میری محبت میرے جزبات صرف تم سے ھے💟 دیکھوں میری کائنات صرف تم سے ھے 💟 اوروں سے پوچھنے کا حق نہیں رکھتا💟 میرے سوالات میرے جوابات ص تم سے ھیں💟 تم کو معلوم ہی نہیں میری تنہائی کا دکھ💟 میری سوچیں میرے خیالات صرف تم سے ھیں💟 گر کبھی بکھر جائوں تو سمیٹ لینا مجھے 💟 ھے مکمل جو میری ذات صرف تم سے ھے💟 🌹🌹🌹🌹
تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہا یہ کم نہیں ہمیں جینے کا حوصلہ تو رہا گزر ہی آئے کسی طرح تیرے دیوانے قدم قدم پہ کوئی سخت مرحلہ تو رہا چلو نہ عشق ہی جیتا نہ عقل ہار سکی تمام وقت مزے کا مقابلہ تو رہا میں تیری ذات میں گم ہو سکا نہ تو مجھ میں بہت قریب تھے ہم پھر بھی فاصلہ تو رہا یہ اور بات کہ ہر چھیڑ لاابالی تھی تری نظر کا دلوں سے معاملہ تو رہا
چبھتے اشکوں سے بجھی آنکھیں نہ چمکایا کرو کانچ کے ٹکڑوں سے اپنا دِل نہ بہلایا کرو مجھ کو فرصت ہی نہیں ملتی خود اپنے آپ سے روٹھنے والو مجھے اب یاد کم آیا کرو دوستو اپنی زباں سے مَیں ابھی واقف نہیں جب مری باتیں سمجھ لو مجھ کو سمجھایا کرو اب تمہیں بھی شہر والوں کی ہنسی ڈسنے لگی میں نہ کہتا تھا مرا دکھ تم نہ اپنایا کرو کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے شام ڈھل جائے تو محسن تم بھی گھر جایا کرو محسن نقوی
کیوں تُو اچھا لگتا ہے، وقت مِلا تو سوچیں گے تجھ میں کیا کیا دِکھتا ہے، و ملا تو سوچیں گے سارا شہر شناسائی کا دعوے دار تو ہے لیکن کون ہمارا اپنا ہے ، وقت ملا تو سوچیں گے اور ہم نے اُس کو لِکھا تھا، کچھ ملنے کی تدبیر کرو اس نے لِکھ کر بھیجا ہے وقت ملا تو سوچیں گے موسم، خوشبو، بادِ صبا، چاند، شفق اور تاروں میں کون تمہارے جیسا ہے وقت ملا تو سوچیں گے یا تو اپنے دل کی مانو، یا پھر دنیا والوں کی مشورہ اس کا اچھا ہے، وقت ملا تو سوچیں گے
سو چکی ۔۔۔۔۔۔۔جاگتے لمحات کی دنیا بیٹھو اٹھ کے تم چل بھی دیئے۔۔۔۔۔اور ذرا سا بیٹھو لوگ گھڑ لیتے ہیں افسانے انہیں باتوں سے بند کمرے میں سر شام نہ تنہا........ بیٹھو ! کس قدر تیز ہوا -------چلنے لگی ہے باہر بند کر دو یہ دریچے میرے پاس آ بیٹھو آؤ تنہائی۔۔۔۔۔۔ کی دیوار سے لگ کر بیٹھیں پھر نہ چمکے گا یہ گھنگھور اندھیرا بیٹھو یاد ہے آج بھی وہ رات ،وہ خلوت، وہ ترا تھام کر ہاتھ میرا پیار سے کہنا بیٹھو !!! جب بھی اٹھتے ہیں قدم گھر کی طرف رات گئے دل یہ کہتا ہے وہ آیا کوئی سایا بیٹھو !!!!! ❤️
کبھی غم کی آگ میں جل اٹھے کبھی داغ دل نے جلا دیا اے جنون عشق بتا ذرا مجھے کیوں تماشا بنا دیا غم عشق کتنا عجیب ہے یہ جنون سے کتنا قریب ہے کبھی اشک پلکوں پہ رک گئے کبھی پورا دریا بہا دیا ابھی کررہا ہے وہ ابتدا میرا کہہ رہا ہے یہ تجربہ اسے زندگی کی ہے آرزو مجھے زندگی نے مٹا دیا جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے رہ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا۔ گُل
یہ اور بات ہے تجھ سے گلا نہیں کرتے جو زخم تو نے دئیے ہیں بھرا نہیں کرتے ہزار جال لئے گھومتی پھرے دنیا تیرے اسیر کسی کے ہوا نہیں کرتے یہ آئینوں کی طرح دیکھ بھال چاہتے ہیں کہ دل بھی ٹوٹیں تو پھر سے جڑا نہیں کرتے وفا کی آنچ سخن کا تپاک دو ان کو دلوں کے چاک رفو سے سلا نہیں کرتے جہاں ہو پیار غلط فہمیاں بھی ہوتی ہیں سو بات بات پہ یوں دل برا نہیں کرتے ہمیں ہماری انائیں تباہ کر دیں گی مکالمے کا اگر سلسلہ نہیں کرتے جو ہم پہ گزری ہے جاناں وہ تم پہ بھی گرے جو دل بھی چاہے تو ایسی دعا نہیں کرتے ہر اک دعا کے مقدر میں کب حضوری ہے؟ تمام غنچے تو امجد کھلا نہیں کرتے امجد اسلام امجد
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain