شہر کے یہ باشندے، نفرتوں کو بو کر بھی،، انتظار کرتے ہیں،،،،،،،،،، فصل ہو محبت کی،، بھول کر حقیقت کو ڈھونڈنا سرابوں کا رِیت اس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے
تو نے آخر رُلادیا مجھ کو قہقہوں میں اُڑا دیا مجھ کو میں تو ہر موڑ پر میسر تھا تو نے کیسے گنوا دیا مجھ کو میرے اندر تجھے نہیں پھونکا باقی سارا بنا دیا مجھ کو یاد رکھا تھا مدتوں اس نے بس اچانک بھلا دیا مجھ کو تو بھی آخر زمانے جیسا ہے اپنا چہرہ دکھا دیا مجھ کو.
بہت عرصہ ہوا اک دن بتایا تھا مجھے اس نے بنانا کچھ نہیں آتا بناتی ہوں تو صرف چائے پیو گے نا؟ اور میں اس بات پر مسکراتا ہی رہا تھا کہ بنانا کچھ نہیں آتا بناتی ہو تو بس چائے مجھے چائے سے الجھن ہے نہیں پیتا، نہیں پیتا اور اب اس بات کو گزرے زمانہ ہو گیا کتنا نہیں معلوم مجھ کو کہ وہ کیسی ہے، کہاں پر ہے مگر اب چائے پیتا ہوں بڑی کثرت سے پیتا ہوں بڑی حسرت سے پیتا ہوں. 🔥 💔 🥀
💞میں روز تجھ سے____تو روز مجھ سے 💞ملا کرے گا___________یہ طے ہوا تھا نہ کوئی رستہ_______نہ موڑ ہم کو جدا کرے گا________یہ طے ہوا تھا زمیں کا کوئی______بشر نہ اپنی رفاقتوں کو_______مٹا سکے گا کہ جب بھی ہم کو____جدا کرے گا خدا کرے گا________یہ طے ہوا تھا کسی بات پر ہم______جھگڑ پڑے تو صلح کی خاطر______اے میرے ہمدم 💞 ذرا سا میں بھی______ذرا سا تو بھی جھکا کرے گا_________یہ طے ہوا تھا💞
اپنی تنہائی مِرے نام پہ آباد کرے کون ہوگا جو مُجھے اُس کی طرح یاد اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہُوں میں روز اِک موت نئے طرز کی ایجاد کرے اتنا حیراں ہو مِری بے طلبی کے آگے وا قفس میں کوئی در خود میرا صیّاد کرے سلبِ بینائی کے احکام ملے ہیں جو کبھی روشنی چُھونے کی خواہش کوئی شب زاد کرے سوچ رکھنا، بھی جرائم میں ہے شامل اب تو وہی معصوم ہے، ہربات پہ جو صاد کرے جب لہو بول پڑے اُس کی گواہی کے خلاف قاضی شہر کچھ اِس بات میں ارشاد کرے اُس کی مُٹّھی میں بہت روز رہا میرا وجود میرے ساحر سے کہو اب مجھے آزاد کرے
اک پل بھی اُسے آنکھ سے اُوجھل نہیں دیکھا میں پھر بھی یہ کہتا ہوں مکمل نہیں دیکھا میں نے تو گزرتے ہوئے دیکھا تھا اسے لیکن وہ دل کا بہت سخت تھا اک پل نہیں دیکھا کچھ دن سے ہوا حبس زدہ شہر کا موسم کچھ دن سے فلک پر کوئی بادل نہیں دیکھا یوں لگتا ہے صدیاں ہوئی اُس شخص کو دیکھے حالانکہ جسے میں نے فقط کل نہیں دیکھا جو تجھ سے گریزاں ہے اُسی شخص کی باتیں جرارؔ کہیں تجھ سا کوئی پاگل نہیں دیکھا آغاجرارؔ