تیور تھے بے رخی کے انداز دوستی کے وہ اجنبی تھا لیکن لگتا تھا آشنا سا اب کیا کہیں کے ہم کو کیوں بدگمانیاں ہیں وہ بےوفا نہی پر لگتا ہے۔۔۔ بے وفا سا پہلے بھی لوگ آۓ کتنے ہی ذندگی میں وہ ہر طرح سے لیکن اوروں سے تھا جدا سا اب سچ کہیں تو یارو ہم کو خبر نہی تھی بن جاۓ گا قیامت اک واقعہ زرا سا ❤️❤️
یہ عشق کی آتش کہیں تجھ کو نہ جلا دے یادوں کی دبی راکھ کو ہرگز نا ہوا دے لازم نہیں ہر بار تجھے ہم ہوں میسر ممکن ہے تو اس بار ہمیں سچ میں گنوا دے کب تک تری یادوں کی اذیت کو سہوں میں اس کرب سے مجھ کوئی آزاد کرا دے جینے نہیں دیتا یہی احساس شب و روز سالوں کی رفاقت کوئی لمحوں میں بھلا دے قائم ہی رہیں گے سداہم اپنی وفاپر تو ظلم کی شدت کو بھلے اور بڑھا دے یہ سوچ کے دل تجھ کو نہیں بھولا ابھی تک شاید کہ کسی موڑ پہ تو ہم کو صدا دے وہ شخص بھلا کیسے سکوں پائے کہ جس کی صدیوں کی ریاضت کوئی مٹی میں ملا دے اس دور میں ممکن نہیں حق بات بھی کہنا مجرم ہوں اگر میں مجھے سولی پہ چڑھا دے دنیا ترے اخلاص کو سمجھے گی نہ عاصی بہتر ہے کہ جذبوں کو تہہ خاک سلا دے
"ہم دل کو جلا رکھیں گے" درد جتنا بھی ہوا، دل میں چھپا رکھیں گے زخم سہہ لیں گے مگر، بھرم وفا رکھیں گے کیا ہوا ہم کو، جو گلرنگ بہاریں نہ ملیں اپنے آنگن کو خزاؤں سے سجا رکھیں گے ہم کو اپنی ہی محبت کے گلابوں کی قسم ہم اپنے پیار سے، گلشن کو سجا رکھیں گے سرخ کلیاں نہ ملیں، اسکی بہاروں کےلیئے زرد پتوں سے ہی کچھ خوا ب، آگا رکھے گے لوگ پھولوں پہ جو، اک ساتھ نبھاتے ترسیں ہم تو کانٹوں پہ بھی وہ ساتھ، نبھا رکھیں گے گر چمن اپنی مرادوں کا کبھی کھل نہ سکا ہم تیری یادوں کو ہی، دل میں بسا رکھیں گے اپنی راہوں کا اگر، ایک بھی دیا جو بجھا تیری ہر راہ پہ، ہم دل کو جلا رکھیں گے.
یہ کون اس درجہ آتشیں رکھ رکھاؤ میں ہے یہ کس کا چہرہ ہے جو دہکتے الاؤ میں ہے صدائے کن اس کے بعد شاید کبھی نہ آئے ہماری تخلیق اپنے انتم پڑاؤ میں ہے اسے ٹھہرنے کا حکم دے کر خراب مت کر ندی کا سارا وجود اس کے بہاؤ میں ہے یہ بنت حیرت وہ بے نیازی کا دیوتا ہے ملیں گے کیا جب تضاد اتنا سبھاؤ میں ہے چناب غیظ و غضب بس اتنا خیال رکھنا ہماری کل کائنات اس ٹوٹی ناؤ میں ہے جو بے طرح کی گھٹا رکے تو ہم آنکھیں دیکھیں ابھی یہ نیلا گلاب اک جل بھراؤ میں ہے
سارے کھیل روحوں کے ہوتے ہیں مٹی کے جسم میں کشش تب ہی جاگتی ہےجب روح کا ٹکراؤ اپنی من پسند ساتھی روح سے ہوتا ہے ورنہ یہاں تو حسین و جمیل لوگ بھی دل کو نہیں بھاتے اور کبھی سادہ سا انسان بھی جان سے پیارا ہو جاتا ہے...