نہیں نہیں آپ کی مہربانی،،،،،،،،،،
سب ہنس دیے پھر کافی دیر سب بیٹھے باتیں کرتے رھے ساتھ چائے پیتے رہے
اس گھر کا اصول تھا شام کو سب اکھٹے بیٹھتے تھے اور اُن سب کی دن بھر کی تھکان اسی مزاج میں اُتر جایا کرتی تھی چھوٹی چھوٹی نوک جھوک ان سب کے درمیان چلتی رہتی تھی اور یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوش رہتے تھے
اچھا بچوں کل آپ سب کی بڑی پھوپھو آ رہی ہیں،،،،،،،،
چچا جان نے سب کو بتایا تو سب ہی سیریس ہو گے
نازیہ پھوپھو،،،،
حسن بھائی نے پوچھا تو چچا جان نے سر ہاں میں ہلا دیا
اب وہ کون سا نیا فساد کھڑا کرنے آ رہی ہیں،،،،،،،،،
بچے ایسا نہیں کہتے،،،،،،
دانیال بھائی نے سنجیدگی سے کہا تو چچا جان نے ٹوکا
دانیال بھائی نے شرارت سے کہا تو سب ہنس پڑے
عائشہ تو پچھتا رہی تھی یہاں آ کے سب مل گئے تھے کوئی اس کا ساتھ نہیں دے رہا تھا وہ سر جھکائے بس سن رہی تھی اسے شرم بھی آ رہی تھی مگر مرتی کیا نہ کرتی اب تو آ گئی تھی
بس کر دو اب بچوں کیوں تنگ کرتے ہو بچی کو،،،،،،
مما ہم تو بس یہ دیکھنا چاہتے تھے شازب بولتا ہے کے نہیں پر اس نے تو چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے نکما آج تو کم از کم بولتا،،،،،،،،:
حسن بھائی نے اچھی خاصی سونا دی تھی جس پر سب ہنس دیے وہ ایسا ہی تھا خاموشی سے سنتا رہتا تھا مذاق و زیادہ نہیں کرتا تھا
چھوٹی بھابھی سوری ہاں ہم مذاق کر رھے تھے،،،،،،،،
حسن بھائی نے مسکراتے ہوئے کہا تو عائشہ نے بھی مسکرا کہا
نہیں کوئی بات نہیں،،،،،
اچھا پھر سے شروع کر دیں،،،،،
عائشہ چچی جان کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا
چھوٹی بھابھی ڈائریکٹ اُن سے ہی پوچھ کو نہ ہم بیچاروں کو کیوں استعمال کر رہی ہیں،،،،،،،،،
حسن بھائی نے شرارت سے کہا تو عائشہ نے ناسمجھی سے کہا
کس سے؟؟؟؟؟ میں نے تو سب سے پوچھا تھا،،،،،،،
اور ہم سب میں وہ بھی شامل ہیں چھوٹی بھابھی،،،،،،،،،،
حسن کہاں باز آنے والا تھا سب مسکرا دیے شاہ اپنی مسکراہٹ چھپا گیا
ارے ہماری بیٹی کو تنگ مت کرو،،،،،،،،،
ہاں بھئی ہمارے شاہ کی جان کو تنگ مت کرو،،،،،،،،،،
سب ہنس پڑے تو عائشہ سر جھکا گئی جس پر چچی جان نے چچا جان کو مسکراتے ہوئے آنکھیں دکھائی پر مقابل بھی کہاں باز آنے والے تھے
ارے کہاں بابا جان تنگ کر رہے ہیں ہم شاہ کی جان کو کیوں چھوٹی بھابھی ہم کوئی آپ کو تنگ کر رہے ہیں،،،،،،،،
مریم بیٹے ٹھیک ہو نہ آپ،،،،،
جی جی مما ما ٹھیک ہوں،،،،،،
مریم بھابھی کی طبیعت ناسازگار تھی کیونکہ وہ پریگننٹ تھی اس لیے ان کا سب زیادہ خیال رکھتے تھے
حسن بیٹے خیال رکھا کرو ہماری بیٹی کا،،،،،،،،
جی مما رکھتا تو ہوں،،،،،
حسن بھی مریم بھابھی کی طرف دیکھ کر مسکرا دیے
اسلام و علیکم،،،،،
عائشہ نے اتی ہی سب کو سلام کیا جس کا جواب سب نے سر ہلا کر دیا
وعلیکم السلام،،،،،
کیسے ہیں سب،،،،،،
سب نے دل سے امین کہا
شازب کھانا کھاؤ گے،،،،،،
مریم بھابھی نے پوچھا
کچھ دیر تک کھاؤ گا ابھی نہیں،،،،،،
شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو بھابھی سر ہلا گئی
اسلام و علیکم بابا جان مما جان،،،،
حسن بھائی اور دانیال بھائی دونوں نے یک زبان سلام کیا جس کا سر ہلا کر جواب دیا گیا
کیا ہو رہا ہے،،،،،
کچھ نہیں بس باتیں،،،،،
دانیال بھی نے پوچھا تو فاطمہ اپی نے جواب دیا
جانِ پدر کہاں ہے بہو،،،،،
چچا جان جو ابھی لاؤنج میں آ کر بیٹھے تھے فاطمہ اپی سے شاہ کے بارے میں پوچھے لگے
بابا شازب ابھی افس سے آیا ہے فرش ہونے گیا ہے روم میں آتا ہے ہو گا،،،،،،،
اچھا ،،،،
اسلام و علیکم،،،،،،،
شاہ نے سلام کیا اور چچا جان کے ساتھ ہی بیٹھ گیا
وعلیکم اسلام،،،،،، جانِ پدر کہاں تھے اتنے دن ،،،،،،،
بس بابا آفس کا کام آج کل کچھ زیادہ ہوتا ہے اس لیے کچھ بزی تھا،،،،،،
اللہ ہمارے سب بچو کو کامیاب کرے
ماں نے پیشانی پے بوسہ دیتے ہوئے کہا پھر اسد بڑی گرم گوشی سے بابا جان کو ملا
ارے بابا کمزور نہیں ہو گے آپ لگتا ہے میری جدائی برداشت نہیں ہوئی آپ کو،،،،،،
اسد شرارت سے کہتے ہوئے بابا جان سے علیحدہ ہوا تو بابا جان ہنس دیے
ارے میرے بچے جب اپنے بچے بڑے ہو جائے نہ تو باپ کو کمزور ہونا پڑتا ہے،،،،،،
کوئی نہ دل تو ابھی بھی بچا ہی ہے نہ،،،،،،،
اسد نے شرارت سے کہا تو سب ہنس دیے پھر عدن بھائی کتپی گلے لگتے ہی وہ بچہ بن گیا
کیسے ہو پاٹنر،،،،،
میں تو فٹ مگر لگتا ہے زینی بھابھی نے آپ کی ہوا ٹائٹ کی ہوئی ہے،،،،،
چمچے اتے ہی شروع ہو گئے شرم کر اب تو بھائی کا ساتھ دے دے،،،،،،،،،
سب ہنسنے لگے پھر سب لاؤنج میں بیٹھ کر گپیاں مارنے لگے اور حریم اور بھابھی کچن میں کھانے پینے کے لئے چیزیں لینے چلی گئی
اسد نے بھابھی کو گم کھڑے دیکھ کر کہا اور ساتھ ہی جھک گیا
پیار تو دیں،،،،،
بابھی نے جیسا آیا ٹکا کے تھپڑ اسد کی قمر پر رسید کر دی
اے ہاے ظالم بھابھی قمر کی ہڈی پھاڑ دی ،،،،،،
اسد اپنی قمر کو سہلاتے ہوئے بھابھی سے کہنے لگا تو بھابھی ہنس دی
ارے میرے پیارے بھائی میں نے تو پیار دیا ہے"""""""
ارے میری ماں جی،،،،،
اسد ماں کو دیکھتے ہی ماں کی طرف بھاگتا ہوا گیا اور ماں کو گلے لگا لیا
کیسی ہیں آپ،،،،،
میرا بیٹا آ گیا ہے نہ اب تو میں بالکل ٹھیک ہو گئی ہوں،،،،،،،،
حریم نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا تو اسد بھائی ہنس دیا
اسد ،،،،،،
ایان نے ایک دم آگے ہو کر بڑی گرم جوشی سے گلے لگایا تو اسد بھی اپنے جگر سے بڑے جوش سے ملا
کیسا ہے جگر اور تو تو ایک ہفتے بعد آنے والا تھا نہ،،،،،،،،،،،
ایان نے علیحدہ ہوتے ہوئے پوچھا تو اسد ہنس دیا
سرپرائز کسی چیڑیا کا نام ہے جگرے،
________
واہ یہ بھی ٹھیک ہے،،،
ارے بھابھی کہاں گم ہیں آپ کا ہینڈسم بھی یہ ہے"""""
ح۔۔۔حریم""""
حریم بچے اندر اؤ نہ"""
کیوں کچھ رہ گیا ہے ک آب؟؟؟۔،،،،،،
بھابھی اور ایان اک دم بوکھلا گے
نہیں بچے آپ غلط سمجھ رہی ہو ،،،،:،،،،،
میں غلط سمجھ رہی ہوں یا آپ غلط کر رھے ھیں،،،،،،،
ایان کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا اور بھابھی تو بوکھلا ہی گئی تھی پھر ایک دم حریم ہنس بہت زور سے وہ اتنا ہنسی کے اس کی آنکھوں میں پانی آ گیا
سرپرائز """""""
حریم ایک دم پیچھے ہوئی اور اسد کو سامنے کرتے ہوئے اونچی آواز سے ہولی تو بابھی اور ایان کی جان میں جان آئی
شکلیں دیکھو ان کی اسد بھائی ایسے لگ رہا ہے جیسے ان کی کوئی چوری پکڑی گئی ہو ،،،،،،،،
آپ میری آئس کریم ہو شاہ کی جان،،،،
شاہ نے گلاس اٹھا کر لبوں کو لگا لیا ادھا پی کے باقی چھوڑ دیا عائشہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو شاہ چلے گے جس پر عائشہ نے حیرانگی سے اپنی ہستی دیکھی
حد ہے ویسے""""
وہ گلاس کو دیکھ کر بولی تو شاہ نے پیچھے سے اپنے حصار میں لیتے ہوئے لب اس کی گال پر رکھ دیا جس پر عائشہ کو کرنٹ ہی تو لگ گیا تھا وہ آنکھیں بند کر گئی
باقی جوس جانِ شاہ کے حصے کا """
سرگوشی کے انداز میں کہتا وہ اسے چھوڑ کر چلا گیا عائشہ نے پیچھے دیکھا تو وہ چلے گے تھے اس نے دوسرا ہاتھ منہ پر رکھا اور ہنس دی پھر جوس کی طرف دیکھا اور ٹھیک وہاں سے پیا جہاں سے تھوڑی دیر پہلے شاہ نے پیا تھا وہ اپنے اس عمل پر خود ہی شرما گئی اور ہنس دی"""""
@@@@@
فاطمہ اپی کے ٹوکنے پر عائشہ نے چڑ کر کہا
پکڑو اور دے کے اؤ"""
مریم بھابھی مسلسل ہنس رہی تھی جس پر عائشہ نے گھور کر دیکھا
آپی سمجھا لیں انہیں""""
عائشہ کہتی ٹرے اٹھائے چلی گئی
عائشہ نے ڈور نوک کیا جس پر فوراً
يس۔۔۔۔ کا جواب آیا تو عائشہ اندر چلی گئی شاہ بلکل تیار کھڑے تھی وہ حیران ہوئی اتنی جلدی ریڈی ہو گے وہ سوچ کے رہ گئی
ارے میری آئس کریم """
نہیں آپ نے جوس مگوایا تھا آئس کریم تو نہیں کہا،،،،،،،
عائشہ نے نہ سمجھی سے کھا تو شاہ ہنس دیا
شاہ کہتے ساتھ ہی روم کی طرف چلا گیا تو فاطمہ اپی نے عائشہ کو کہا کہ دو آئے جس پر عائشہ نے گھور کر اپی کو دیکھا تو مریم بھابھی ہنس پڑی
میں نہیں جا رہی """
عائشہ بچے بری بات ہے"""
مریم بھابھی نے مذاق میں اچھا خاصا افسوس کیا تو شاہ خود بھی ہنس پڑا
اچھا اچھا کل شام کو چلیں گے اور ہاں اپنی شوہروں کو بھی انوائیٹ کر لینا """"
شازب نے مسکراتے ہوئے کہا
جی جی ضرور آپ کی جیب سے ڈنر کرنا ہو اور وہ نہ آئیں امپاسبل ٫""""
فاطمہ بھابھی نے ہنستے ہوئے کہا تو سب ہنس پڑے عائشہ تو بس شاہ کی دیوانی ہوتی جا رہی تھی وہ سچ میں ایک بہت اچھا انسان تھا گھر میں سب اس کے گن گاتے رہتے تھے ہر وقت
شازب جوس پیو گے """"
فاطمہ اپی نے پوچھا تو شاہ جو موبائل پے کچھ ٹائپ کر رہا تھا بھابھی کی طرف دیکھ کر کہا
بھابھی روم میں بھیج دیں مجھے اس وقت ارجنٹلی آفس کے لیے نکلنا ہے""""
شازب میں سوچ رہی تھی کہیں باہر چلیں کافی عرصہ ہو گیا ہے باہر نہیں گے""""
ہاں میں بھی سوچ رہی تھی شازب کیا خیال ہے تمہارا"""
مریم بھابھی نے کہا تو فاطمہ اپی نے بھی ان کا ساتھ دیا
تو اپنی شوہروں کو بولو مجھ غریب کو کیوں لوٹنے کے چکر میں ہو""""
بڑے ہی کوئی کنجوس بھائی ہو ویسے"""
نوازش اس تعریف کے لیے"""
شاہ نے شرارت سے سر خم کیا تو بھابھیان ہنس پڑی عائشہ جو فاطمہ اپی کے پیچھے کھڑی تھی فاطمہ اپی کی پشت سے ٹیک لگا کر ہنس دی فاطمہ اپی کو اپنی اس چھوٹی کی ہنسی بہت پیاری لگی تو بے احتیاط دعا مانگی اس کی خوشیوں کی
او ہیلو کیوں غریبوں کی بھی توہین کر رہی ہو جس انسان کے روم کا ایک ڈیکوریشن پیس بھی دس ہزار سے کم کا نہیں جو ہر مہینے ہونڈا گاڑیاں بدلتا ہے وہ بیچارہ کتنا غریب انسان ہو گا
سر کو خم کرتا وہ وہ سے چلا گیا
مہتاب چوہدری ہاہاہاہا تا ریخ ایک دفعہ پھر خود کو دہرائے گی """""
@@@@@
ارے یہ چاند کہاں سے نکل آیا"""
شازب جو کسی کام کے لیے کچن میں آیا تھا دونوں بھابیوں اور عائشہ کو وہاں دیکھ کر شرارت سے کہنے لگا
اوہو شازب چاند ہمیشہ اپنی جگہ سے ہی نکلتا ہے تم ہی وقت پر دیدار نہیں کرتے"""
مریم بھابھی کہاں کم تھی چوکے پے چھکا مار دیا انھونے جس پر عائشہ چڑ گئی اس کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہاں سے بھاگ جاتی وہ رائتہ بنا رہی تھی جو ابھی شروع ہی کیا تھا اس نے
مریم بھابھی بریانی بنا رہی تھی اور فاطمہ اپی قورمہ اور ساتھ ساتھ جوس بھی شازب کی کمپنی دونوں بھابھیان ہمیشہ سے ہی بہت انجوائے کرتی تھی اُن کو یہ موقع بھی کبھی کبھی ملتا تھا
ایان ایس پی سلیمان مہتاب چوہدری کا بیٹا اور شازب سکندر مہتاب چوہدری کا بیٹا"""
رستم ہاشمی کا قہقہ بلند ہوا جو بہت ہی بلند تھا جس پر شانی نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
تو طے ہوا مہتاب چوہدری کو اپنے خاندان کے وارث بھی عزیز نہیں ہیں"""""
رستم ہاشمی نے ایک دفعہ پھر سے قہقہ بلند کیا تو شانی پھر سے نہ سمجھا
سمجھ جائیں گے سمجھ جاؤ گے ابھی وقت انے دو """"
رستم ہاشمی ہنستے ہوئے اندر چلا گیا
مزید پتہ لگاؤ ان دونوں کے بارے میں""""
جی صاحب"""
صاحب جی """
وہ کرسی پر بیٹھے سامنے ٹیبل پر پاؤں رکھے ہاتھ میں سگریٹ پکڑے بڑے مزے سے كش لگا رہا تھا جب رستم ہاشمی کا خاص بندہ شانی آیا تو وہ سیدھا ہوا
کیا خبر لائے ہو""""
صاحب پتہ چل گیا کس نے ہمارے اڈے تباہ کیے تھے""""
بھونک آب کون تھا وہ""""
صاحب ایس پی ایان سلیمان چوہدری اور ڈی ایس پی شازب سکندر"""
دونوں کے بارے میں معلومات لائے ہو""""
کچھ سوچتے ہوئے رستم ہاشمی بولا تو شانی نے ہاں میں سر ہلایا
بتاؤ"""کوں ہیں یہ دونوں"""
چوہدری خاندان کے نواب زادے ہیں دونوں""""
اچھا جائیں اب مجھے سونا ہے"""
ہاہاہا جا رہی ہوں"""
جا کر ذرا پیار سے بتائیےگا پتہ نہیں کوں سا بھم پھوڑ ے گی میرے سر پر""""
تمہارا پتہ مگر اس کے سر پر ضرور پھٹتے گا ""
بھابھی نے ہنس کر کہا اور باہر جانے کے لیے دروازہ کھولا
دروازے پر کھڑی ہستی کو دیکھتے ہی نہ صرف بھابھی بلکہ ایان بھی خوف زدہ ہو گیا
________
جی نہیں بقول تمہارے ہو گی میرے نہیں"""
وہ تو ہے"""
شرم کرو"""
بھابھی نے شرم دلانی چاہی تو ایان ہنس دیا
کیوں؟؟؟
بیوی ہے تمہاری"""
بیوی مگر جانِ ایان زیادہ ہے"""
کیا۔۔۔کیا۔۔۔کیا؟؟؟؟؟""
بھابھی نے زور دار قہقہ لگایا تو ایان شرما سا گیا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain