Damadam.pk
MushtaqAhmed's posts | Damadam

MushtaqAhmed's posts:

MushtaqAhmed
 

کی بات سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی اور کہا کہ اگر تم اس بات پر اتفاق کرلو تو میرے جیتے جی یہ جھگڑا ختم ہوجائے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو ان کے سامنے ایک ایسی بات رکھ رہا ہوں کہ اگر وہ اسے تسلیم کرلیں توعرب وعجم ان کے تابع فرمان ہوجائیں۔ اس کے بعد سرداران قریش مجلس سے اٹھ کر یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ چلو اور اپنے معبودوں کی پرستش کرو، یہ بات تو کسی اور ہی غرض سے کہی جارہی ہے، یہ بات تو ہم نے پچھلی ملت میں بھی نہیں سنی، یہ تو من گھڑت بات ہے، کیا ہمارے درمیان یہی ایک شخص ایسا ہے جس پر اللہ کا ذکر (قرآن) نازل کیا گیا ہے۔ اس کے بعد کچھ انبیاء کا مثلاً حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔
اگلی سورہ الزمر ہے، یہ ایک مؤثر اور بلیغ تقریرپر مشتمل ہے۔ اس کے مخاطب زیادہ تر کفا

MushtaqAhmed
 

ہم نے ایک بڑی قربانی فدیئے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا تھا اور اس (واقعے کا ذکر) ہم نے بعد والوں میں چھوڑ دیا( رہتی دنیا تک اس واقعے کی یاد تازہ کی جاتی رہے گی)۔ کچھ اور انبیاء کے واقعات بھی اس سورہ میں بیان کئے گئے ہیں جو پہلے بھی گزر چکے ہیں۔
سورۂ صٓ ایک خاص واقعے کے بعد نازل کی گئی۔ جب آپؐ کے چچا ابو طالب مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو سرداران قریش نے محسوس کیا کہ اب یہ ان کا آخری وقت ہے، بہتر یہ ہے کہ ان سے چل کر بات کی جائے اور ان کے بھتیجے کا معاملہ حل کرلیا جائے۔ تقریباً پچیس سرداران قریش حضرت ابوطالب کے پاس پہنچے اور ان سے کہا کہ ہم آپ کے پاس ایک درخواست لے کر آئے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ آپ اپنے بھتیجے سے کہیں کہ وہ ہمیں ہمارے دین پر چھوڑ دے اور وہ خود جس کی عبادت کرنا چاہے کرے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ حضرت ابوطالب نے قریش کی بات

MushtaqAhmed
 

کچھ واقعات مختلف پاروں میں گزر چکے ہیں، یہاں اس قصے کا یہ حصہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے اپنے رب سے دُعا کی کہ اے اللہ مجھے ایک بیٹا عطا فرما جو نیک لوگوں میں سے ہو۔ ہم نے ان کو ایک حلیم الطبع فرزند کی خوش خبری سنائی۔ جب وہ بچہ اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا تو ابراہیمؑ نے فرمایا کہ اے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں، تمہارا اس سلسلے میں کیا مشورہ ہے؟ بیٹے نے کہا اباجان آپ کو جو حکم دیا گیا ہے آپ اس کو انجام دیجئے، آپ مجھے ان شاء اللہ صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے، جب ان دونوں نے سر تسلیم خم کردیا اور ابراہیمؑ نے بیٹے کو کروٹ کے بل (ذبح کرنے کے لئے) لٹا دیا تو ہم نے ان کو آواز دی کہ اے ابراہیم تم نے خواب سچ کردکھلا یا ہے، ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں، بلاشبہ یہ سخت امتحان تھا ہم

MushtaqAhmed
 

بات لے اُڑے تو ایک تیز شعلہ ان کا پیچھا کرتا ہے۔ اس کے بعد کفار کا ذکر ہے کہ یہ تعجب کرتے ہیں اور مذاق اڑاتے ہیں اور جب ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو نصیحت نہیں پکڑتے، اور جب ہماری کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اس کا مضحکہ اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ اس کے بعد کچھ انبیائے کرام کے واقعات مذکور ہیں۔ ان میں سے کچھ واقعات گزشتہ پاروں میں بھی آچکے ہیں۔ اس سورہ کا سب سے اہم اور نیا واقعہ حضرت ابراہیم ؑ کا ہے، یہ واقعہ اس لئے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ مخاطب قریش مکہ ہیں اور انہیں اپنے حسب نسب پر بڑا فخر تھا اور وہ خود کو ابراہیمی کہا کرتے تھے، اس واقعے سے مسلمانوں کو بھی یہ سبق دیا گیا کہ اسلام کی حقیقت اور روح در اصل اپنی محبوب چیزوں کو اللہ کی رضا کے لئے قربان کردینا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ابتدائی زندگی کے کچھ واقعات

MushtaqAhmed
 

کہی جارہی ہے جب مکہ میں مسلمان نہایت کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے، ان کی بڑی تعداد وطن چھوڑ کر جا چکی تھی، گنے چنے لوگ رہ گئے تھے اور ہر طرح کی تکلیفیں جھیل رہے تھے، اس وقت قرآن نے غلبے اور فتح کا اعلان کیا، جب کہ دشمنوں کو یہ اندازہ ہورہا تھا کہ یہ نیا دین ختم ہوچکا ہے۔ کچھ ہی برسوں کے بعد انہوں نے دیکھ لیا کہ یہ کمزور اور بے بس مسلمان محض اللہ کی مدد اور نصرت سے فاتحانہ مکہ میں داخل ہوئے۔ سورہ کا آغاز فرشتوں کے ذکر سے ہوا ہے، فرمایا: قسم ہے ان فرشتوں کی جو قطار در قطار صف بستہ رہتے ہیں، پھر ان فرشتوں کی جو ڈانٹتے پھٹکارتے ہیں، پھر ان فرشتوں کی جو ذکر الٰہی کرنے والے ہیں۔ آگے شیاطین کا تذکرہ ہے کہ وہ (شیاطین) عالمِ بالا کی طرف کان نہیں لگا سکتے اور اُن پر ہر طرف سے (انگارے) پھینکے جاتے ہیں، تاہم اگر ان میں سے کوئی بات لے اُڑے تو ایک تی

MushtaqAhmed
 

غرق کردیں تب، نہ کوئی فریاد سننے والا ہوگا اور نہ کوئی انہیں بچاپائے گا بہ جز ہماری رحمت کے اسی سے یہ پار لگتے ہیں اور ایک خاص مدت تک (دنیا میں زندہ) رہتے ہیں۔ آگے قیامت کا ذکر ہے کہ ایک صور پھونکا جائے گا تو سب کے سب قبروں سے اٹھ کھڑے ہونگے اور کہیں گے ہائے ہماری بدقسمتی ہمیں کس نے قبروں سے اٹھا کر کھڑا کردیا ہے (اس وقت ان سے کہا جائے گا) اس کا وعدہ خدائے رحمٰن نے کیا تھا اور پیغمبروں نے جو بھی کہا تھا سچ کہا تھا۔ اس طرح کے مضامین پرسورۂ یٰسین ختم ہوئی۔
سورہ الصفٰت کے مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مکی دور کے بالکل آخر میں نازل ہوئی۔ اس سورہ کے ذریعے کفار کو آگاہ کیا گیا کہ تم ہمارے پیغمبر کا مذاق نہ اڑاؤ۔ عن قریب وہ تم پر غالب آجائیں گے اور تم خود اپنے گھروں کے اندر اللہ کے لشکر کو اترتا ہوا دیکھو گے۔ یہ بات اس وقت کہی جارہی ہے جب

MushtaqAhmed
 

پیدا کئے خواہ وہ زمین کی نباتات سے تعلق رکھتے ہوں یا خود ان کی اپنی ذات سے، یا ان چیزوں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں، ان کے لئے ایک نشانی رات ہے، ہم اس کے اوپر سے دن ہٹا دیتے ہیں تو تاریکی چھا جاتی ہے اور ایک نشانی سورج ہے جو اپنے ٹھکانے کی طرف رواں ہے، یہ اندازہ ایک زبردست ہستی کا باندھا ہوا ہے اور ایک نشانی چاند ہے اس کیلئے ہم نے منزلیں مقرر کردی ہیں، یہاں تک کہ وہ ان منزلوں میں گزرتا ہے اور (پھر) کھجور کی شاخ کی مانند (پتلاسا) رہ جاتا ہے، نہ سورج چاند کو پکڑ سکتا ہے اور نہ رات دن سے آگے بڑھ سکتی ہے، یہ سب اپنے اپنے دائرے میں گھوم رہے ہیں، ان کے لئے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی ذریت کو ایک بھری ہوئی کشتی میں سوار کردیا اور کشتی جیسی اور بھی چیزیں ہم نے پیدا کی ہیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں تب، نہ کوئی

MushtaqAhmed
 

بستی کا مصداق مشہور شہر انطاکیہ کو قررا دیا ہے) کہ اس میں کئی رسول آئے (پہلے) ہم نے ان کے پاس دو رسول بھیجے اور انہوں نے دونوں کو جھٹلادیا، پھر ہم نے تیسرا رسول مدد کے لئے بھیجا، انہوں نے کہا ہم تمہارے پاس رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ تم تو ہمارے ہی جیسے انسان ہو، اللہ نے (تمہارے ساتھ تمہاری شناخت کیلئے ) کوئی چیز نازل بھی نہیں کی ہے تم تو جھوٹے معلوم ہوتے ہو۔
آگے قدرت کی کچھ نشانیاں بیان کی جارہی ہیں، فرمایا: ان لوگوں کے لئے ایک نشانی مردہ زمین ہے، ہم نے اس کو زندگی بخشی اور اس سے غلہ نکالا جس سے لوگ کھاتے ہیں، اسی زمین میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات لگائے اور اس کے اندر چشمے جاری کئے، تاکہ لوگ ان (باغوں ) کے پھل کھائیں، یہ سب کچھ ان کے ہاتھوں کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے، پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کئے خواہ

MushtaqAhmed
 

قرآن حکیم کی یقیناً آپ رسولوں میں سے ہیں، سیدھے راستے پر ہیں، یہ قرآن اللہ کا نازل کردہ ہے جو زبردست بھی ہے اور مہربان بھی ہے، تاکہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے آباءو اجداد خبر دار نہیں کئے گئے تھے، اسی لئے وہ اس سے غفلت میں ہیں، پھر فرمایا کہ ان کا حال تو اب یہ ہوگیا ہے کہ ان کے حق میں آپ کا ڈرانا اور نہ ڈرانا دونوں برابر ہیں، آپ تو صرف ایسے شخص کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت پر عمل کرے، بے دیکھے خدائے رحمٰن سے ڈرے، ایسے شخص کو آپ مغفرت اور اجر کریم کی خوش خبری سنا دیجئے، ہم یقیناً ایک روز مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں اور ہم وہ سب اعمال لکھتے جارہے ہیں جو لوگ آگے بھیج رہے ہیں اور جو پیچھے چھوڑ رہے ہیں، ہم نے ہر چیز کا احاطہ ایک کھلی کتاب میں کررکھا ہے، آپ انہیں مثال کے طور پر اسی بستی کے لوگوں کا قصہ سنائیں (اکثر مفسرین نے اس بستی کا م

MushtaqAhmed
 

یٰسین کو قرآن کریم کا دل کہا گیا ہے کیوں کہ اس میں اسلام کی دعوت پرُزور طریقے پر پیش کی گئی ہے اور اس میں پورے قرآن کریم کا خلاصہ بھی آگیا ہے اس سورہ میں قریش سے کہا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئیں اور ان کے ساتھ استہزاء وتمسخر نہ کریں، ورنہ دردناک انجام سے دو چار ہونا پڑے گا، اس تہدید کے ساتھ ساتھ عقلی دلائل کے ذریعے سمجھا یا بھی گیا ہے، مثلاً توحید پر کائنات کے آثار سے استدلال کیا گیا ہے، انسان کے وجود سے آخرت کے وجود کا ثبوت پیش کیا گیا ہے اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی صداقت پر اس امر سے استدلال کیا گیا ہے کہ اللہ کے رسول تمہیں راہ راست پر لانا چاہتے ہیں اس میں ان کی کوئی غرض یا مفاد تو ہے نہیں، جو بھی کررہے ہیں بے غرضی کے ساتھ کررہے ہیں۔ سورہ کے شروع میں فرمایا گیا کہ قسم ہے قرآن حکی

MushtaqAhmed
 

ہر صاحب نصاب کی ذمہ داری ہے کہ وہ خوش دلی سے سال بہ سال اپنی زکاۃادا کرے،زکاۃ ادا کرنے میں ٹال مٹول نہ کرے،اپنے مستحق رشتے داروں سے تعاون کا آغاز کرے اور اچھے سے اچھا مال راہ خدامیں صرف کرے۔شہرت و ریا کاری اور احسان جتلانے کے ذریعہ اپنی اس عبادت کو باطل نہ کرے؛بل کہ لینے والے کو اپنا محسن سمجھے اور نبی پاک ﷺ کا یہ فرمان ملحوظ خاطررکھے: صدقہ دیا کرو !ایک ایسا زمانہ بھی تم پر آنے والا ہے جب ایک شخص اپنے مال کا صدقہ لے کر نکلے گا اور کوئی اسے قبو ل کرنے والا نہیں پائے گا۔ (جس کے پاس صدقہ لے کر جائے گا) وہ یہ جواب دے گاکہ اگرتم کل اسے لائے ہو تے تو میں اسے قبول کرلیتا آج تو مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔(بخاری)

MushtaqAhmed
 

قرآن کریم میں عمدہ مال سے صدقہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور گھٹیا مال سے صدقہ کرنے کو ناپسندکیاگیاہے؛ چنانچہ ایک جگہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے : ’’تم نیکی کے مقام تک اس وقت تک ہرگز نہیں پہنچو گے، جب تک ان چیزوں میں سے (اللہ کے لیے) خرچ نہ کرو، جو تمہیں محبوب ہیں ‘‘۔(آل عمران)اور دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’اے ایمان والو! جو کچھ تم نے کمایا ہو اورجو پیداوار ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی ہو اس کی اچھی چیزوں کا ایک حصہ (اللہ کے راستے میں ) خرچ کیا کرو، اور یہ نیت نہ رکھو کہ بس ایسی خراب قسم کی چیزیں (اللہ کے نام پر) دیا کرو گے، جو (اگر کوئی دوسرا تمہیں دے، تو نفرت کے مارے) تم اسے آنکھیں میچے بغیر نہ لے سکو۔‘‘(بقرۃ)

MushtaqAhmed
 

رحمی کا، جیساکہ اس مفہوم کی متعدد روایتیں حضور اکرم ﷺ سے منقول ہیں ۔نیز کسی تحفے یا ہدیے کے شکل میں بھی مذکورہ رشتہ داروں کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے،بس ادائیگی کے وقت زکوٰۃ کی نیت ہونی چاہیے۔
حاجت مندوں کی حاجت کا خیال کیجیے!
زکوۃ کے حوالے سے ایک کوتاہی یہ بھی چلی آرہی ہے کہ کچھ زکوۃ ادا کرنے والے ضرورت مندوں کی ضرورت کوپیش نظر رکھنے کے بجائے اپنی خواہش کو ترجیح دیتے ہیں اور بڑی مقدار میں بازار سے سستے کپڑے اور دیگر(کم ضروری)چیزیں ہول سیل میں خریدلاتے ہیں ،پھر انھیں اعلان کے ذریعہ مستحقین اور غیرمستحقین سب کے درمیان تقسیم کردیتے ہیں اور بہ زعم خویش فریضۂ زکوۃ سے عہدہ بر آہوجاتے ہیں ؛حالانکہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق زکوۃ و صدقات کے سلسلے میں فقرا ء ومساکین کی منفعت ملحوظ رکھنی چاہیے۔نیزقرآن کریم میں عمدہ مال

MushtaqAhmed
 

کیا ہے۔اکثرلوگ یہاں کوتاہی کاارتکاب کرتے ہیں : یاتو رشتے داروں کا بالکل تعاون نہیں کرتے یا رشتے داروں کا حق ادا کرکے ان پر احسان جتاتے اور ان کی عزت نفس کو مجروح کرتے ہیں ، ا س طرح اپنی نیکی کو بھی برباد کرلیتے ہیں ؛اسی لیے ایک رشتے دار باوجود غریب اور ضرورتمند ہونے کے اپنے کسی مال دار رشتے دار کا مالی تعاون لینے سے بالعموم گریز کرتا ہے۔یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آج کل خاندان کے بعض افراد توعیاشی سے زندگی بسر کرتے ہیں اور انہی کے کئی رشتہ دار روٹی، کپڑے اور چھت کو ترستے ہیں ۔لہذاسب سے پہلے رشتہ داروں مثلاًبھائی، بہن، بھتیجا، بھتیجی، بھانجا، بھانجی، چچا، پھوپھی، خالہ، ماموں ، ساس، سسر،داماد وغیرہ میں سے جو حاجت مند اور مستحق زکوٰۃ ہوں ، انھیں زکوٰۃ دینی چاہیے؛ اس لیے کہ ان کو دینے میں دوہرا ثواب ملتاہے، ایک ثواب زکوٰۃ کا اور دوسرا صلہ رح

MushtaqAhmed
 

جائے۔اسی طرح کسی خاتون کا بیوہ ہونا اس کو مصارف زکوۃ کی فہرست میں نہیں داخل کرتا۔بہت سی بیوائیں سونے چاندی کے زیورات کی مالک ہونے کے سبب خود صاحب نصاب ہوتی ہیں ،ان کو زکوۃ دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔
رشتے داروں کا حق مقدم ہے!
عام طور پر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ مال وثروت رکھنے والے احباب ملی اور رفاہی اداروں کے تعاون میں تو بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہیں ،جو اچھی بات ہے؛مگر اپنے ہی خاندان اور قریبی رشتہ داروں کی خبرگیری نہیں کرتے،جب کہ تعاون و امداد کے اولین حق دار یہی لوگ ہیں ۔ارشاد باری ہے: بے شک اللہ تعالی عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کو دینے کاحکم دیتا ہے۔(النحل)آیت کریمہ سے پتہ چلتاہے کہ رشتے داروں کے ساتھ امداد وتعاون کا معاملہ کرنا ان پراحسان نہیں ہے؛ بلکہ یہ وہ حق ہے جو اللہ نے اصحاب حیثیت پر ان کے رشتے داروں کے سلسلے میں عائد کیا ہ

MushtaqAhmed
 

نہیں ہے تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔اسی طرح پیشہ ور گداگروں کو زکوۃدینے سے بچنا چاہیے؛کیوں کہ جس آدمی کے پاس ایک دن کا کھانا ہو اور ستر ڈھانکنے کے لیے کپڑا ہو اس کے لیے لوگوں سے مانگناجائز نہیں ہے، اسی طرح جو آدمی کمانے پر قادر ہو اس کے لیے بھی سوال کرنا جائز نہیں ؛ البتہ اگر کسی آدمی پر فاقہ ہو یا واقعی کوئی سخت ضرورت پیش آگئی ہو جس کی وجہ سے وہ انتہائی مجبوری کی بنا پر سوال کرے تو اس کی گنجائش ہے؛ لیکن مانگنے کو عادت اور پیشہ بنالیناحرام ہے، حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص بلا ضرورت مانگتا ہے تو قیامت کے دن اس کا یہ مانگنا اس کے چہرے پر زخم بن کر ظاہر ہوگا۔لہٰذاجن کے بارے میں علم ہو کہ یہ پیشہ ور بھکاری ہیں تو ایسے افراد کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے؛ تاہم اس میں متکبرانہ انداز اختیار نہ کیا جائے، انھیں جھڑکا نہ جائے؛ بلکہ طریقے سے معذرت کرلی ج

MushtaqAhmed
 

خواہ ایک پر صرف کرے خواہ دو پر خواہ زیادہ پر یہ اس کے اپنے اختیار میں ہے۔
تیسری شرط مالک بنانا: مستحق کو مالک بنانا بھی ضروری ہے،مالک نہیں بنایا، صرف اباحت کردی تو زکوۃ ادا نہیں ہوگی؛ مثلاً کسی غریب کو گھرپہ بلا کر کہا جتنا چاہے کھانا کھالو تو یہ مالک بنانا نہیں ہے؛ بلکہ اباحت ہے اس سے زکوۃ ادا نہ ہوگی۔
حقیقی مستحق تک زکوۃ پہنچائیے!
زکوٰۃ دینے والوں کو ادائیگی زکوٰۃسے قبل اچھی طرح تحقیق کرلینی چاہیے کہ کیایہ شخص واقعی زکوٰۃ کا مستحق ہے؟ کیا یہ ادارہ اپنا خارجی وجودد رکھتاہے؟ ان کے یہاں زکوٰۃ کے مصارف ہیں بھی یا نہیں ؟ اگر کسی وجہ سے خود تحقیق نہ کرسکیں تو معتبرعلماء اور اداروں کی تحقیق پر اعتماد کرسکتے ہیں ؛ لیکن بہتر یہی ہے کہ خود تحقیق کرکے مطمئن ہوجائیں ، اگر بلا تحقیق زکوٰۃ دے دی؛ حالاں کہ وہ شخص یا ادارہ زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہے تو زک

MushtaqAhmed
 

کی نوبت آتی ہے۔
6:غارم سے مراد مَدیون (مقروض) ہے یعنی اس پر اتنا قرض ہو کہ اسے نکالنے کے بعد صاحب نصاب باقی نہ رہے۔
7:فی سبیل اللہ کے معنی ہیں راہِ خدا میں خرچ کرنا، یہ ایک و سیع ا لمعنیٰ لفظ ہے، دین کی خا طر اور اللہ تعا لیٰ کی ر ضا کے لیے جو محنت و مشقت کی جا ئے وہ اس کے مفہوم میں دا خل ہے، لہٰذا دین کے تما م شعبوں میں کا م کر نے وا لے ضرورت مند افر اد (غازی،حاجی،طالب علم)اس کا مصد اق ہیں ۔
8:ابن سبیل سے مراد وہ مسافر شخص ہے، جس کے پاس چاہے اپنے وطن میں نصاب کے برابرمال موجود ہو؛ لیکن سفر میں اس کے پاس اتنے پیسے نہ رہے ہوں ، جن سے وہ اپنی سفر کی ضروریات پوری کر کے واپس وطن جاسکے۔(مستفاد از معارف القرآن)
احناف کے نزدیک ان میں سے کسی بھی مصرف میں زکوٰۃ دینے سے ادائیگی ہوجائے گی اور دینے والا دینی فریضہ سے سبک دوش ہوجائے گا، خواہ ایک پ

MushtaqAhmed
 

عامل کے لیے فقیر ہوناشرط نہیں ہے۔
4:مؤلفۃالقلوب یعنی وہ لوگ جن کی دل جوئی کے لیے ان کو صدقات دیئے جاتے تھے، ان میں مسلم اور غیر مسلم دونوں طرح کے لوگ تھے، غیرمسلموں کی دل جوئی اور اسلام کی ترغیب کے لیے اور نومسلموں کی دل جوئی اور اسلام پر پختہ کرنے کے لیے زکوۃ دی جاتی تھی۔رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد جب اسلام کو مادی قوت بھی حاصل ہوگئی اور کفار کے شر سے بچنے اور نومسلموں کو اسلام پر پختہ کرنے کے لیے اس طرح کی تدبیروں کی ضرورت نہ رہی تو وہ علت اور مصلحت بھی ختم ہوگئی، اس لیے اب ان کا حصہ بھی ختم ہوگیا۔
5:رِقاب سے مراد وہ غلام ہے،جس کو آقا نے مال کی کوئی مقدار مقرر کرکے کہہ دیا کہ اتنامال کماکر ہمیں دو تو تم آزد ہو، اس کو فقہاء کی اصطلاح میں مکاتب غلام کہا جاتا ہے؛ لیکن واضح رہے کہ اب نہ غلام ہیں اور نہ اس مدّ میں اس رقم کے صرف کرنے کی نو

MushtaqAhmed
 

نیت کی گئی تو ایسی نیت شرعاً معتبر نہیں ، اور نہ ہی اس طرح سے زکاۃادا ہوتی ہے۔
دوسری شرط ضرورت مند کو ددینا:سورۃالتوبہ کی آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے آٹھ (8) ایسے لوگ بتائے ہیں جن کوزکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ یہ مصارف زکوٰۃ کہلاتے ہیں ، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
1: فقیریعنی وہ شخص جس کے پاس کچھ مال ہے؛ مگر اتنا نہیں کہ نصاب کوپہنچ جائے یا مال تو بقدرِ نصاب ہے؛ مگر ضروریات اصلیہ کے علاوہ نہیں ہے، اور ضروریات میں رہنے کا مکان، پہننے کے کپڑے، استعمال کے برتن وغیرہ سب داخل ہیں ۔
2:مسکین یعنی وہ شخص جس کے پاس کچھ نہ ہو، یہاں تک کہ وہ کھانے اوربدن چھپانے کے لیے اس کا محتاج ہے کہ لوگوں سے سوال کرے۔
3:عامل یعنی وہ شخص جو اسلامی حکومت کی طرف سے صدقات، زکوٰۃ اور عشرلوگوں سے وصول کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہو، واضح رہے کہ