Damadam.pk
MushtaqAhmed's posts | Damadam

MushtaqAhmed's posts:

MushtaqAhmed
 

گئے تک خوب رش دیکھنے کو ملتا ہے۔لوگ شاپنگ کے لئے بازاروں کا رخ کرتے ہیں جب کہ عورتیں اور لڑکیاں چوڑیوں کی خریداری کے ساتھ ساتھ ہاتھوں پر مہندی کے خوبصورت نقش و نگار بھی بنواتی ہیں۔اس کے بعد سب مسلمان صبح و سویرے اٹھتے ہی کوئی میٹھی چیز (عموما سویاں وغیرہ) کھا کر، نہا دھو کر،نئے یا دھلے ہوئے صاف اجلے کپڑے پہن کر عید کی نما ادا کرنے کے لیئے گھروں سے نکلتے ہیں۔عید کی نماز مساجد میں بھی ادا کی جاتی ہے لیکن عموما کھلے میدانوں میں اس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔عید کی نماز ادا کرنے کے بعد فضا عید مبارک عید مبارک کے الفاظ سے گونج اٹھتی ہے اور تمام اطراف سے ہمارے کانوں کی سماعتوں سے یہی الفاط بار بار ٹکرا رہے ہوتے ہیں۔اس دن مسلمان بھائی تمام نفرتوں اور کدورتوں

MushtaqAhmed
 

۔خیر یہاں ہم عیدالفطر کے حوالے سے بات کریں گے۔جہاں تک عیدالفطر کا تعلق ہے تو یہ عید صرف ایک ہی دن پر مشتمل ہوتی ہے۔ لیکن اگلے دو روز بھی اسی سلسلہ میں منائے جاتے ہیں جنہیں عید ٹرو او ر عید مرو کا نام دیا جاتا ہے۔اب پوری دنیا کے مسلمان اس مذہبی تہوار کو تقریبا ایک ہی طرح سے مناتے ہیں مثال کے طور پر عید کی نمازپڑھنا،ایک دوسرے کو مبارک باد دینا اور پھر اپنے ملکی اور علاقائی رسم و رواج کے مطابق خوشیاں منانا۔جہاں تک وطن عزیز کی بات ہے تو ہمارے یہاں بھی عیدالفطر نہائت ہی جوش و جذبے سے منائی جاتی ہے۔عید سے چند دن قبل تمام لوگ اپنی اپنی بساط کے مطابق خریداری کر لیتے ہیں اور دور دراز کے لوگ گھروں کو واپس لوٹ آتے ہیں۔ عید کا چاند نظر آتے ہی ہر طرف خوشیوں کے شادیانے بجنا شروع ہو جاتے ہیں، چاند رات کو شہروں میں رات گئے تک خوب رش دیکھنے کو ملت

MushtaqAhmed
 

روئے زمین پر آبادتمام قومیں اپنے اپنے تہوار مخصوص رسم و رواج اورپورے جوش و خروش سے مناتی ہیں۔ کیونکہ انہی تہواروں کے ذریعے ہی کوئی بھی قوم اپنے کلچر اور مخصوص ر وایات کو دنیا کے سامنے اجاگرکر سکتی ہے۔پوری دنیا کے مسلمان بھی سال میں دو مشہور اسلامی تہوار نہائیت تزک و احتشام سے مناتے ہیں جنہیں عیدین کا نام دیا جاتا ہے۔ان میں سے ایک عیدالفطر اور دوسری عیدالضحٰی ہے۔ عید الفطر کو ہمارے یہا ں چھوٹی عید،میٹھی عید یا روزوں والی عید کا نام بھی دیا جاتا ہے۔پوری دنیا کے مسلمان عیدالفطر ہر سال رمضان مقدس کے روزے رکھنے کے بعد یکم شوال کو مناتے ہیں جبکہ دوسری عید عید الضحیٰ ہے جسے عید قربان یا بڑی عید کا نام بھی دیا جاتا ہے یہ عید اسلامی مہینے کی دس ذوالحج کو سنت ابراہیمی ؑ کی یاد میں پوری اسلامی دنیا میں منائی جاتی ہے۔خیر یہاں ہم عیدالفطر ک

MushtaqAhmed
 

عید الفطر مبارک 🙂🙋🙋🙋🙋

MushtaqAhmed
 

اچانک روئی کی طرح نرم و ملائم لگنے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے اُس کا رشتہ عروج کی بلندیوں پر پہنچ جاتا ہے۔ جہاں اُسے ماضی کی سختیاں یاد رہتی ہیں نہ ہی اپنی بے بسی بس جو یاد رہتا ہے وہ اپنے اور اللہ تعالیٰ کے رشتے کی معراج اور عشقِ حقیقی میں ڈوبا ہوا اپنا پورا وجود۔
endd

MushtaqAhmed
 

ی اللہ تعالیٰ اُس کے لاشعور میں اپنے اشارے بھیجنا شروع کر دیتا ہے۔
اُس کے ساتھ ہی اُن اشاروں کو سمجھنے اور اُن کو ڈی-کوڈ کرنے کی عقل بھی عطا کرتا ہے۔ یہ اشارے انسان کی زندگی پر چھائی دھنددھلاہٹ کو ختم کرتے ہیں۔ جب وہ اپنے لاشعور میں خداوند کریم کے اُن اشاروں کے نزول کو محسوس کرنے لگ جاتا ہے اور اُن کی تشریح کرنا سیکھ جاتا ہے تو اُس کی اُن مشکل مسافتوں کی ساری تھکن منٹوں میں ختم ہو جاتی ہے، سر سجدہ شکر میں جھک جاتا ہے اور زبان سے صرف اور صرف الحمد اللہ ادا ہورہا ہوتا ہے۔
انسان کو اپنی خوش قسمتی پر یقین نہیں آرہا ہوتا ہے کہ اُس ربِ کائنات نے پورے عالم میں مجھ ناچیز کو عشقِ حقیقی کے قابل سمجھا اور جب بالآخر اُس کا یقین سے سامنا ہوتا ہے تو وہ راستہ جو آغاز میں اُسے کنکروں اور کانٹوں سے لیس معلوم ہورہا تھا اچانک روئی کی

MushtaqAhmed
 

غار سے باہر آنے کے لیے قدم بڑھاتا ہے لڑکھڑا کر گر پڑتا ہے۔ ایک بار، دو بار، تین بار اور لاتعداد بار پر ہر بار گِرنے پر کوئی غیبی طاقت اُس کا ہاتھ پکڑ کر کھڑا کر دیتی ہے اور وہ اُس وقت سمجھ نہیں پارہا ہوتا ہے کہ ان سب کے پیچھے کون کارفرما ہے۔ دماغ مکمل طور پر سن ہوجاتا ہے اور زندگی پہاڑ جیسی طویل معلوم ہو رہی ہوتی ہے۔
خالق کی جانب سے عشق حقیقی کے لیے منتخب کردہ تخلیق افضل کو اُس وقت اپنی ہر سانس کے بعد دوسری سانس لینا بھاری لگ رہا ہوتا ہے۔ تب وہ اپنے خالق سے سوال کرنا شروع کر دیتی ہے۔ اُس ذاتِ کبریائی کے سامنے روتی ہے گِڑگڑاتی ہے اور اپنی بے بسی کا اظہار کرتی ہے۔ زندگی کے اُس وہشت ناک موڑ سے آگے بڑھنے کو بے چین رہتی ہے اور اپنے حصے کی روشن صبح حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہوتی ہے تب ہی اللہ

MushtaqAhmed
 

بلکہ وقتاً فوقتاً اُسے اپنے اشارے دیتی رہتی ہے جو اُس سخت راہوں کو آسان بنانے میں اُن کو مدد فراہم کرتے ہیں۔
جس طرح ایک بچہ کورا اس دنیا میں آتا ہے بالکل اُسی طرح عشقِ حقیقی کی ڈگر پر بھی ہم اپنا پہلا قدم خواہ عمر کے جس بھی حصے میں رکھیں ہمارے دماغ کی سلیٹ ایک دم صاف اور کوری ہوتی ہے۔ دنیا انجان لگتی ہے، دنیا والے اجنبی اور اپنا آپ اس جہان کی سب سے بیکار شے۔ اللہ تعالیٰ کی پاک ذات پر بھروسہ تو پورا ہوتا ہے لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ آپ بے یقینی کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔ آپ کے چاروں جانب تاریکی پھیلی ہوئی ہوتی ہے اور آپ ڈرے سہمے بدلے ہوئے حالات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔
عشق حقیقی کی دہلیز پر قدم رکھنے سے قبل انسان کو کچھ سجھائی دیتا ہے نہ آگے کا کچھ دیکھاء بس اپنا وجود ایک غار میں پھنسا محسوس ہوتا ہے۔ جب جب وہ اُس غار

MushtaqAhmed
 

۔ یہاں سکون خوشی پاکر نہیں اذیت سہہ کر ملتا ہے۔ انسان ان راہوں پر خود چل کر نہیں آتا بلکہ ہاتھ پکڑ کر لایا جاتا ہے۔ قرآنِ پاک میں سورۃ البقرہ کی آیت نمبر ۵۵۱ میں اللہ ربالعزت ارشاد فرماتے ہیں ’’اور ضرور ہم تمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور خوشخبری سنادو صبر کرنے والوں کو۔‘‘
پیغمبر اسلامﷺ کا بھی فرمان ہے ’’جب اللہ کسی بندے کو پسند کرتا ہے تو اُس پر آزمائش ڈالتا ہے۔‘‘ ہم مسلمانوں کا یہ ایمان ہے کہ سزا، جزا، خوشی، غم اور آزمائش اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں۔ وہی پاک ذات اپنے بندوں کو آزمانے اور اُن کے ایمان کو جانچنے کے لیے اُنھیں مشکل راستوں پر ڈال کر دُور بیٹھے اُن کے حوصلے، ہمت اور صبر کا امتحان لیتی ہے پر وہ اپنی مخلوق کو اُس مشکل راستے پر تن تنہا نہیں چھوڑتی بلکہ وقتاً فوقتاً اُسے اپ

MushtaqAhmed
 

دی بوٹی‘ مرشد من وچ لاندا ہوا
جس گت اتے سوہنا راضی‘ اوہ گت سدا سکھاندا ہو
ہر دم یاد رکھے ہر ویلے‘ سوہنا اٹھدا بہاندا ہو
آپ سمجھ سمجھیندا باہو‘ آپے آپ ہو جاندا ہو
الف اللہ چنبے دی بو ٹی مرشد من وچ لائی ہوئی
نفی اثبات دا پانی ملیا ہر رگے ہر جائی ہوئی
اندر بوٹی مشک مچایا جان پھلن تے آئی ہو
جیوے مرشد کامل باہو رح حیں ایہ بوٹی لائی ہو
یہیں سے ہمارے عشق ِ حقیقی کے سفر کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے۔ یہ سفر مشکل سہی پر لطف ہوتا ہے۔ اس راستے کے تمام قاعدے قانون نرالے ہیں۔ یہاں سکون

MushtaqAhmed
 

در ہی ہے۔ اپنے خالق کی خلق سے محبت درحقیقت عشقِ حقیقی کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔
ہم انسان اس جہان فانی میں پیدا ہوتے ہیں۔ اپنی منشا کے مطابق یہاں زندگی گزارتے ہیں، دنیا کی چکاچوند کا مزا لیتے ہیں۔ اپنے لیے مسرت کا سامان اکٹھا کرتے ہیں۔ لڑکپن میں ہی بڑھاپے تک کی منصوبہ بندی کرلیتے ہیں اور اُس پر عملی جامہ پہنانے کے لیے محنت بھی شروع کردیتے ہیں۔
ہماری زندگی کی گاڑی خوشیوں کی ڈگر پر اپنی پوری آن، بان اور شان کے ساتھ رواں ہوتی ہے کہ اچانک کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے جو ہمارے وجود اور اُس کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ ہم عرش سے سیدھا فرش پر گر پڑتے ہیں اُس کے بعد ہم پہلے جیسے رہتے ہیں نہ ہماری زندگی۔عشق حقیقی پر صوفی شعراکا کلام بھی دل کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے۔
الف اللہ چنبے دی بوٹی‘

MushtaqAhmed
 

اللہ تعالیٰ کا نام اپنی زبان پر لاتے ہی اُس خداوند پاک سے عشق کرنے والی ہر ذات سکون کی جس کیفیت سے سرشار ہوتی ہے اُس کو الفاظ میں بیان کرنا اس دنیا کی کسی بھی زبان میں ممکن نہیں ہے۔
عشق ربِ کائنات سے ہو یا اُس کی تخلیق سے اچانک یا بیٹھے بیٹھائے کبھی بھی رونما نہیں ہوتا جب تک کہ عاشق آزمائشوں کی بھٹی میں جل جل کر تپ تپ کر ایک معمولی دھات سے کندن میں تبدیل نہیں ہوجاتا ہے۔خدا تعالیٰ کو ماننے والا ہر انسان اس عظیم ہستی سے محبت کرنے کا دعویدار ہے پر محبت اور عشق میں بڑا فرق ہوتا ہے۔
محبت میں انسان محبوب کو مانتا ہے جبکہ عشق کے رموز ذرا مختلف ہوتے ہیں اس میں عاشق اپنی محبوب ہستی کی مانتا ہے۔ عشق اگر سمندر ہے تو محبت ایک دریا ہے جس کا پانی کئی مراحل طے کرکے گرتا آخر میں سمندر کے اندر ہی ہے۔ اپنے خالق

MushtaqAhmed
 

آس پاس کے لوگوں نے لڑائی ختم کروائی اور زخمی عدنان کو فوری طور پر رورل ہیلتھ سنٹر منتقل کیا، تاہم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہری عدنان دم توڑ گیا ۔دوسری جانب واقع کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی سرکل ایس ایچ او سمیت پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس نے قتل میں ملوث شہباز اور اسامہ کو موقع سے گرفتار کرلیا جبکہ عبدالرحمٰن فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ پولیس نے مقتول عدنان کے بھائی امیر حمزہ کی مدعیت میں 3 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا، اور لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دیا۔
eng
d

MushtaqAhmed
 

گوجرانوالہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) قلعہ دیدار سنگھ کے علاقے میں سحری کے وقت چائے خانہ سے ادھار سیگریٹ مانگنے پر دکاندار نے چھریوں کے وار کرکے شہری کو قتل کردیا۔
سٹی 42 نیوز کے مطابق افسوسناک واقعہ تھانہ قلعہ دیدار سنگھ کے علاقہ خرم مارکیٹ میں پیش آیا جہاں محلہ قصوریاں کے رہائشی عدنان نے سہری کے وقت چائے خانہ کےدکاندار شہباز سے ادھار سیگریٹ مانگا، دکاندار نے ادھار سیگریٹ دینے سے منع کردیا، جس پر دونوں میں توں تکرار ہوئی، دکاندار شہباز نے طیش میں آکر اپنےبیٹے عبدالرحمٰن اور ساتھی اسامہ سے مل کر شہری عدنان پر حملہ کردیا، انہوں نے ڈنڈوں سوٹوں اور چھریوں کے وار کرکے عدنان کو شدید زخمی کردیا۔ آس پاس کے لوگوں نے لڑائی ختم کروائی اور زخمی

MushtaqAhmed
 

ان کا ہندو مسلم تنازعات سے متعلق کہنا تھا کہ کیا ہوا اگر میں ہندو ہوں! میں مسجد کے لیے کام کرتا رہوں گا، اس کے علاوہ میں کیا کر سکتا ہوں؟
جبکہ غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیچن بابا کی خواہش ہے کہ ان کی آخری سانس بھی اسی مسجد میں نکلے۔
وہ کہتے ہیں کہ میں گھر نہیں جاتتا ہوں، میرے بچے صبح کھانا لے آتے ہیں۔ میں پورا دن یہی گزارتا ہوں، مجھے یہاں سکون ملتا ہے۔ میرے بچے گھر پر ہی رہتے ہیں۔
نمازیوں سے متعلق بیچن کا کہنا تھا کہ اس مسجد میں 5 وقت کی نماز پڑھائی جاتی ہے، میرے والد کے وقت میں یہاں نمازیوں کی تعداد کم تھی، تاہم اب کئی گھر بن چکے ہیں اور نمازیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے

MushtaqAhmed
 

بیچن بابا مسجد کی دیکھ بھال میں اپنا پورا دن بھی لگا دیتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ میں یہاں گزشتہ 45 سال سے مسجد کی دیکھ بھال کر رہا ہوں۔ ہندو اور مسلم دونوں یہاں آتے ہیں اور عبادت کرتے ہیں۔
تصویر بذریعہ: جیوتی ٹھاکر
انہوں نے مزید بتایا کہ میرے والد یہاں ہوتے تھے اور ان کے بعد اب میں یہ ذمہ داری نبھا رہا ہوں۔میں یہاں بچپن سے موجود ہوں۔
انار والی مسجد کی حفاظت کا معاملہ ہو یا پھر صاف صفائی ہو، بیچن بابا کسی دوسرے پر انحصار کرنے کے بجائے کام خود سرانجام دیتے ہیں۔
ان کا

MushtaqAhmed
 

پاکستان اور بھارت میں ایسے کئی لوگ موجود ہیں، جو کہ مذہب سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کرتے دکھائی دیتے ہیں، پاکستان میں مسلمان برادری جہاں اقلیتی برادری کے شانہ بشانہ کھڑی دکھائی دیتی ہے، بھارت میں ایسا بہت کم دکھائی دیتا ہے۔
البتہ بھارت سے تعلق رکھنے والے بیچن بابا بٹوارے سے قبل کی محبت کو آج بھی قائم رکھے ہوئے ہیں اور عام بھارتی انتہا پسندوں سے کہی گناہ بہتر ثابت ہو رہے ہیں۔
بھارتی ریاست وراناسی میں موجود مقامی مسجد اناروالی مسجد جہاں ہندو اور مسلمان ایک ساتھ عبادت کرتے ہیں، اس مسجد کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ایک ہندو شخص کر رہا ہے۔
72 سالہ ہندو کئیر ٹیکر بیچن بابا

MushtaqAhmed
 

rozó rkho uthó momño rózo rkhó

MushtaqAhmed
 

رجوع ہوکر اس کو پکارتا ہے پھر جب اس کو نعمتیں مل جاتی ہیں تب وہ اس مصیبت کو فراموش کردیتا ہے جس کے لئے وہ اس سے پہلے پکار رہا تھا اور اللہ کے لئے شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔
اس کے بعد فرمایا: اے اہل ایمان بندو! اپنے رب سے ڈرو، جن لوگوں نے اس دنیا میں اچھے کام کئے ان کے لئے اجر ہے اور اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے، صبر کرنے والوں کو ان کا اجر پورا ملے گا اسی طرح کی ہدایتوں اورنصیحتوں پر یہ پارہ ختم ہوتا ہے۔

MushtaqAhmed
 

تر کفار قریش ہیں، کہیں کہیں اہل ایمان سے بھی خطاب کیا گیا ہے، فرمایا: یاد رکھو خالص عبادت اللہ ہی کے لئے ہے، جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں (اور وہ یہ کہتے ہیں کہ) ہم اللہ تک رسائی حاصل کرنے کے لئے ان کی پرستش کرتے ہیں (وہ غلط کہتے ہیں ) اللہ ایسے شخص کو ہدایت سے نہیں نوازتا جو جھوٹا ہو۔ آگے فرمایا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا وہ رات کو دن پر اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اس نے سورج چاند کو مسخر کیا ہے، ہر ایک مقررہ مدت کیلئے چلا جارہا ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بے نیاز ہے اور اللہ اپنے بندوں کے لئے کفر پسند نہیں کرتا اور اگر تم شکر کرو تو وہ تم سے راضی رہے گا اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھرفرمایا انسان پر جب کوئی آفت آتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف رجوع ہوکر اس کو پکارت