. کبھی اُن کو یہ کہنا کہ میں آپ سے زیادہ جانتی ہوں بے شک اپنے گھر کے معملے میں وہ تم سے زیادہ جانتے ہیــں. کیوں کہ ہر گھر کے اپنے الگ اصول ہوتے ہیـں بیٹی شوہر کو کبھی پیٹھ دے کر نہ سونا. کہ اللہ پاک عورت کی اس حرکت سے ناراض ہوتے ہیــــں . بیٹی روٹھنا اس حد تک کہ وہ اگر ایک دفعہ منانے کی کوشش کرے تو مان جانا ... اور اگر وہ لاکھ دفعہ بھی نہ مانے تو ایک لاکھ ایک دفعہ پھر کوشش کرنا کبھی شوہر سے ایسی ڈیمانڈ مت کرنا جو اُس کی حیثیت سے بڑھ کر ہو . اُس کی مجبوریوں کا احساس کرنا جب تک سسرال والوں کے اصولوں کو سمجھ نہ جاؤ l تب تک اگر کسی چیز کو استمال کرنا ہو تو اُن سے پوچھ کر استمال کرنا اُس گھر کے سبھی افراد کا خیال ایسے رکھنا. جاری
*ایک باپ اپنی بیٹی کو شادی سے کچھ گھنٹے قبل سمجھاتے ہوئے ... بیٹی یہاں تم نے جو کھایا پیا. کبھی وہاں اس بات کا ذکر نہ کرنا کہ تم نے اپنے ماں باپ کے گھر اچھا کھایا ... اور یہاں تمھہیں اچھا کھانے کو نہیـں مل رہا ... پیٹ میں جو چیز چلی جائے کچھ ہی گھنٹوں بعد اُس کی لزت ختم ہو جاتی ہے اور یاد ہی نہیـں رہتا کہ کب ہم نے کیا کھایا تھا ... کھانے پر کبھی کسی کے ساتھ بحث نہ کرنا. جو مل جائے شکر کر کے کھا لینا ... بیٹی جس طرح تم نے اس گھر کو اپنا سمجھ کر صرف اس گھر کی تعریفیں کی ہیــــں ... اُسی طرح اُس گھر کو اپنا سمجھ کر اُس گھر کی تعریفیں کرنا ... کبھی بُرائی نہ کرنا ... بے شک اب وہ ہی تمھارا اپنا گھر ہے ... بیٹی تم نے ماسٹر کیا ہے مگر اپنی پڑھائی کا رعب اپنے سسرال والوں پر مت استمال کرنا جاری.
*ہر عمل کی ایک حد ہوتی ہے ... صبر کی بھی ہوتی ہے ... برداشت کی بھی ہوتی ہے ... جو گھٹ بھی سکتی ہے ... بڑھ بھی سکتی ہے ... مصیبت بڑی ہو تو صبر اور برداشت کی حد چھوٹی لگنے لگی ہے ... صبر اور برداشت کو بڑھانے کا طریقہ بڑا آسان ہے ... بس جب صبر ختم ہونے لگے تو کنارا کر لینا چاہیے ... دلوں میں میل آنا کوئی بڑی بات نہیـں ہے ... آ ہی جایا کرتا ہے کبھی کبھی ... پر سارے کا سارا دل میلا ہونے کا انتظار نہیـــــــــں کرنا چاہئیے
*کوئی تمہارا کردار اُٹھا کر بیچ سڑک پر بھی لٹکا دے تو بھی اِطمینان رکھنا..!* "وَتُعِزُّ مَن تَشَاء ُوَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ" *بےشک عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔*🥰💓💯