اپنی سوچوں اور خیالات کی زنجیروں کو توڑ ڈالیں-* اور اصل وجہ تلاش کریں۔ جب آپ اصل تلاش کر لیتے ہیں تو پھر زنجیر غاٸب ہو جاتی ہے۔ اور آپکے پاٶں آزاد ہو جاتے ہیں۔ *بعض اوقات کسی عام سے واقعہ کو سوچ سوچ کرآپ اپنی زندگی کا ایک بڑا روگ بنا لیتے ہو جبکہ* حقیقت میں وہ کچھ بھی نہیں تھا۔ اس لیے پر سکون ہو کر گہراٸی میں سوچیں اور اس نہ نظر آنے والی زنجیر سے خود کو آزاد کرواٸیں۔ مستقبل کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان مت ہوتے رہیں۔ *مستقبل اچانک سے نہیں آ جاتا*۔ ایک ایک دن گزرنے کے بعد آتا ہے۔ *آپ اپنا ایک ایک دن بہتر بناتے جاٶ۔* آپکا مستقبل بھی بہتر بنتا جاۓ گا۔ *اللّہ رب العزت سب کچھ ٹھیک کر دےگا۔وہ دیکھتا ,سنتا اور جانتا ہے۔* #motivation
*💕اگر آپ کو یہ لگتا ہے کہ آپ سب کچھ کھوتے جا رہے ہیں یہ یاد رکھیں درخت ہر سال اپنےپتے کھو دیتے ہیں لیکن پھر بھی وہ اچھے دنوں کے انتظار میں رہتے ہیں اور پھر وہ ہرے بھرے ہوجاتے ہیں اللہ پاک پر بھروسہ ہوتو سب ٹھیک ہوجاتا ہے💕*
زندگی جینے اور گزارنے میں فرق ہے ۔ بے شک یہ زندگی یہ دنیا فانی ہیں لیکن جب تک سانس ہے تب تک تو رہنا ہے ۔ تو بہتر ہے کے زندگی کو جیٸیں جو نعمتیں ملیں ہیں ان پر شکرادا کریں اور رب کی رضا میں راضی رہ کر ۔ فانی و لافانی دونوں زندگیاں سوار لیں ۔ بجاۓ اسکے کہ ماضی کو گلے کا پھندا بنا کر اور مستقبل کی سوچوں کو ذہن پر سوار کر کے ۔ اپنے حال کو شکوں و خواہشات کی نظر کر کے بے سکون و برباد زندگی گزاریں۔ زندگی جینے اور گزارنے کے فرق کو سمجھیں ۔ اور یقین رکھیں اپنے رب کی حکمت پر ۔ بے شک وہ اپنے بندوں کو مایوس نہیں کرتا ۔ ❤
*کبھی اس خیال کو ذہن میں بھی نہ آنے دیں کہ اکثریت کیا کر رہی ہے۔۔؟ اگر اکثریت غلط راہوں کی راہی بنے تو کیا ہم بھی انہی راہوں پر چل پڑیں گے؟ اگر اکثریت فحاشی کے کاموں میں ملوث ہو جائے تو اسی ٹرینڈ کو اپنانا ہمارا فرض بن جائے گا؟ کیا اکثریت کنوئیں میں چھلانگ لگائے یا آگ میں کود جائے ہم بھی ایسا ہی کریں گے؟ یاد رکھیں کہ قرآن میں اللّٰہ نے احسن عمل کرنے والوں کا ذکر قلیل کے لفظ کے ساتھ کیا ہے اور بھٹکے لوگوں کا تذکرہ اکثریت کے لفظ کے ساتھ ہوا ہے…جو بات یقین سے اپنائیں،پھر اس میں کبھی شک کا شکار نہ ہو۔۔۔
Both Jannah and Jahanum were made for sinners. Jahanum is made for arrogant sinners and Jannah is made for repentant sinners. Blessed are those who repent and seek forgiveness! Pray for yourself, your family and entire Muslim ummah!
میں جانتی ہوں کہ ایک مسلمان کا بہترین ساتھی قرآن ہوتاہے اور اسے اپنی تمام کنسولیشن (ہدایت) اللہ تعالیٰ سے لینی چاہیے، اپنا مسئلہ صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے رکھنا چاہیے، لیکن اگر یہی کافی ہوتا تو اللہ سورہ عصر میں یہ نہ فرماتا کہ ’’انسان خسارے میں ہے، سوائے ان کے جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور ایک دوسرے کو حق کی تلقین کی۔ اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی۔‘‘ سر! یہ جوو تواصو بالصبر ہوتا ہے نا، یہ بندے کو بندوں سے ہی چاہیے ہوتا ہے، خصوصاً تب جب دل میں مکڑی کے جالے بن جائیں۔‘‘
کبھی کبھار دل یونہی بھر سا آتا ہے نہ کوئی وجہ ہوتی ہے اور نہ کوئی حادثہ۔۔۔ مگر پھر بھی آنکھوں میں نمی اتر آتی ہے اور روح سسکیاں لینے لگتی ہے۔۔۔ تب بس دل چاہتا ہے کہ میں ہوں اور الله ہو اور بس ڈھیروں باتیں ہوں کوئی تیسری ذات وہاں موجود نہ ہو۔۔۔ کتنی تکلیف کے بعد ہم اس مقام تک پہنچتے ہیں اور کتنی اذيتوں کے بعد ہم اسکی دہلیز تک پہنچتے ہیں اسکی خبر ہمارے اور الله کے سوا کسی کو نہیں ہوتی۔۔۔ کتنی الجھنیں لے کر انسان اسکے روبرو جاتا ہے صرف اس امید کے ساتھ کے وہ سنبھال لے گا۔۔۔ معاف کر دے گا۔۔۔فریاد سن لے گا۔۔۔ہم کون ہیں؟ ہم کیا ہیں یہ تو بس وہی جانتا ہے دنیا پھر چاہے کسی بھی لفظ سے پرکھے ہمیں بس پھر اس سے التجا کرنے کی دیر ہوتی ہے کہ پھر وہ مسکرا کر تھام لیتا ہے ہمیں۔۔۔ ہمارے ہر سوال کا جواب دیتا ہے۔۔۔دروازہ دکھاتا ہے اور تب یوں محسوس ہوتا ہے جیس
مُجھے اپنی گُزری زندگی کی بُنیاد پر پُوری ایمانداری سے اپنے ہی لیے جنّت یا دوزخ کا فیصلہ کرنے کو کہا جائے تو میرے پاس خُود کو جنّت میں بھیجنے کی کوئی مُنصفانہ وجہ نہیں ہو گی۔ میری خُوش قسمتی ہے کہ اللہ صرف انصاف پسند ہی نہیں رحمٰن، رحیم اور غفّار بھی ہے.❤️