قافلے در قافلے ہیں چار سو مگر اپنا کوئی کھو گیا ہے زندگی کی راہگزار اتنی بھی تلخ نہیں مگر یہ دل دغا دے گیا ہے روح کے گھاؤ گہرے ہوئے مزید وہ ایسا زہریلا وار کر گیا ہے میں حوصلے کیوں نا ہاروں وہ میری آخری امید بھی لے گیا ہے
دِسمبر کی یخ بستہ ہواوں کی ماننِد وہ شخص ہے میرے لیے دُعاؤں کی مانِند جِس کا دِل ہے سنگ کا ایک ٹُکڑا وہ شخص ہے میرے لیے رب کی عطاؤں کی مانِند
" مُجھ سے رُوٹھا ہُوا شخص میرا حال دیکھتا ہوگا ؛ دِن رات " فیک آئی ڈی " سے میری " وال " دیکھتا ہوگا
اول اول ہنس لیتا تھا، اب بھر آتا ہے کل تک دوڑنے والا دل اب تھک سا جاتا ہے!
دل ہے بےچینیوں کی مٹھی میں !! ذہن پر تو سوار رہتا ہے ❣️
لب بام بھی پکارا سر راہ بھی صدا دی... ہم کہاں کہاں نہ پہنچے تیری دید کی لگن میں ...
تم کو بھاتا ہے بہت ڈوبتے سورج کا سماں، کاش کہ میں بھی کسی شام کا منظر ہوتا
عمر بھر کی ریاضت سے اپنے ہاتھ کیا آیا ، انتظارِ لا حاصل, جان لیوا تنھائی
جان دینے کی اجازت بھی نہیں دیتے ہو ورنہ مر جائیں ابھی مر کے منا لیں تم کو
یقین تھا کہ کوئی سانحہ گزرنا ہے گمان نہ تھا کہ تیرا ساتھ چھوٹ جائے گا
بچھڑتے وقت کہا تھا یہیں کھڑا ملوں گا یہ تم سے کس نے کہا تھا ہرا بھرا ملوں گا ؟ میں منتظر ہوں قلم کار اس کہانی میں اس ایک موڑ کا میں جب کہیں مرا ملوں گا علی بیراگ💟
کئی لبوں کی عیادت کو مُلتوی کر کے وہ ہَنس پَڑا تو دِلاسوں کے رَنگ اُڑنے لگے
اسی لیے تو نہیں دیکھتی کسی کی طرف، میں دیکھتی ہوں تو پھر بے حساب دیکھتی ہوں!❤
پھر اُس کے بعد کوئی اور ٹھکانہ نہیں ملا ، وہ اِک شام جب تیرے دِل سے نکالی گئ تھی میں ۔ " 💔🙂
لفظ پھولوں کی طرح چن کر تجھے دان کروں تجھ پر جچتے ہیں____ سبھی نام محبت والے
یہ جو مسکان کھـو گئی مجھ سے ضبط کی آخری نشانی تھی
اس لیے چُپ ہوں کہ اس بار یہ دکھ میرے الفاظ کی وسعت سے کہیں زیادہ ہے