Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

ایان جلدی سے اٹھ کر اس کے ساتھ بیٹھا تو وہ ایان کے سینے پر سر رکھ گئی
حریم ار یو اوکے،،
آ۔۔۔آیا۔۔۔ایان مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے،،،
ایان نے اسے بیڈ پر لٹایا اور اس پر کمبل دیا اور خود اس کے پاس بیٹھ کر اس کے ہاتھ سہلانے لگا
حریم آنکھیں کھولو،،
ایان نے ہاتھ سہلاتے ہوئے کہا تو حریم کے وجود میں کوئی حرکت نہ ہوئی ایان کو فکر ہونے لگی
حریم پلیز یار آنکھیں تو کھولو:،
کوئی جواب نہیں
پھر ایان کچن میں گیا اور چائے جلدی جلدی بنائی پھر چائے کا کر اُسے تھوڑا ٹھنڈا کیا یہ حالات اس کے لیے عجیب تھے اس کبھی طرح کسی کا خیال رکھا تھا اس لیے اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی
اس نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ٹمپریچر چیک کیا تو وہ بہار سے تپ رہا تھا پھر جلدی سے ٹھنڈا پانی لیا اور اسے پٹیاں کرنے لگا اُسّے سچ میں بہت عجیب لگ رہا تھا مگر وہ پھر بھی کرتا رہا

Mirh@_Ch
 

مجھے کچھ نہیں سمجھنا اب ایان مجھے ابھی خود سے نفرت ہو رہی ہے آج میں واقعی مان گئی میں ہے وقوف ہوں آپ صحیح کہتے تھے میں بے وقوف ہوں اور مجھے بے وقوف بھی میرے آپنو نے بنایا ہے ،،،
وہ بہت بری طرح رو دی اور ایان ہار گیا وہ بے بس ہو گیا تھا نا جانے کیوں آج اسے حریم شوٹ بھی کر دے تو اسے افسوس نہیں ہو گا
ایان مجھے افسوس رہے گا میں آپ کے۔۔۔۔۔۔آپ کے ہاتھوں بھی ہے وقوف بن گئی آپ تو میرے بیسٹ فرینڈ تھے نہ مجھے کسی سے کوئی گلہ نہیں پر مجھے آپ سے گِلہ ہے ایان آپ سے ہے گِلہ مجھے،
وہ روتے ہوئے ایان کی طرف رخ کر کہنے لگی ایان اس کے گود میں پڑے ہاتھوں پر سر رکھ گیا
آئی ایم سوری ریئلی سوری،،
حریم کو چکر انے لگے تو اس نے اپنے ہاتھ کھنچے جس پر ایان نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ آنکھیں بند کیے ایک طرف گرنے کو تھی

Mirh@_Ch
 

حریم میری بات سنو،،،
مجھے کوئی بات نہیں سننی آپ کی مجھے کسی کی بات نہیں سننی،،
حریم پلیز تھوڑی سی بات سن لو پھر جو سزا دو گی ما سر جھکا کر مانو گا،،،
حریم خاموش ہو گئی تو ایان بولنے لگا
،،حریم میں جانتا ہوں تم پر کیا بیت رہی ہے پر یقین مانو یہ سب تمہاری بھلائی کے لیے تھا حریم میں مانتا ہوں مجھے سب کچھ خود تمہیں بتانا چاہیے تھا مگر اس سے پہلے ہی تمہیں پتہ چل گیا یقین مانو یہ سب مامو کا فیصلہ تھا وہ چاہتے تھے کہ کسی قسم کا بوجھ نہ پڑے تمہارے دماغ پر اس سب میں کسی قسم کی کوئی برائی نیت نہیں تھی حریم پلیز سمجھنے کی کوشش کرو جو بھی کیا ہے مامو یا میں نے اس میں کچھ غلط نہیں تھا کچھ سوچ کر ہی کیا ہو گا نہ کچھ بولو جی اب،،
،،آپ سب نے جو بھی کیا جا میں سمجھ چکی ہوں سب سمجھ گئی میں

Mirh@_Ch
 

مما بابا یہ کیا کیا آپ نے،،،،
وہ رونے لگی
حریم،،
کسی نے اسے پکارا تھا اور وہ اس انسان کو بے یقینی سے دیکھنے لگی
___________
آ۔۔۔آیا۔۔۔ایان،،
جی ایان کی جان،،
ایان گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھ گیا
ایان کیوں کیا میرے ساتھ ایسا،،،
وہ بہت بری طرح رو دی تو ایان خاموش ہو گیا

Mirh@_Ch
 

تو پھر دیر کیسی،،،، دو مہینوں کا وقت ڈال کر تا ریخ طے کر لیتے ہیں ،،،
ٹھیک ہے میں سب کو بتا دیتی ہوں اور آپ خود ایان اور حریم کو بولا کر اُن کو بتا لیں ،،،
چلیں ٹھیک ہے کرتے ہیں کچھ ،،
جی بہتر !! چلیں یہ میڈیسن لیں اور آرام کریں میں نماز پڑھ لو،،،
لائیں !!! لے لیتا ہوں ،،،
داؤد صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تو شہرین بھی مسکرا دی لیکن باہر کھڑے انسان کے طوطے چڑیاں کبوتر سب اڑ
چُکے تھے اور وہ بس دروازے کو گھور رہا تھا بے یقینی سے
نہیں ، ایسا نہیں ہو سکتا ،،،،
وہ وہی سے قدم پیچھے کی طرف بڑھانے لگا اور بھاگتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا

Mirh@_Ch
 

شہرین میں نہ فیصلہ کیا ہے کے اب سچائی کھل جانی چاہیے،،،
،،،کیسی سچائی،،،،
حریم اور ایان کے رشتے کی سچائی،،،
،،،ہاں !! صحیح کہ رہے ہیں آپ بچے بڑے ہو چکے ہیں چلو ایان کو تو پتہ ہے مگر حریم کو اب بتا دینا چاہیے،،،
،،،میں چاہتا تھا ایان اسے خود بتائے کے حریم اس کے نکاح میں ہے مگر اب میں کچھ اور بھی چاہتا ہوں،،
کیا؟؟؟؟،،،
شہرین نے نہ سمجھی سے پوچھا
،،،،، میں چاہتا ہوں کہ میں حریم کے فرض سے اب بری و زمان ہو جاؤ،،
،،،،،بہت اچھی سوچ ہے میں بھی یہی سوچ رہی تھی،،،،

Mirh@_Ch
 

اور اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا کچھ ہی دیر میں عائشہ نیند کی وادیوں میں چلی گئی
@@@@@
شہرین ،،،،
داؤد صاحب جو کے حریم کے بابا جان تھے حریم کی مما کو گہرائی سوچ میں ڈوبے پکار ا جس پر شہرین آرام سے اُن کے پاس آ کے بیٹھ گئی
،،،،کیا بات ہے داؤد آج آپ صبح سے کسی سوچ میں گم ہیں خیریت ہے نہ،،،،
شہرین پاس بیٹھتے ہوئے داؤد صاحب کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیار سے پوچھنے لگی تو داؤد صاحب نے ہاں میں سر ہلا دیا
میں نے ایک فیصلہ کیا ہے،،
کیا فیصلہ کیا ہے،،،
شہرین نے نہ سمجھی سے پوچھا تو وہ گہرا سانس لے کر صحیح ہو کر بیٹھے

Mirh@_Ch
 

،،،شاہ،،،
عائشہ تھوڑا اونچا بولتے ہی شاہ کے گلے لگ کر رونے لگی جس پر شاہ ہنس دیا
،،،،یہ بن بادل برسات نہ کرو ورنہ میرا دماغ گھوم جانا ہے اور پھر میں نے آپ کو گھما کر رکھ دینا ہے جانِ شاہ،،،،،،،،
شاہ نے شرارت سے کہا کیونکہ وہ چاہتا تھا کے کسی طرح عائشہ کے دماغ میں سے یہ باتیں کچھ پل کے لیے نکل جائے
،،،،شاہ میں منحوس ہوں,,
عائشہ کہتے ساتھ ہی سختی سے شاہ سے الگ ہوئی جس پر شاہ نے اچھی خاصی گھوری سے نوازا اور پھر سے اُسے اپنے حصار میں لیا
بکواس نہیں کرو،، ایسا کچھ نہیں ہے،:،،
عائشہ پھر رونے لگی تو شاہ نے تنبیہ کہا
عائشہ۔۔،،
اس کا یہ فائدہ تو ہوا کے عائشہ رونے سے باز آ گئی مگر ہلکی ہلکی ہچکیاں وہ ابھی بھی لے رہی تھی جس پر شاہ نے اپنا حصار تھوڑا تنگ کیا تو وہ بھی بند ہو گئی پھر اسی طرح آرام سے وہ لیٹ گیا

Mirh@_Ch
 

مرد روتا نہیں میں کہتی ہوں مرد روتا ہے جب اس سے اس کی سب سے قیمتی چیز کے لی جائے نہ تب مرد روتا ہے کچھ دیر وہی بیٹھے رہنے کے بعد اچانک شاہ کو عائشہ کا خیال آیا تو وہ عائشہ کے کمرے کی طرف بھاگا وہ جانتا تھا وہ رو رہی ہو گی اور وہی ہوا محترمہ رونے میں ہی بزی تھی
عائش،،،
،،،،شاہ مجھے اکیلا چھوڑ دیں،،،،
کیوں میں نے اکیلا چھوڑنے کے لئے آپ کو اپنے ساتھ باندھ ہے،،،
عائشہ گٹھنوں میں سر دیئے بس رو رہی تھی شاہ نے شرارت سے کہا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ عائشہ روئے
،،،،شاہ،،،
عائشہ تھوڑا اونچا بولتے ہی شاہ کے گلے لگ کر رونے لگی جس پر شاہ ہنس دیا
،،،،یہ بن بادل برسات نہ کرو ورنہ میرا دماغ گھوم جانا ہے اور پھر میں نے آپ کو گھما کر رکھ دینا ہے جانِ شاہ،،،،،،،،
شاہ نے شرارت سے کہا کیونکہ وہ چاہتا تھا

Mirh@_Ch
 

جانتی تھی اس دفعہ بھی پھوپھو اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ برا کر کے ہی جائیں گی اور آرام سے ان سب کے درمیان میں سے آٹھ کر اپنے روم میں چلی گئی شاہ نے روکنے کی کوشش کی تو بابا جان نے اشارے سے منع کر دیا وہ جانتے تھے کہ آج اتنے سالوں بعد سب حقیقت سن کر عائشہ کی حالت خراب ہو گی مگر وہ کیا کرتے سچائی ایک نا ایک دن کھولنی ہی تھی خیر و گہرا سانس بھر کر اپنے کمرے کی طرف چلے گئے دانیال اور فاطمہ حسن اور مریم سب ہی کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھی دانیال فاطمہ اور حسن تو کچھ کچھ جانتے تھے مگر شاہ اور عائشہ اور مریم پر بھم کی طرح یہ باتیں گزری تھی سب فریق خاموشی سے اٹھ کر چلے گئے اور شاہ وہی بیٹھا رہا اک آنسو ہاں ایک آنسو گرا تھا اس کی آنکھوں میں سے وہ مرد تھا کہتے ہیں

Mirh@_Ch
 

خویلی کی تلاشی لی مگر نہیں ملا سب نے یہی سمجھا شاید وہ مر چکا ہے ایک دفعہ پھر سے دادا جان بازو پر وار ہوا اور وہ سه نہ سکے اور اُن کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ ہسپتال پہنچ گئے اس گھر کو شاید کسی بری نظر نے دیکھ لیا تھا بٹ پھوپھو کی ایک ہی رٹ تھی عائشہ منحوس ہے ایان اور دادا جان کے ساتھ یہ سب ہونے کے بعد پھوپھو کے دماغ میں یہ بات اور پکی ہو گئی کے عائشہ سچ میں منحوس ہے پھر وہ عائشہ کو مارنے لگی اسے کھانا تک نہ دیتی اور یہ سلسلہ آج تک قائم تھا سب کچھ حتم ہو گیا تھا اس دن سب کچھ،،،،،،،
بابا جان نے جب یہ بات سنائی تو سب ہی اُداس ہو گئے بابا جان نے گہرا سانس بھرا اور خاموشی سے اٹھنے لگے جب عائشہ وہاں سے اٹھی عائشہ کی حالت تو عجیب ہو گئی تھی وہ بہت حساس لڑکی تھی ہمیشہ سے ہی اپنے متعلق وہ ایسی باتیں سنتی آئی تھی

Mirh@_Ch
 

دادا جان نے اس پاس کے لوگوں کی مدد سے اس آگ کو بڑی مشکل سے بھوجایا اور جب اندر گے اور سیماب اور سلیمان کو جلے ہوئے پایا تو وہاں وہ ڈھے سے گی جوان بیٹے اور بہو کی موت نے دادا جان کو توڑ کر رکھ دیا اس دن ایک دفعہ پھر سے اسی گھر میں کہرام مچا تھا دو جوان لاشوں کو دیکھ کر سب ہی کی حالت زیر تھی پھر جب سکندر کو پتہ چلا تو وہ اور ثمرین جنازے جب اٹھانے لگے تب پہنچے اور تب اصل کہرام مچا تھا گھر میں تب ثمرین نہیں روئی تھی سب نے کہا یہ پاگل ہو جاۓ گی تین دن ہو چکے تھے ان کی موت کو مگر وہ نہیں روئی پھر سکندر نے اسے تھپڑ مارا تو کہیں جا کر و سکندر کے گلے لگ کر بہت روئی اس قدر روئی کے کوئی انتہا نہیں جب سب کو ایان کی گم شدگی کا پتہ چلا تو دن رات ایک کر دیے مگر وہ نہ ملا سب نے ایک دفعہ پھر جلی ہوئی

Mirh@_Ch
 

بابا اور بھی گھر کے اندر کوئی سرپرائز پلان کر رہے تھے کے اچانک گھر میں چند نقاب پوش فائرنگ کرتے ہوئے گس آئے گیٹ پر کھڑے گارڈز کو گولیوں سے و مر چکے تھے پھر سیماب اور لڑکیوں کی طرف آئے تو و جیسے ہی چیخنے لگی تو سیماب کے پیٹ میں میری تو و کراہ کر نیچے گر گئی
پھر کچھ لوگ گھر میں داخل ہوئے اور فرفیرنگ کی آواز آئی لڑکیاں سہمی ہوئی ڈری ہوئی ایک دوسرے سے چپکی ہوئی تھی پھر گھسیٹتے ہوئے سیماب کو اندر لے جایا گیا سلیمان صاحب کی تو حالات دیکھتے ہی سیماب ما رہی سہی جان بھی نکلنا شروع ہو گئی پھر بس گلیوں کی آواز تھی اور پھر اک سناٹا تھا پھر انہوں نے گھر کے ہر کونے میں پٹرول کا چڑکاؤ کیا اور آگ لگا دی
دھمکیاں تو اُن کو یہ کیس لینے کے پہلے دن سے ہی میلنی شروع ہو گئی تھی مگر جب کیس جیتنے کے بلکل قریب تھا تو سب حتم کر دیا گیا

Mirh@_Ch
 

اسی طرح سکندر نے اپنی شہر والی فیکٹری سنبھال لی اور بہت جلد اپنا شہر میں ایک نام پیدا کر لیا وہ بزنس کی دنیا میں بہت جلد فیمس ہوئے تھی زندگی پھر سے شروع ہو گئی تھی پر کمی تھی اور وہ دادا جان تھے
اُن دِنوں کی بات ہے سیماب کے پاس ایک کیس آیا تھا اور وہی کیس سلیمان کے پاس بھی تھا سیماب نے یہ کیس لڑنے لکھا فیصلہ کیا جس میں سلیمان نے بھر پور ساتھ دیا کیونکہ دونوں کا مقصد ایک ہی تھا ابھی کیس کو چلے چار مہینے ہی ہوئے تھے کے
ایک دن عائشہ لوگو کی زندگی میں ایک قیامت آ گئی یہ گرمی کے ایک دن کی بات ہے جب عائشہ اور فاطمہ مزے سے لان میں کھیل رہی تھی اور پاس مما بیٹھی ثمرین سے باتیں کر رہی تھی

Mirh@_Ch
 

اپنے ماں باپ کی طرح
اس وقت عائشہ کو پیدا ہوئے دو کچھ ہی مہینے ہوئے تھے جب پھوپھو نے اپنی اٹھ سالہ بیٹی نتاشا کے لیے شازب کا کہا چونکہ شازب کے لیے عائشہ کو پیدا ہوتی ہے دادا جان مانگ چکے تھے سیماب سے اس لیا سکندر صاحب نے انکار کر دیا جس پر بہت بڑا نازیہ پھوپھو نے فساد مچایا اور اس فساد کا نتیجہ یہ نکلا کہ سکندر اور سلیمان دونوں گھر چھوڑ کر چلے گئے کیونکہ پھوپھو نے کہا تھا یہ تو یہ دونوں یہاں رہیں گے یہ پھر میں دادا جان کو بیٹی بھی پیاری تھی مگر بیٹے و خاموش ہو گی دونوں بھی باپ کی خاموشی دیکھ کر خاموشی سے ہی چلے گئے
تین سال ہو چکے تھے اُن دونوں کو گھر سے گے ہوئے مگر کسی کو کچھ نہیں پتہ تھا کہ کہاں ہیں سلیمان نے کامیابی کی مناظر طے کرتے ہوئے ایس پی کا عہدہ حاصل کیا

Mirh@_Ch
 

اللہ نے اس کو بیٹی ہی دی وہ اللہ کا شکر کرتا نہیں تھکتا تھا
پھر دو سال بعد تینوں بھائیوں کو اللہ نے بیٹوں سے نوازا سکندر نے اپنی بیٹے کا نام شازب رکھا اور سلیمان نے اپنی بیٹے کا نام ایان رکھا اور سرفراز نے اپنی بیٹے کا نام سفیان رکھا زندگی بہت آسان لگتی تھی
پھر عائشہ جب دو مہینے کی تھی تب دادی جا اللہ کو پیاری ہو گئیں نازیہ پھوپھو ائی اور سب حتم ہو گیا وہ عائشہ کو منحوس سمجھنے لگی اس کے ساتھ بہت برا سلوک کرنے لگی انہوں نے الزام ترشی اور برا سلوک دونوں بہنوں کے ساتھ شروع کر دیا آئے روز گھر میں لڑائیاں ہونے لگی سب بچے ہر وقت ڈر ے ڈرے رہنے لگے ایشنا بیگم تو چاہتی ہے یہ تھی کے سب حتم ہو جائے یا اس وقت کی بات ہے جب شازب اور ایان اٹھ سال کے تھے ایان اور شازب دونوں ہی بہت خوبصورت تھی

Mirh@_Ch
 

پھر عائشہ کی مما یعنی سیماب کے پاس ایک کیس آیا جو کے سلیمان صاحب نے کسی گاؤں کے غریب بندے کی بیٹی کا معاملہ تھا اس کیس کے سلسلے میں روزآنہ سیماب اور سلیمان کی ملاقات ہوئی لگی یہ ملاقات کب محبت میں بدل گئی ان دونوں کو پتہ ہی نہ چلا پھر سلیمان صاحب نے بابا جان سے ذکر کیا تو انہوں نے سمرین سے بات کی تو اُن کو بھلا یہ اعتراض ہونا تھا وہ خود بہت خوش تھی تو ظاہر سی بات ہے اُن کی بہن بھائی بہت خوش ہی رہے گی
دو ہفتوں کے اندر اندر سلیمان اور سیماب کی شادی بھی ہو گئی سب گھر والے بہت اچھی تھی محبت کے خوبصورت سے رشتے اُن کے درمیان قائم تھے سب ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے پھر شادی کے ایک سال بعد فاطمہ پیدا ہوئی تو گھر میں خوشیاں پھیل ہے سلیمان کو بیٹیاں بہت پسند تھی اس نے اللہ سے بیٹی مانگی تھی

Mirh@_Ch
 

شادی کا دن جب آیا تو سب نے بڑی دھوم دھام سے برات دیکھی اس کے لیے و دن مشکل تھا مگر و اک سمجھدار لڑکی تھی بھائی نے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ تو پڑی بن ماں باپ کے بچی تھی آخر کیوں نہ روتی پھر اُن کا ویلکم بڑے جوش و خروش سے کیا گیا
شادی کے بعد ایشنا بیگم جو کے خویلی کی بڑی بہو تھی انہوں نے کچھ اچھا سلوک نہ کیا لیکن باقی سب بہت اچھے تھے اس کا بہت خیال رکھتے تھے سکندر تو ہر وقت ثمرین کے آگے پیچھے گھومتا رہتا تھا وہ اس سے بہت پیار کرتا تھا زندگی آسان تھی اور بہت اچھی بھی پھر سکرین اُمید سے ہوئی سب بہت خوش ہوئے پھر دانیال پیدا ہوا تو سے نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا دادا جان پوتے کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے دادی کی حالت بھی کچھ اسی طرح کی تھی پھر دانیال کے بعد حسن کی آمد نے مزید دادا جان اور دادی جان کو خوشیاں دی

Mirh@_Ch
 

عائشہ اور شاہ کی ماں دونوں بہنیں تھی شاہ کی مما بڑی تھی اور عائشہ کی مما چھوٹی تھی یہ دو بہنیں اور ایک بھائی تھے سیماب اور ثمرین ثمرین بڑی بہن تھی اس لیے انہوں نے بھائی کی مدد کے لیے ایک آفس میں جاب شروع کر دی سیماب جو کے چوٹی تھی تھوڑی البالی اور چہچل تھی وہ چھوٹی ہونے کے ساتھ ساتھ لاڈلی بھی تھی اس نے اپنی پڑھائی مکمل کرتے ہی وکالت شروع کر دی اسے وکیل بننے کا بہت شوق تھا وہ ایک بہت اچھی وکیل ثابت ہوئی اس نے غریبوں کے فری کیس لڑنے شروع کر دیے
پھر ایک دفعہ ثمرین کا رشتا آیا جو کے گاؤں کسی وڈیرے کا نواب زادہ تھا اس کے بھی نہ اچھی خاصی چھان بین کی تو پتہ چلا کہ لوگ بہت اچھے ہیں اس لیے اُنہونے ہاں کر دی اک مہینے کے اندر اندر انہوں نے شادی کی تاریخ طے کر دی سب ہی بہت اچھے سے ہوا

Mirh@_Ch
 

پر بابا جان آپ بھی جانتے ہیں اور وہ نتاشا اور احمز بھی آئیں گی ،،،،،،،،،،،
ظاہر سی بات ہے بچے سب ہی آئیں گی نہ،،،،،،،،،،
پھر مجھ سے لکھوا لیں کچھ نہ کچھ نیا کر کے ہی جائیں گی ،،،،،،،،،،،
اللہ بہتر جانتا ہے ہم انسان بس سوچ ہی سکتے ہیں،،،،،،،خیر سب اچھے سے ملنا آپ کی پھپھو ہے،،،،،،،،،
جی بابا جان ،،،،،،،
سب جانتے تھے کہ ان کی یہ پھوپھو کسی کی سگی نہیں تھی بہت فسادی ٹائپ کی بندی تھی اُن کی بیٹی توبہ ہر وقت شازب شازب کرتی اس کے پیچھے بھاگتی رہتی تھی پر عائشہ سے کو کوئی اللہ واسطے کا بیر تھا اُن کا ہر وقت تانے دیتی رہتی تھی اس کو ماں کے
عائشہ کی ماں اور شازب کی ماں دونوں بہنیں تھی
_________