"محسوس کر رہا ہوں تجھے خوشبوؤں سے میں آواز دے رہا ہوں بڑے فاصلوں سے میں مجھ کو مرے وجود سے کوئی نکال دے تنگ آ چکا ہوں روز کے ان حادثوں سے میں یہ اور بات ہے تجھ کو نہیں پا سکا اب تک آیا ترے قریب کئی راستوں سے میں طے ہو سکے گا مجھ سے نہ یہ ذات کا سفر مانوس ہو نہ پاؤں گا تنہائیوں سے میں ہے میرا چہرہ سیکڑوں چہروں کا آئینہ بیزار ہو گیا ہوں تماشائیوں سے میں"__
یہ دل بھی تو ڈوبے گا سمندر میں کسی کے ہم بھی تو لکھے ہوں گے مقدر میں کسی کے اس دل کے بہت پاس نہ اس دل سے بہت دور بیٹھے ہوئے ہم ہوں گے برابر میں کسی کے شاید کہ کسی مصرعۂ خوش رنگ کی صورت ہم بھی نظر آ جائیں گے منظر میں کسی کے...!!