نہ شریکِ غم نہ حریفِ جاں ،شبِ انتظار کوئی تو ہو کِسے بزمِ شوق میں لائیں ہم، دلِ بے قرار کوئی تو ہو یہ اُجاڑ اُجاڑ سے بام و در، یہ اُداس اُداس سی رہگزر چلو ہم نہ سہی ہو مگر ، سرِ کوئے یار کوئی تو ہو
عشق تمہید نہ باندھے تو ہوس ہو جائے۔۔ , کون چاہے کہ رگ و جاں قفس ہو جائے 🥀 پسِ زنداں ہی ملنا ہے تو پھر بسم اللّٰہ،،، , قید کا کیا ہے، وہ پھر جتنے برس ہو جائے 😍
دنیا داری بھی رکھ رکھاؤ بھی مار ڈالیں گے یہ دباؤ بھی . حاسدوں کی جلی کٹی بھی سنو اور اوپر سے مسکراؤ بھی . پھر کریں اعتبار ،،،چھوڑو بھی کیا کہا پھر سے پیار ؟ جاؤ بھی . 🥀