میں بے مروت، سبھی جذبوں سے عاری مجھ پر نا کیجیے محبت رائیگاں,,,,,
ضبطِ غم ہی سے بڑھا کرتی ہے قیمت اسکی اشک جو آنکھ میں رہتا ہے وہی موتی ہے ۔
کاش کبھی یادوں کا بھی اتوار آتا۔۔۔۔۔۔۔🍂 کاش کبھی سوچوں کی بھی چُھٹی ہوتی
لوگ بعد میں در در کی خاک چھانیں گے ہمارے جیسوں کے نعم البدل نہیں ہوتے
پھر یہ سوچا نہیں کہ میسر ہے کسے ؟ میں نے اک چیز کو رد کر کے اگر پھینک دیا
ہمیں نے حشر اُٹھا رکھا ہے بچھڑنے پر ، وہ جانِ جاں تو پریشان بھی زیادہ نہیں
اسی کے نام سے لفظوں میں چاند اترے ہے وہ اک شخص کو دیکھوں تو آنکھ بھر آئے جو کھو چکے ہیں انہیں ڈونڈھنا تو مشکل ہے جو جا چکے ہیں انہیں کوئی کس طرح لائے
ایسی وحشت ہے مرے دل میں کہ ہر شے توڑوں اور پھر چیخوں کہ دیکھو ، ایسی حالت ہے میری ایک نوخیر کلی پاؤں میں پھینکوں ، مسلُوں اور پھر روؤں کہ سمجھو ، یہ اذیت ہے میری
طویل ہجر کی یکبارگی تلافی ہیں ہم ایسے صبر گزاروں کو خواب کافی ہیں بس ایک بار انھیں دیکھنے کی خواہش ہے پھر اس کے بعد یہ آنکھیں ہمیں اضافی ہیں
جان لیوا تھا اس کا سانوالہ رنگ اور ہم کڑک چايے کے شوقین بھی تھے!!,
ایک دوسرے کیلئے ہی بنے ہیں، میں اور فقط میری چائے ۔☕