Damadam.pk
Nandro's posts | Damadam

Nandro's posts:

Good morning
N  : GOOD MORNING - 
پہنے کو کپڑے نہیں۔پاوں میں جوتی نہیں
 مگرقران پاک بڑے اخترام سے پلاسٹک کے ایک بیک میں مخفوظ رکھ کر پڑھ رہاہے ے
N  : پہنے کو کپڑے نہیں۔پاوں میں جوتی نہیں مگرقران پاک بڑے اخترام سے پلاسٹک کے - 
Good morning
N  : GOOD MORNING - 
Nandro
 

محبت وصول کرنے والا یہ سمجھتا ہے کہ وہ کمال وصف کا مالک ہے اُس کو کیا پتہ کہ محبت دینے والا ہی اصل میں اُس کے اوصاف تراش کر اُسے با کمال بنا تا ہے۔

Nandro
 

۔ 👈 *شعور اور شور* میں فرق 👉
ایک درویش سے کسی نے پوچھا کہ *شعور اور شور* میں کیا فرق ہے ؟
درویش نے کہا : صرف *"ع"* کے اضافے کا۔
سائل نے پوچھا : "ع" سے کیا مراد ہے؟
درویش نے جواب دیا : "ع" سے مراد ہے *علم ، عمل اور عقل۔*
علم، عمل اور عقل سے بات کرو گے ، تو *شعور* کہلائے گا۔
ورنہ صرف *شور* کہلائے گا۔

HALAH NASHA☕😍
N  🔥 : HALAH NASHA☕😍 - 
*اُلجھنیں میٹھی بھی ہو سکتی ہیں

*_جلیبـــی اِس کی زندہ مثـــال_ ہے😊
N  : *اُلجھنیں میٹھی بھی ہو سکتی ہیں *_جلیبـــی اِس کی زندہ مثـــال_ ہے😊 - 
اگر کوئی ماہر احساسات ہوتا ناں
تو بات کھبی "ماہر نفسیات "تک نہ جاتی ۔۔
N  : اگر کوئی ماہر احساسات ہوتا ناں تو بات کھبی "ماہر نفسیات "تک نہ جاتی ۔۔ - 
Nandro
 

*زبان*
لفظوں کے دانت نہیں ھوتے پھر بھی کاٹ لیتے ہیں اگر یہ کاٹ لے تو اس کے زخم عمر بھر نہیں بھرتے
حضرت علی ع

Nandro
 

*فطرت*
انسان کی فطرت اسکے چھوٹے چھوٹے کاموں سے ظاہر ھوتی ھے بڑے کام تو ھمیشہ سوچ سمجھ کر کرتا ھے
حضرت علی ع

Nandro
 

*رواداری*
لوگوں کی زندگی میں اس نمک کی طرح رہو جوکھانے میں تو دکھائی نہیں دیتا اگر نہ ہوتو اس کمی بہت محسوس ہوتی ھے
حضرت علی علیہ السلام

Nandro
 

*سکون*
اگر دنیا سکون ھوتا تو لوگ اللہ کو بھول جاتے سکون تو صرف ان لوگوں کے پاس ھے جو اللہ کی رضا کو اپنی رضا سمجھتے ہیں
حضرت علی ع

Nandro
 

*بھروسہ*
کسی پہ بھروسہ کرو تو آخر تک بھروسہ کرو آخر میں یا تو ایک اچھا دوست ملے گا یا ایک اچھا سبق
حضرت علی ع

Nandro
 

وه لیلیٰ سے مخاطب ہوا ،
اے لیلیٰ ! مجھے تو تجھ میں کوئی خاص بات دکھائی نہیں دیتی ، پھر مجنوں تیری خاطر دیوانہ کیوں ہو گیا؟
لیلیٰ مسکرائی اور بولی ،
"جب تُو مجنوں نہیں هے ، تو تجھے کیا خبر لیلیٰ کون هے؟
اگر میرا حسن و جمال دیکھنا چاہتے ہو تو مجھے مجنوں کی آنکھوں سے دیکھو ، پھر تجھے میں دنیا کی سب سے حسین عورت دکھائی دوں گی۔"
۔

Nandro
 

بادشاهِ وقت اپنے مصاحبین کے ساتھ کہیں جا رہا تها۔ جب اس کے مصاحبین میں سے کسی نے اسے بتایا کہ عالی جاه !
یہ جو عورت ابھی ابھی آپ کے قریب سے گزری ہے ، یہ لیلیٰ تھی۔
بادشاه نے پوچھا ، لیلیٰ کون؟
اسے بتایا گیا کہ حضور ! لیلیٰ وه عورت ہے جس کی خاطر ایک شخص اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ہوا پھرتا یے
جسے لوگ مجنوں پکارتے ہیں۔
بادشاه کو تجسس ہوا ، اس نے حکم دیا ،
لیلیٰ کو حاضر کیا جائے ، آخر ہم بھی تو دیکھیں کہ وه کون سی حسینہ ہے جس کی خاطر ایک شخص دنیا سے بیگانہ ہو گیا۔
چنانچہ لیلیٰ کو حاضر کیا گیا ،
بادشاه نے دیکھا کہ لیلیٰ ایک سیاه فام ، عام سی عورت ہے جس پر شاید کوئی دوسری نگاه ڈالنے کی بھی خواهش نہ رکھے۔
وه لیلیٰ سے مخاطب ہوا ،
اے لیلیٰ ! مجھے تو تجھ میں کوئی خاص بات دکھائی نہیں دیتی ، پھر مجنوں تیری خاطر دیوانہ کیوں ہو گیا؟

Nandro
 

ایک قافلہ سفر کے دوران اندھیری سرنگ سے گزر رہا تھا ان کے پیروں میں کنکریاں چبھیں، کچھ لوگوں نے اس خیال سے کہ کسی اور کو نہ چبھ جائیں اٹھا کر جیب میں رکھ لیں ،کچھ نے زیادہ اٹھائیں کچھ نے کم
*جب اندھیری سرنگ سے باہر آئے تودیکھا کہ وہ ہیرے تھے . جنہوں نے کم اٹھائے وہ پچھتائے کہ زیادہ کیوں نہیں اٹھائے ؟ جنہوں نے نہیں اٹھائے وہ اور پچھتائے. دنیا میں زندگی کی مثال اس اندھیری سرنگ جیسی ہے اور نیکی یہاں کنکریوں کی مانند ہے جس کی قیمت آخرت میں ہیرے سے بڑھ کر ہوگی اور انسان سوچےگا کہ کاش اور زیادہ نیکیاں کی ہوتیں۔

Nandro
 

کہتے ہیں کہ موسم، وقت، زمانہ، کیفیاّت، نیکی بدی، گناہ ثواب، خوبصورتی بدصورتی، رنگ ڈھنگ، سب اِنسان کے اندر موجود ہوتے ہیں بس اِنہیں کھوجنے، برتنے کا ہُنر آنا چاہئے

Nandro
 

چنگا ویلا موڑ دے سائیاں،
تینوں کاہدی تھوڑ وے سائیاں
میرے ورگے لَکھ نیں تینوں،
تیرے ورگا ہور نہ سائیاں
ہر پل تیرے ناں دی تسبیح،
دل وچ غارِ ثور ہے سائیاں
ڈونگیاں رمزاں کی جاناں میں،
دل دا کَڈ دے چور وے سائیاں
شِکر دوپہری اگ بلدی اے،
ٹھنڈیاں چھانواں موڑ دے سائیاں
دنیا مینوں توڑ دی پئی اے،
ہُن تے آ کے جوڑ دے سائیاں
تیرے باجھ میں کِنّوں دَسّاں،
مینوں ماں دی لوڑ اے سائیاں
سجن بیلی سب ٹُر گئے نیں،
کَلّاہ رہ گیا بوڑ وے سائیاں
یاد تیری دا چانن مِل جائے،
روشن ہو جائے گور وے سائیاں
فضل کریں تے بخشیں مینوں،
تَرلا ہے، نئیں زور اے سائیاں

Good morning
N  : Good morning - 
Nandro
 

*اگر تنقید ہی کرنی ہو تو نرم لہجے میں کریں کیونکہ نرم لہجہ ضمیر جگاتا ہے جبکہ سخت لہجہ " انا " کو جگا دیتا ہے