صراحی کا بھرم کھلتا نہ میری تشنگی ہوتی ذرا تم نے نگاہ ِناز کو تکلیف دی ہوتی جہاں بدلامگر آدابِ میخانہ نہیں بدلے کبھی اے گردشِ دوراں ادھر بھی آگئی ہوتی رہِ ہستی کے ہر منظر پہ رکتی ہے نظر اپنی وہ مل جاتے تو کیا دنیا میں ایسی دلکشی ہوتی مقام عاشقی دنیا نے سمجھا ہی نہیں ورنہ جہاں تک تیرا غم ہوتا وہیں تک زندگی ہوتی بھڑک اٹھی ہیں شاخیں پھول شعلے بنتے جاتے ہیں ہمارے آشیانوں سے کہاں تک روشنی ہوتی مری وحشت کا اندازہ تو ہوجاتا زمانے کو جبینِ زندگی پر اک شکن ہی آگئی ہوتی! تمہاری آرزو کیوں دل کے ویرانے میں آ پہنچی بہاروں میں پلی ہوتی ستاروں میں رہی ہوتی زمانے کی شکایت کیا ،زمانہ کس کی سنتا ہے مگر تم نے تو آواز جنوں پہچان لی ہوتی ہمارا ہی شعورِ بیکسی تھا درمیاں ورنہ تری شانِ تغافل کی حقیقت کھل گئی ہوتی
رُوح لے گیا دل دا جانی تے بُت سانُوں چُکڑاں پیا اَساں تیرے باھجوں پل نئیوں جیڑاں ایہہ گل ساڈی پلے بنھ لے۔ کاسے اکھیاں دے بَھر بَھر ڈوھلاں وِچھوڑے دی نئیں اَگ بُجھدی نِت اکَھاں دے بنیرے میں سَجاواں ھنجواں دے دیوے بال کے کدوں سُکھاں دیاں نیندراں اوہ سَوندے جنہاں نُوں تانگ سَجنڑاں دی۔ ایویں بیٹھی نُوں خیال تیرا آیا تے میں ھَسدیاں رونڑ لگ پئی۔ شالا رھن پریتوں خالی جیہڑے سانُوں ویکھ سَڑدے۔ جے تُوں ساڈے گھرسجنا نئیں آؤنڑاں یاداں نُوں وی رَکھ سانبھ کے۔
ایسا نہیں دعاؤں میں مانگا نہیں تجھے قسمت میں ہی نہیں تھا جو پایا نہیں تجھے دل تو عقیدتوں کی حدوں سے گزر گیا وہ تو خدا کا خوف تھا پوجا نہیں تجھے سب منتظر تھے میری نگاہیں کدھر اٹھیں میں نے بھی احتیاط میں دیکھا نہیں تجھے شاید پلٹ کے دیکھ لے تو ہی میری طرف میں نے اسی امید پہ روکا نہیں تجھے تیرے خیال ساتھ تھے میرے قدم قدم میں تو کسی قدم پہ بھی بھولا نہیں تجھے اندیشۂ جدائی کے ڈر میں جیا ہوں میں یہ مت سمجھ کے ٹوٹ کے چاہا نہیں تجھے وہ پل حرام ہو گیا مشکورؔ کے لئے جس پل تصورات میں پایا نہیں تجھے
رُتوں کے ساتھ,دلوں کی وہ حالتیں بھی گئیں ہوا کے ساتھ, ہوا کی امانتیں بھی گئیں تیرے کہے ہوئے لفظوں کی راکھ کیا چھیڑیں ہمارے اپنے قلم کی صداقتیں بھی گئیں عجیب موڑ پہ ٹھہرا ہے قافلہ دل کا سکون ڈھونڈنے نکلے تھے, وحشتیں بھی گئیں یہ کیسی نیند میں ڈوبے ہیں آدمی کہ ہار تھک کےگھروں سے قیامتیں بھی گئیں
بدن کے جام میں کھِلتے گلاب جیسی ہے سنا ہے اس کی جوانی شراب جیسی ہے کنول کنول ہے سراپا، غزل غزل چہرہ وہ ہوبہو کسی شاعر کے خواب جیسی ہے اندھیرے دور کرے سب کی پارسائی کے وہ ایک شکل کہ جو ماہتاب جیسی ہے بغیر جام و سبو، چاند رات کی حالت کسی غریب کے عہدِ شباب جیسی ہے نہ شاعری، نہ محبت، نہ جام، اے واعظ یہ زندگی بھی تِری اک عذاب جیسی ہے قتیلؔ میں نے کیا پیار اک ستمگر سے یہ وہ خطا ہے جو کارِ ثواب جیسی ہے قتیل شفاٸی❤🌹🌹
یہ اور بات ہے تجھ سے گلا نہیں کرتے جو زخم تو نے دئیے ہیں بھرا نہیں کرتے ہزار جال لئے گھومتی پھرے دنیا تیرے اسیر کسی کے ہوا نہیں کرتے یہ آئینوں کی طرح دیکھ بھال چاہتے ہیں کہ دل بھی ٹوٹیں تو پھر سے جڑا نہیں کرتے وفا کی آنچ سخن کا تپاک دو ان کو دلوں کے چاک رفو سے سلا نہیں کرتے جہاں ہو پیار غلط فہمیاں بھی ہوتی ہیں سو بات بات پہ یوں دل برا نہیں کرتے ہمیں ہماری انائیں تباہ کر دیں گی مکالمے کا اگر سلسلہ نہیں کرتے جو ہم پہ گزری ہے جاناں وہ تم پہ بھی گرے جو دل بھی چاہے تو ایسی دعا نہیں کرتے ہر اک دعا کے مقدر میں کب حضوری ہے؟ تمام غنچے تو امجد کھلا نہیں کرتے
مُجھے وہ زخم مت دینا...!! دوا جِس کی مُحبت ہو...!! مُجھے وہ خواب مت دینا...!! حقیقت جِس کی وحشت ہو...!! مُجھے وہ نام مت دینا...!! جِسے لینا قیامت ہو...!! مُجھے وہ ہجر مت دینا...!! جو مانند رفاقت ہو...!! مُجھے وہ نیند مت دینا...!! جِسے اڑنے کی عادت ہو...!! میرے بارے میں جب سوچو...!! توجہ خاص رکھنا تُم...!! مُجھے تُم سے مُحبت ہے...!! بس اِس کا پاس رکھنا تُم...🙂❤️
وہ جو دِل میں تیرا مقــــــام ہے کسی اور کو وہ دیا نہیـــں ۔۔۔ وہ جو رشتــــہ ت سے ہے بن گیا کســـــی اور سے وہ بنا نہیں وہ جو سکـــھ ملا تیری ذات سے کســی اور سے وہ ملا نہیــــں۔.. تُو بسا ہے آنکھوں میں جس طــــرح کوئی اور ایســـے_بسا نہیــــں...