ایان جلدی سے اٹھ کر اس کے ساتھ بیٹھا تو وہ ایان کے سینے پر سر رکھ گئی
حریم ار یو اوکے،،
آ۔۔۔آیا۔۔۔ایان مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے،،،
ایان نے اسے بیڈ پر لٹایا اور اس پر کمبل دیا اور خود اس کے پاس بیٹھ کر اس کے ہاتھ سہلانے لگا
حریم آنکھیں کھولو،،
ایان نے ہاتھ سہلاتے ہوئے کہا تو حریم کے وجود میں کوئی حرکت نہ ہوئی ایان کو فکر ہونے لگی
حریم پلیز یار آنکھیں تو کھولو:،
کوئی جواب نہیں
پھر ایان کچن میں گیا اور چائے جلدی جلدی بنائی پھر چائے کا کر اُسے تھوڑا ٹھنڈا کیا یہ حالات اس کے لیے عجیب تھے اس کبھی طرح کسی کا خیال رکھا تھا اس لیے اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی
اس نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ٹمپریچر چیک کیا تو وہ بہار سے تپ رہا تھا پھر جلدی سے ٹھنڈا پانی لیا اور اسے پٹیاں کرنے لگا اُسّے سچ میں بہت عجیب لگ رہا تھا مگر وہ پھر بھی کرتا رہا
مجھے کچھ نہیں سمجھنا اب ایان مجھے ابھی خود سے نفرت ہو رہی ہے آج میں واقعی مان گئی میں ہے وقوف ہوں آپ صحیح کہتے تھے میں بے وقوف ہوں اور مجھے بے وقوف بھی میرے آپنو نے بنایا ہے ،،،
وہ بہت بری طرح رو دی اور ایان ہار گیا وہ بے بس ہو گیا تھا نا جانے کیوں آج اسے حریم شوٹ بھی کر دے تو اسے افسوس نہیں ہو گا
ایان مجھے افسوس رہے گا میں آپ کے۔۔۔۔۔۔آپ کے ہاتھوں بھی ہے وقوف بن گئی آپ تو میرے بیسٹ فرینڈ تھے نہ مجھے کسی سے کوئی گلہ نہیں پر مجھے آپ سے گِلہ ہے ایان آپ سے ہے گِلہ مجھے،
وہ روتے ہوئے ایان کی طرف رخ کر کہنے لگی ایان اس کے گود میں پڑے ہاتھوں پر سر رکھ گیا
آئی ایم سوری ریئلی سوری،،
حریم کو چکر انے لگے تو اس نے اپنے ہاتھ کھنچے جس پر ایان نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ آنکھیں بند کیے ایک طرف گرنے کو تھی
حریم میری بات سنو،،،
مجھے کوئی بات نہیں سننی آپ کی مجھے کسی کی بات نہیں سننی،،
حریم پلیز تھوڑی سی بات سن لو پھر جو سزا دو گی ما سر جھکا کر مانو گا،،،
حریم خاموش ہو گئی تو ایان بولنے لگا
،،حریم میں جانتا ہوں تم پر کیا بیت رہی ہے پر یقین مانو یہ سب تمہاری بھلائی کے لیے تھا حریم میں مانتا ہوں مجھے سب کچھ خود تمہیں بتانا چاہیے تھا مگر اس سے پہلے ہی تمہیں پتہ چل گیا یقین مانو یہ سب مامو کا فیصلہ تھا وہ چاہتے تھے کہ کسی قسم کا بوجھ نہ پڑے تمہارے دماغ پر اس سب میں کسی قسم کی کوئی برائی نیت نہیں تھی حریم پلیز سمجھنے کی کوشش کرو جو بھی کیا ہے مامو یا میں نے اس میں کچھ غلط نہیں تھا کچھ سوچ کر ہی کیا ہو گا نہ کچھ بولو جی اب،،
،،آپ سب نے جو بھی کیا جا میں سمجھ چکی ہوں سب سمجھ گئی میں
مما بابا یہ کیا کیا آپ نے،،،،
وہ رونے لگی
حریم،،
کسی نے اسے پکارا تھا اور وہ اس انسان کو بے یقینی سے دیکھنے لگی
___________
آ۔۔۔آیا۔۔۔ایان،،
جی ایان کی جان،،
ایان گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھ گیا
ایان کیوں کیا میرے ساتھ ایسا،،،
وہ بہت بری طرح رو دی تو ایان خاموش ہو گیا
تو پھر دیر کیسی،،،، دو مہینوں کا وقت ڈال کر تا ریخ طے کر لیتے ہیں ،،،
ٹھیک ہے میں سب کو بتا دیتی ہوں اور آپ خود ایان اور حریم کو بولا کر اُن کو بتا لیں ،،،
چلیں ٹھیک ہے کرتے ہیں کچھ ،،
جی بہتر !! چلیں یہ میڈیسن لیں اور آرام کریں میں نماز پڑھ لو،،،
لائیں !!! لے لیتا ہوں ،،،
داؤد صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تو شہرین بھی مسکرا دی لیکن باہر کھڑے انسان کے طوطے چڑیاں کبوتر سب اڑ
چُکے تھے اور وہ بس دروازے کو گھور رہا تھا بے یقینی سے
نہیں ، ایسا نہیں ہو سکتا ،،،،
وہ وہی سے قدم پیچھے کی طرف بڑھانے لگا اور بھاگتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا
شہرین میں نہ فیصلہ کیا ہے کے اب سچائی کھل جانی چاہیے،،،
،،،کیسی سچائی،،،،
حریم اور ایان کے رشتے کی سچائی،،،
،،،ہاں !! صحیح کہ رہے ہیں آپ بچے بڑے ہو چکے ہیں چلو ایان کو تو پتہ ہے مگر حریم کو اب بتا دینا چاہیے،،،
،،،میں چاہتا تھا ایان اسے خود بتائے کے حریم اس کے نکاح میں ہے مگر اب میں کچھ اور بھی چاہتا ہوں،،
کیا؟؟؟؟،،،
شہرین نے نہ سمجھی سے پوچھا
،،،،، میں چاہتا ہوں کہ میں حریم کے فرض سے اب بری و زمان ہو جاؤ،،
،،،،،بہت اچھی سوچ ہے میں بھی یہی سوچ رہی تھی،،،،
اور اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا کچھ ہی دیر میں عائشہ نیند کی وادیوں میں چلی گئی
@@@@@
شہرین ،،،،
داؤد صاحب جو کے حریم کے بابا جان تھے حریم کی مما کو گہرائی سوچ میں ڈوبے پکار ا جس پر شہرین آرام سے اُن کے پاس آ کے بیٹھ گئی
،،،،کیا بات ہے داؤد آج آپ صبح سے کسی سوچ میں گم ہیں خیریت ہے نہ،،،،
شہرین پاس بیٹھتے ہوئے داؤد صاحب کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیار سے پوچھنے لگی تو داؤد صاحب نے ہاں میں سر ہلا دیا
میں نے ایک فیصلہ کیا ہے،،
کیا فیصلہ کیا ہے،،،
شہرین نے نہ سمجھی سے پوچھا تو وہ گہرا سانس لے کر صحیح ہو کر بیٹھے
،،،شاہ،،،
عائشہ تھوڑا اونچا بولتے ہی شاہ کے گلے لگ کر رونے لگی جس پر شاہ ہنس دیا
،،،،یہ بن بادل برسات نہ کرو ورنہ میرا دماغ گھوم جانا ہے اور پھر میں نے آپ کو گھما کر رکھ دینا ہے جانِ شاہ،،،،،،،،
شاہ نے شرارت سے کہا کیونکہ وہ چاہتا تھا کے کسی طرح عائشہ کے دماغ میں سے یہ باتیں کچھ پل کے لیے نکل جائے
،،،،شاہ میں منحوس ہوں,,
عائشہ کہتے ساتھ ہی سختی سے شاہ سے الگ ہوئی جس پر شاہ نے اچھی خاصی گھوری سے نوازا اور پھر سے اُسے اپنے حصار میں لیا
بکواس نہیں کرو،، ایسا کچھ نہیں ہے،:،،
عائشہ پھر رونے لگی تو شاہ نے تنبیہ کہا
عائشہ۔۔،،
اس کا یہ فائدہ تو ہوا کے عائشہ رونے سے باز آ گئی مگر ہلکی ہلکی ہچکیاں وہ ابھی بھی لے رہی تھی جس پر شاہ نے اپنا حصار تھوڑا تنگ کیا تو وہ بھی بند ہو گئی پھر اسی طرح آرام سے وہ لیٹ گیا
مرد روتا نہیں میں کہتی ہوں مرد روتا ہے جب اس سے اس کی سب سے قیمتی چیز کے لی جائے نہ تب مرد روتا ہے کچھ دیر وہی بیٹھے رہنے کے بعد اچانک شاہ کو عائشہ کا خیال آیا تو وہ عائشہ کے کمرے کی طرف بھاگا وہ جانتا تھا وہ رو رہی ہو گی اور وہی ہوا محترمہ رونے میں ہی بزی تھی
عائش،،،
،،،،شاہ مجھے اکیلا چھوڑ دیں،،،،
کیوں میں نے اکیلا چھوڑنے کے لئے آپ کو اپنے ساتھ باندھ ہے،،،
عائشہ گٹھنوں میں سر دیئے بس رو رہی تھی شاہ نے شرارت سے کہا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ عائشہ روئے
،،،،شاہ،،،
عائشہ تھوڑا اونچا بولتے ہی شاہ کے گلے لگ کر رونے لگی جس پر شاہ ہنس دیا
،،،،یہ بن بادل برسات نہ کرو ورنہ میرا دماغ گھوم جانا ہے اور پھر میں نے آپ کو گھما کر رکھ دینا ہے جانِ شاہ،،،،،،،،
شاہ نے شرارت سے کہا کیونکہ وہ چاہتا تھا
جانتی تھی اس دفعہ بھی پھوپھو اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ برا کر کے ہی جائیں گی اور آرام سے ان سب کے درمیان میں سے آٹھ کر اپنے روم میں چلی گئی شاہ نے روکنے کی کوشش کی تو بابا جان نے اشارے سے منع کر دیا وہ جانتے تھے کہ آج اتنے سالوں بعد سب حقیقت سن کر عائشہ کی حالت خراب ہو گی مگر وہ کیا کرتے سچائی ایک نا ایک دن کھولنی ہی تھی خیر و گہرا سانس بھر کر اپنے کمرے کی طرف چلے گئے دانیال اور فاطمہ حسن اور مریم سب ہی کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھی دانیال فاطمہ اور حسن تو کچھ کچھ جانتے تھے مگر شاہ اور عائشہ اور مریم پر بھم کی طرح یہ باتیں گزری تھی سب فریق خاموشی سے اٹھ کر چلے گئے اور شاہ وہی بیٹھا رہا اک آنسو ہاں ایک آنسو گرا تھا اس کی آنکھوں میں سے وہ مرد تھا کہتے ہیں
خویلی کی تلاشی لی مگر نہیں ملا سب نے یہی سمجھا شاید وہ مر چکا ہے ایک دفعہ پھر سے دادا جان بازو پر وار ہوا اور وہ سه نہ سکے اور اُن کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ ہسپتال پہنچ گئے اس گھر کو شاید کسی بری نظر نے دیکھ لیا تھا بٹ پھوپھو کی ایک ہی رٹ تھی عائشہ منحوس ہے ایان اور دادا جان کے ساتھ یہ سب ہونے کے بعد پھوپھو کے دماغ میں یہ بات اور پکی ہو گئی کے عائشہ سچ میں منحوس ہے پھر وہ عائشہ کو مارنے لگی اسے کھانا تک نہ دیتی اور یہ سلسلہ آج تک قائم تھا سب کچھ حتم ہو گیا تھا اس دن سب کچھ،،،،،،،
بابا جان نے جب یہ بات سنائی تو سب ہی اُداس ہو گئے بابا جان نے گہرا سانس بھرا اور خاموشی سے اٹھنے لگے جب عائشہ وہاں سے اٹھی عائشہ کی حالت تو عجیب ہو گئی تھی وہ بہت حساس لڑکی تھی ہمیشہ سے ہی اپنے متعلق وہ ایسی باتیں سنتی آئی تھی
دادا جان نے اس پاس کے لوگوں کی مدد سے اس آگ کو بڑی مشکل سے بھوجایا اور جب اندر گے اور سیماب اور سلیمان کو جلے ہوئے پایا تو وہاں وہ ڈھے سے گی جوان بیٹے اور بہو کی موت نے دادا جان کو توڑ کر رکھ دیا اس دن ایک دفعہ پھر سے اسی گھر میں کہرام مچا تھا دو جوان لاشوں کو دیکھ کر سب ہی کی حالت زیر تھی پھر جب سکندر کو پتہ چلا تو وہ اور ثمرین جنازے جب اٹھانے لگے تب پہنچے اور تب اصل کہرام مچا تھا گھر میں تب ثمرین نہیں روئی تھی سب نے کہا یہ پاگل ہو جاۓ گی تین دن ہو چکے تھے ان کی موت کو مگر وہ نہیں روئی پھر سکندر نے اسے تھپڑ مارا تو کہیں جا کر و سکندر کے گلے لگ کر بہت روئی اس قدر روئی کے کوئی انتہا نہیں جب سب کو ایان کی گم شدگی کا پتہ چلا تو دن رات ایک کر دیے مگر وہ نہ ملا سب نے ایک دفعہ پھر جلی ہوئی
بابا اور بھی گھر کے اندر کوئی سرپرائز پلان کر رہے تھے کے اچانک گھر میں چند نقاب پوش فائرنگ کرتے ہوئے گس آئے گیٹ پر کھڑے گارڈز کو گولیوں سے و مر چکے تھے پھر سیماب اور لڑکیوں کی طرف آئے تو و جیسے ہی چیخنے لگی تو سیماب کے پیٹ میں میری تو و کراہ کر نیچے گر گئی
پھر کچھ لوگ گھر میں داخل ہوئے اور فرفیرنگ کی آواز آئی لڑکیاں سہمی ہوئی ڈری ہوئی ایک دوسرے سے چپکی ہوئی تھی پھر گھسیٹتے ہوئے سیماب کو اندر لے جایا گیا سلیمان صاحب کی تو حالات دیکھتے ہی سیماب ما رہی سہی جان بھی نکلنا شروع ہو گئی پھر بس گلیوں کی آواز تھی اور پھر اک سناٹا تھا پھر انہوں نے گھر کے ہر کونے میں پٹرول کا چڑکاؤ کیا اور آگ لگا دی
دھمکیاں تو اُن کو یہ کیس لینے کے پہلے دن سے ہی میلنی شروع ہو گئی تھی مگر جب کیس جیتنے کے بلکل قریب تھا تو سب حتم کر دیا گیا
اسی طرح سکندر نے اپنی شہر والی فیکٹری سنبھال لی اور بہت جلد اپنا شہر میں ایک نام پیدا کر لیا وہ بزنس کی دنیا میں بہت جلد فیمس ہوئے تھی زندگی پھر سے شروع ہو گئی تھی پر کمی تھی اور وہ دادا جان تھے
اُن دِنوں کی بات ہے سیماب کے پاس ایک کیس آیا تھا اور وہی کیس سلیمان کے پاس بھی تھا سیماب نے یہ کیس لڑنے لکھا فیصلہ کیا جس میں سلیمان نے بھر پور ساتھ دیا کیونکہ دونوں کا مقصد ایک ہی تھا ابھی کیس کو چلے چار مہینے ہی ہوئے تھے کے
ایک دن عائشہ لوگو کی زندگی میں ایک قیامت آ گئی یہ گرمی کے ایک دن کی بات ہے جب عائشہ اور فاطمہ مزے سے لان میں کھیل رہی تھی اور پاس مما بیٹھی ثمرین سے باتیں کر رہی تھی
اپنے ماں باپ کی طرح
اس وقت عائشہ کو پیدا ہوئے دو کچھ ہی مہینے ہوئے تھے جب پھوپھو نے اپنی اٹھ سالہ بیٹی نتاشا کے لیے شازب کا کہا چونکہ شازب کے لیے عائشہ کو پیدا ہوتی ہے دادا جان مانگ چکے تھے سیماب سے اس لیا سکندر صاحب نے انکار کر دیا جس پر بہت بڑا نازیہ پھوپھو نے فساد مچایا اور اس فساد کا نتیجہ یہ نکلا کہ سکندر اور سلیمان دونوں گھر چھوڑ کر چلے گئے کیونکہ پھوپھو نے کہا تھا یہ تو یہ دونوں یہاں رہیں گے یہ پھر میں دادا جان کو بیٹی بھی پیاری تھی مگر بیٹے و خاموش ہو گی دونوں بھی باپ کی خاموشی دیکھ کر خاموشی سے ہی چلے گئے
تین سال ہو چکے تھے اُن دونوں کو گھر سے گے ہوئے مگر کسی کو کچھ نہیں پتہ تھا کہ کہاں ہیں سلیمان نے کامیابی کی مناظر طے کرتے ہوئے ایس پی کا عہدہ حاصل کیا
اللہ نے اس کو بیٹی ہی دی وہ اللہ کا شکر کرتا نہیں تھکتا تھا
پھر دو سال بعد تینوں بھائیوں کو اللہ نے بیٹوں سے نوازا سکندر نے اپنی بیٹے کا نام شازب رکھا اور سلیمان نے اپنی بیٹے کا نام ایان رکھا اور سرفراز نے اپنی بیٹے کا نام سفیان رکھا زندگی بہت آسان لگتی تھی
پھر عائشہ جب دو مہینے کی تھی تب دادی جا اللہ کو پیاری ہو گئیں نازیہ پھوپھو ائی اور سب حتم ہو گیا وہ عائشہ کو منحوس سمجھنے لگی اس کے ساتھ بہت برا سلوک کرنے لگی انہوں نے الزام ترشی اور برا سلوک دونوں بہنوں کے ساتھ شروع کر دیا آئے روز گھر میں لڑائیاں ہونے لگی سب بچے ہر وقت ڈر ے ڈرے رہنے لگے ایشنا بیگم تو چاہتی ہے یہ تھی کے سب حتم ہو جائے یا اس وقت کی بات ہے جب شازب اور ایان اٹھ سال کے تھے ایان اور شازب دونوں ہی بہت خوبصورت تھی
پھر عائشہ کی مما یعنی سیماب کے پاس ایک کیس آیا جو کے سلیمان صاحب نے کسی گاؤں کے غریب بندے کی بیٹی کا معاملہ تھا اس کیس کے سلسلے میں روزآنہ سیماب اور سلیمان کی ملاقات ہوئی لگی یہ ملاقات کب محبت میں بدل گئی ان دونوں کو پتہ ہی نہ چلا پھر سلیمان صاحب نے بابا جان سے ذکر کیا تو انہوں نے سمرین سے بات کی تو اُن کو بھلا یہ اعتراض ہونا تھا وہ خود بہت خوش تھی تو ظاہر سی بات ہے اُن کی بہن بھائی بہت خوش ہی رہے گی
دو ہفتوں کے اندر اندر سلیمان اور سیماب کی شادی بھی ہو گئی سب گھر والے بہت اچھی تھی محبت کے خوبصورت سے رشتے اُن کے درمیان قائم تھے سب ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے پھر شادی کے ایک سال بعد فاطمہ پیدا ہوئی تو گھر میں خوشیاں پھیل ہے سلیمان کو بیٹیاں بہت پسند تھی اس نے اللہ سے بیٹی مانگی تھی
شادی کا دن جب آیا تو سب نے بڑی دھوم دھام سے برات دیکھی اس کے لیے و دن مشکل تھا مگر و اک سمجھدار لڑکی تھی بھائی نے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ تو پڑی بن ماں باپ کے بچی تھی آخر کیوں نہ روتی پھر اُن کا ویلکم بڑے جوش و خروش سے کیا گیا
شادی کے بعد ایشنا بیگم جو کے خویلی کی بڑی بہو تھی انہوں نے کچھ اچھا سلوک نہ کیا لیکن باقی سب بہت اچھے تھے اس کا بہت خیال رکھتے تھے سکندر تو ہر وقت ثمرین کے آگے پیچھے گھومتا رہتا تھا وہ اس سے بہت پیار کرتا تھا زندگی آسان تھی اور بہت اچھی بھی پھر سکرین اُمید سے ہوئی سب بہت خوش ہوئے پھر دانیال پیدا ہوا تو سے نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا دادا جان پوتے کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے دادی کی حالت بھی کچھ اسی طرح کی تھی پھر دانیال کے بعد حسن کی آمد نے مزید دادا جان اور دادی جان کو خوشیاں دی
عائشہ اور شاہ کی ماں دونوں بہنیں تھی شاہ کی مما بڑی تھی اور عائشہ کی مما چھوٹی تھی یہ دو بہنیں اور ایک بھائی تھے سیماب اور ثمرین ثمرین بڑی بہن تھی اس لیے انہوں نے بھائی کی مدد کے لیے ایک آفس میں جاب شروع کر دی سیماب جو کے چوٹی تھی تھوڑی البالی اور چہچل تھی وہ چھوٹی ہونے کے ساتھ ساتھ لاڈلی بھی تھی اس نے اپنی پڑھائی مکمل کرتے ہی وکالت شروع کر دی اسے وکیل بننے کا بہت شوق تھا وہ ایک بہت اچھی وکیل ثابت ہوئی اس نے غریبوں کے فری کیس لڑنے شروع کر دیے
پھر ایک دفعہ ثمرین کا رشتا آیا جو کے گاؤں کسی وڈیرے کا نواب زادہ تھا اس کے بھی نہ اچھی خاصی چھان بین کی تو پتہ چلا کہ لوگ بہت اچھے ہیں اس لیے اُنہونے ہاں کر دی اک مہینے کے اندر اندر انہوں نے شادی کی تاریخ طے کر دی سب ہی بہت اچھے سے ہوا
پر بابا جان آپ بھی جانتے ہیں اور وہ نتاشا اور احمز بھی آئیں گی ،،،،،،،،،،،
ظاہر سی بات ہے بچے سب ہی آئیں گی نہ،،،،،،،،،،
پھر مجھ سے لکھوا لیں کچھ نہ کچھ نیا کر کے ہی جائیں گی ،،،،،،،،،،،
اللہ بہتر جانتا ہے ہم انسان بس سوچ ہی سکتے ہیں،،،،،،،خیر سب اچھے سے ملنا آپ کی پھپھو ہے،،،،،،،،،
جی بابا جان ،،،،،،،
سب جانتے تھے کہ ان کی یہ پھوپھو کسی کی سگی نہیں تھی بہت فسادی ٹائپ کی بندی تھی اُن کی بیٹی توبہ ہر وقت شازب شازب کرتی اس کے پیچھے بھاگتی رہتی تھی پر عائشہ سے کو کوئی اللہ واسطے کا بیر تھا اُن کا ہر وقت تانے دیتی رہتی تھی اس کو ماں کے
عائشہ کی ماں اور شازب کی ماں دونوں بہنیں تھی
_________
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain