محبتوں میں ہر ایک لمحہ وصال ہوگا، یہ طے ہوا تھا
بچھڑ کے بھی اک دوسرے کا خیال ہوگا، یہ طے ہوا تھا
وھی ہوا نا !! بدلتے موسم میں تم نے ھم کو بھلا دیا ھے
کوئی بھی رت ھو نہ چاہتوں کو زوال ہوگا، یہ طے ہوا تھا
یہ کیا کہ سانسیں اکھڑ گئی ہیں!! سفر کے آغاز میں ہی یارو
کوئی بھی تھک کر نہ راستے میں نڈھال ہوگا، یہ طے ہوا تھا
جدا ھوئے ہیں تو کیا ہوا پھر یہی تو دستور زندگی ھے
جدائیوں میں نہ قربتوں کا ملال ہوگا، یہ طے ھوا تھا
چلو کہ اب کشتیوں کو جلا دیں گمنام ساحلوں پر
کہ اب یہاں سے نہ واپسی کا سوال ہوگا، یہ طے ہوا تھا----!!!!
ایک مدت کی ریاضت سے
کمائے ہوئے لوگ.!! 🥀🥀
کیسے بچھڑے ہیں م
دل میں سمائے ہوئے لوگ
تلخ گوئی سے ہماری
تُو پریشان نہ ہو.!
ہم ہیں دنیا کے مصائب کے
ستائے ہوئے لوگ. 🥀🥀
اس زمانے میں مرے
یار کہاں ملتے ہیں .!
اپنے دامن میں محبت کو
بسائے ہوئے لوگ.
تجھ کو اے شخص
کبھی زیست کی تنہائی میں
یاد آئیں گے ہم عجلت میں
گنوائے ہوئے لوگ .
💔💔💔😔
غزل۔
مٽي ويا چيٽ سڀ خالي، ڪتين جي ڪاھ تڙپايو،
مليا سين ڪو نه پنڇڻ ۾ ، بھارن ڀي نه پرچايو!
اندر کي بارشن ڀيليو، ڪڪر واسينگ ٿِي موٽيا،
اُڃاري تو به سانَوڻ کي، چري ڪجھ نه سمجھايو!
اُھا آڌي به ٿِي ليرُون، مُسافر واٽ ڀُلجي ويا،
جڏهن ذلفن کي تو ڇوڙي، کِلي چوڙين کي ڇمڪايو!
اڃان سي لاڙ جون راتيون، اسان جي ھانءُ تي آھن،
جنين ۾ ڳالھڙين تُنھنجي، ڀنل سارين کي مھڪايو!
سنڌوءَ جي ڪنھن به ٻيڙي ۾، پرين تنھنجو نه پاڇو هو،
سُڳنڌ تُنھنجيءَ رڳو رولي، اسان جو روح ڀٽڪايو!
شھر ۾ شام سرءُ جي ، لھي پئي زرد چولو ٿِي،
تصور تنھنجي گھر جو آ، وڃي دروازو کُڙڪايو!
ستارن جي چُنيءَ سان دل، ٻڌو هو درد يادُن جو،
کُلي وئي ڳنڍ سا آخر ، گھٽيءَ ۾ سانجھ شرمايو!
یہ سوکھے ہوئے پھول
تو بِک بھی نہیں سکتے
یہ ترسے ہوئے دل ہیں ،
کہیں پھینک دو اِن کو🖤
کیا کیا ہمارے خواب تھے ، جانے کہاں پہ کھو گئے
تم بھی کسی کے ساتھ ہو ، ہم بھی کسی کے ہو گئے
جانے وہ کیوں تھے ، کون تھے ؟ آئے تھے کس لیے یہاں
وہ جو فشار وقت میں ، بوجھ سا ایک دھو گئے
اس کی نظر نے یوں کیا گرد ملال جان کو صاف
اَبْر برس کے جس طرح ، سارے چمن کو دھو گئے
کٹنے سے اور بڑھتی ہے اٹھے ہوئے سرو کی فصیل
اپنے لہو سے اہل دل ، بیج یہ کیسے بو گئے
جن کے بغیر اک پل ، جینا بھی مُحال تھا
شکلیں بھی ان کی بجھ گئیں نام بھی ان کے کھو گئے
آنکھوں میں بھر کے رت جگے ، رستوں کو دے کے دوریاں
امجد وہ اپنے ہمسفر ، کیسے مزے سے سو گئے !!!
وہ رشتہ
محبت کا کیسے ہوسکتا ہے
جس کی وجہ سے
آپ مسکرانے سے زیادہ
روئے ہوں۔۔!!🥀🖤
کبھی تشویش کہتی ہے
اندھیرا اب نہ جائے گا
کبھی امید کہتی ہے
اجالا ہونے والا ہے
کہانی ختم ہوگی یا
تماشا ہونے والا ہے؟
کسے معلوم ہے محسن
یہاں کیا ہونے والا ہے
محسن نقوی
کبھی جو خط مجھے لکھنا محبتیں لکھنا
برا شگون ہے ہر دم شکایتیں لکھنا..!!
یہ زیست اور بھی نکھرے گی پیار کرنے سے
جو میرے ہجر میں گزریں قیامتیں لکھنا..!!
تقاضہ تم سے کروں گی تو روٹھ جاؤ گے
پسند کب ہے مجھے بھی شکایتیں لکھنا..!!
تم آتے جاتے رہو یہ بہت ہے میرے لئے
نہ آ سکو جو کبھی تم قباحتیں لکھنا..!!
تم اپنے شعروں میں وہ زندہ لفظ لکھو غزل
محبتوں سے ہوں پیدا کرامتیں لکھنا..!!
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain