نیت شوق بھر نہ جائے کہیں
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں
آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں
نہ ملا کر اداس لوگوں سے
حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں
آرزو ہے کہ تو یہاں آئے
اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں
جی جلاتا ہوں اور سوچتا ہوں
رائیگاں یہ ہنر نہ جائے کہیں
آؤ کچھ دیر رو ہی لیں ناصرؔ
پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں
ناصر کاظمی
تو نے باندھا تھا جو پیمان ادھورا نکلا
میرا ہر خواب مری جان ادھورا نکلا
ہم تری کھوج میں نکلیں بھی تو حاصل کیا ہے
جان پہچان کا امکان ادھورا نکلا
غنچۂ لب پہ کسی رنگ کی تتلی نہ اُڑی
بے صدا کانچ کا گُلدان ادھورا نکلا
صندلیں صبح کے زانو سے لپٹ کر سوئے
سرمگیں رات کا پیمان ادھورا نکلا
ملگجی شب میں جو اثبات کی ساعت جاگی
صاف انکار کا امکان ادھورا نکلا
جاں کنی داد طلب تھی پہ جو کھینچا دل سے
ایک، دو ہاتھ کا پیکان ادھورا نکلا
بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں
صحرا میرا چہرہ ہے تو سمندر تیری آنکھیں
پھر کون بھلا دادِ تبسم انھیں دے گا
روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تیری آنکھیں
بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن
کھلتی ہیں بہت دل میں اُتر کر تیری آنکھیں
اب تک میری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تیری آنکھیں
ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں
پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تیری آنکھیں
یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسن
وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تیری آنکھیں
حُسنِ رُخ کی اک جھلک نے
کر دیئے اوسان گم
ہوش آیا تو مگر اُن کے
چلے جانے کے بعد
سچ ہے کوئی بھی
شریکِ دَرد و غم ہوتا نہیں
ہو گئے احباب رخصت
مجھ کو سمجھانے کے بعد
اب تو کہتے ہو کہ جا
میری نظر سے دُور ہو
تم منانے آؤ گے مجھ کو،
مرے جانے کے بعد
کون روتا ہے کسی کی
خستہ حالی پر نصیرؔ
زیرِ لب ہنستی ہے دُنیا، م
لُٹ جانے کے بعد...!
✍
وہ مجھ کو دستیاب بڑی دیر تک رہا
میں اُس کا انتخاب بڑی دیر تک رہا
اک عمر تک میں اس کو بڑا قیمتی لگا
میں ہوں بہت اہم یہ وہم بہت دیر تک رہا۔
دیکھا تھا اس نے مڑ کے مجھے اک نظر تو پھر
آنکھوں میں اضطراب بڑی دیر تک رہا
خوشبو مُقید ہو گئی لفظوں کے جال میں
کسی خط میں اک گلاب بڑی دیر تک رہا
چہرے پہ اُتر آئی تھی تعبیر کی تھَکن
پلکوں پہ ایک خواب بڑی دیر تک رہا
پہلے پہل تو عشق کے آداب یہ بھی تھے
میں " آپ " وہ " جناب " بڑی دیر تک رہا
اک بار اُس نے مجھ کو پکارا تھا اور بس
ہوا میں وہ رباب بڑی دیر تک رہا
صبح تلک اُس چھت پہ ستارے مقیم تھے
کھڑکی میں اک ماہتاب بڑی دیر تک رہا
اُس کے سوال پر سبھی الفاظ مر گئے
اشکوں میں پھر جواب بڑی دیر تک رہا
گن گن کے اُس نے جب مجھے احسان جتائے
پوروں پہ پھر حساب بڑی دیر تک رہا
لوگ ہر موڑ پہ رک رک کے سنبھلتے کیوں ہیں
اتنا ڈرتے ہیں تو پھر گھر سے نکلتے کیوں ہیں
مے کدہ ظرف کے معیار کا پیمانہ ہے
خالی شیشوں کی طرح لوگ اچھلتے کیوں ہیں
موڑ ہوتا ہے جوانی کا سنبھلنے کے لیے
اور سب لوگ یہیں آ کے پھسلتے کیوں ہیں
نیند سے میرا تعلق ہی نہیں برسوں سے
خواب آ آ کے مری چھت پہ ٹہلتے کیوں ہیں
میں نہ جگنو ہوں دیا ہوں نہ کوئی تارا ہوں
روشنی والے مرے نام سے جلتے کیوں ہیں
راحت اندوری
زندہ رہنے کو بھی لازم ہے سہارا کوئی
کاش مل جائے غمِ ہجر کا مارا کوئی
ہے تیری ذات سے مجھ کو وہی نسبت جیسے
چاند کے ساتھ چمکتا ہوا ستارہ کوئی
کیسے جانو گے کہ راتوں کا تڑپنا کیا ہے
تم سے بچھڑا جو نہیں جان سے پیارا کوئی
ہم محبت میں بھی قائل رہے یکتائی کے
ہم نے رکھا ہی نہیں دل میں دوبارہ کوئی
سوچتی ہوں کہ تیرے پہلو میں جو بیٹھا ہوگا
کیسا ہو گا وہ پری وش وہ تمہارا کوئی
کون بانٹے گا مرے ساتھ مری تنہائی
ڈھونڈ کے لا دو مجھے زیست سے ہارا کوئی
کیا سوچتے رہتے ہو سدا رات گئے تک
کس قرض کو کرتے ہو ادا رات گئے تک
تھک ہار کے آ بیٹھا ہے دہلیز پہ تیری
دیدار کا محسن ہے گدا رات گئے تک
یہ کون ہے؟ یوسف سا حسیں ڈھونڈ رہا ہے
یعقوب کوئی محو ندا رات گئے تک
آ طور پہ چلتے ہیں ابھی رات ہے باقی
شاید ہمیں مل جائے خدا رات گئے تک
شمع تیری آمد کو جلائی تھی سر شام
ہوتے رہے پروانے فدا رات گئے تک
کچھ عالم تنہائی میں اشکوں نے دیا ساتھ
آنکھیں رہیں سیلاب زدہ رات گئے تک
محسن کو شب وصل ملا جام بمشكل
ہو پائے نہ پھر دونوں جدا رات گئے تک
مُجھے وہ زخم مت دینا...!!
دوا جِس کی مُحبت ھو...!!
مُجھے وہ خواب مت دینا...!!
حقیقت جِس کی وحشت ھو...!!
مُجھے وہ نام مت دینا...!!
جِسے لینا قیامت ھو...!!
مُجھے وہ ھجر مت دینا...!!
جو مانند رفاقت ھو...!!
مُجھے وہ نیند مت دینا...!!
جِسے اڑنے کی عادت ھو...!!
میرے بارے میں جب سوچو...!!
توجہ خاص رکھنا تُم...!!
مُجھے تُم سے مُحبت ھے...!!
بس اِس کا پاس رکھنا تُم...!!
♥️🌹♥️
اس کے رنگ میں رنگی گزر جائے
زندگی پھر مری سنور جائے
زندگی موت کی امانت ہے
پھر بھلا کوئی کیوں مکر جائے
زندگی اک دھویں کا مرغولہ
جب ہوا تیز ہو بکھر جائے
اس نے معراج زندگی پائی
جو خدا کی رضا میں مر جائے
مستحق لوگ ہاتھ ملتے ہیں
اور گداگر کی جھولی بھر جائے
گر ہدایت نہ ہو تری مجھ کو
تیرا دیوانہ پھر کدھر جائے
یہ علامت بھی ہے منافق کی
وعدہ کرکے بھی جو مکر جائے
زندگی زندگی نہیں نشترؔ
جو فقط کھیل میں گزر جائے
🔥
اے روح من!!!
مجھے ایسے ہی ___
گورا کر لے..!!
تیرے لائق نہ سہی پھر بھی
____ گزارا کر لے..!!
عشق! بس کا نہیں لگتا
_____ تو تماشا نہ بنا..!!
کام مشکل ہے تو چپ چاپ
_____ کنارا کر لے..!!
مسئلہ حل بھی تو ہوتا ہے
تحمل سے ___ مگر..!!
تو مجھے چھوڑ کے جانے کا
___ خسارہ کر لے..!!
کام آتا ہی نہیں مجھ کو محبت کے ___ سوا..!!
تو مرے ساتھ محبت ہی
_____ دوبارہ کر لے..!! 🖤
گو دَورِ جام ِبزم میں، تا ختمِ شب رہا !
لیکن، میں تشنہ لب کا وہی تشنہ لب رہا
پروانہ میری طرح مُصِیبت میں کب رہا
بس رات بھر جَلا تِری محِفل میں جب رہا
ساقی کی بزم میں یہ نظامِ ادب رہا !
جس نے اُٹھائی آنکھ، وہی تشنہ لب رہا
سرکار ،پُوچھتے ہیں خفا ہو کے حالِ دل
بندہ نواز میں تو بتانے سے اب رہا
بحرِ جہاں میں ساحلِ خاموش بن کے دیکھ
موجیں پڑیں گی پاؤں، جو تُو تشنہ لب رہا
وہ ،چودھویں کا چاند ، نہ آیا نظر قمرؔ
میں اِشتیاقِ دید میں، تا ختمِ شب رہا
ابھی سورج نہیں ڈوبا ذرا سی شام ہونے دو
میں خود ہی لوٹ جاؤں گا مجھے ناکام ہونے دو
مجھے بدنام کرنے کے بہانے ڈھونڈتے ہو کیوں
میں خود ہو جاؤں گا بدنام پہلے نام ہونے دو
ابھی مجھ کو نہیں کرنا ہے اعترافِ شکست
میں سب تسلیم کر لوں گا یہ چرچا عام ہونے دو
میری بستی نہیں انمول پھر بھی بِک نہیں سکتا
وفائیں بیچ لینا پر ذرا نیلام ہونے دو
نئے آغاز میں ہی حوصلہ کیوں توڑ بیٹھے ہو
تم سب کچھ جیت جاؤ گے ذرا انجام ہونے دو
💞🌷🍂🥀
اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا
اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا
اب کیوں نہ زندگی پہ محبت کو وار دیں
اس عاشقی میں جان سے جانا بہت ہوا
اب تک تو دل کا دل سے تعارف نہ ہو سکا
مانا کہ اس سے ملنا ملانا بہت ہوا
کیا کیا نہ ہم خراب ہوئے ہیں مگر یہ دل
اے یاد یار تیرا ٹھکانہ بہت ہوا
کہتا تھا ناصحوں سے مرے منہ نہ آئیو
پھر کیا تھا ایک ہو کا بہانہ بہت ہوا
لو پھر ترے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر
احمد فرازؔ تجھ سے کہا نہ بہت ہوا
زندگی نے ستا کے، حد کر دی
میں نے بھی مسکرا کے، حد کر دی
شعر میں نے کہے تھے تیرے لئے
تو نے سب کو سنا کے، حد کر دی
میں نے ان دیکھے چاہنا تھا تجھے
تو نے خوابوں میں آ کے، حد کر دی
میں نے اس سے کہا چلے جاؤ
اور اس نے بھی جا کے، حد کر دی
ایک وعدہ تھا یاد رکھنے کا
تو نے وہ ہی بھلا کے، حد کر دی
میرے اک بے خیال جملے کو۔
تو نے دل پہ لگا کے، حد کردی...
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain