اس لیے اس سے بچھڑتے ہوئے ڈر لگتا ہے
چاند ہو ساتھ تو صحرا مجھے گھر لگتا ہے
یہ جزا پائی میاں دربدری لکھنے کی
اب مرا ہاتھ مجھے کونج کا پر لگتا ہے
انکھ کھلتے ہی اسے دیکھ کے ڈر جاتا ہوں
چاند دیوار پہ رکھا ہوا سر لگتا ہے
دھوپ میں چھاؤں چھڑکتی ہیں گھنیری پلکیں
مہرباں ہو کے وہ دیکھے تو شجر لگتا ہے
یہ جو گلیاں ہیں مرے شہر کی سونی گلیاں
ان میں پھرنا مجھے اندر کا سفر لگتا ہے
جیسے کہتا ہو کہ اندر مجھے آنے دیجے
شام ہوتی ہے تو کھڑکی سے شجر لگتا ہے
اپنے شجرے کی وہ تصدیق کرائے جا کر
جس کو زنجیر پہنتے ہوئے ڈر لگتا ہے
کچھ دُور ہمارے ساتھ چلو، ہم دل کی کہانی کہہ دیں گے،
سمجھے نہ جسے تم آنکھوں سے ، وہ بات زبانی کہہ دیں گے،
پھولوں سے ہونٹوں پر جب،،،،،، اک شوخ تبسم بکھرے گا،
دھیرے سے تمہارے کانوں میں اک بات پرانی کہہ دیں گے،
اظہارِ وفا تُم كيا جانو،،،،،،،،،،،،،،،، اِقرارِ وفا تُم كيا جانو،
ہم ذِكر کریں گے غیروں کا، اور اپنی کہانی کہہ دیں گے،
ابھی اِس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں
میرا لفظ لفظ ہو آئینہ ،،،،،،،،،، تجھے آئینے میں اُتار لوں
میں تمام دن کا تھکا ہوا ،،، تو تمام شب کا جگا ہوا
ذرا ٹھہر جا اِسی موڑ پر، تیرے ساتھ شام گزار لوں
کہیں اور بانٹ دے شہرتیں، کہیں اور بخش دے عزتیں
میرے پاس ہے میرا آئینہ ،، میں کبھی نہ گرد و غبار لوں
کئی اجنبی تری راہ میں، میرے پاس سے یوں گزر گئے
جنہیں دیکھ کر یہ تڑپ ہوئی، تیرا نام لے کے پکار لوں
عزت کرنے پہ آؤں تو مجھ سا مؤدب نہیں کوئى ،
کسى بات پہ ڈٹ جاؤں تو بغاوت مشہور ہے میری
جان مانگے تو جان بھی حاضر
جان کیا جانِ جاں سے پیاری ہے؟
نصیر الدین نصیر
تُو وہی ، پھر نہ لوٹنے والا
ہم وہی ، راہ دیکھنے والے
وہ جو اک شخص پُرانا تھا ،مرے کام کا تھا
یہ نئے لوگ بھی اچھے ہیں، مگر جانے دو!
عجب بھول بھلیاں تھا اس کا ہونا بھی
ہر اک شئے میں وہی تھا، مگر نہیں تھا وہ
دل کی مٹی سے زیادہ نہیں کچھ بھی زرخیز
جب کریدو کوئی سوغات نکل آتی ہے
زندگی دیکھ تیرے دِیدہ تَمسخُر کی قسم
ہم تجھے چھوڑنے والے ہیں یوں تماشہ نہ بنا.......
شہر والوں کی محبت کا میں قائل ہوں مگر
میں نے جس ہاتھ کو چوما وہی خنجر نکلا
میں کہ صحرائے محبت کا مسافر تھا فرازؔ
ایک جھونکا تھا کہ خوشبو کے سفر پر نکلا
احمد فراز 💔
لئے پھرا ہوں نہ جانے کہاں کہاں اِس کو
مگر یہ دل ہے کہ وہ راہ بھولتا ہی نہیں
کب نکلتا ہے کوئی دل میں اُتر جانے کے بعد
اس گلی کے دوسری جانب کوئی رسته نہیں
اے طلسماتی خدوخال کے مالک تجھ سے
آخری بار کوئی، پہلی جھلک مانگتا ہے.
ایک بہانہ ھے میرے پاس ابھی جینے کا
چند تصویریں میرے موبائل میں پڑی ھیں تیری۔
وہ آنکھیں جن سے ملاقات اک بہانہ ہوا
انہیں خبر ہی نہیں کون کب نشانہ ہوا
ستارۂ سحری کا بھروسہ مت کیجو
نئے سفر میں یہ رخت سفر پرانا ہوا
نہ جانے کون سی آتش میں جل بجھے ہم تم
یہاں تو جو بھی ہوا ہے درون خانہ ہوا
کچھ اس طرح سے وہ شامل ہوا کہانی میں
کہ اس کے بعد جو کردار تھا فسانہ ہوا
اسی ستارے نے بھٹکا دیا سر منزل
سفر پہ جو مری تحویل میں روانہ ہوا
سنا ہے تجھ کو تو ہم یاد بھی نہیں آتے
یہ امتحاں تو نہیں یہ تو آزمانا ہوا
ہمیں تو عشق مقدر ہے جیسے رزق سلیمؔ
سو چل پڑیں گے جہاں اپنا آب و دانہ ہوا
کبھی درد کے گل مہکتے تو ہوں گے
ملن کو وہ ہم سے ترستے تو ہوں گے
جہاں ساتھ چلتے تھے ان راستوں میں
قدم، بے ارادہ ۔۔۔۔۔ بھٹکتے تو ہوں گے
کسی مصلحت میں ادھورے رہے جو
لبوں پر وہ نغمے مچلتے تو ہوں گے
ہمیں یاد کر کے کچھ اشکوں کے موتی
سرِ نوکِ مژگاں چمکتے تو ہوں گے
کبھی شاخِ دل پر ۔۔۔۔۔۔ سرِ شام نسریںؔ
وفاؤں کے پنچھی چہکتے تو ہوں گے
اس سے پہلے کہ جدائی کی خبر تم سے ملے
ہم نے سوچا ہے کہ ہم تم سے بچھڑ جائیں گے۔💔
ایک مُدت ہوئی کوئی تصویر نہیں بنائی اپنی
اک عرصہ ہوا خود کو اچھے نہیں لگے ہم
خود پہ لازم تیری خوشی کردی
نام تیرے یہ زندگی کردی۔۔۔۔
تم نے مانگی متاعِ جاں مجھ سے
میں نے حاضر دِیوانگی کردی۔۔۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain