Damadam.pk
Mrwa_11's posts | Damadam

Mrwa_11's posts:

Mrwa_11
 

اس لیے اس سے بچھڑتے ہوئے ڈر لگتا ہے
چاند ہو ساتھ تو صحرا مجھے گھر لگتا ہے
یہ جزا پائی میاں دربدری لکھنے کی
اب مرا ہاتھ مجھے کونج کا پر لگتا ہے
انکھ کھلتے ہی اسے دیکھ کے ڈر جاتا ہوں
چاند دیوار پہ رکھا ہوا سر لگتا ہے
دھوپ میں چھاؤں چھڑکتی ہیں گھنیری پلکیں
مہرباں ہو کے وہ دیکھے تو شجر لگتا ہے
یہ جو گلیاں ہیں مرے شہر کی سونی گلیاں
ان میں پھرنا مجھے اندر کا سفر لگتا ہے
جیسے کہتا ہو کہ اندر مجھے آنے دیجے
شام ہوتی ہے تو کھڑکی سے شجر لگتا ہے
اپنے شجرے کی وہ تصدیق کرائے جا کر
جس کو زنجیر پہنتے ہوئے ڈر لگتا ہے

Mrwa_11
 

کچھ دُور ہمارے ساتھ چلو، ہم دل کی کہانی کہہ دیں گے،
سمجھے نہ جسے تم آنکھوں سے ، وہ بات زبانی کہہ دیں گے،
پھولوں سے ہونٹوں پر جب،،،،،، اک شوخ تبسم بکھرے گا،
دھیرے سے تمہارے کانوں میں اک بات پرانی کہہ دیں گے،
اظہارِ وفا تُم كيا جانو،،،،،،،،،،،،،،،، اِقرارِ وفا تُم كيا جانو،
ہم ذِكر کریں گے غیروں کا، اور اپنی کہانی کہہ دیں گے،

Mrwa_11
 

ابھی اِس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں
میرا لفظ لفظ ہو آئینہ ،،،،،،،،،، تجھے آئینے میں اُتار لوں
میں تمام دن کا تھکا ہوا ،،، تو تمام شب کا جگا ہوا
ذرا ٹھہر جا اِسی موڑ پر، تیرے ساتھ شام گزار لوں
کہیں اور بانٹ دے شہرتیں، کہیں اور بخش دے عزتیں
میرے پاس ہے میرا آئینہ ،، میں کبھی نہ گرد و غبار لوں
کئی اجنبی تری راہ میں، میرے پاس سے یوں گزر گئے
جنہیں دیکھ کر یہ تڑپ ہوئی، تیرا نام لے کے پکار لوں

Mrwa_11
 

عزت کرنے پہ آؤں تو مجھ سا مؤدب نہیں کوئى ،
کسى بات پہ ڈٹ جاؤں تو بغاوت مشہور ہے میری

Mrwa_11
 

جان مانگے تو جان بھی حاضر
جان کیا جانِ جاں سے پیاری ہے؟
نصیر الدین نصیر

Mrwa_11
 

تُو وہی ، پھر نہ لوٹنے والا
ہم وہی ، راہ دیکھنے والے

Mrwa_11
 

وہ جو اک شخص پُرانا تھا ،مرے کام کا تھا
یہ نئے لوگ بھی اچھے ہیں، مگر جانے دو!

Mrwa_11
 

عجب بھول بھلیاں تھا اس کا ہونا بھی
ہر اک شئے میں وہی تھا، مگر نہیں تھا وہ

Mrwa_11
 

دل کی مٹی سے زیادہ نہیں کچھ بھی زرخیز
جب کریدو کوئی سوغات نکل آتی ہے

Mrwa_11
 

زندگی دیکھ تیرے دِیدہ تَمسخُر کی قسم
ہم تجھے چھوڑنے والے ہیں یوں تماشہ نہ بنا.......

Mrwa_11
 

شہر والوں کی محبت کا میں قائل ہوں مگر
میں نے جس ہاتھ کو چوما وہی خنجر نکلا
میں کہ صحرائے محبت کا مسافر تھا فرازؔ
ایک جھونکا تھا کہ خوشبو کے سفر پر نکلا
احمد فراز 💔

Mrwa_11
 

لئے پھرا ہوں نہ جانے کہاں کہاں اِس کو
مگر یہ دل ہے کہ وہ راہ بھولتا ہی نہیں

Mrwa_11
 

کب نکلتا ہے کوئی دل میں اُتر جانے کے بعد
اس گلی کے دوسری جانب کوئی رسته نہیں

Mrwa_11
 

اے طلسماتی خدوخال کے مالک تجھ سے
آخری بار کوئی، پہلی جھلک مانگتا ہے.

Mrwa_11
 

ایک بہانہ ھے میرے پاس ابھی جینے کا
چند تصویریں میرے موبائل میں پڑی ھیں تیری۔

Mrwa_11
 

وہ آنکھیں جن سے ملاقات اک بہانہ ہوا
انہیں خبر ہی نہیں کون کب نشانہ ہوا
ستارۂ سحری کا بھروسہ مت کیجو
نئے سفر میں یہ رخت سفر پرانا ہوا
نہ جانے کون سی آتش میں جل بجھے ہم تم
یہاں تو جو بھی ہوا ہے درون خانہ ہوا
کچھ اس طرح سے وہ شامل ہوا کہانی میں
کہ اس کے بعد جو کردار تھا فسانہ ہوا
اسی ستارے نے بھٹکا دیا سر منزل
سفر پہ جو مری تحویل میں روانہ ہوا
سنا ہے تجھ کو تو ہم یاد بھی نہیں آتے
یہ امتحاں تو نہیں یہ تو آزمانا ہوا
ہمیں تو عشق مقدر ہے جیسے رزق سلیمؔ
سو چل پڑیں گے جہاں اپنا آب و دانہ ہوا

Mrwa_11
 

کبھی درد کے گل مہکتے تو ہوں گے
ملن کو وہ ہم سے ترستے تو ہوں گے
جہاں ساتھ چلتے تھے ان راستوں میں
قدم، بے ارادہ ۔۔۔۔۔ بھٹکتے تو ہوں گے
کسی مصلحت میں ادھورے رہے جو
لبوں پر وہ نغمے مچلتے تو ہوں گے
ہمیں یاد کر کے کچھ اشکوں کے موتی
سرِ نوکِ مژگاں چمکتے تو ہوں گے
کبھی شاخِ دل پر ۔۔۔۔۔۔ سرِ شام نسریںؔ
وفاؤں کے پنچھی چہکتے تو ہوں گے

Mrwa_11
 

اس سے پہلے کہ جدائی کی خبر تم سے ملے
ہم نے سوچا ہے کہ ہم تم سے بچھڑ جائیں گے۔💔

Mrwa_11
 

ایک مُدت ہوئی کوئی تصویر نہیں بنائی اپنی
اک عرصہ ہوا خود کو اچھے نہیں لگے ہم

Mrwa_11
 

خود پہ لازم تیری خوشی کردی
نام تیرے یہ زندگی کردی۔۔۔۔
تم نے مانگی متاعِ جاں مجھ سے
میں نے حاضر دِیوانگی کردی۔۔۔