تجھ سے بچھڑ کر میں بزدل نہیں رہا
اب تو کوئی بھی چیز گنوانے کا ڈر نہیں
آپ اندازہ لگاتے رہیں بس جگنو کا
میری مٹھی میں ستارہ بھی تو ہو سکتا ہے
کیا ضروری ہے کہ جان لٹا دی جائے
اس کی یادوں پہ گزارا بھی تو ہو سکتا ہے
ناظر وحیدی
ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻭﮨﻢ ﮨﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﻮ
ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺍُﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻼﻝ ﮨﻮ
تیرے اثر سے جو نکلے، تو یہ دھیان آیا
تیرے خیال سے باہر بھی، ایک دنیا ہے ۔..
میں ہر طرح کے اندھیروں پہ آزماتی ہوں
یہ روشنی جو مرے دل میں تیرے نام کی ہے
دِن مرے اندر غروب ہوتے ہیں
کہ مجھ میں صِرف اُداسی ہے اُور شام کی ہے
محبت نے بغاوت کی اجازت ہی نہیں دی ورنہ.....
تم کو تو ہم"ضبط" سے لیکر "مکافات" تک کے معنی سمجھاتے...
قافلوں کے قافلے ہی گذر گئے!!!!!!!!!!!
اک میرا درد تھا جو ھجرت نہ کر سکا۔
میں رابطوں کی جدید دنیا کو پار کرتی عجیب لڑکی
مجھے تمہارے سوا گزاری گئی صدی کے شدید دکھ ہیں
خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہوا
پھر مجھے دے دیا گیا ایک دیا بجھا ہوا
ایک ہی داستانِ شب ایک ہی سلسلہ تو ہے
ایک دیا جلا ہوا، ایک دیا بجھا ہوا
محفلِ رنگ و نور کی پھر مجھے یاد آ گئی
پھر مجھے یاد آ گیا ایک دیا بجھا ہوا
مجھ کو نشاط سے فزوں رسمِ وفا عزیز ہے
میرا رفیقِ شب رہا ایک دیا بجھا ہوا
درد کی کائنات میں مجھ سے بھی روشنی رہی
ویسے مری بساط کیا ایک دیا بجھا ہوا
سب مری روشنیِ جاں حرفِ سخن میں ڈھل گئی
اور میں جیسے رہ گیا ایک دیا بجھا ہوا
سمٹ رہے ہیں ستاروں کے فاصلے انور
ؔ
پڑوسیوں کو مگر کوئی جانتا بھی نہیں
انور مسعود
یاد رہ جاتی ہے بیگانہ روی اپنوں کی
وقت کا کیا ہے بہرحال گزر جاتا ہے.
کسی بھی طور سکھاتی نہیں آزادی,,
میرے حضور, محبت غلام کرتی ہے!!
تجھ پہ پھونکا ہے محبت کا طلسمی منتر,,
تو مجھے چھوڑ کے جائے گا تو لوٹ آئے گا!!
اک شخص سے وابستہ، جذبات ھیں صَف بستہ،
اک طرزِ عقیدت ہے، یک طرفہ محبت بھی__
جس کے حصے میں یار تُو آیا
یہ اَرض و سما اُسی کے ھیں
جو گیا پھر پلٹ کر نہیں آیا
ہجر اگلا جہان ھے شاید
خدا کی قسم بخت اسی کے ہیں
جس کے حصے میں فقط تو آیا!!
وہ بھلے لوگ تھے
اتوار کو ایتوار کہتے تھے
میرے بزرگ
محبت کو تہوار کہتے تھے
شیریں تھی اسقدر گفتار انکی
تعظیماً بچوں کو بھی سرکار کہتے تھے
اک پل بھی اُسے آنکھ سے اُوجھل نہیں دیکھا
میں پھر بھی یہ کہتا ہوں مکمل نہیں دیکھا
میں نے تو گزرتے ہوئے دیکھا تھا اسے لیکن
وہ دل کا بہت سخت تھا اک پل نہیں دیکھا
کچھ دن سے ہوا حبس زدہ شہر کا موسم
کچھ دن سے فلک پر کوئی بادل نہیں دیکھا
یوں لگتا ہے صدیاں ہوئی اُس شخص کو دیکھے
حالانکہ جسے میں نے فقط کل نہیں دیکھا
جو تجھ سے گریزاں ہے اُسی شخص کی باتیں
جرارؔ کہیں تجھ سا کوئی پاگل نہیں دیکھا
آغاجرارؔ
کچھ تو عادت ہی نہیں حد سے گزر جانے کی۔۔
کچھ طبیعت نے بھی چالاک نہیں ہونے دیا!
چار چھ باتیں محبت تو نہیں ہوتی
دل کی وحشت نے یہ ادراک نہیں ہونے دیا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain