بھابھی سچ میں پریشان ہو گئی تھی تو ایان کو افسوس ہوا
ٹھیک ہے آپ بتا دیں بٹ مامو اور مامی سے پوچھ لیں"""
اُن سے کیا پوچھنا وہ بھی یہی چاہتے ہیں"""/
چلیں آپ کی زمہ داری ہے ویسے بھی میں نہیں چاہتا وہ کسی اور سے سنے اور کسی کی باتوں میں نہ آ جائے"""
صحیح کہا تم نے یہی تو میں کہ رہی ہوں اب وہ بڑی ہو گئی ہے سمجھ جائے گی بات کو"""
چلو پھر بتاتی ہوں کسی طرح تمہاری بے وقوف حریم کو"""
ایان ہنس دیا
مان گئی آپ بھی کے وہ بیوقوف ہے"""
ایان فرش ہو کا باہر آیا تو بھابھی چائے لا چکی تھی
شکریہ بہت بہت"""
ایان نے کپ اٹھاتے ہوئے کہا تو بھابھی مسکرا دی
ویسے تمہاری حریم سے بات ہوئی"""
نہیں کیوں خریت ہے"""
ایان نے سوالیہ نظروں سے پوچھا
ہاں خیریت ہے بس اُداس ہے تمہارے جانے کے بعد سے تم بھی پھر کون سا چکر لگاتے ہوئے تین دن بعد آج گھر تشریف لا رہے ہو کام از کم اریان بن کے ہی کر دیا کرو""""
سوری بھابھی مجھے علم نہیں تھا """
ایان نہ ٹوٹی پھوٹی صفائی دی تو بھابھی پھر گویا ہوئی
پتہ نہیں کیوں ایان وہ تمہاری منتظر رہتی ہے ہر وقت اریان اریان کرنے کی بجائے ایان ایان کہتی ہے تمہارا فیصلہ تھا نہ اریان بننے کا پر کب تک ہم اس کے ساتھ دھوکہ کریں گے """"
شازب اسے دیکھے مسکرا دیا لیکن وہ اپنی مسکراہٹ چھپا جاتا تھا
کافی لا دیں"""
جی""
عائشہ وہی سے مڑ کر کچن کی طرف چلی گئی
شازب کی نظروں نے اس کے غائب ہونے تک اس کا پیچھا کیا مگر کوئی دیکھ چکا تھا
اہم اہم۔۔۔""""
مریم بھابھی نے شرارتی انداز میں کھانسی کی تو شازب نظریں جھکا گیا
@@@@@
اسلام و علیکم بھابھی !!!!ایک کپ چائے میرے کمرے میں لے آئے پلیز""""
ایان ابھی آفس سے آیا تھا کچن کے سامنے سے گزرتے ہوئے بھابھی کو چائے لانے کا بول کے خود روم میں فرش ہونے چلا گیا
عائشہ جو ناخنوں کے ساتھ کھیل رہی تھی ایک دم اس انوکھے آرڈر پر چونک کر مریم بھابھی کو دیکھا مریم بھابھی عائشہ کو کہ کر بڑے آرام سے فاطمہ اپی سے باتیں کرنے لگی تو عائشہ نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا
کہاں پھنس گئی اس نے جل کے سوچا اور آٹھ کے سب کو چائے سرو کرنے لگی
دادو چائے""
تھنک یو بیٹے"""
عائشہ نے مسکرانے پر ہی اکتفا کیا
پھر چچا جان کو دی چچی جان کو شوگر فری دینی تھی وہ دی پھر فاطمہ اپی کو پھر مریم بھابھی کی دفعہ اچھی خاصی شوگر مکس کی اور پکڑا دی اب رہ گے محترم شاہ صاحب اس نے آنکھیں بند کی زور سے پھر کھولی اور گہرا سانس لیا پیچھے مڑی آنکھیں اس نے جھکائی اور پوچھا
چائے ۔۔۔۔دوں۔۔۔آپ ۔۔۔۔کو""""
آنکھیں جھکائے اس نے رک رک کر پوچھا
شازب دیکھ کر مسکرا دیا وہ جانتا تھا وہ کام از کام دو دن تک تو اس کی طرف نہیں دیکھے گی
ارے اؤ نہ میرے پاس بیٹھو """
دادا جان نے شاہ کو یوں کھڑے دیکھ کر کہا تو دوسری سائڈ پر شازب بیٹھ گیا
فاطمہ اپی شازب کے لیے کچھ کھانے کو لینے چلی گئی ہیں البتہ مریم بھابھی خوب انجوئے کر رہی تھی عائشہ کی حرکتوں کو اور ساتھ ہی مصنوعی کھانسی بھی کر رہی تھی
دادا جان شازب سے اس کی جاب کے بارے میں پوچھ رہے تھے وہ ہر بات دادا جان کو بتاتا تھا اپنی جاب کے بارے میں بتانے کے ساتھ ساتھ شاہ کی نظریں بار بار عائشہ کی طرف اٹھ رہی تھی جو لا تعلق سے بیٹھی اپنے ناخنوں سے کھیل رہی تھی
فاطمہ اپی چائے اور کھانے کی چیزوں لیں کر آئی تو مریم بھابھی نے لے کر ٹیبل پر رکھی
عائشہ چلو سب کو چائے سرو کرو""""
ما۔۔۔ما۔۔۔مجھے کیا پتہ ہو گا ما۔۔میں اُن کے ساتھ تھوڑی ہوں""""
عائشہ نے بوکھلاہٹ میں جلدی جلدی جواب دیا اور فاطمہ آپی کی طرف کھا جانے والی نظروں سے دیکھا
فاطمہ عائشہ کی بڑی بہن تھی دانیال کی بیوی تھی اور چچا جان کی بڑی بہو فاطمہ اپی کے دو بیٹے تھے جو جوڑوا تھے آفاق اور سمیر ہر وقت گھر میں کبھی ادھر اور کبھی اُدھر بھاگتے رہتے تھے چاچو اور چچی کی تو ان دونوں میں جان تھی
اسلام و علیکم"""
ارے وعلیکم السلام یاد کیا اور ہمارا بیٹا حاضر ہو گیا ماشا اللہ بڑی لمبی عمر ہے ہمارے بچے کی"""
شازب نے اتے ہی سب کو سلام کیا جس کا سب نے جواب دیا
شازب ہنس دیا
عائشہ شازب کو دیکھ کر مزید دادا جان کے قریب ہو کے بیٹھ گئی وہ شازب سے نظریں چرا رہی تھی سر جھکائے وہ بالکل لا تعلق سے بیٹھی تھی
دادا جان سمجھا لیں انہیں """
عائشہ نے دادا جان کی طرف دیکھتے ہوئے انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے کہا تو سب ہنس دیئے
آپ کو تو میں پوچھ لو گی ""
ہاہاہاہا شوق سے پوچھنا"""
مریم بھابھی نے چیڑتے ہوئے کہا
ارے بچوں بس کرو ہماری بیٹی کو تنگ نہ کرو """
اس دفعہ چچی جان بولی تو سب خاموش ہو گی ورنہ آج مریم بھابھی نے عائشہ کو اچھا خاصا چڑانا تھا
ارے بھئی شازب کہاں ہے آج بھی غائب ہیں جناب """"
عائشہ کو پتہ ہو گا"""
عائشہ کو اپنے ہی دھیان اپنی ناخنوں سے کھیل رہی تھی ایک دم فاطمہ اپی کی بات پے اچھل ہی تو گئی تھی دادا جان کو اپنی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے پا کر و مزید سٹپٹا گئی
ارے عائشہ بچے اؤ ہمارے پاس بیٹھو ویسے بھی آج واپسی ہے ہماری """
اسلام و علیکم"""
وعلیکم السلام"""
کیسے ہو آپ سب """
عائشہ دادا جان کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی
آ گئی یاد ہماری بھی"""
کیا اپی یاد اُنہیں کیا جاتا ہے جو بھول جائے اور آپ سب تو اپنی جان ہو"""
عائشہ نے مسکراتے ہوئے آنکھیں جھپکا کے کہا تو مریم بھابھی ہنس دی اور ساتھ مصنوعی کھانسی کرنے لگی
سوچ لو سب تمہاری جان ہیں نہ"""
مریم بھابھی نے آنکھ مارتے ہوئے کہا اور ہنس دی
عادت سے مجبور وہ روم میں آ کر نماز پر کے سو گئی کیونکہ کالج سے تو وہ فری ہو گئی تھی اس لیے بے فکری سے مست مگن سوتی بنی
@@@@
یہ صبح سچ میں بہت پیاری تھی وہ لیٹ ہی اٹھی تھی آٹھ کے فرش ہو کے وہ باہر چلی گئی جہاں سب مزے سے بیٹھے تھے سوائے دانیال بھی اور حسن بھائی کے وہ آفس جا چُکے تھے چچا جان آج کل افس نہیں جا رھے تھے
___________
چچا جان دادا جان کی وجہ سے آفس نہیں جا رھے تھے کیونکہ جب جب دادا جان اُن کے پاس آتے وہ سب کام چھوڑ کر اپنا سارا ٹائم دادا جان کو دیتے کیونکہ وہ دادا جان سے بہت پیار کرتے تھے دادا جان میں اُن کی جان بستی تھی انہوں نے کئی دفعہ دفعہ دادا جان سے کہا تھا کہ وہ یہاں ان کے پاس آ جائے مگر نہ جانے کیوں دادا جان نہیں اتے تھے
"""
عائشہ کی جب آنکھ کھلی تو فجر کی اذانیں ہو رہی تھی اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر یہ کیا شازب کا بازو اس کے اوپر تھا اس نے آرام سے بازو پیچھے کیا اور اٹھنے لگی مگر اس کا دوپٹہ شاہ کے نیچے تھا وہ ایک جھٹکے سے شاہ کے برابر پھر سے آ گری شاہ کی اس افت پر آنکھ کھل گئی عائشہ نے دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیے شازب عائشہ کو یوں دیکھ کر مسکرا دیا اور آہستہ سے لب اس کی پیشانی پر رکھ دیے اور آہستہ سے کہا
میری زندگی کی اس صبح کو بیسٹ ترین بنانے کا بہت شکریہ جانِ شاہ"""""
پھر آہستہ سے دوپٹہ چھوڑ کر کروٹ بدل گیا وہ جانتا تھا عائشہ شرما رہی ہے اور وہ شرم کے مار ے کبھی بھی ہاتھ نہیں اٹھائے گی منہ سے
عائشہ نے ہاتھ تھوڑا سا پیچھے کیا تو شاہ کو دوسری طرف رُخ کیے دیکھ کر آرام سے آٹھ کر باہر بھاگ گئی تو دوسری طرف شاہ مسکرا گے
صاحب پتہ نہیں اچانک ہی پولیس نے چھاپا مارا تھا ہمیں کچھ سمجھ نہیں آنے دی انہوں نے"""
نہیں پتہ نہ """
رستم ہاشمی نے اس کے گھریبان سے پکڑ کر پوچھا"""
ج۔۔۔جی صاحب""""
تو پتہ لگاؤ نہ کمینوں"""""
اس نے زور سے پیچھے لکڑیوں پر اسے پھینکتے ہوئے چلا کر کہا
مجھے کل تک پتہ بتاؤ ورنہ سب کے سب اپنی موت کا انتظام کر لینا""
وہ وہاں رکھی چیزوں کو ٹھوکر کرتا اور اُن سب کو وارن کرتا وہاں سے چلا گیا
رستم ہاشمی ایک بہت بڑا اسمگلر تھا جو کے نو جوان نسل کو نشے اور نہ جانے کن کن کاموں پر لگتا تھا ہتھیاروں کی سمگلنگ دوسرے ملکوں میں کرنا لڑکیاں کڑنیپ کرنا اور ان سے کوٹھو پر کام کروانا اور نہ جانے کئی کام کرنا اس کا کام تھا خود یہ آج تک کسی کے سامنے نہیں آتا تھا مگر اس نے اپنے ہر کام کے لیے خاص خاص بندے رکھئے ہوئے تھے جو اس کے کام کرتے تھے
کون ہے وہ خبیث جو میرے ٹھکانے تباہ کر گیا ہے اور تم کمبہتو کو پتہ بھی نہیں چلا""""
رستم ہاشمی مسلسل اپنی چیلو پر کھڑا چلا رہا تھا
بولو تم کتوں کو میں نے بس پیسہ کھانے کے لیے پالا ہوا ہے جو یہ بھی پتہ نہ لگا سکے کے کون میرے ٹھکانوں کو تباہ کر گیا""""" بھوکنو اب کتو"""
وہ ایک پرانی سی عمارت تھی جو کے اس کا ایک اور ٹھکانہ تھی جہاں پر کھڑا وہ اپنی کتے نما انسانوں پر چلا رہا تھا اور ساتھ اپنے ٹھکانوں کی تباہی پر رو رہا تھا پاس ہی ایک بندا پڑا تھا جس کو ابھی ابھی گولی مار کے مار دیا تھا
صاحب ہمیں سچ میں نہیں پتہ ہاں مگر ایک کو گولی لگی تھی صاحب اور وہ ڈھیٹ پھر بھی بھاگ گیا """
شانی جو کے اس کا وفادار بندہ تھا اس نے جواب دیا
کون ہے وہ جو میری چار اڈے ایک دن میں ہی تباہ کر گیا """
کچھ نہیں میں تھک گیا ہوں نیند آ رہی ہے مجھے """
ٹھیک ہے سو جائیں گڈ نائٹ"""
گڈ نائٹ اور ہاں ""
جی"""
گھر میں کسی کو مت بتانا ٹھیک ہے""""
جی ٹھیک ہے """
اللہ حافظ""""
اللہ حافظ""""
حریم نے کمبل ایان کے اوپر درست کیا اور جاتی دفعہ لائٹ آف کی اور آرام سے دروازہ بند کرتی اپنے روم میں چلی گئی
ایان یہ جاب کرنے کیوں نہیں دیتے آپ"""
جاب چھوڑنا مسئلے کا حل نہیں ہوتا حریم کبوتر اگر آنکھیں بند کر لے تو بلی اسے کھانے سے باز نہیں آتی اسی طرح جاب چھوڑ دینے سے مجھ پر حملے کرنے والے باز نہیں آئیں گی """"
پر ایان اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا بھی ہے وقوفی ہے نہ اور اگر آپ کو کچھ ہو گیا تو"""""
تو تمہاری زندگی کی رنگینیاں حتم ہو جائیں گی میری جان"""
ایان نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا
مطلب وہ کیسے"""
حریم ہمشہ ہی ایان کی ان باتوں میں الجھ جاتی تھی وہ نہیں جانتی تھی کے ایان اتنی عجیب باتیں کیوں کرتے ہیں جو اس کے دماغ کے اوپر سے گزر جاتی ہیں
کچھ خاص نہیں کیا گولی لگنا کوئی عام سی بات ہے آپ کا نزدیک"""
حریم بہت حیران ہوئی
حریم نورملی بیہو کرو یار"""
ایان کیسے کوئی انسان نارمل رہ سکتا ہے یہ سب دیکھنے کے بعد """
کم از کم تمہیں تو رہنا چاہئے عادت ڈالنی چاہیے ان سب کی"""
مطلب"""
حریم نے نہ سمجھی سے پوچھا
کچھ نہیں"""
کیسے ہوا یہ سب"""
آفیسرز کے ساتھ میٹنگ کے لیے جا رہا تھا راستے میں کسی نے حملے کر دیا"""
بتاتا ہوں پہلے یہاں سائڈ ٹیبل سے فرسٹ ایڈ باکس نکالو"""
حریم نے باکس نکالا اور پھر آرام سے پٹی کھولنے لگی ایان کو درد تو بہت ہوا مگر برداشت کرتا رہا حریم نے پٹی کھولی اور زخم کو صاف کیا پھر باکس سے مطلوبہ چیزیں اس پر لگائی جو جو ایان نے اسے بتایا و ویسا ویسا کرتی گئی پٹی کرنے کے بعد چیزیں سمیٹی اور ایان کے لیے دوسری شرٹ لینے چلی گئی ایان اس کا ضبط دیکھ کے رہ گیا
شرٹ لا کر ایان کو دی اور خود کچن سے ہلدی والا دودھ لینے چلی گئی واپس ائی تو ایان شرٹ یوہی رکھئے آرام سے بیٹھے تھے اس نے دودھ کا گلاس ایک سائیڈ پر رکھا اور احتیاط سے ایان کو شرٹ پہنانے لگی پھر دودھ کا گلاس ایان کو پکڑا کر خود بھی پاس ہی بیٹھ گئی
اب بتائیں کیا ہوا تھا"""
کچھ خاص نہیں بس گولی لگی تھی""""
ایان نے ایسے بتایا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو
حریم نے جیسے ہی شرٹ اتارنا شروع کی اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹتی چلی گئی وہ مزید شرٹ جلدی سے اوپر کرنے لگی
ایان"یہ۔۔۔۔۔یہ۔۔۔۔کا۔۔۔۔۔کیا۔۔۔ہے ایان""""""
__________
حریم نے جیسے ہی شرٹ اوپر کی اسی خون نظر آیا اس نے مزید اوپر کی تو اسے اور زیادہ خون نظر آیا تھا تک کے کندے تک لے گئی تو کندھے پے خون سے بھری پٹی لگی ہوئی تھی وہ گھبرا گئی اسے اتنا خون دیکھ کر ڈر لگ رہا تھا اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے مگر پھر بھی اس نے شرٹ اُتار دی ایان کو اس وقت نہ قابلِ برداشت درد کی شدت محسوس ہو رہی تھی بہت مشکل سے اس نے بازو اوپر کر کے شرٹ اُتر وائی تھی اور اوپر سے حریم بھی رونا شروع ہو گئی تھی
کچھ نہیں ہے حریم ڈونٹ وری.""""
ایان یہ۔۔۔۔۔۔آپ کو ۔۔۔۔۔۔۔درد ۔۔۔۔اور یہ۔۔۔۔۔خ۔۔۔۔۔خون ۔۔ایان ہوا کیا ہے پل۔۔۔پلیز بتائیں نہ """"
کچھ نہیں """
ہمم"""
""اِدھر پاس اؤ"""
حریم نہ سمجھی سے ایان کو دیکھنے لگی
او نہ"""
حریم ایان کے قریب گئی
میری شرٹ اتارو"""
جی۔۔۔"""
جی۔۔""""
اچھا""""
ہیلپ چاہیے ہوئی تو لی لینا""
اوکے ضرورت ہوئی تو لے لوں گی""
ایان اس کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا
کیا ہوا""
کچھ سوچ رہا ہوں""
کیا؟؟؟"""
میری دسترس میں کب اؤ گی ""
ایان نے دھیمی آواز میں کہا
کیا؟؟کہا"""
ہمم جاؤ دو کپ کافی لاؤ میں فرش ہو لو اتنی دیر میں"""
جی اچھا"""
حریم کافی بنانے چلی گئی اور ایان فرش ہونے
جب وہ روم میں کافی لے کے گئی تو ایان کچھ فائلز کھولے بیٹھے تھے حریم کو دیکھتے ہی فائلز ایک سائیڈ پے رکھ دی
حریم نے ایک کپ ایان کو دیا اور دوسرا خود لے کے ایان کے پاس ہی بیٹھ گئی
پیپرز کب ہیں """
نیکسٹ ویک ""
صحیح""
تیاری کیسی ہے"""
ٹھیک ہے""
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain