🍂دسمبر کی سرد شام ہے
شال تو اس نے اوڑھی ہوگی💙
آدھی پیالی پی لی ہوگی
آدھی عادتاً چھوڑی ہوگی 💜
میری یاد؟
ارے کہاں یار
اُسے اتنی فرصت تھوڑی ہوگی
نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھے
ہم ایک شخص کا کتنا خیال رکھتے تھے
کچھ ان کا حسن بھی تھا ماورا مثالوں سے
کچھ اپنا عشق بھی ہم بے مثال رکھتے تھے🔥
خرچ لمحوں میں، تیرے دست کشادہ سے ہوئے
کتنی صدیوں کی مشقت سے کمائے ہوئے ہم..
زرا یاد کر میرے ہم نفس میرا دل جو تم پہ نثار تھا
وہ ڈراڈراسا جو پیار تھا تیرے شوخ قدموں کی دھول تھی
میں نے فون مہنگا بھی لے کر دیکھا ہے۔
کال مگر اُسکی کسی صورت نہیں آتی۔
میں اسے بھول ہی نہیں پاتی
وہ میری پہلی بھول جیسا تھا
اب نہ پوچھوں گی میں کھوئے ہوئے خوابوں کا پته
وہ اگر آئے تو کچھ بھی نہ بتانے آئے
پروین شاکر
تمہارے واسطے میں مسکرا تو دیتا ہوں
مگر وه درد جو مجھے مسکرا کے ہوتا ہے
دونوں کا یہی مان تھا, مجھ کو منائے وہ
دونوں کے اسی مان سے قصہ تمام شُد
بکھرتی ریت پر کس نقش کو آباد رکھے گا
وہ مجھ کو یاد رکھے بھی،
تو کتنا یاد رکھے گا ؟؟
کسی نے چوم کے آنکھوں کو یہ دعا دی تھی
زمین تیری خدا موتیوں سے نم کردے،،،،
جو ہو نا سکی بات
وہ چہروں سے عیاں تھی
حالات کا ماتم تھا
ملاقات کہاں تھی
دسمبر چل پڑا گهر سے سنا ہے پہنچنے کو ہے
مگر اس بار کچھ یوں ہے کہ میں ملنا نہیں چاہتا
ستمگر سے میرا مطلب دسمبر سے
کبهی آزردہ کرتا تها مجهے جاتا دسمبر بهی
مگر اب کے برس ہمدم بہت ہی خوف آتا ہے
مجهے آتے دسمبر سے ,دسمبر جو کبهی مجهکو
بہت محبوب لگتا تها وہی سفاک لگتا ہے
بہت بیباک لگتا ہے ہاں اس سنگدل مہینے سے
مجهے اب کے نہیں ملنا قسم اسکی نہیں ملنا
مگر سنتا ہوں یہ بهی میں کہ اس ظالم مہینے کو
کوئی بهی روک نہ پایا ,نہ آنے سے، نہ جانے سے
صدائیں یہ نہیں سنتا ,وفائیں یہ نہیں کرتا
یہ کرتا ہے فقط اتنا ,سزائیں سونپ جاتا ہے
پھر یوں ہوا اک شخص سے محبت ہو گئی مجھ کو
پھر یوں ہوا اسکی عادت سی ہوگئی مجھ کو
پھر یوں ہوا ہزاروں باتیں ہونے لگیں درمیان ہمارے
پھر یوں ہوا رات بھر جاگنا پڑ گیا مجھ کو
پھر یوں ہوا اپنی دنیا سمجھ لیا اس کو میں نے
پھر یوں ہوا سب سے منقطع ہونا پڑ گیا مجھ کو
پھر یوں ہوا وہ چھوڑ گیا مجھ کو
پھر یوں ہوا اکیلے رہنا پڑگیا مجھ کو
پھر یوں ہوا زندگی میں طاق راتیں آگئیں
پھر یوں ہوا رب سے مانگنا پڑگیا مجھ کو
پھر یوں ہوا زندگی موت جیسی لگتی تھی
پھر یوں ہوا زندہ رہ کے مرناپڑگیا مجھ کو.,
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
الٰہی ترکِ الفت پر وہ کیونکر یاد آتے ہیں
حقیقت کھل گئی حسرتؔ ترے ترکِ محبت کی
تجھے تو اب وہ پہلے سے بھی بڑھ کر یاد آتے ہیں
میں جانتا ہوں مگر تو بھی آئینہ لے کر
مجھے بتا کہ میرا انتخاب کیسا ہے !!
وہ جو کھو گیا کسی دشت میں، کسی شہر میں
وہی شخص اپنی مثال تھا__ مجھے یاد ہے
خود کو اِس قیامت میں بھی جھونکا میں نے ؛
اپنے ہاتھوں سے اُسے غیر کو سونپا میں نے
کوٸی میری طرح شعر کہہ ہی نہیں سکتا۔
کسی کے پاس تم سا موضوع ہی نہیں ۔۔
خیال اس بے وفا کا ہم نشیں اتنا نہیں اچھا
گماں رکھتے تھے ہم بھی یہ کہ ہم سے آشنا ہو گا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain