کہانی کار ترا شکریہ کہ تونے مجھے ملا کے اس سے بتایا , کہ زندگی یہ ہے
پرچھائیوں کے شہر کی تنہائیاں نہ پوچھ، اپنا شریکِ غم ، کوئی اپنے سوا نہ تھا - 🖤
مجھ سے بچھڑ کر اداس بھی نھیں ھوا وه اور میں ڈرتی تھی خودکشی نه کر لے
میں اداس ھوں گزشته کئی دنوں سے تم میری دیکھ بھال بھی تو کر سکتے تھے مانا که ممکن نھیں تھا گلے لگانا تم مجھے ایک کال تو کر سکتے تھے
ایک انبار ھے ھتھیلی پر کوئی بھی لکیر کام کی نھیں
میں اس کے ہاتھ سے مٹتی ھوئی لکیر کوئی __ وہ طاق راتوں میں مانگی گئی دعا کی طرح
جسے دیکھو مری وحشت پہ یہ تجویز دیتا ہے فلاں عامل وظیفہ اور فلاں تعویز دیتا ہے تجھے جھوٹی محبت مل گئی اس پہ قناعت کر یہاں کومل کسی کو کون خالص چیز دیتا ہے کومل جوئیه
آؤ نا پھر سے یاد کی گلیوں کی سیر کو🖤 بارش کا کوئی دن ہو، مہینہ نومبر ہو
یارم ! تمہارا شہر جدھر ہے اُسی طرف ! اک ریل جا رہی تھی کہ، تُم یاد آ گئے ۔
ہم سماعت کو ہتھیلی پہ لئے پھرتے ہیں تیری آواز میں کوئ تو پکارے ہم کو تو ہے وہ قیمتی نقصان جو راس آیا ہے اچھے لگتے ہیں ترے بعد خسارے ہم کو
رنگ بدلے، کبھی اُس شخص نے تیور بدلے اِس لیے عکس بنانے میں---- بہت دیر لگی
مِل تو رہی ہے مُجھ کو زمانے سے اب مگر! جب ساتھ وہ نہیں تو محبّت کا کیا کروں؟
میں تیری طرف لوٹ تو آوں مگر مجھے... تمھارا وہ آخری لہجہ نہیں بھولتا....
زندگی کب کی خاموش ہو گئی دل تو بس عادتاً دھڑکتا ہے
غریبی لڑتی رہی ٹھنڈی ہواؤں سے امیروں نے کہا واہ کیا موسم آیا ھے
یہ جانتے کہ محبت،،بھی اک دکھاوا ہے 😔 تو دل کے داغوں سے چہرہ سجا لیا ہوتا 🤧 گزرتی تم پہ بھی ایسی جو ہم پہ گزری ہے 😕 تو آسمان کو سر پر اٹھا لیا ہوتا
اسی خیال سے گزری ہے،،،،، شامِ غم اکثر کہ درد حد سے بڑھے گا تو مسکرا دوں گا
اس قدر قرض ہے محبت کا سوچتا ہوں تو ہول اٹھتا ہے