میرے بے خواب سے کہنا
کہ اس نے میری آنکھوں میں
یہ کیسا ہجر لکھا ہے
کہ میں اب سو نہیں پاتی
میری آنکھوں میں دکھ صحرا سلگتے ہیں
مگر میں رو نہیں پاتی
میں اپنے بخت کا لکھا
لہو سے دھو نہیں پاتی_
تِری ھنسی سے تو میری شکست ھی بہتر
مِری شِکست میں تھوڑا سا اِعتماد تو ھے
"مصطفی زیدی
ہجر بیتا تو خد و خال سلامت تھے مگر
رنگ چہرے کا گیا ھونٹ گلابی نہ رھے
💞یہ جو ھم تم پر جان دیتے ھیں💞
عشق ھے جس کو ھم مان دیتے ھیں 💞
💞ایک لاوَ تو کوئی ھم جیسا💞
ھم تم کو سارا جہاں دیتے ھیں💞
وہ لوکیشن شئیر کرے تو کہوں
دل سے درد اتنے فاصلے پر ہے
اُس خوش جمال کو ہم بہت یاد آئیں گے
کہے گا جب کوئی اس کو بھاڑ میں جاؤ
نہ بتائیں گے کہ ناراض ہیں کس بات پہ ہم
اور تجھے ٹوٹے ہوئے دل بھی نہیں بھیجیں گے
وہ کہے آنکھ کھول باتیں کر
اور میرے پاس اختیار نہ ہو
یوں تیرے بعد ...... تیرا هجر نبھایا هم نے
جیسے پرکھوں پہ چڑھا قرض اتارے کوئی
سنو افسردگی اچھی نہیں ہے
چلو پھر مسکرا کر دیکھتے ہیں
ہمارے چہروں کی الجھن بتا رہی ہے کہ ہم
بلا جواز بنے ، بے سبب خراب ہوئے !
جہاں موسم حوالہ ہو... محبت ہو نہيں سكتى..
نومبر ہو....دسمبر ہو.. نظر انداز كر دينا..
سنہری شام، ڈھلتے سائے ۔۔۔۔
ٹھنڈا نومبر، گرم
چائے ۔۔۔۔.
چلو اب ایسا کرتے ہیں ستارے بانٹ لیتے ہیں۔
ضرورت کے مطابق ہم، سہارے بانٹ لیتے ییں۔
محبت کرنے والوں کی تجارت بھی انوکھی ہے
منافع چھوڑ دیتے ہیں، خسارے بانٹ لیتے ہیں۔
اگر ملنا نہیں ممکن تو لہروں پر قدم رکھ کر
ابھی دریائے الفت کے کنارے، بانٹ لیتے ہیں۔
میری جھولی میں جتنے بھی وفا کے پھول ہیں ان کو
اکٹھے بیٹھ کر،،،،،،، سارے کے سارے بانٹ لیتے ہیں۔
محبت کے علاوہ پاس اپنے کچھ نہیں ہے،، فیض
اسی دولت کو ہم قسمت کے مارے بانٹ لیتے ہیں۔
بھول جاتا ہوں ملنے والوں کو
خود سے پھرتا ہوں بے خبرکتنا
اُس نے آباد کی ہے تنہائی
ورنہ سُنسان تھا یہ گھر کتنا
وہ مجھے یاد کر کے سوتا ہے!
اُس کو لگتا ہے خُود سے ڈر کتنا
عادتیں سب بُری ہیں محسنؔ کی
اچھّا لگتا ہے وہ ...... مگر کتنا!
تم نے کیا سوچ کر میرے آگے
پھر محبت کا مشورہ رکھا.....؟؟
عشق گھـر کا کوئی ملازم ہے؟؟
کہ ایک چھوڑا تو دوسرا رکھا_
کیوں مانگ رہے ہو کسی بارش کی دعائیں
تم اپنے شکستہ درو دیوارتو دیکھو
عمر پہلے ہی مختصر تھی بہت،
کیا تیرا روٹھنا ضروری تھا۔۔۔۔۔!
اِتنا تو ترے راہ بدلنـــے کا نہیں ہـــے
جِتنا ترے بدلے ہوئے اطوار کا دکھ ہے
ہم اِس کو مُقدر کا لِکھا کیسے سمجھ لیں
ہم جان پہ کھیلے تھے ہمیں ہار کا دکھ ہے!
باتیں تو وہ بہت کر چکے ہیں مجھ سے...
بات دل کی کرتے تو بات اور تھی!!!
نصیر الدین نصیر..
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain