Damadam.pk
MushtaqAhmed's posts | Damadam

MushtaqAhmed's posts:

MushtaqAhmed
 

س قدر رونے کی وجہ پوچھی تو اس نے جو جواب دیا وہ سنہرے حروف میں لکھنے کے قابل ہیں۔ اس نے کہا ” میں کیسے نہ روؤں یہ میرے ملک کا نقصان ہو رہا۔” بعد میں گاؤں والوں کی مدد سے اس بلڈوزر کو بچا لیا گیا۔
میں سمجھتا ہوں چینی لوگوں کی اپنے ملک سے محبت اور اخلاص کا ہی نتیجہ ہے کہ یہ قوم آج دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں شمار ہوتی ہے۔ چینی قوم کے بارے کچھ غیر معروف دلچسپ وعجیب باتیں بتاتے ہیں۔ اس وقت چین عالمی معیشت پر چھایا ہوا ہے۔ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جس میں چین کی مصنوعات استعمال نہ ہو رہی ہوں۔
• ماؤزے تنگ جدید چین کا بانی شمار کیا جاتا ہے۔ چین کو ترقی دینے میں اس کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ چین کے لوگ افیون اور ہیروئین کے نشہ کی لت میں مبتلا تھے لیکن ماؤزے تنگ نے اپنی قوم سے یہ لت چھڑوا کر اسے دنیا کی ایک محنتی قوم بنا دیا۔

MushtaqAhmed
 

ں کہ ایک ہمارے پاکستانی کالم نگار اپنا آنکھوں دیکھا حال لکھتے ہیں۔ کہ ایک دفعہ چینی کمپنی نے سڑک کی تعمیر کے لئے ایک دیو ہیکل بلڈوزر منگوایا۔ اسے ایک گاؤں سے آگے لے جانا تھا۔ راستے میں ایک ندی تھی جس پر ایک نازک سا پل تھا جو اس بلڈوزر کا وزن برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ چینی انجینئر نے حل یہ نکالا کہ بلڈوزر ندی کی کھائی میں خود اتر کر راستہ بنائے گا اور دوسری طرف راستہ بناتے ہوئے نکل جائے گا۔ اس تجویز پر جب عمل ہوا تو بلڈوزر جب نیچے اتر رہا تھا تو ایک بڑی چٹان آ گئی اور بلڈوزر پھسل کر ندی میں گرنا شروع ہو گیا۔ اس دوران چینی انجینئر نے بے چینی میں ادھر ادھر بھاگنا شروع کر دیا۔ جب بلڈوزر کا گرنا لگ بھگ طے ہو گیا تو اس نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا۔ لوگوں نے جب اس سے اس قدر رونے کی وجہ پ

MushtaqAhmed
 

ین کہاں پہنچ گیا اور ہم کہاں کھڑے ہیں۔ اس کی سب سے بنیادی وجہ ہے مخلص لیڈر شپ کی کمی۔ چین کو ماؤزے تنگ جیسا لیڈر مل گیا۔ جس نے چین کی کایا ہی پلٹ دی۔ اور ہمیں قائداعظم اور نواب زادہ لیاقت علی خان کے بعد کوئی بھی مخلص لیڈر نہ مل سکا۔ قائداعظم کی تو زندگی نے وفا نہ کی اور لیاقت علی خان کو ہم نے گولی سے مار دیا۔ جس کی وجہ سے ہم تنزلی کے ہی شکار رہے۔ اور دوسری قومیں ہم سےکئی گنا آگے نکل گئیں۔ آپ میں سے کچھ دوستوں کو یہ جان کر حیرت ہوگی امریکہ جیسا ترقی یافتہ ملک بھی چائنہ کا تقریباً 1.31 ٹریلین ڈالرز کا مقروض ہے۔ جبکہ امریکن پرائیویٹ کمپنیز کا قرض 19.5 ٹریلین ڈالرز سے بھی زائد ہے۔
چائنہ کی ترقی کی ایک اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ چین کے لوگ ملک کے نقصان کو ذاتی نقصان سے بھی زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ جس کا انداز ہ آپ اس بات سے لگائیں کہ ایک ہ

MushtaqAhmed
 

چینی قوم کی دلچسپ و عجیب باتیں :
۔"" "" "" "" "" "" "" "" "" "" "" "" "" ""
چین اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دو سال بعد معرضِ وجود میں آیا۔ چینی قوم پوری دنیا میں ایک پسی ہوئی قوم تھی۔ کوئی نظام نہیں تھا۔ ہر چیز تباہ ہو چکی تھی۔ جاپان نے دوسری جنگ عظیم میں چین کے کم و بیش دو کروڑ افراد قتل کردیئے تھے۔ ١٩۴٩ء میں یہ ایک الگ ملک کے طور پر نمودار ہوا۔ اور سب سے پہلے اس کو تسلیم کرنے والا ملک ہمارا پیارا ملک پاکستان تھا۔ سب سے پہلا غیر ملکی طیارہ جو چین کی سر زمین پر اترا وہ پاکستانی ائیر لائن پی آئی اے کا ہی جہاز تھا۔ جس کا استقبال چین نے بڑے پرتپاک طریقے سے کیا تھا۔ چین کو بینکنگ نظام بھی پاکستان کے اکانومسٹس نے ہی بنا کر دیا تھا۔ ہمارے دیئے ہوئے نظام کو لیکر چین کہاں پہنچ گیا اور ہم کہاں کھڑے ہیں۔ اس کی سب سے بنیادی وجہ ہے مخلص لی

MushtaqAhmed
 

ہ محرومیاں ان کا مقدر رہیں۔
کہتے ہیں کہ کوئی کسی کا دکھ نہیں سمجھ سکتا، جب تک کہ وہ خود اس دکھ کی کیفیت کو نہ پہنچا ہو اور جس دکھ کے ساتھ جس محرومی کے ساتھ میں نے زندگی گزاری اس کا احساس مجھے ہمیشہ ہوتا ہے۔ جب کسی غریب کے بچے کو ٹوٹی ہوئی جوتی کے ساتھ دیکھتا ہوں تو مجھے اپنا آپ نظر آتا ہے۔ لیکن میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو بے حس ہو جائیں، میں بے حس نہیں ہوا۔ سارے احساس سارے جذبات ہمیشہ میرے ساتھ رہا، اور ان احساسات کا تقاضہ یہ ہے کہ میں کسی ایک چہرے پر بھی مسکراہٹ لا سکوں تو وہ میری محرومیوں کی تکمیل ہو گی۔
🔰end

MushtaqAhmed
 

انے کہ دیکھ کر ہی محسوس ہوتا کہ بہت پرانے ہیں۔ ایسے میں آٹھ نو سو طلباء کے مجمعے میں انعام لینا وہ بھی ٹوٹی ہوئی جوتی کے ساتھ بڑا عجیب لگتا تھا۔
وقت ایسے ہی گزرتا رہا ، ہر سال اپنی جماعت میں پہلی پوزیشن لیتا لیکن فنکشن میں جانے سے کتراتا۔ ایک بڑی محرومی ہمیشہ یہ بھی رہی کہ میرے ابو کبھی اس فنکشن میں نہیں ہوتے تھے۔ دوسری پوزیشن لینے والا لڑکا جب اپنا انعام لے کر اپنے باپ کے پاس جاتا تھا تو میری نظریں ہمیشہ اس پر ہوتی تھیں۔ ایک عجیب احساس تھا جس سے میں ساری زندگی محروم رہا۔ زندگی کی اور کئی محرومیاں رہیں، جن سے دل سے خواہشات آہستہ آہستہ رخصت ہو گئیں۔ اب دل میں اپنی ذات کے لئے کوئی خواہش نہیں رہی، اور میں جانتا ہوں میرے جیسے ہزاروں ہوں گے جن کی زندگی میری زندگی جیسی رہی اور شائد ہمیشہ محرومیاں ان کا مقدر رہیں۔
کہتے

MushtaqAhmed
 

غریبی
۔"" ""
ایک شخص واقعہ سناتا ہے کہ میں جب چھوٹا تھا تو میرے ماموں اپنے بچوں کے لئے روز کئی فروٹس لاتے۔ میں ان کو کھاتے ہوئے تو نہیں دیکھتا تھا، لیکن جانتا تھا کہ وہ فروٹس لذیذ ہوں گے۔ اگر کبھی مہینے میں ایک آدھ بار ہمارے گھر میں آم آ جاتے تو وہ دن خوشی کا دن ہوتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ فروٹس کا شوق مرتا گیا۔ زیادہ کھانے سے نہیں نہ کھانے کی وجہ سے۔
انسان جب کسی چیز کے لئے ترستا ہے تو یا تو وہ اس کو پا لینے کی اتنی کوشش کرتا ہے کہ اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتا ہے، یا پھر وہ خواہش اس کے دل کے اندر ہی دم توڑ دیتی ہے۔ میں سکول کا ایک ہونہار طالب علم تھا۔ سالانہ امتحان کے بعد جب مجھے انعام سے نوازا جاتا تو میں کبھی خوش نہیں ہو پاتا تھا۔ پتہ ہے کیوں؟ کیوں کہ میرے جوتے ٹوٹے ہوتے تھے، میرے کپڑے پیوند زدہ ہوتے یا پھر اتنے پرانے کہ دیکھ

MushtaqAhmed
 

💚 فرمان حق تعالیٰ ہے:
*مگر انسان ( ایسا ہے ) کہ جب اس کا رب اسے ( راحت و آسائش دے کر ) آزماتا ہے اور اسے عزت سے نوازتا ہے اور اسے نعمتیں بخشتا ہے تو وہ کہتا ہے: میرے رب نے مجھ پر کرم فرمایا*
*لیکن جب وہ اسے ( تکلیف و مصیبت دے کر ) آزماتا ہے اور اس پر اس کا رزق تنگ کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا*
*یہ بات نہیں بلکہ ( حقیقت یہ ہے کہ عزت اور مال و دولت کے ملنے پر ) تم یتیموں کی قدر و اِکرام نہیں کرتے*
*اور نہ ہی تم مسکینوں ( یعنی غریبوں اور محتاجوں ) کو کھانا کھلانے کی ( معاشرے میں ) ایک دوسرے کو ترغیب دیتے ہو*
*اور وراثت کا سارا مال سمیٹ کر ( خود ہی ) کھا جاتے ہو ( اس میں سے افلاس زدہ لوگوں کا حق نہیں نکالتے )*
*اور تم مال و دولت سے حد درجہ محبت رکھتے ہو*
📗 سورۃ الفجر، آیات:15-20

MushtaqAhmed
 

میں : "شاید تم ٹھیک کہہ رہی ہو "
محبت " اچھا اب میں چلتی ہوں "
میں : " کچھ دیر مزید رک جاو تو ؟"
محبت : " نہیں ۔ تم جیسے ہزاروں ہیں جو اپنی غلطی اور اپنے انتخاب کی بے وفائی کا بوجھ مجھ پر ڈال کر میرے نام کو ایک دھبہ بنا رہے ہیں ۔
یاد رکھنا ، اب کی بار اپنی غلطیوں اور اپنے انتخاب پر توجہ دینا تاکہ تمہیں " محبت " سے نفرت کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے end

MushtaqAhmed
 

خاب جیسے کچھ کم ظرف چہروں کی وجہ سے میری اپنی ذات دفن ہو جاتی ہے ۔ میں تو صرف " محبت " ہوں اور محبت کسی کو نفرت نہیں سکھاتی ، مر جانے کا نہیں کہتی ۔ میں ایک خوب صورت احساس ہوں مگر وفادار اور خوب صورت دل والوں کیلئے "
میں : "ایک سوال پوچھوں تم سے ؟"
محبت : " پوچھو "
میں: " کیا میرا انتخاب غلط تھا ؟"
محبت " جس طرح محبت کرنے کیلئے ایک خوب صورت دل چاہئے اسی طرح محبت کو ہضم کرنے کیلئے بھی وفا اور خلوص کا ہونا ضروری ہے ۔ سانپ کو دودھ پلانے سے وہ اپنی عادت نہیں چھوڑ دیتا ۔ دیکھو وسیم ! تم محبت کا سمندر ہو ، اس سمندر کے بہاو کیلئے بھی سمندر جیسی گہرائی درکار ہے جو تمہارے انتخاب میں نہیں تھی " ۔
میں : "شاید تم ٹھیک کہہ رہ

MushtaqAhmed
 

رت ہے " ۔
محبت : " میری وجہ سے ؟"
میں : " جی ہاں ! تمہاری وجہ سے "
محبت : " مگر میں تو لوگوں کو جینے کا ہنر اور وجہ دیتی ہوں "
میں : " تم اگر جینا سکھاتی ہو تو جیتے جی مار کیوں دیتی ہو ؟"
محبت : " میں نہیں ، لوگوں کو ان کا انتخاب مار دیتا ہے "
میں: " انتخاب کی وجہ بھی تو تم ہی بنتی ہو نا ؟"
محبت: " اپنے غلط انتخاب کی وجہ سے مجھ پر الزام ڈال کر تم کہنا کیا چاہتے ہو ؟ اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھو یا پھر جا کر اپنے انتخاب کا گریبان پکڑو "
میں : " مجھے یا میرے انتخاب کو غلط کہہ کر تم اپنی جان چھڑا رہی ہو ؟ تسلیم کیوں نہیں کرتیں کہ تم لوگوں کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہو ۔ ان کی خوشیوں کو جونک کی طرح چوس لیتی ہو "
محبت : " تم جیسے کمزور لوگ اور تمہارے انتخاب جیسے کچھ کم ظرف چہروں کی وجہ سے میری

MushtaqAhmed
 

#محبت
میں : " کون ہو تم ؟"
محبت : " میں محبت ہوں "
میں : " محبت؟"
محبت : " ہاں میرا نام " محبت " ہے ، لیکن تمہارے چہرے کا رنگ کیوں اڑ گیا ہے ؟"
میں : " کیونکہ مجھے تمہارے نام سے بھی نفرت ہے" ۔
محبت : "میرے نام سے نفرت ؟"
میں : " ہاں تمہارے نام اور تمہاری پرچھائی سے بھی نفرت ہے مجھے " ۔
محبت " محبت کے نام سے نفرت ؟ سننے میں بھی کتنا عجیب لگتا ہے ویسے ۔ تمہیں کرتے وقت عجیب نہیں لگتا ؟"
میں : " تمہاری وجہ سے کتنے ہی مسکراتے چہرے کم عمری میں جھریوں کی زد میں ہیں ۔ کتنے زندہ دل لوگ تمہاری وجہ سے منوں مٹی تلے دفن ہوئے ہیں ۔ کتنے لوگوں کو زندہ لاش بنا کر رکھ دیا ہے تم نے ۔ مجھے تمہارے نام سے بھی نفرت ہے " ۔
محبت : " میری وجہ سے

MushtaqAhmed
 

ہوٹل یا کسی شاہی تخت پر بھی نہیں پا سکتے ۔ اللہ تعالی کو آپ کے بکرے یا بیل کی نہیں بلکہ نیت اور خوب صورت دل کی ضرورت ہوتی ہے ۔
دینے کو وہ مالک ہے وہ اس طبقے کو بھی چھپر پھاڑ کر دے سکتا ہے مگر اس نے کچھ طبقے کو محروم صرف اس وجہ سے رکھا ہے تاکہ وہ ان کو آزما سکے جنہیں اس نے اپنے خزانوں میں سے بے دریغ اور ضرورت سے زیادہ عطا کیا ہے ۔۔۔۔
لکھنے کا مقصد بس اتنا ہے کہ اس طرح یہ سلسلہ عروج پا سکتا ہے

MushtaqAhmed
 

ھا ہے ۔ تیس شاپر بنا کر رکھے اور کزن کو کہا کہ رکشے والا ، سبزی فروش ، پھل فروش ، جوتا پالش کرنے والے طبقے کو دینا ۔۔
کزن دے کر واپس آیا تو بہت خوش تھا ۔ کہنے لگا یار آج دل کو سکون ملا ہے ۔ جب میں چاول دیتا تھا تو اس طبقے کی مسکراہٹ دیکھنے والی ہوتی تھی ۔ ایک شخص تو منڈی کے سامنے گند کے ڈھیر سے چن کر کچھ کھا رہا تھا ۔ میں نے جب اسے رک کر چاول دیئے تو اس کی آنکھوں میں گہرا سمندر اور چہرے پر مسکراہٹ تھی مگر مجھے رونا آ رہا تھا ۔۔۔۔
آج پھر کزن نے خیرات کی تو ایسا ہی کیا ۔ زیادہ حصہ اسی طبقے کیلئے رکھا اور مجھے کہا تم دے آو ۔ اتنا سکون ملتا ہے جس کی تلاش آپ کبھی بھی کسی مہنگے ہوٹل یا کسی شاہی

MushtaqAhmed
 

#دعا_لیجئے_صاحب
کچھ عرصہ پہلے ایک دن ایسے ہی ذہن میں اس خیال نے جنم لیا کہ خیرات سے اگر دعا لینی ہے تو حقدار تک اس کے حق کو پہنچایا جائے ورنہ خدا کی ذات کو ہمارے بیل ، بکرے اور چاول کی دیگوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔
ایک دن چاول کے کچھ شاپر دے کر گھر والوں نے کہا رشتے داروں کے گھر دے آو ۔ راستے میں کچھ مزدور طبقے اور رہڑی والوں کو دیکھا تو دل میں خیال آیا کہ اصل حقدار تو یہ ہیں ورنہ رشتے دار تو صرف کیڑے ہی نکالتے ہیں ۔۔ تمام شاپر اس طبقے میں تقسیم کیے اور گھر واپس لوٹ گیا ۔۔
کچھ دن پہلے کزن نے خیرات کی تو میں نے یہی مشورہ دیا کہ یار ناصر اگر حقیقی دعا کا مزہ چکھنا ہے تو کچھ شاپر مزدور طبقے میں تقسیم کر دو ۔۔ کزن نے کہا مشورہ تو بہت اچھا ہے ۔ تیس شاپر بنا کر رکھے اور کزن کو کہا کہ رکشے والا ، سبزی فروش ، پھل فروش

MushtaqAhmed
 

شوہر بھی لے اڑی اسی پر بس نہیں دونوں شوہروں کی وراثت بھی اپنے نام کرلیا۔
قاضی ابن ابی لیلی کہنے لگے:
مجھے تو اس کیس میں حرام کہیں نظر نہیں آیا،طلاق بھی جائز ہے،وکالت بھی جائز ہے،طلاق کے بعد بیوی سابقہ شوہر کے پاس دوبارہ جاسکتی ہے بشرطیکہ درمیان میں کسی اور سے اس کی شادی ہو کر طلاق یا شوہر فوت ہوا ہو تمہاری کہانی میں بھی ایسا ہی ہوا ہے.
اس کے بعد قاضی نے خلیفہ منصور کو یہ واقعہ سنایا خلیفہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئے اور کہا کہ جو کوئی اپنے بھائی کیلئے گڑھا کھودے گا خود اس گڑھے میں گرے گا یہ بڑھیا تو گڑھے کی بجائے گہرے سمندر میں گر گئی.
كتاب :جمع الجواهر في - الحُصري

MushtaqAhmed
 

ھولتا ہے چنانچہ مجھ سے یوں مل کر اس کی پہلی محبت نے انگڑائی لی میں نے ان سے کہا کیا پھر مجھ سے شادی کروگے؟
اس نے ہاں کرلی
میں نے ان کے سامنے شرط رکھ لی کہ اپنی پہلی بیوی(میری پھوپھی کی بیٹی) کا معاملہ میرے ہاتھ میں دیں،اس نے ایسا ہی کیا.
میں نے اپنے سابق شوہر سے شادی کرلی اور اس کی بیوی کو شوہر کی وکالت کرتے ہوئے طلاق دے دی.
قاضی ابن ابی لیلی سر پکڑ کر بیٹھ گئے پھر پوچھا کہ
اس کیس میں اب مسئلہ کیا ہے؟
میری پھوپھی کہنے لگی :
قاضی صاحب کیا یہ حرام نہیں کہ میں اور میری بیٹی دونوں کی یہ لڑکی طلاق کروا چکی پھر میرا شوہر اور میری بیٹی کا شوہر بھی لے اڑی اسی پر بس ن

MushtaqAhmed
 

نے ان کے سامنے شرط رکھ لی کہ آپ کی پہلی بیوی(یعنی میری پھوپھی) کا معاملہ میرے ہاتھ سونپ دیں اس نے ایسا ہی کیا میں نے پھوپھی کے شوہر سے شادی کرلی اور اس کے شوہر کی وکالت کرتے ہوئے اسے طلاق دے ڈالی.
قاضی حیرت سے پھر ؟
وہ کہنے لگی قاضی صاحب کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی.
کچھ عرصہ بعد میرے اس شاعر شوہر کا انتقال ہوا میری یہ پھوپھی وراثت کا مطالبہ کرتے پہنچ گئی میں نے ان سے کہا کہ میرے شوہر نے تمہیں اپنی زندگی میں طلاق دی تھی اب وراثت میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے، جھگڑا طول پکڑا اس دوران میری عدت بھی گزر گئی ایک دن میری یہ پھوپھی اپنی بیٹی اور داماد(میرا سابقہ شوہر) کو لیکر میرے گھر آئی اور وراثت کے جھگڑے میں میرے اسی سابق شوہر کو ثالث بنایا اس نے مجھے کئی سالوں بعد دیکھا تھا مرد اپنی پہلی محبت نہیں بھولتا ہے چنانچہ مجھ سے یوں مل ک

MushtaqAhmed
 

یہ پھوپھی میرے گھر آئی اور میرے شوہر کو اپنی بیٹی سے دوسری شادی کی آفر کرلی ساتھ یہ شرط رکھ لی کہ پہلی بیوی(یعنی میں) کا معاملہ پھوپھی کے ہاتھ میں سونپ دے،میرے شوہر نے کنواری دوشیزہ سے شادی کے چکر میں شرط مان لی میرے شوہر کی دوسری شادی ہوئی سہاگ رات کو میری پھوپھی میرے پاس آئی اور مجھ سے کہا تمہارے شوہر کے ساتھ میں نے اپنی بیٹی بیاہ دی ہے تمہارا شوہر نے تمہارا معاملہ میرے ہاتھ سونپ دیا ہے میں تجھے تیرے شوہر کی وکالت کرتے ہوئے طلاق دیتی ہوں.
جج صاحب میری طلاق ہوگئی.
کچھ عرصے بعد میری پھوپھی کا شوہر سفر سے تھکے ہارے پہنچ گیا وہ ایک شاعر اور حسن پرست انسان تھے میں بن سنور کر اس کے آگے بیٹھ گئی اور ان سے کہا کیا آپ مجھ سے شادی کریں گے؟ اسکی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا اس نے فوری ہاں کرلی،میں نے ان کے سامنے شرط رکھ لی کہ آپ کی پہلی بیوی(ی

MushtaqAhmed
 

دو عورتیں قاضی ابن ابی لیلی کی عدالت میں پہنچ گئیں،یہ اپنے زمانے کے مشہور و معروف قاضی تھے.
قاضی نے پوچھا
تم دونوں میں سے کس نے بات پہلے کرنی ہے؟
ان میں سے بڑھی عمر والی خاتون نے دوسری سے کہا تم اپنی بات قاضی صاحب کے آگے رکھو.
وہ کہنے لگی قاضی صاحب یہ میری پھوپھی ہے میں اسے امی کہتی ہوں چونکہ میرے والد کے انتقال کے بعد اسی نے میری پرورش کی ہے یہاں تک کہ میں جوان ہوگئی.
قاضی نے پوچھا اس کے بعد ؟
وہ کہنے لگی پھر میرے چچا کے بیٹے نے منگنی کا پیغام بھیجا انہوں نے ان سے میری شادی کر دی،میری شادی کو کئی سال گزر گئے ازدواجی زندگی خوب گزر رہی تھی ایک دن میری یہ پھوپھی