جسے دیکھو مری وحشت پہ یہ تجویز دیتا ہے فلاں عامل وظیفہ اور فلاں تعویز دیتا ہے تجھے جھوٹی محبت مل گئی اس پہ قناعت کر یہاں کومل کسی کو کون خالص چیز دیتا ہے کومل جوئیه
قصہ مختصر ہےہماری الفت کا کبھی پہلو میں بیٹھو تو سنائیں گے ہم اشکوں کے دریا میں غوطہ زن ہوئے جب لبوں سے فقط نکلا یہ تمہاری بے وفائی سے وفا تو نبھائیں گے ہم راس نہ تنہائی تھی نہ لوگوں سی ہماری کوئی شناسائی تھی ایک الجھن سی تھی پھر بھی تیری یادوں کا عذاب منائیں گے ہم ۔(کرن رفیق)
مجھے ڈر لگتا ہے لوگوں سے انکے قریب آنے سے اچانک چھوڑ جانے سے بہت سخت لہجوں سے اور نرم مزاجوں سے جان بن جانے سے انجان ہو جانے سے بہت خاص ہونے سے بے حد عام ہو جانے سے احسان کرنے سے احسان جتانے سے پہلے ہسنے سے پھر خود ہی رولانے سے ایک دن چھوڑ جانے سے کبھی نا لوٹ آنے سے مجھے ڈر لگتا ہے اب لوگوں سے