*مسلمان عورتو* تم کسی ملکہ سے کم نہیں ہو باپ کے سایہ میں لاڈوں سے پلی ہو. بھائی تمہارا محافظ ہے شوہر تمہارا زندگی بھر کا ساتھی ہے. تم کیا سمجھتی ہو گھر میں بیٹھ کر ہانڈی روٹی کر کے تم ملازمہ ہو؟ نہیں نہیں یہ بھول ہے تمہاری یہ ہانڈی روٹی کا سامان جو تمہارا شوہر لے کر آتا ہے یہ گرمیوں کی دھوپ اور گرم لوُ وجود پگھلانے والے سورج سے لڑ کر لاتا ہے. تمہیں تو مغربی عورتوں سے عبرت حاصل کرنی چاہیے. لیکن تم کو آزادی نسواں کے سنہرے خواب دکھا کر تمہارے وقار کو ختم کرنے کی سازش ہو رہی ہے . اس سازش کو نہیں سمجھو گی تو تم بھی متاعِ کوچہ و بازار بن جاؤ گی. پلیز یورپی کلچر کی محبت کو دل سے نکال دیجیے ورنہ صرف پچھتاوا ہاتھ آئے گا اور کچھ نہیں. اگر کسی کو کوئی بات بری لگی ہو تو معزرت. اللّٰہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے آمین دعاؤں میں یاد رکھیے گا.
*اے مسلم خواتین یورپ کی عورتوں کی طرح نہ بنو* یورپ میں فیملی کا کوئی تصور نہیں ہے. یوں کہہ لیں کے بہن بھائی ماں باپ دادا دادی کی کوئی تمیز نہیں ہے. جنسی ضرورت کے لئے شادی کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی بلکہ جانوروں کی طرح وہاں رشتے گڈ مڈ ہیں وہاں عورت کی کوئی عزت نہیں ہے کوئی شوہر نہیں ہے جو کہے بیگم تم گھر پہ رہو میں ہر چیز تمہیں گھر لا کے دونگا. وہاں کوئی بیٹا نہیں ہے جو کہے ماں تم گھر سے نہ نکلو مجھے حکم دو. وہاں کوئی بیٹی نہیں ہے جو کہے ماں تم تھک گئی ہو آرام کرو میں کام کر دونگی وہاں عورت گھر کے کام خود کرتی ہے... اور روزی کمانے کے لئے دفتروں میں دھکے بھی خود کھاتی ہے. کل تک آزادی کے نعرے لگانے والی آج سکون کی ایک سانس کو ترس رہی ہے. کوئی مرد انہیں نہیں اپناتا, نہ ان کی ذمہ داری اٹھاتا ہے. وہ صرف استعمال کی جاتی ہیں بس
جیولری شاپ کے باہر سے گزرتی ہوئی لڑکی نے ایک ہار دیکھ کر کہا ..واؤ بیوٹی فل دوکان کا مالک بیٹھا دیکھ رہا تھا اس نے لڑکی کو بلایا اور اسے کے سر پے شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوے پوچھا بیٹی کیا آپ کو یہ ہار پسند ہے ... لڑکی کی آنکھوں میں امید جگا دی تھی دوکان مالک کے سوال نے ....لڑکی نے بہت خوش ہو کر کہا کہ بہت پسند ہے دوکان مالک نے تاریخی جواب دیا ایسی سخاوت ہر کوئی نہیں دکھا سکتا اس نے لڑکی کے سر پے ہاتھ پھیرا اور پیار سے کہا کہ "پتر تو سویرے فیر آ کے ویکھ لئیں”
ایک آدمی اپنے گھر کے باورچی خانے میں داخل ہوکر بیوی سے پوچھنےلگا۔ ہمارے چار بچوں میں سے تمہیں سب سے زیادہ کون محبوب ہے اس نے جواب دیا: سارے۔ شوہر نے کہا : تمہارا دل اتنا کشادہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کہا: یہ اللہ کی تخلیق ہے۔ ماں کے دل میں سارے بچوں کے لیے کشادگی ہوتی ہے۔ شوہر (نے مسکرا کر کہا): اب تم سمجھ سکتی ہو مرد کے دل میں چار بیویوں کی کشادگی بیک وقت کیسے ہو سکتی ہے؟؟؟؛ کیوں کہ یہ بھی اللہ کی تخلیق ہے۔ بیوی نے بیلن سے حملہ کیا اور شوہر ہاسپٹل پہنچ گیا۔ - اللہ بے چارے پر رحم فرمائے- اس کا اسلوب بھی اچھا تھا اور ٹیکنیک بھی مزیدار؛ بس باورچی خانے کی جگہ غلط تھی۔ عبرت و نصیحت : کسی بھی میدان جنگ میں اترنے سے پہلے میدان کے محل وقوع اور جغرافیائی صورتحال کو لازمی ذہن میں رکھنا چاہیے۔
کفر کو اس کی فکر نہیں کہ آپ مسجدوں میں بیٹھ کر اللہ اللہ کریں ، نمازیں پڑھیں یا لمبے لمبے اذکار کریں ،منبروں پر فضائل سنائیں یا دروس قرآن و حدیث میں مشغول ہو جائیں، رنگ رنگ کی پگڑیاں پہنیں، یا ماتموں، میلادوں کے جلوس نکالیں،جمعراتیں ،شبراتیں منائیں یا محافل حمد نعت کریں۔کفر چاہتا ہے آپ یہ سب شوق سےکریں مگر نظام کفر اور الحاد کے ماتحت رہ کرکریں اور اللہ کے نظام کے نفاذ کی بات نہ کریں۔آپ خانقاہیں بنائیں عرس منایں ، تبلیغی اجتماعات کریں مگر اللہ کے نظام کی بالا دستی کی بات نہ کریں ،کفر کو حکومت کا اختیار دیں۔اور اسلام کو محکوم رہنے دیں ۔ کفر کے ایوانوں میں زلزلہ تو تب آتا ہے جب مسلمان بدر و حنین کی سنت پر عمل کرتا ہے۔ایسا کوئی اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں جو وقت کے فرعون اور ابو جہل سے نہ ٹکرائے
*"مال ودولت کی حقیقت"* ۔لبنان کا سب سے مالدار آدمی ایمیل البستانی تھا۔ اس نے اپنے لئے ایک خوبصورت علاقے میں جوکہ بیروت کے ساحل پر تھا ، قبر بنوائی کہ مرنے کے بعد مجھے اس قبر میں دفن کیا جائے ۔ اس کے پاس اپنا ذاتی جہاز تھا اور جب دھماکہ ہوا تو وہ جہاز سمیت سمندر میں ڈوب گیا ۔ لاکھوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد اس کے جہاز کا پتہ تو چل گیا لیکن لاش نہیں ملی جسے اس قبر میں دفن کیا جائے جو اس نے اپنے لئے بنوائی تھی۔