لہُو تک آنکھ سے اَب بہہ لیا ہے بہت تھا جَبر لیکن سہہ لیا ہے عذاب ہجر اَب واپس پلٹ جا بہت دِن ساتھ میرے رہ لیا ہے نمیَ آنکھوں سے جاتی ہی نہیں ہے ستم اس دِل نے اِتنا سہہ لیا ہے یہ دل کوئی ٹھکانہ چاہتا ہے بہت دن راستوں میں رہ لیا ہے تجھے کہنا تھا جو احوال دِل کا درودیوار سے ہی کہہ لیا ہے
👈💞جسے چاہتے تھے ہم💞😘 💞وه بھی ہم ھی کو چاهتے تو کیا بات تھی💞😘 💞پانے کا "ارمان" تو تھا💞😘 💞بن مانگے مل جاتا تو کیا بات تھی💞😘 💞اس دل میں پیار تھا کتنا💞😘 💞وه جان لیتے تو کیا بات تھی💞😘 💞ہم نے رو رو کے مانگا تھا اسے خدا سے💞😘 💞وه بھی ہمیں مانگ لیتے تو کیا بات تھی