سبز موسم کی خبر لے کے ہَوا آئی ہو
کام ، پت جھڑ کے اسیروں کی دُعا آئی ہو
لَوٹ آئی ہو وہ شب جس کے گُزر جانے پر
گھاٹ سے پائلیں بجنے کی صدا آئی ہو
اِسی اُمید میں ہر موجِ ہَوا کو چُوما
چُھو کے شاید میرے پیاروں کی قبا آئی ہو
گیت جِتنے لِکھے اُن کے لیے اے موج صبا!
دل یہی چاہا کہ تو اُن کو سُنا آئی ہو
آہٹیں صرف ہَواؤں کی ہی دستک نہ بنیں
اب تو دروازوں پہ مانوس صدا آئی ہو
یُوں سرِ عام، کُھلے سر میں کہاں تک بیٹھوں
کِسی جانب سے تو اَب میری ردا آئی ہو
جب بھی برسات کے دن آئے ،یہی جی چاہا
دُھوپ کے شہر میں بھی گِھر کے گھٹا آئی ہو
تیرے تحفے تو سب اچھے ہیں مگر موجِ بہار!
اب کے میرے لیے خوشبوئے حِنا آئی ہو
پروین شاکر
خوبی یہی نہیں ہے کہ انداز و ناز ہو
معشوق کا ہے حسن اگر دل نواز ہو
سجدے کا کیا مضائقہ محراب تیغ میں
پر یہ تو ہو کہ نعش پہ میری نماز ہو
اک دم تو ہم میں تیغ کو تو بے دریغ کھینچ
تا عشق میں ہوس میں تنک امتیاز ہو
نزدیک سوز سینہ سے رکھ اپنے قلب کو
وہ دل ہی کیمیا ہے جو گرم گداز ہو
ہے فرق ہی میں خیر نہ کر آرزوے وصل
مل بیٹھیے جو اس سے تو شکوہ دراز ہو
جوں توں کے اس کی چاہ کا پردہ کیا ہے میں
اے چشم گریہ ناک نہ افشاے راز ہو
جوں چشم بسملی نہ مندی آوے گی نظر
جو آنکھ میرے خونی کے چہرے پہ باز ہو
ہم سے تو غیرعجز کبھو کچھ بنا نہ میر
خوش حال وہ فقیر کہ جو بے نیاز ہو
( میر تقی میر )
سُنو تم سے کوئی پوچھے۔۔۔
کبھی مطلب محبت کا۔۔۔۔۔۔
تو اس کو کُچھ بتانے سے۔۔۔
ذرا پہلے ٹھہر جانا۔۔۔
اُٹھا کر خاک سر پر ڈال کر
اتنا فقط کہنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت ابتداء سے انتہا تک
درد کا پیکر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت بے پنہا تکلیف کا
اجڑا ہوا منظر۔۔۔۔۔
گلوں کو بھی محبت ۔۔
آرزوئے خار دیتی ہے۔۔۔!!
محبت خاموشی سے۔۔۔۔
دھیرے دھیرے مار دیتی ہے۔۔۔۔!!!
اس دیس میں لگتا ہے عدالت نہیں ہوتی
جس دیس میں انسان کی حفاظت نہیں ہوتی
مخلوق خدا جب کسی مشکل میں پھنسی ہو
سجدوں میں پڑے رہنا عبادت نہیں ہوتی
ہم خاک نشینوں سے ہی کیوں کرتے ہیں نفرت
کیا پردہ نشینوں میں غلاظت نہیں ہوتی
یہ بات نئی نسل کو سمجھانا پڑے گی
عریانی کبھی بھی ثقافت نہیں ہوتی
ہر شخص سر پر کفن باندھ کے نکلے
حق کے لیے لڑنا تو بغاوت نہیں ہوتی
حبیب جالب
کیا کیا ہمارے خواب تھے ، جانے کہاں پہ کھو گئے
تم بھی کسی کے ساتھ ہو ، ہم بھی کسی کے ہو گئے
جانے وہ کیوں تھے ، کون تھے ؟ آئے تھے کس لیے یہاں
وہ جو فشار وقت میں ، بوجھ سا ایک دھو گئے
اس کی نظر نے یوں کیا گرد ملال جان کو صاف
اَبْر برس کے جس طرح ، سارے چمن کو دھو گئے
کٹنے سے اور بڑھتی ہے اٹھے ہوئے سرو کی فصیل
اپنے لہو سے اہل دل ، بیج یہ کیسے بو گئے
جن کے بخیر اک پل ، جینا بھی مُحال تھا
شکلیں بھی ان کی بجھ گئیں ، نام بھی ان کے کھو گئے
آنکھوں میں بھر کے رت جگے ، رستوں کو دے کے دوریاں
امجد وہ اپنے ہمسفر ، کیسے مزے سے سو گئے
امجد اسلام امجد
. ❤ کسی شام__ آ ۔۔۔ 👑
. 🌹 "اے میرے ہمنشیں۔ ۔۔ ❤
. 🥰 وہی رنگ دے میری آنکھ کو_!!! 😘
. 😍 "وہی بات کہہ میرے کان میں" 🌸
. 🔥 مجھے دیکھ، مجھ پہ نگاہ کر__!!!! 💖
. 🤩 کہ میں مر مٹوں ❤
. 🥀 تیرے نام پہ ۔۔۔۔۔۔، 😘
. 🥰 کہ میں جی اُٹھوں_ ❤
. 🌹 تیرے دھیان میں....💖
🌹🌹❤️❤️🌹❤️
بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی
لوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گے
یہ بھی پوچھیں گے کہ تم اتنی پریشاں کیوں ہو
انگلیاں اٹھیں گی سوکھے ہوئے بالوں کی طرف
اک نظر دیکھیں گے گزرے ہوئے سالوں کی طرف
چوڑیوں پر بھی کئی طنز کئے جائیں گے
کانپتے ہاتھوں پہ فقرے بھی کسے جائیں گے
لوگ ظالم ہیں ہر اک بات کا طعنہ دیں گے
باتوں باتوں میں مرا ذکر بھی لے آئیں گے
ان کی باتوں کا ذرا سا بھی اثر مت لینا
ورنہ چہرے کے تأثر سے سمجھ جائیں گے
چاہے کچھ بھی ہو سوالات نہ کرنا ان سے
میرے بارے میں کوئی بات نہ کرنا ان سے
بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی--
آ کے لے جائے میری آنکھ کا پانی مجھ سے
کیوں حسد کرتی ہے دریا کی روانی مجھ سے
گوشت ناخن سے الگ کر کے دکھایا میں نے
اُس نے پوچھے تھے جدائی کے معانی مجھ سے
ہو گیا خون بھی جب خشک اشکوں کی طرح
کر گئے خواب میرے نقل مکانی مجھ سے
صرف اک شخص کے غم میں مجھے برباد نا کر
روز روتے ہوئے کہتی ہے جوانی مجھ سے
کام غم سے کمال لیتے ہیں
رَنج غزلوں میں ڈھال لیتے ہیں
نام کا بھی نہیں کوئی ہمدرد
اور ہم دَرد پال لیتے ہیں
روز اِک سانحے کی برسی پر
دِل ، لہو میں اُبال لیتے ہیں
کچھ نمک خوار جب دِکھائی دیں
زَخم ، چاقو نکال لیتے ہیں
شاعری یعنی خوش فہم مل کر
خواب میں حصہ ڈال لیتے ہیں
بعض جملوں کے گھاؤ بھرنے میں
تیس ، چالیس سال لیتے ہیں
قیسؔ ہم کیوں کسی کے طعنوں کو
ڈائری میں سنبھال لیتے ہیں
شہزاد قیس
جفا کے ذِکر پہ
تُم کیوں سنبھل کے بیٹھ گئے!
تمہاری بات نہیں___
بات ہے زمانے کی!!!!!!
Catagery do zalimo
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain