اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے. بچے بھوک سے بلکتے ہی رہے قلتِ اناج سے. رات سارے شہر میں بٹتا رہا آب حیات. اک میں ہی رہ گیا چارہ گر کے علاج سے. ہر سو ہے شور کہ چھونے سے پھیلتا ہے مرض میں تو تنگ آ گیا ہوں سماج کے رواج سے. بیٹھے بیٹھے سوچتا رہتا ہوں میں تیرے بارے. بخشوں کیسے تجھے حیات اپنے لہو کے خراج سے. اجنبی یہ تو دنیا کا قانون ہے تہمتیں دھرنا. اپنے دامن کو تُو پاک رکھ شر کے دماغ سے. اجنبی
#رکھ__کر__تیرے__عشق__کا__روزہ❤ 💔#میری __جان 💔 #ہم__بھی__کبھی__کھولے__گے__تیرے__دیدار__سے 💔💕 آجاؤ اب زیارت کا شـــــــــــرف بخش دو مجھے 🙃 نہ جانے کب سے وضو آنکھوں کا کیے بیٹھے ہیں❤ #_______پتہ نہیں سدھر گیا۔۔کہ بگڑ گیا"#😭 یہ دل اب کسی سے بحث نہیں کرتا