۔ 👈 *شعور اور شور* میں فرق 👉 ایک درویش سے کسی نے پوچھا کہ *شعور اور شور* میں کیا فرق ہے ؟ درویش نے کہا : صرف *"ع"* کے اضافے کا۔ سائل نے پوچھا : "ع" سے کیا مراد ہے؟ درویش نے جواب دیا : "ع" سے مراد ہے *علم ، عمل اور عقل۔* علم، عمل اور عقل سے بات کرو گے ، تو *شعور* کہلائے گا۔ ورنہ صرف *شور* کہلائے گا۔
وه لیلیٰ سے مخاطب ہوا ، اے لیلیٰ ! مجھے تو تجھ میں کوئی خاص بات دکھائی نہیں دیتی ، پھر مجنوں تیری خاطر دیوانہ کیوں ہو گیا؟ لیلیٰ مسکرائی اور بولی ، "جب تُو مجنوں نہیں هے ، تو تجھے کیا خبر لیلیٰ کون هے؟ اگر میرا حسن و جمال دیکھنا چاہتے ہو تو مجھے مجنوں کی آنکھوں سے دیکھو ، پھر تجھے میں دنیا کی سب سے حسین عورت دکھائی دوں گی۔" ۔
بادشاهِ وقت اپنے مصاحبین کے ساتھ کہیں جا رہا تها۔ جب اس کے مصاحبین میں سے کسی نے اسے بتایا کہ عالی جاه ! یہ جو عورت ابھی ابھی آپ کے قریب سے گزری ہے ، یہ لیلیٰ تھی۔ بادشاه نے پوچھا ، لیلیٰ کون؟ اسے بتایا گیا کہ حضور ! لیلیٰ وه عورت ہے جس کی خاطر ایک شخص اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ہوا پھرتا یے جسے لوگ مجنوں پکارتے ہیں۔ بادشاه کو تجسس ہوا ، اس نے حکم دیا ، لیلیٰ کو حاضر کیا جائے ، آخر ہم بھی تو دیکھیں کہ وه کون سی حسینہ ہے جس کی خاطر ایک شخص دنیا سے بیگانہ ہو گیا۔ چنانچہ لیلیٰ کو حاضر کیا گیا ، بادشاه نے دیکھا کہ لیلیٰ ایک سیاه فام ، عام سی عورت ہے جس پر شاید کوئی دوسری نگاه ڈالنے کی بھی خواهش نہ رکھے۔ وه لیلیٰ سے مخاطب ہوا ، اے لیلیٰ ! مجھے تو تجھ میں کوئی خاص بات دکھائی نہیں دیتی ، پھر مجنوں تیری خاطر دیوانہ کیوں ہو گیا؟
ایک قافلہ سفر کے دوران اندھیری سرنگ سے گزر رہا تھا ان کے پیروں میں کنکریاں چبھیں، کچھ لوگوں نے اس خیال سے کہ کسی اور کو نہ چبھ جائیں اٹھا کر جیب میں رکھ لیں ،کچھ نے زیادہ اٹھائیں کچھ نے کم *جب اندھیری سرنگ سے باہر آئے تودیکھا کہ وہ ہیرے تھے . جنہوں نے کم اٹھائے وہ پچھتائے کہ زیادہ کیوں نہیں اٹھائے ؟ جنہوں نے نہیں اٹھائے وہ اور پچھتائے. دنیا میں زندگی کی مثال اس اندھیری سرنگ جیسی ہے اور نیکی یہاں کنکریوں کی مانند ہے جس کی قیمت آخرت میں ہیرے سے بڑھ کر ہوگی اور انسان سوچےگا کہ کاش اور زیادہ نیکیاں کی ہوتیں۔
کہتے ہیں کہ موسم، وقت، زمانہ، کیفیاّت، نیکی بدی، گناہ ثواب، خوبصورتی بدصورتی، رنگ ڈھنگ، سب اِنسان کے اندر موجود ہوتے ہیں بس اِنہیں کھوجنے، برتنے کا ہُنر آنا چاہئے
چنگا ویلا موڑ دے سائیاں، تینوں کاہدی تھوڑ وے سائیاں میرے ورگے لَکھ نیں تینوں، تیرے ورگا ہور نہ سائیاں ہر پل تیرے ناں دی تسبیح، دل وچ غارِ ثور ہے سائیاں ڈونگیاں رمزاں کی جاناں میں، دل دا کَڈ دے چور وے سائیاں شِکر دوپہری اگ بلدی اے، ٹھنڈیاں چھانواں موڑ دے سائیاں دنیا مینوں توڑ دی پئی اے، ہُن تے آ کے جوڑ دے سائیاں تیرے باجھ میں کِنّوں دَسّاں، مینوں ماں دی لوڑ اے سائیاں سجن بیلی سب ٹُر گئے نیں، کَلّاہ رہ گیا بوڑ وے سائیاں یاد تیری دا چانن مِل جائے، روشن ہو جائے گور وے سائیاں فضل کریں تے بخشیں مینوں، تَرلا ہے، نئیں زور اے سائیاں