زمیں کوعجلت، ہوا کوفرصت، خلا کو لکنت ملی ہوئی ہے ہم احتجاجاً ہی جی رہے ہیں، یا پھر اجازت ملی ہوئی ہے ہماری اوقات کے مطابق ہمارے درجے بنے ہوئے ہیں کسی کوقدرت، کسی کوحسرت، کسی کو قسمت ملی ہوئی ہے۔۔۔
سِسکیوں نے چار سُو دیکھا ، کوئی ڈھارس نہ تھی ایک تنہائی تھی ، اُس کی گود میں سر رکھ لیا دید کی جھولی ، کہیں خالی نہ رہ جائے عدیم ھم نے آنکھوں میں ، تیرے جانے کا منظر رکھ لیا
تُم ہمیں ساتھ میں رکھا کرو ،،،، عادت کی طرح ورنہ ہم اُٹھ کے چلے جائیں گے برکت کی طرح میں نے خود اس کو گناہوں کی طرح چھوڑ دیا وہ مجھے چھوڑنے والا تھا عبادت کی طرح