یہ محبت جو محبت سے کمائی ہوئی ہے
آگ سینے میں تو اِسی نے لگائی ہوئی ہے
ایک وہی پھول میسر نہ ہوا دامن کو
جس کی خوشبو میری رگ رگ میں سمائی ہوئی ہے
جب بھی آنکھوں نے سجائے ہیں سپنے تمہارے
ذہن اور دل میں بہت دیر لڑائی ہوئی ہے
دل کی چوکھٹ پہ جَلا رکھے آنکھوں نے چراغ
کِس کی آمد کی ابھی آس لگائی ہوئی ہے
اُس کی یادوں سے منور ہے مِرے دل کا جہاں
آنسوؤں سے مِری آنکھوں کی صفائی ہوئی ہے
اے محبّت تیرے چہرے پہ اُداسی کیوں ہے
جیسے ایک تُو ہی زمانے کی ستائی ہوئی ہے
جس کی کِرنوں سے جٗھلس جاتے ہیں روشن چہرے
چاندنی بھی تو اٗسی سورج کی بنائی ہوئی ہے
💕💕
کیا ہے جو رکھ دیں آخری داؤ میں نقدِ جاں
ویسے بھی ہم نے کھیل یہ ہارا ہُوا تو ہے
🤍
قریب آ شبِ تنہائی تجھ سے پیار کریں
تمام دن کی تھکن کا علاج تُو ہی سہی
یہ حسنِ کمال بھی اک دن فنا ہونا ہے
یہ ہونٹ ، جبین، یہ رخسار چھوڑو یار
رکھا ہے بھرم تیری اداؤں کا وگرنہ
میں اور محبت میں گرفتار چھوڑو یار
pagal💕
کسی سے رابطے اتنے شدید ہو گئے ہیں
کہ ہم لڑے بھی نہیں اور شہید ہو گئے ہیں
💕
یہ رکھ رکھاؤ کبھی ختم ہونے والا نہیں
بچھڑتے وقت بھی تجھ کو گلاب دوں گی میں
😘😍
مخلوق تو فنکار ہے اس درجہ کہ پل میں
سنگِ درِ کعبہ سے بھی اصنام تراشے
تُو کون ہے اور کیا ہے، ترا داغِ قبا بھی
دنیا نے تو مریم پہ بھی الزام تراشے
♥️
نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو
کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو
کسے زندگی ہے عزیز اب کسے آرزوئے شب طرب
مگر اے نگار وفا طلب ترا اعتبار کوئی تو ہو
کہیں تار دامن گل ملے تو یہ مان لیں کہ چمن کھلے
کہ نشان فصل بہار کا سر شاخسار کوئی تو ہو
یہ اداس اداس سے بام و در یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزر
چلو ہم نہیں نہ سہی مگر سر کوئے یار کوئی تو ہو
یہ سکون جاں کی گھڑی ڈھلے تو چراغ دل ہی نہ بجھ چلے
وہ بلا سے ہو غم عشق یا غم روزگار کوئی تو ہو
سر مقتل شب آرزو رہے کچھ تو عشق کی آبرو
جو نہیں عدو تو فرازؔ تو کہ نصیب دار کوئی تو ہو
خیالِ یار میں مجھ کو ____ یونہی مدہوش رہنے دو
نا پوچھو رات کا قِصّہ ، مجھے خاموش رہنے دو
..
سنایا وِصل کا قِصّہ تو میرے دوست یوں بولے۔۔۔
کہاں تم اور کہاں اُس کی حَسیں آغوش ، رہنے دو
مجھے معلوم ہے اُس نے میرا ہونا نہیں لیکن۔۔۔
میری اُمید مت توڑو ، مجھے پُرجوش رہنے دو
پ۔ا۔گ۔ل💕
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا ، تمہیں یاد ہو کہ نا یاد ہو
وہی یَعنی وعدہ نباہ کا ، تمہیں یاد ہو کہ نا یاد ہو
وہ جو لُطف مجھ پہ تھے بیشتر ، وہ کرم تھا میرے حال پر
مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا ، تمہیں یاد ہو کہ نا یاد ہو
وہ نئے گِلے وہ شکایتیں ، وہ مزے مزے کی حکایتیں
وہ ہر اِک بات پہ روٹھنا ، تمہیں یاد ہو کہ نا یاد ہو
کبھی بیٹھے سب میں جو رُو برُو ، تو اشاروں سے ہی گفتگو
وہ بیان شوق کا بَر ملا ، تمہیں یاد ہو کہ نا یاد ہو
کوئی بات ایسی اگر ہوئی ، کہ تمہارے جی کو بُری لگی
تُو بیاں سے پہلے ہی بُھولنا ، تمہیں یاد ہو کہ نا یاد ہو
کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی ، کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا ، تمہیں یاد ہو کہ نا یاد ہو
جسے آپ گِنتے تھے آشنا،جسے آپ کہتے تھے با وفا
میں وہی ہوں یار مبتلا،تمہیں یاد ہو کہ نا یاد ہو
باندھ لیں ہاتھ میں ،دل میں بسا لیں تم کو
جی میں آتا ہے کہ تعویذ بنا لیں تم کو
:
پھر تمہیں روز سنواریں تمہیں بڑھتا دیکھیں
کیوں نہ آنگن میں چنبیلی سا لگا لیں تم کو
:
جیسے بالوں میں کوئی پھول چُنا کرتا ہے
گھر کے گُلدان میں پھولوں سا سجا لیں تم کو
:
کیا عجب خواہشیں اٹھتی ہیں ہمارے دل میں
کر کے مُنّا سا ہوا میں اُچھالیں تم کو
اِس قدر ٹوٹ کے تم پہ پیار آتا ہے ہمیں
اپنی بانہوں میں بھریں ، مار ہی ڈالیں تم کو
کبھی خوابوں کی طرح آنکھ کے پردے میں رہو
کبھی خواہش کی طرح دل میں بُلا لیں تم کو
ہے تمہارے لیے کچھ ایسی عقیدت دل میں
اپنے ہاتھوں میں دعاؤں سا اُٹھا لیں تم کو
جان دینے کی بھی اجازت نہیں دیتے ہو
ورنہ مر جائیں ابھ ، مر کے دِکھا لیں تم کو
جس طرح رات کے سینے میں ہے مہتاب کا نُور
اپنے تاریک مکانوں میں سجا لیں تم کو
اب تو بس ایک ہی خواہش ہے کیس موڑ پر تم
ہم کو بِکھرے ہوئے مِل جاؤ ، سنبھالیں تم کو
😍😍😍😍
حالِ دل سب سے چھپانے میں مزہ آتا ہے
آپ پوچھیں تو بتانے میں مزہ آتا ہے
روشنی بوجھ سی لگتی ہے شبِ ہجراں میں
ہاں مگر دل کو جَلانے میں مزہ آتا ہے
جس کے کچھ تار الجھ جاتے ہیں دل کی صورت
بس اِسی ساز پہ گانے میں مزہ آتا ہے
جاں بچانے کا تصّور بھی بُرا لگتا ہے
عشق میں جان گنوانے میں بھی مزہ آتا ہے
یاد کو کے وہ گرمی کی دوپہریں
پہلی بارش میں نہانے میں بھی مزہ آتا ہے
❤️_____!
اتنا مانوس نہ ہو خلوت غم سے اپنی
تُو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا -
جی چاہتا ہے مِثلِ ضیا تجھ سے مل سکوں
مجبور ہوں کہ مَحَبس دیوار و در ہوں میں
💔
ایک دن آپ کی برہم نگہی دیکھ چکے
روز اِک تازہ قیامت ہو،صروری تو نہیں
دوستی آپ سے لازِم ہے مگر اِس کے لیے
ساری دنیا سے عداوت ہو ضروری تو نہیں
باہمی ربط میں رنجش بھی مزہ دیتی ہے
بس محبت ہی محبت ہو ضروری تو نہیں
تم تو نزدیکِ رگ و جاں تھے تمہیں کیا کہتا
میں نے دشمن کو بھی دشمن نہیں سمجھا یارو !
حیرت کے اسباب مہّیا کرتے ہو
تم آنکھوں کو خواب مہیّا کرتے ہو
😍❤️
چل پڑی ہیں دعائیں عرش کی جانب
تم اب بس میرے ہونے کی تیاری کرو
♥️
قُربت بھی نہیں ____دل سے اُتر بھی نہیں جاتا
وہ شخص کوئی فیصلہ کر بھی نہیں جاتا
آنکھیں ہیں کہ خالی نہیں رہتیں لہو سے
اور زخم جدائی ہے کہ بھر بھی نہیں جاتا
وہ راحتِ جاں ہے مگر اس دربدری میں
ایسا ہے کہ اب دھیان اِدھر بھی نہیں جاتا
ہم کہ ______ دوہری اذیت کے گرِفتار مسافر
پاؤں بھی شَل ہیں ، شوقِ سفر بھی نہیں جاتا
دل کو تیری چاہت پہ بھروسہ بھی بہت ہے
اور تجھ سے بچھڑ جانے کا ڈر بھی نہیں جاتا
پاگل ہوئے جاتے ہو یار_____اِس سے مِلے کیا
اِتنی سی خوشی سے کوئی مَر بھی نہیں جاتا
⚡⚡⚡⚡⚡🤍❤️
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain