ایک نغمہ، ایک تارا، ایک غنچہ، ایک جام
اے غمِ دوراں! غمِ دوراں تجھے میرا سلام
زلف آوارہ، گریباں چاک، گھبرائی نظر
ان دنوں یہ ہے جہاں میں زندگانی کا نظام
چند تارے ٹوٹ کر دامن میں میرے آ گرے
میں نے پوچھا تھا ستاروں سے تِرے غم کا مقام
کہہ رہے ہیں چند بچھڑے رہرووں کے نقشِ پا
ہم کریں گے انقلابِ جستجو کا اہتمام
پڑ گئیں پیراہنِ صبحِ چمن پر سلوٹیں
یاد آ کر رہ گئی ہے بے خودی کی ایک شام
تیری عصمت ہو کہ ہو میرے ہنر کی چاندنی
وقت کے بازار میں ہر چیز کے لگتے ہیں دام
ہم بنائیں گے یہاں ساغؔر ! نئی تصویرِ شوق
ہم تخیل کے مجدد، ہم تصور کے امام
ساغر صدیقی
بعد مُدت اُسے دیکھا، لوگو
وہ ذرا بھی نہیں بدلا ، لوگو
خُوش نہ تھا مُجھ سے بچھڑ کر وہ بھی
اُس کے چہرے پہ لکھا تھا، لوگو
اُس کی آنکھیں بھی کہے دیتی تھیں
رات بھر وہ بھی نہ سویا ، لوگو
اجنبی بن کے جو گزرا ہے ابھی
تھا کِسی وقت میں اپنا ، لوگو
دوست تو خیر کوئی کس کا ہے
اُس نے دشمن بھی نہ سمجھا ، لوگو
رات وہ درد مرے دل میں اُٹھا
صبح تک چین نہ آیا ، لوگو
پیاس صحراؤں کی پھر تیز ہُوئی
اَبر پھر ٹوٹ کے برسا ، لوگو...!
✍...پروین شاکر
(خوشبو کی شاعرہ)
مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم
اک دوسرے کی یاد میں رویا کریں گے ہم
آنسو چھلک چھلک کے ستائیں گے رات بھر
موتی پلک پلک میں پرویا کریں گے ہم
جب دُوریوں کی آگ دلوں کو جلائے گی
جِسموں کو چاندنی میں بھگویا کریں گے ہم
بن کر ہر ایک بزم کا موضوعِ گفتگو
شعروں میں تیرے غم کو سمویا کریں گے ہم
مجبوریوں کے زہر سے کر لیں گے خود کشی
یہ بُزدلی کا جرم بھی گویا کریں گے ہم
دل جل رہا ہے زرد شجر دیکھ دیکھ کر
اب چاہتوں کے بیج نہ بویا کریں گے ہم
گر دے گیا دغا ہمیں طوفان بھی قتیلؔ
ساحل پہ کشتیوں کو ڈبویا کریں گے ہم
قیتل شفائی...
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
ان سے نظریں کیا ملیں روشن فضائیں ہو گئیں
آج جانا پیار کی جادوگری کیا چیز ہے
بکھری زلفوں نے سکھائی موسموں کو شاعری
جھکتی آنکھوں نے بتایا مے کشی کیا چیز ہے
ہم لبوں سے کہہ نہ پائے ان سے حال دل کبھی
اور وہ سمجھے نہیں یہ خاموشی کیا چیز ہے
ندا فاضلی
دنیا کے ہر خیال سے بیگانہ کر دیا
حسن خیال یار نے دیوانہ کر دیا
تو نے کمال جلوۂ جانانہ کر دیا
بلبل کو پھول شمع کو پروانہ کر دیا
مشرب نہیں یہ میرا کہ پوجوں بتوں کو میں
شوق طلب نے دل کو صنم خانہ کر دیا
ان کی نگاہ مست کے قربان جائیے
میرے جنوں کو حاصل مے خانہ کر دیا
ٹھکرائے یا قبول کرے اس کی بات ہے
ہم نے تو پیش جان کا نذرانہ کر دیا
تیرے خرام ناز پہ قربان زندگی
نقش قدم کو رونق ویرانہ کر دیا
میخانۂ الست کا وہ رند ہوں فناؔ
جس پر نگاہ ڈال دی مستانہ کر دیا
بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں
صحرا میرا چہرہ ہے تو سمندر تیری آنکھیں
پھر کون بھلا دادِ تبسم انھیں دے گا
روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تیری آنکھیں
بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن
کھلتی ہیں بہت دل میں اُتر کر تیری آنکھیں
اب تک میری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تیری آنکھیں
ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں
پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تیری آنکھیں
یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسن
وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تیری آنکھیں
سوچتا ہوں کہ تجھے دل سے بھلا دوں لیکن
سوچتا ہوں کہ تجھے دل سے بھلاؤں کیسے ؟؟
سوچتا ہوں تجھے دل سے بھلا دوں لیکن
سوچتا ہوں کہ تجھے دل سے بھلاوں کیسے
اپنی پھونکوں سے میں شعلوں کو ہوا کیوں دوں
اپنے ہاتھوں سے نشیمن کو جلاوں کیسے؟
سوچتا ہوں کہ جسے چاند کہا تھا میں نے
وہ کسی اور کے آنگن میں نکلتا کیوں ہے؟
جس نے پائی ہے تیرے قرب سے دنیائے حیات
وہ تیری یاد کے موسم میں اکیلا کیوں ہے؟
میں نے رکھا تھا تجھے دل میں خدا کے بدلے
تو وہ معبود کہ مسجود پہ مائل ہی نہیں
یا میرے عجز محبت میں کمی ہے شاید
یا تیرا ظرف میرے پیار کے قابل ہی نہیں
سوچتا ہوں کہ تیرے ہاتھوں ہراوں تجھ کو
سوچتا ہوں میں شکستوں کو گوارا کر لوں
ایسا کم ظرف ہے دنیا میں پیعمبر جس کا
کیوں نہ اس دین محبت سے کنارہ کر لوں
آنکھوں میں کوئی خواب اُترنے نہیں دیتا
یہ دل کہ مجھے چین سے مرنے نہیں دیتا
بچھڑے تو عجب پیار جتاتا ہے خطوں میں
مل جائے تو پھر حد سے گزرنے نہیں دیتا
وہ شخص خزاں رُت میں بھی محتاط ہے کتنا
سوکھے ہوئے پھولوں کو بکھرنے نہیں دیتا
اِک روز تیری پیاس خریدے گا وہ گبھرو
پانی تجھے پنگھٹ سے جو بھرنے نہیں دیتا
وہ دل میں تبسم کی کرن گھولنے والا
روٹھے تو رُتوں کو بھی سنورنے نہیں دیتا
میں اُس کو مناؤں کہ غمِ دہر سے اُلجھوں
محسن وہ کوئی کام بھی کرنے نہیں دیتا
محسن نقوی💔💔
سَفر میں ساتھ ہیں اَب کے عَجَب خَیال کے لوگ
گھروں سے نِکلے ہیں بَالوں میں گَرد ڈال کے لوگ
جَہاں بھی جائیے موسم ہے بے یقینی کا
دِکھا رہے ہیں زمانے کو دِل نِکال کے لوگ
بہت تَپاک سے مِلتے تھے دُشمنوں سے بھی
اب اُس مِزاج کے ہم ہیں، نہ اُس خیال کے لوگ
یہاں کِسی سے کوئی بے غَرض نہیں مِلتا
تعلقات بڑھاتے ہیں دیکھ بھال کے لوگ
مُحبّتوں کی تو دِل میں کوئی جگہ ہی نہیں
مُحبّتیں کہاں رکھتے ہیں اب سَنبھال کے لوگ
یہ کِس کی دِل شِکَنی کا مَنا رہے ہیں جَشن
خوشی سے جُھومتے ہیں پَگڑیاں اُچھال کے لوگ
گزار دیتے تھے یَک طَرفہ عِشق میں عُمریں
نہ ایسا عِشق سَلامت، نہ وہ کمال کے لوگ
ویلنٹائن ڈے
قدیم پنجابی کا لفظ ہے
جو یہ تھا
ویلے نوں ٹائم دے😜
بعد میں بِگڑ کر
ویلنٹائن بن گیا😲
خیر سانو کی 😕😌
اے دسو تسسی آج کی پکانا ای
حسينَن کي هر روز تحفا ڏيون ٿا،
جي نغما نہ آهن تہ سُڏڪا ڏيون ٿا.
اوهان جيڪي دلدار دوکا ڏيو ٿا،
سي دل کي بڻائي دلاسا ڏيون ٿا.
گهڙيون چار بازار جو چهچٽو آ
اسان کان وٺو پيار هوڪا ڏيون ٿا
چريءَ دل کي تنهنجي چَپن جو قسم آ،
دلاسا نہ هوندا تہ دڙڪا ڏيون ٿا.
ٻه ڳوڙها ٿڌي ساھ ۾ يار ويڙهي،
اُٿڻ وقت ”استاد“ ڀيٽا ڏيون ٿا.
استاد بخاري
اگر تو چاہے تو یہ بوجھ بٹ بھی سکتا ہے
سفر کڑا ہے مگر ساتھ کٹ بھی سکتا ہے
یہ کارِ عشق بہت بعد میں سمجھ آیا
وگرنہ کر کے لگا تھا نمٹ بھی سکتا ہے
تو سانس ہے سو تجھے ساتھ میرے چلنا ہے
تو کوئی عضو نہیں ہے جو کٹ بھی سکتا ہے
یہ کاروبارِ محبت ہے آر پار کا کھیل
یہ وہ اثاثہ نہیں ہے جو بٹ بھی سکتا ہے
تو تھک گیا ہے کہانی سے تو اجازت ہے
ورق بہت سے اکٹھے پلٹ بھی سکتا ہے
میں چاہتا ہوں کہ مشکل پڑے ، یوں فیصلہ ہو
تو صرف ساتھ کھڑا ہے کہ ڈٹ بھی سکتا ہے
ملے کوئی تو میں پہلے اسے بتاتا ہوں
وہ جانے والا کسی دن پلٹ بھی سکتا ہے
تباہ زیست یہ کرتا ہے کس فتور میں تو
یہ سب بکھیڑا تو پل میں سمٹ بھی سکتا ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain