رونا تھا بہت دیر مجھے خود سے لپٹ کر پر تُجھ سے جدا خود کو میّسر نہ ہُوا مٙیں اِس طرح سے بکھرا کہ ترے ہاتھ نہ آیا ٹُوٹا ہوں مگر دیکھ ! مُسخّر نہ ہُوا مٙیں
اِک قِصَّہ اُڑتے .... پتوں کَا !! جو سَبز رتوں میں خَاک ہُوئے اِک نُوحَہ شَہد کے چھتوں کا جو فَصلِ گُل میں رَاکھ ہُوئے کُچھ بَاتیں ایسِی رشتُوں کی جو بیچ نگر میں ٹوٹ گئے کُچھ یادیں ایسے ہاتھوں کی جو بِیچ بھنور میں چھوٹ گئے تُم دشتِ طَلب میں ٹھہر گئے ھم قریۂ جاں کے پار گئے!! یِہ بازی جان کی بازی ھے تم جیت گئے ، ہم ہار گئے!!