اچھا اچھا بس کرو اب باپ بیٹی اندر جا کے باقی کا پیار اندر جا کر لینا ،،
ثمرین بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا تو سب ہنس د پھر عائزہ بھابھیو کو ملی پھر بھائی کو پھر سب اند لاؤنج میں چلے گے اور بڑے مزے سے بیٹھ کے باتیں کرنے لگے
شاہ رات کو کافی لیٹ آیا تھا روم میں جاتے ہوئے عائشہ کو جاگتے ہوئے دیکھا تو مسکرا دیا پھر فرش ہو کے عائشہ کے روم میں چلا گیا وہ لپٹ ٹاپ پر بیٹھے کچھ لکھ رہی تھی
آج گھر میں عائزہ نے انا تھا اس گھر کی سب سے چھوٹی اور لڈلی بیٹی تھی وہ پیرس سے ڈاکٹر بن کر آ رہی تھی
شاہ کے پیرس سے آنے سے چار مہینے پہلے عائزہ وہاں گئی تھی آج اڑھائی سال بعد وہ واپس گھر آ رہی تھی سب ہی بہت خوش تھے پورا دن سب نے اس کے لیے مزے مزے کے کھانے بنائے مگر وہ لیٹ آئی تھی رات کے دس بجے تھے پھر باہر گیٹ پر ہارن ہوا تو سب باہر کی طرف بھاگے شاہ تو ابھی تک آفیس تھا آج ان لوگوں نے باہر جانا تھا مگر عائزہ کے آنے کی وجہ سے اُن کو پروگرام کنسل ہو گیا تھا عائشہ اپنے روم میں پیپر یاد پر رہی تھی دو دن بعد عائشہ کا پیپر تھا اُسے عائزہ کے آنے کا نہیں پتا تھا اس لیے وہ اپنے روم میں تھی وہ ہینڈ فری لگائے بڑے مزے سے پڑھنے میں بزی تھی
گاڑی سے باہر آتے ہی ماں بابا کو دیکھتے ہی عائزہ بھاگ کر مما کے گلے لگ گئی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain