⚙ شـرح محنت مزدوری کرنے والے نے یہ شکایت کی کہ یہ کمانے میں میرا تعاون نہیں کرتا اور میرے ساتھ کھاتا ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیه وسلم نے شکایت کرنے والے کی یہ فرمائش کی کہ وہ علم دین سیکھنے کے لیے میرے پاس رہتا ہے، اس لیے یہ سمجھو کہ تم کو جو تمہاری کمائی سے روزی ملتی ہے اس میں اس کی برکت بھی شامل ہے، اس لیے تم گھمنڈ میں مت مبتلا ہو جاؤ، واضح رہے کہ دوسرا بھائی یونہی بیکار نہیں بیٹھا رہتا تھا، یا یونہی کام چوری نہیں کرتا تھا، علم دین کی تحصیل میں مشغول رہتا تھا، اس لیے اس حدیث سے بے کاری اور کام چوری کی دلیل نہیں نکالی جا سکتی، بلکہ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اللہ تعالى کے راستہ میں لگنے والوں کی تائید اور معاونت دیگر اہل خانہ کیا کریں۔ |[ سنن الترمذي : ٢٣٤٥
*📍تعلیم الحدیث بالتحقیق : (163)*📍 🍃 سیدنا أنس بن مالك رضي الله عنه کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیه وسلم کے زمانے میں دو بھائی تھے، ان میں ایک نبی اکرم صلی اللہ علیه وسلم کی خدمت میں رہتا تھا اور دوسرا محنت و مزدوری کرتا تھا، محنت و مزدوری کرنے والے نے ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیه وسلم سے اپنے بھائی کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا : *« شایــد تجــھے اسی کی وجـــہ سے روزی ملتـی ہــو ».* .شـرح جاری
*✒ تخلیق مخلوق✨* سیــدنا عائشہ ؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا : فرشتے نور سے پیدا کیے گئے ، جن دھوئیں اور شعلے والی آگ سے پیدا کیے گئے جبکہ آدم ؑ اس چیز سے پیدا کیے گئے جو تمہیں بیان کر دی گئی ہے(یعنی مٹی سے)‘‘* مشکاة_المصابیح:5701(صحیح
(۳) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، علم نہیں دیا، پس وہ اپنے مال کو بے تکا اور بغیر سوچے سمجھے خرچ کرتا ہے اور اس کے بارے میں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے گھٹیا مرتبے والا ہے-* *(۴) وہ آدمی جس کو نہ اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور نہ علم، لیکن اس گھٹیا آدمی کے کردار کو سامنے رکھ کر کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کی طرح کے کام کرتا، یہ اس کی نیت ہے۔* مسند_احمد :9614(صحیح)
✒ 4 قســم کے لوگ سیدنا ابو کبشہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: دنیا صرف چار افراد کے لیے ہے، *(۱) وہ آدمی جس اللہ تعالیٰ نے مال بھی عطا کیا اور علم بھی اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے اور اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے افضل مرتبے والا ہے-* *(۲) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا، مال نہیں دیا، پس وہ نیک خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں آدمی کی طرح نیک کام کرتا، ان دونوں کا اجر برابر ہے-* جاری
ابن القيم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک دفعہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا :رکاوٹیں اور آزمائشیں تو سردی و گرمی کی طرح ہوتی ہیں، جب بندہ جان لے کہ یہ لازمی ہی آئیں گی تو وہ ان کے آنے پر نہ تو غصہ کرتا ہے اور نہ ہی مایوس و غمگین ہوتا ہے۔ [مدارج السالكين: ٣٦١/٣]
____ 💚💚 ✒ 💚💚🌺 *دنیا کا سب سے بڑا حکیم* آج پوری دنیا کہہ رہی ہے ...*کہ ہاتھ دھوئیں حالانکہ ہمارے نبی کریم*(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے* چودہ سو سال پہلے ہی*یہ بتا دیا تھا جب صبح اٹھو ...*تو تین بار ہاتھ دھو لیں ...* کھانا کھانے سے پہلے ..*اور کھانا کھانے کے بعد ہاتھ دھو لیں ...* اور وضو کرتے ہوئے تین بار ہاتھ دھو لیں*استنجا کے ساتھ ساتھ ہاتھ دھو لیں ...* اگر دیکھا جائے تو یہ دن میں*20 25 مرتبہ ہاتھ دھونا بنتا ہے ...* سچ یہی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی* ہر سنت میں خیر ہے