Damadam.pk
Mrwa_11's posts | Damadam

Mrwa_11's posts:

Mrwa_11
 

تجھ سے بچھڑ کر میں بزدل نہیں رہا
اب تو کوئی بھی چیز گنوانے کا ڈر نہیں

Mrwa_11
 

آپ اندازہ لگاتے رہیں بس جگنو کا
میری مٹھی میں ستارہ بھی تو ہو سکتا ہے
کیا ضروری ہے کہ جان لٹا دی جائے
اس کی یادوں پہ گزارا بھی تو ہو سکتا ہے
ناظر وحیدی

Mrwa_11
 

ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻭﮨﻢ ﮨﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﻮ
ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺍُﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻼﻝ ﮨﻮ

Mrwa_11
 

تیرے اثر سے جو نکلے، تو یہ دھیان آیا
تیرے خیال سے باہر بھی، ایک دنیا ہے ۔..

Mrwa_11
 

میں ہر طرح کے اندھیروں پہ آزماتی ہوں
یہ روشنی جو مرے دل میں تیرے نام کی ہے
دِن مرے اندر غروب ہوتے ہیں
کہ مجھ میں صِرف اُداسی ہے اُور شام کی ہے

Mrwa_11
 

محبت نے بغاوت کی اجازت ہی نہیں دی ورنہ.....
تم کو تو ہم"ضبط" سے لیکر "مکافات" تک کے معنی سمجھاتے...

Mrwa_11
 

قافلوں کے قافلے ہی گذر گئے!!!!!!!!!!!
اک میرا درد تھا جو ھجرت نہ کر سکا۔

Mrwa_11
 

میں رابطوں کی جدید دنیا کو پار کرتی عجیب لڑکی
مجھے تمہارے سوا گزاری گئی صدی کے شدید دکھ ہیں

Mrwa_11
 

خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہوا
پھر مجھے دے دیا گیا ایک دیا بجھا ہوا
ایک ہی داستانِ شب ایک ہی سلسلہ تو ہے
ایک دیا جلا ہوا، ایک دیا بجھا ہوا
محفلِ رنگ و نور کی پھر مجھے یاد آ گئی
پھر مجھے یاد آ گیا ایک دیا بجھا ہوا
مجھ کو نشاط سے فزوں رسمِ وفا عزیز ہے
میرا رفیقِ شب رہا ایک دیا بجھا ہوا
درد کی کائنات میں مجھ سے بھی روشنی رہی
ویسے مری بساط کیا ایک دیا بجھا ہوا
سب مری روشنیِ جاں حرفِ سخن میں ڈھل گئی
اور میں جیسے رہ گیا ایک دیا بجھا ہوا

Mrwa_11
 

سمٹ رہے ہیں ستاروں کے فاصلے انور
ؔ
پڑوسیوں کو مگر کوئی جانتا بھی نہیں
انور مسعود

Mrwa_11
 

یاد رہ جاتی ہے بیگانہ روی اپنوں کی
وقت کا کیا ہے بہرحال گزر جاتا ہے.

Mrwa_11
 

کسی بھی طور سکھاتی نہیں آزادی,,
میرے حضور, محبت غلام کرتی ہے!!

Mrwa_11
 

تجھ پہ پھونکا ہے محبت کا طلسمی منتر,,
تو مجھے چھوڑ کے جائے گا تو لوٹ آئے گا!!

Mrwa_11
 

اک شخص سے وابستہ، جذبات ھیں صَف بستہ،
اک طرزِ عقیدت ہے، یک طرفہ محبت بھی__

Mrwa_11
 

جس کے حصے میں یار تُو آیا
یہ اَرض و سما اُسی کے ھیں

Mrwa_11
 

جو گیا پھر پلٹ کر نہیں آیا
ہجر اگلا جہان ھے شاید

Mrwa_11
 

خدا کی قسم بخت اسی کے ہیں
جس کے حصے میں فقط تو آیا!!

Mrwa_11
 

وہ بھلے لوگ تھے
اتوار کو ایتوار کہتے تھے
میرے بزرگ
محبت کو تہوار کہتے تھے
شیریں تھی اسقدر گفتار انکی
تعظیماً بچوں کو بھی سرکار کہتے تھے

Mrwa_11
 

اک پل بھی اُسے آنکھ سے اُوجھل نہیں دیکھا
میں پھر بھی یہ کہتا ہوں مکمل نہیں دیکھا
میں نے تو گزرتے ہوئے دیکھا تھا اسے لیکن
وہ دل کا بہت سخت تھا اک پل نہیں دیکھا
کچھ دن سے ہوا حبس زدہ شہر کا موسم
کچھ دن سے فلک پر کوئی بادل نہیں دیکھا
یوں لگتا ہے صدیاں ہوئی اُس شخص کو دیکھے
حالانکہ جسے میں نے فقط کل نہیں دیکھا
جو تجھ سے گریزاں ہے اُسی شخص کی باتیں
جرارؔ کہیں تجھ سا کوئی پاگل نہیں دیکھا
آغاجرارؔ

Mrwa_11
 

کچھ تو عادت ہی نہیں حد سے گزر جانے کی۔۔
کچھ طبیعت نے بھی چالاک نہیں ہونے دیا!
چار چھ باتیں محبت تو نہیں ہوتی
دل کی وحشت نے یہ ادراک نہیں ہونے دیا