-" اور پھر ضروری تو نہیں کہ تم محبت کی بھیک مانگو گی تو اسے محسوس ہو گا کہ تم اس سے محبت کرتی ہو، تم اپنا وجود مٹی میں ملا دو گی اس کے پیروں میں جھک جاٶ گی، گڑگڑاٶ گی کہ مت جاٶ میں نہیں جی سکتی تو تمھیں کیا لگتا ہے وہ تمہیں اٹھاٸے گا؟ کیا وہ تم پر ترس کھاٸے گا_؟ وہ رحم تو شاید کر دے گا محبت نہیں اسے محبت ہوتی تو وہ اس مقام تک نہ لاتا وہ تو تمہیں تاج بنا کہ رکھتا تمہیں اپنے پیروں میں جھکا کہ بھیک نہ منگواتا اپنی محبت کی لاج رکھو اور اسے چھوڑ دو آج جھک جاٶ گی پھر کل ٹھکراٸی جاٶ گی خود کو برباد مت کرو مسکراٶ اور جی کر دکھاٶ لڑکیو، میری طرح اپنی زندگی برباد مت کرو سبق حاصل کرو میری زندگی سے_" 🙂🔥
سنو!!! بات ساری طلب کی ہے، *جب طلب بڑھتی ہے نا تو تڑپ بھی بڑھ جاتی ہے،،، اور جب تڑپ بڑھتی ہے تو درد بھی بڑھ جاتا ہے،، اور جب درد تمام حدوں کو توڑتا ہوا آنکھوں سے آنسوؤں کے رستے بہتا ہے نا تب انسان خودبخود سجدے میں گر جاتا ہے پھر درد کا سجدہ ہو اور رب نا ملے؟ ممکن ہی نہیں۔۔🥀🖤🙃