Damadam.pk
Muhammad_waseem22's posts | Damadam

Muhammad_waseem22's posts:

Muhammad_waseem22
 

ایک نغمہ، ایک تارا، ایک غنچہ، ایک جام
اے غمِ دوراں! غمِ دوراں تجھے میرا سلام
زلف آوارہ، گریباں چاک، گھبرائی نظر
ان دنوں یہ ہے جہاں میں زندگانی کا نظام
چند تارے ٹوٹ کر دامن میں میرے آ گرے
میں نے پوچھا تھا ستاروں سے تِرے غم کا مقام
کہہ رہے ہیں چند بچھڑے رہرووں کے نقشِ پا
ہم کریں گے انقلابِ جستجو کا اہتمام
پڑ گئیں پیراہنِ صبحِ چمن پر سلوٹیں
یاد آ کر رہ گئی ہے بے خودی کی ایک شام
تیری عصمت ہو کہ ہو میرے ہنر کی چاندنی
وقت کے بازار میں ہر چیز کے لگتے ہیں دام
ہم بنائیں گے یہاں ساغؔر ! نئی تصویرِ شوق
ہم تخیل کے مجدد، ہم تصور کے امام
ساغر صدیقی

Muhammad_waseem22
 

بعد مُدت اُسے دیکھا، لوگو
وہ ذرا بھی نہیں بدلا ، لوگو
خُوش نہ تھا مُجھ سے بچھڑ کر وہ بھی
اُس کے چہرے پہ لکھا تھا، لوگو
اُس کی آنکھیں بھی کہے دیتی تھیں
رات بھر وہ بھی نہ سویا ، لوگو
اجنبی بن کے جو گزرا ہے ابھی
تھا کِسی وقت میں اپنا ، لوگو
دوست تو خیر کوئی کس کا ہے
اُس نے دشمن بھی نہ سمجھا ، لوگو
رات وہ درد مرے دل میں اُٹھا
صبح تک چین نہ آیا ، لوگو
پیاس صحراؤں کی پھر تیز ہُوئی
اَبر پھر ٹوٹ کے برسا ، لوگو...!
✍...پروین شاکر
(خوشبو کی شاعرہ)

Muhammad_waseem22
 

مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم
اک دوسرے کی یاد میں رویا کریں گے ہم
آنسو چھلک چھلک کے ستائیں گے رات بھر
موتی پلک پلک میں پرویا کریں گے ہم
جب دُوریوں کی آگ دلوں کو جلائے گی
جِسموں کو چاندنی میں بھگویا کریں گے ہم
بن کر ہر ایک بزم کا موضوعِ گفتگو
شعروں میں تیرے غم کو سمویا کریں گے ہم
مجبوریوں کے زہر سے کر لیں گے خود کشی
یہ بُزدلی کا جرم بھی گویا کریں گے ہم
دل جل رہا ہے زرد شجر دیکھ دیکھ کر
اب چاہتوں کے بیج نہ بویا کریں گے ہم
گر دے گیا دغا ہمیں طوفان بھی قتیلؔ
ساحل پہ کشتیوں کو ڈبویا کریں گے ہم
قیتل شفائی...

Muhammad_waseem22
 

ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
ان سے نظریں کیا ملیں روشن فضائیں ہو گئیں
آج جانا پیار کی جادوگری کیا چیز ہے
بکھری زلفوں نے سکھائی موسموں کو شاعری
جھکتی آنکھوں نے بتایا مے کشی کیا چیز ہے
ہم لبوں سے کہہ نہ پائے ان سے حال دل کبھی
اور وہ سمجھے نہیں یہ خاموشی کیا چیز ہے
ندا فاضلی

Muhammad_waseem22
 

دنیا کے ہر خیال سے بیگانہ کر دیا
حسن خیال یار نے دیوانہ کر دیا
تو نے کمال جلوۂ جانانہ کر دیا
بلبل کو پھول شمع کو پروانہ کر دیا
مشرب نہیں یہ میرا کہ پوجوں بتوں کو میں
شوق طلب نے دل کو صنم خانہ کر دیا
ان کی نگاہ مست کے قربان جائیے
میرے جنوں کو حاصل مے خانہ کر دیا
ٹھکرائے یا قبول کرے اس کی بات ہے
ہم نے تو پیش جان کا نذرانہ کر دیا
تیرے خرام ناز پہ قربان زندگی
نقش قدم کو رونق ویرانہ کر دیا
میخانۂ الست کا وہ رند ہوں فناؔ
جس پر نگاہ ڈال دی مستانہ کر دیا

Muhammad_waseem22
 

بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں
صحرا میرا چہرہ ہے تو سمندر تیری آنکھیں
پھر کون بھلا دادِ تبسم انھیں دے گا
روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تیری آنکھیں
بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن
کھلتی ہیں بہت دل میں اُتر کر تیری آنکھیں
اب تک میری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تیری آنکھیں
ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں
پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تیری آنکھیں
یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسن
وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تیری آنکھیں

Muhammad_waseem22
 

سوچتا ہوں کہ تجھے دل سے بھلا دوں لیکن
سوچتا ہوں کہ تجھے دل سے بھلاؤں کیسے ؟؟
سوچتا ہوں تجھے دل سے بھلا دوں لیکن
سوچتا ہوں کہ تجھے دل سے بھلاوں کیسے
اپنی پھونکوں سے میں شعلوں کو ہوا کیوں دوں
اپنے ہاتھوں سے نشیمن کو جلاوں کیسے؟
سوچتا ہوں کہ جسے چاند کہا تھا میں نے
وہ کسی اور کے آنگن میں نکلتا کیوں ہے؟
جس نے پائی ہے تیرے قرب سے دنیائے حیات
وہ تیری یاد کے موسم میں اکیلا کیوں ہے؟
میں نے رکھا تھا تجھے دل میں خدا کے بدلے
تو وہ معبود کہ مسجود پہ مائل ہی نہیں
یا میرے عجز محبت میں کمی ہے شاید
یا تیرا ظرف میرے پیار کے قابل ہی نہیں
سوچتا ہوں کہ تیرے ہاتھوں ہراوں تجھ کو
سوچتا ہوں میں شکستوں کو گوارا کر لوں
ایسا کم ظرف ہے دنیا میں پیعمبر جس کا
کیوں نہ اس دین محبت سے کنارہ کر لوں

Muhammad_waseem22
 

آنکھوں میں کوئی خواب اُترنے نہیں دیتا
یہ دل کہ مجھے چین سے مرنے نہیں دیتا
بچھڑے تو عجب پیار جتاتا ہے خطوں میں
مل جائے تو پھر حد سے گزرنے نہیں دیتا
وہ شخص خزاں رُت میں بھی محتاط ہے کتنا
سوکھے ہوئے پھولوں کو بکھرنے نہیں دیتا
اِک روز تیری پیاس خریدے گا وہ گبھرو
پانی تجھے پنگھٹ سے جو بھرنے نہیں دیتا
وہ دل میں تبسم کی کرن گھولنے والا
روٹھے تو رُتوں کو بھی سنورنے نہیں دیتا
میں اُس کو مناؤں کہ غمِ دہر سے اُلجھوں
محسن وہ کوئی کام بھی کرنے نہیں دیتا
محسن نقوی💔💔

Muhammad_waseem22
 

سَفر میں ساتھ ہیں اَب کے عَجَب خَیال کے لوگ
گھروں سے نِکلے ہیں بَالوں میں گَرد ڈال کے لوگ
جَہاں بھی جائیے موسم ہے بے یقینی کا
دِکھا رہے ہیں زمانے کو دِل نِکال کے لوگ
بہت تَپاک سے مِلتے تھے دُشمنوں سے بھی
اب اُس مِزاج کے ہم ہیں، نہ اُس خیال کے لوگ
یہاں کِسی سے کوئی بے غَرض نہیں مِلتا
تعلقات بڑھاتے ہیں دیکھ بھال کے لوگ
مُحبّتوں کی تو دِل میں کوئی جگہ ہی نہیں
مُحبّتیں کہاں رکھتے ہیں اب سَنبھال کے لوگ
یہ کِس کی دِل شِکَنی کا مَنا رہے ہیں جَشن
خوشی سے جُھومتے ہیں پَگڑیاں اُچھال کے لوگ
گزار دیتے تھے یَک طَرفہ عِشق میں عُمریں
نہ ایسا عِشق سَلامت، نہ وہ کمال کے لوگ

کچھ اجنبی سے لوگ تھے کچھ اجنبی سے ہم
دنیا میں ہو نہ پائے شناسا کسی سے ہم
دیتے نہیں سجھائی جو دنیا کے خط و خال
آئے ہیں تیرگی میں مگر روشنی سے ہم
یاں تو ہر اک قدم پہ خلل ہے حواس کا
اے خضر باز آئے تری ہم رہی سے ہم
دیتے ہیں لوگ آج اسے شاعری کا نام
پڑھتے تھے لوح دل پہ کچھ آشفتگی سے ہم
رہتی ہے انجمؔ ایک زمانے سے گفتگو
کرتے نہیں کلام بظاہر کسی سے ہم
M  : کچھ اجنبی سے لوگ تھے کچھ اجنبی سے ہم دنیا میں ہو نہ پائے شناسا کسی سے ہم  - 
نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی
نہ تن میں خون فراہم نہ اشک آنکھوں میں
نماز شوق تو واجب ہے بے وضو ہی سہی
کسی طرح تو جمے بزم مے کدے والو
نہیں جو بادہ و ساغر تو ہاؤ ہو ہی سہی
گر انتظار کٹھن ہے تو جب تلک اے دل
کسی کے وعدۂ فردا کی گفتگو ہی سہی
دیار غیر میں محرم اگر نہیں کوئی
تو فیضؔ ذکر وطن اپنے روبرو ہی سہی
فیض احمد فیض
M  : نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی نہ تن میں - 
Muhammad_waseem22
 

ویلنٹائن ڈے
قدیم پنجابی کا لفظ ہے
جو یہ تھا
ویلے نوں ٹائم دے😜
بعد میں بِگڑ کر
ویلنٹائن بن گیا😲
خیر سانو کی 😕😌
اے دسو تسسی آج کی پکانا ای

ملائي نيڻ نيڻن سان ڏسڻ جي تون اجازت ڏي 
حياتي ساري اکڙين ۾ رھڻ جي تون اجازت ڏي
M  : ملائي نيڻ نيڻن سان ڏسڻ جي تون اجازت ڏي حياتي ساري اکڙين ۾ رھڻ جي تون اجازت - 
Muhammad_waseem22
 

حسينَن کي هر روز تحفا ڏيون ٿا،
جي نغما نہ آهن تہ سُڏڪا ڏيون ٿا.
اوهان جيڪي دلدار دوکا ڏيو ٿا،
سي دل کي بڻائي دلاسا ڏيون ٿا.
گهڙيون چار بازار جو چهچٽو آ
اسان کان وٺو پيار هوڪا ڏيون ٿا
چريءَ دل کي تنهنجي چَپن جو قسم آ،
دلاسا نہ هوندا تہ دڙڪا ڏيون ٿا.
ٻه ڳوڙها ٿڌي ساھ ۾ يار ويڙهي،
اُٿڻ وقت ”استاد“ ڀيٽا ڏيون ٿا.
استاد بخاري

Muhammad_waseem22
 

اگر تو چاہے تو یہ بوجھ بٹ بھی سکتا ہے
سفر کڑا ہے مگر ساتھ کٹ بھی سکتا ہے
یہ کارِ عشق بہت بعد میں سمجھ آیا
وگرنہ کر کے لگا تھا نمٹ بھی سکتا ہے
تو سانس ہے سو تجھے ساتھ میرے چلنا ہے
تو کوئی عضو نہیں ہے جو کٹ بھی سکتا ہے
یہ کاروبارِ محبت ہے آر پار کا کھیل
یہ وہ اثاثہ نہیں ہے جو بٹ بھی سکتا ہے
تو تھک گیا ہے کہانی سے تو اجازت ہے
ورق بہت سے اکٹھے پلٹ بھی سکتا ہے
میں چاہتا ہوں کہ مشکل پڑے ، یوں فیصلہ ہو
تو صرف ساتھ کھڑا ہے کہ ڈٹ بھی سکتا ہے
ملے کوئی تو میں پہلے اسے بتاتا ہوں
وہ جانے والا کسی دن پلٹ بھی سکتا ہے
تباہ زیست یہ کرتا ہے کس فتور میں تو
یہ سب بکھیڑا تو پل میں سمٹ بھی سکتا ہے

Life Advice image
M  : 💯%✓✓✓ he na - 
🌹True lines🌹
M  : 🌹True lines🌹 - 
Apka Kiya khayal he🙏
M  : Apka Kiya khayal he🙏 - 
🌹🌹Happy Valentine's day🌹🌹
M  : 🌹🌹Happy Valentine's day🌹🌹 - 
Life Advice image
M  : 💯 Right -