تُم کو لگا تین سو پینسٹھ ہی دن تھے بس
ہم پر تو جیسے سال میں صدیاں گُزر گئیں
آؤ کچھ دیر دسمبر کی دھوپ میں بیٹھیں
یہ فرصتیں ہمیں معلوم نہیں اگلے سال ملیں نا ملیں....
تیرے لھجے میں بھت سردی ھے ,,,
, تم دسمبر کی شام لگتے ھو
میں آخر کیوں دسمبر کو سبھی الزام دے ڈالوں.!!
تیری یادیں کب مہینوں کا کوئی لحاظ کرتی ہیں
لوٹ کے آ نہیں پاؤںگا میری راہ نہ دیکھ
جانے والے نے یہ کہنا بھی گوارہ نہ کیا
بند کر کے میری آنکھیں وہ شرارت سے ہنسے،
بُوجھ جانے کا میں ہر روز تماشا دیکھوں ۔۔!
سب ضدیں اُسکی میں پوری کروں، ہر بات سنوں،
ایک بچّے کی طرح سے اُسے ہنستا دیکھوں
پروین شاکر
مجھ کو غم کا نہ کبھی درد کا احساس رہا
ہر خوشی پاس تھی جب تک تو مرے پاس رہا
چہرے کی بات چھوڑ کہ ہم اسکے ہاتھ میں
شائد کوئی لکیر تھی جس کے فقیر تھے
اچھا ہوا کہ آ گیا ہے سامنے میرے
ورنہ میں اس کو بھولنے والا تھا ان دنوں
یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
سانس تھامے ہیں نگاہیں کہ نہ جانے کس دم،
تم پلٹ آئو، گذر جائو کہ مڑ کر دیکھو_____!
پروین شاکر ۔۔۔۔
26 دسمبر برسی۔۔۔
وہ فاصلہ تھا دعا اور مستجابی میں
کہ دھوپ مانگنے جاتے تو اَبر آ جاتا
وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیا
برابری کا بھی ہوتا تو صبر آ جاتا
🍂دسمبر کی سرد شام ہے
شال تو اس نے اوڑھی ہوگی💙
آدھی پیالی پی لی ہوگی
آدھی عادتاً چھوڑی ہوگی 💜
میری یاد؟
ارے کہاں صاحب
اُسے اتنی فرصت تھوڑی ہوگی
مجھے آتے ہیں محبت کے تمام وظیفے ___!!
میں چاہوں تو تمہیں پاگل کر دوں
ٹھہرو ذرا ، کہ مَرگِ تمنا سے پیش تر
اپنی رفاقتوں کو پلٹ کر بھی دیکھ لیں
شاید کہ مِِل سکیں نہ نئے موسموں میں ھم
جاتی رُتوں کے آخری منظر بھی دیکھ لیں
اُسکی یاد کی یہ بھی تو اک کرامت ہے
ہزار میل پہ ہو کے بھی ساتھ ہو جیسے
کون ہنستے ہوئے ہجرت پہ ہوا ہے راضی
لوگ آسانی سے گھر چھوڑ کے کب جاتے ہیں
یقیناً دیکھ سکتے تھے پلٹ کر جو نہیں دیکھا
بلا کا ہوش رکھتے تھے، جو غافل ہم نظر آئے
اُس شخص کے وجدان کی تکمیل ہے مجھ سے
ِاِک روز پلٹ آئے گا وہ شخص ادھورا
یہ مسلسل تری قربت بھی کہاں راس مُجھے
ایسا کُچھ کر کہ مجھے تُجھ سے بھی اکتاہٹ ہو !!
پھر میں پُوچھوں تجھے کم مائیگئ جاں کیا ہے
جب تو کھو دے مجھے،روئے ،تُجھے گھبراہٹ ہو.!!
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain